جنت مین کون لوگ جائیں گے ؟

0 4

جنت خدا کا پکا وعده هے [1] لیکن یه وعده کے نصیب هوگا ؛ جنتیوں کے متعلق نازل هونے والی تمام آیتوں سے یه نتیجه نکلتا هے که :[ وَعَدَ اللهُ المؤمنینَ و المؤمناتِ جَنَّاتٍ تجری مِن تحتِها الأنهارُ][2] جنت میں جانے کی ایک شرط هے وه هے مومن هونا ، یه که مومن کون هے ؟ کیا زبان سے کلمه شهادتین پڑھنا ، ایمان کے تحقیق اور مومنین کی فهرست میں داخله کے لئے کافی هے ؟

[ وَمَن یُطِعِ اللهَ و رَسولَهُ یُدخِلهُ جَنَّاتٍ تَجری مِن تَحتِها الأنهارُ ] [3] ” جنت میں جانے والے مومن وه شخص هوگا جو خدا اور صل الله علیه وآله وسلم کی اطاعت کرتا هے ” ؛ خدا اور رسول صل الله علیه وآله وسلم کی اطاعت کس طرح هوتی هے ؟ اس سلسله میں موجود مختلف آیتوں سے سمجھ میں یهی آتا هے که اس اطاعت میں دو میدان اور حصه هے : عقیدتی و عملی [ انَّ الّذینَ آمَنوا وَ عَمِلُوا الصّالحاتِ لَهُم جَنّاتٍ تجری مَن تحتِها الأنهارُ][4] ” جو شخص ایماندار هے اور عمل صالح انجام دیتا هے وه جنتی هے “۔

لهذ اجب تک هم رسول صل الله علیه وآله وسلم کی اطاعت کرنے والے نه هوں گے مطیع نهیں هیں ۔

اور اطاعت بھی قلبی اور اعتقادی هونے کے ساتھ ساتھ عملی بھی هونی چاهئے اگر خدا یا رسول خدا صل الله علیه وآله وسلم کے کسی ایک حکم پر همارا عقیده یا عمل نه هو تو هم پوری طرح اطاعت کرنے والے نهیں هو سکتے !

ایمان اور عمل صالح کا نتیجه

قرآن مجید کی نگاه میں ان دونوں (ایما اور عمل صالح) کا نتیجه تقویٰ هے اور متقی حضرات هی جنتی هیں :[للّذینَ اتَّقَوا عِندَ رَبِّهِم جَنّاتٌ تَجری مِن تحتِها الأنهار][5] گذشته مطالب سے یه نتیجه نکلتا هے که سعادت مندی کا جو هر تقوی اور تقوی خدا اور رسول صل الله علیه وآله وسلم کے تمام فرامین کی کاملاً اطاعت کا نام هے ۔

اگر چه تقویٰ کے مختلف درجے اور مرتبے هیں لیکن اس کا سب سے کم درجه واجبات کو انجام دینا اور گناهوں سے پرهیز هے اسی لئے همیں چاهئے که ایک تو واجبات اور احکام کی اچھی طرح اطاعت و پیروی کریں ۔ دوسرے آنحضرت صل الله علیه وآله وسلم  کے فرمان کے مطابق آپ کے بعد امام ؑ و جانشین کی معرفت اور انھیں پهنچاننا ضروری هے [6] ، بلاشبهه جو لوگ امام پر قلبی و زبانی عقیده نهیں رکھتے یا عملی طور پر امامت کی اطاعت نهیں کرتے هیں وه مومن یا عمل صالح انجام دینے والے نهیں هو سکتے اور نه هی تقوے کے درجه تک پهنچ سکتے هیں ۔

نکته : سوره نساء آیت نمبر 59 کے مطابق ولی امر کی اطاعت واجب هے یهاں تک کی ولی امر کی اطاعت خدا کی اطاعت کے برابر هے لیکن یه بھی یاد دهانی ضروری هے که ولی امر کو معصوم هونا چاهئے اور جو بھی شخص حاکم بن جائے وه ولی امر نهیں هوتا اس لئے که اگر ولی امر معصوم نه هوگا تو اس بات کا امکان هے که اس کا حکم خدا اور رسول صل الله علیه وآله وسلم کے حکم کے خلاف هو ایسی صورت میں خداکی اطاعت اور ولی امر کی اطاعت کا حکم دو مخالف اور متضاد چیزوں کے ایک جگه جمع هونے پر تمام هوگا جو که یقیناً محال هے ۔

