جنیٹیکی اصلاح اور اس طریقه سے پیدا هونے والے بچے کا کیا حکم هے ؟

0 2

علم صنعت کی ترقی نے آخری دهائیوں میں عالم انسانیت کے لئے انسان زندگی کی ترقی صفائی اور صحت و سلامتی کی راه میں قابل غور خدمات انجام دی هیں ان ترقیوں میں ڈاکٹری علوم کی ترقی بھی هے جهاں اس علم کے ماهرین نے ارثی اور جنیٹک بیماریوں سے بچاؤ کے لئے نئی نئی ایجادات انجام دی هیں تاکه جنین یا اسپرم اور تخمک مرد اور عورت کے مادوں پر پهلے هی مرحلے میں کچھ اصلاحات انجام دے کر مریض ، مفلوج اور ناقص الخلقت بچے پیدا هونے سے بچاؤ کرسکیں ۔

واضح سی بات هے که جس طرح عقل اور اس کی پیروی میں شریعت کا حکم هے که بیمار انسان ڈاکٹر کے پاس جائے اور ڈاکٹر اگر آپریشن تجویز کررها هے تو وه اس کے لئے تیار هوجائے لهٰذا اگر اس امکان موجود هو که نطفه منعقد هونے سے پهلے ناقص الخقلت یا بیمار بچه کی پیدائش کو روکا جا سکتا هے تو فطری بات هے که کوئی مضائقه نهیں هونا چاهئے ۔

ڈاکٹری علوم میں جنیٹیکی اصلاح کی کئی قسمین هیں اور فطری بات هے که نوعیت کے اعتبار سے فقه میں اس کا حکم بھی مختلف هوگا ۔هاں مذکوره سوال کے جواب میں یه کها جا سکتا هے که عام طور سے مذکوره میاں بیوی کے اسپرم اور تخمک یا جنین پر انجام پائے اور یه عمل بچے کی جسمانی و روحانی صحت وسلامتی کا سبب هو ساتھ هی ساتھ دوسرے حرام عمل کا سبب بھی نه بنے تو یه اصلاحی عمل جائز هے لیکن اگر عقلائی امکان هوکه یه اصلاحی عمل مفید نهیں هو بلکه شاید اس کی وجه سے جنین میں کوئی نقص پیدا هو جائے گا تو اس عمل کے جائز هونے میں تردد و اشکال هے ۔

اور چونکه اس اصلاح کے ذریعه پیداهونے والے بچے کی پیدائش میں خلاف شریعت عمل انجام نهیں پایا هے لهٰذا یه بچه شرعی میاں بیوی کا هوگا ۔

لیکن اگر جینیٹک اصلاح میں غیر مرد یا غیر عورت کے اسپرم یا تخمک مخلوط کرنے کے ذریعه انجام پائے تو اس عمل کے جائز هونے میں اور ساتھ هی اس کے ذریعه پیدا هونے والا بچه کس کا هوگا ؟

اس سلسله میں فقهاء کے مختلف نظرئے هیں :

1-         شوهر کے نطفه که ذریعه مصنوعی طور پر عورت کو حامله کرنے کا کیا حکم هے ؟ کیا اس طریقه سے پیدا هونے والا بچه حقیقی بچه کا حکم رکھتا هے ؟

جمله مراجع کرام :

در اصل اس کام میں کوئی مضائقه نهیں هے مگر اس شرط کے ساتھ که حرام مقدمات (جیسے نامحرم کے دیکھنے یا چھونے) سے پرهیز کیا جائے

اور اس طرح پیدا هونے والا بچه میاں بیوی کے فرزند کے جمله احکام میں شامل هے [1] ۔

2-                  غیر مرد کے اسپرم کو (مصنوعی طور سے) عورت کے رحم میں داخل کرنے کا ۔ اگر اس کا شوهر عقیم هو ۔ کیا حکم هے

اور اس کے ذریعه پیدا هونے والا بچه کس کا هوگا ؟

(آیت الله العظمیٰ خامنه ای کے سوا)جمله مراجع کرام :

یه عمل حرام هے اور اگر بچه پیدا هوتا هے تو وه صاحب نطفه اور صاحب رحم خاتون کا هوگا [2] ۔

آیت الله العظمیٰ خامنه ای: اس عمل میں بذات خود کوئی حرج نهیں هے اس شرط کے ساتھ که حرام مقدمات (جیسے نامحرم کو دیکھنے اور چھونے) سے پرهیز کیا جائے اور بچه پیدا هونے کی صورت میں وه بچه صاحب رحم خاتون کا هوگا [3] ۔

روح کے مسئله سے متعلق کهنا هوگا که : اگر یه عمل ابتدائی ایام میں جب تک که جنین کے اندر روح نهیں آئی هے انجام پائے روح آنے کے بعد انجام پائے تو روح نه بدن سے نکلی هے اور نه هی باهر سے کوئی روح داخل هوئی هے ان تمام صورتوں میں روح رشد و نموکے مراحل طے کرنے کے بعد اس جسم سے مربوط هوگی اور آخری دم تک اسی جسم کے همراه هوگی اور اس جسم کا تشکیص اسی روح کے تشخص کے ضمن میں هوگا اسی طرح روح تکوینی و تشریعی دونوں اعتبار سے جسم کی  ملکه هے ، اور جسم روح کی ملکیت هے ۔

نتیجه یه نکلتا هے که جینٹیکی اصلاح اگر خلاف شریعت عمل میں مرتکب هوئے بغیر انجام پائے اور اس عمل سے ناقص الخلقت بچه پیدا هونے سے بچاؤ هوتا هے تو فقط جائز هی نهیں بلکه پسندیده عمل هے ، اس لئے که ناقص الخلقت اور بیمار بچه پیدا هوکر ماں باپ اور خاندان کے لئے مشکلات اور مشقّتوں میں اضافه کر دیتا هے اور یه عمل اس سے محفوظ رکھ کر ایک صحیح و سالم بچه معاشرے کے حوالے کرتا هے ۔

آیت الله عظمیٰ فاضل لنکرانی (رح) کے دفتر کا جواب:

جینٹیکی اصلاح اگر دوا وغیره کے ذریعه علاج سے مخصوص هے اور غیر مرد کے نطفه کی تلقیح کے بغیر هے تو کوئی حرج نهیں هے اور نه هی روح کے مسئله سے کوئی ٹکراؤ رکھتا هے ۔

آیت الله عظمیٰ مکارم شیرازی کے دفتر کا جواب :

کسی بھی طرح اس کے اصلاح میں کوئی حرج نهیں هے مگر شبیه سازی جائز نهیں هے اور جینٹیکی اصلاحات سے روح کے سلسله میں کوئی مشکل پیدا نهیں هوتی ۔


مزید  شهوانی امور کے تصور سے جنابت میں شک

[1] خامنه ای : اجوبۃ الاستفتاءات ، س 1271 و 1277 ۔ امام ، تحریر الوسیله ، ج 2 ۔ التلقیح، م 1 ۔ تبریزی ، صراط النجاة، ج 5 ، س 1013 ۔ فاضل ، جامع المسائل ،ج 1 ، س 2103 و 2104 ۔ وحید ، توضیح المسائل ،م 2900 ۔ سیستانی ، توضیح المسائل ، تلقیح مصنوعی ، م69 ۔ صافی ، جمع الاحکام ،ج 2 ،س 1392 ۔ نوری ، استفتاءات ،ج 2 ،س 903 و ج 1 ، 985 ۔ مکارم ، استفتاءات ، ج 2 ،س 1757 و دفتر : بهجت ۔

[2] امام ، تحریر الوسیلۃ ، ج 2 ۔ التلقیح ، م 2 و3 ۔ تبریزی ،استفتاءات ۔ س 2094 ۔ فاضل ، جامع المسائل ، ج 1 ،س 2105 و وحید ، توضیح المسائل ، م 2898 ۔ سیستانی ، توضیح المسائل ،تلقیح مصنوعی ، م 65 ۔ صافی ، جامع الاحکام ، ج 2 ،س 1391 ۔نوری ، استفتاءات ، ج 2 ، س   908 ۔ مکارم استفتاءات ، ج 1 ، س 1527 و بهجت ، استفتاءات پزشکی ، ص 35 ۔

[3]  اجوبۃ الاستفتاءات ، ص 304 ، س 1275 ، 1271 و 1275 ۔ رساله دانشجوئی ، حسینی ، سید مجتبیٰ ، صص 292-293 ، س 476 ، 475 و 477 ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.