اب جب که هم سعادت اور امامت پر اعتقاد کی تاثیر کو جان گئے تو اب انسان کی فردی یا اجتماعی زندگی کی سعادت اور جنتی یا جهنمی هونے میں امامت کے طریقه اور اثرات کی توضیح کریں گے[7]  ۔

کامیابی اور امام پر اعتقاد کا کردار

اب هم گذشته مطالب کی تاکید کرتے هوئے دنیا و آخرت میں ، کامیابی و سعادتمندی کے مفهوم کی تحقیق کریں گے ، نیز کامیابی کے لئے امام و امامت پر اعتقاد کے کردار سے واقف هوں گے ۔

الف : کامیابی کا مفهوم :

هر شخص کامیابی اور خوشبختی هے الگ الگ تعریف کرتاهے لیکن لگتا یه هے که یه اختلاف حقیقت کی جستجو کرنے والوں کے حق میں نه هو کیونکه :

[حرم در پیش و حرامی در پس ، اگر خفتی مردی و اگر رفتی بردی]

یعنی کعبه آگے هے اور لوٹنے والے پیچھے هیں ۔ اگر سوئے تو مارے جاؤگے اور اگر چلتے رهے تو کامیاب هو جاؤ گے ۔

لهذا بهتر یه هوگا که اس کی واقعی تفسیر خدا سے طلب کریں جس نے دو گروهوں “کامیاب” اور “ناکام” انسان کی توصیف کی هے ۔ جب وه حضرت ابراهیمؑ کی توصیف کرنا چاهتا هے تو اس طرح توصیف کرتا هے :[ و انَّ مِن شیعَتِهِ لأبراهیمَ ۔ اذ جَاءَ رَبَّهُ بِقلبٍ سلیمٍ][8]  ” اس میں کوئی شک نهیں که حضرت ابراهیمؑ ان (حضرت نوحؑ ) کے شیعوں اور پیروکاروں میں سے تھے (اس کی دلیل یه هے که ) جب وه اپنے پروردگارکی بارگاه میں گئے تو قلب سلیم اور پاک و پاکیزه دل کے ساتھ خدا کی بارگاه میں حاضر هوگا ” [9] ۔

قلب سلیم کی تاکید سے پتا چلتاهے که کامیاب ، سعادتمند ، وه شخص هے جو اس طرح مذهبی زندگی بسر کر کے خداوند عالم سے ملاقات کے موقع پر قلب سلیم کے ساتھ هو ۔

اور مزه کی بات تو یه هے که سوره شعراء آیت نمبر 89 میں یه نکته سمجھ میں آتا هے [و ازلفتِ الجنَّۃ للمتّقینَ] ” روز قیامت متقیوں کی خدمت میں جنت سچ دھج کر ان کے پاس آئے گی ” اس آیت کا یه پیغام هے که قلب سلیم کا نتیجه تقویٰ هے اور متقین کا انعام جنت هے ۔

نتیجاً: سعادت ، کامیابی اور کامرانی قلب سلیم کا مالک هونے کی کوشش میں میسر هے ۔ حقیقی خوشبخت انسان ، صاحب قلب سلیم هے اور سعادت و کامیابی ، قلب کی سلامتی سے وابسته هے ۔

ب۔ سعادتمندی کے لئے امامت پر اعتقاد کا کردار:

اهل سنت کے متعدد مصنفوں اور راویوں نے یه اهم روایت نقل کی هے ، جس کا کچھ حصه اس طرح هے :

“رسول خدا صل الله علیه وآله وسلم نے حضرت علیؑ سے فرمایا :جناب موسیٰ کی امت میں 71 فرقے هوئے تھے جنمیں صرف ایک فرقه نجات پانے والا تھا اور بقیه فرقے جهنمی هوگئے تھے ، اور میری امت میں بھی 73 فرقے هوں گے جن میں سے صرف ایک کو نجات ملے گی بقیه فرقے جهنم میں جائیں گے ، حضرت علی ؑ نے سوال کیا نجات پانے والا فرقه کون هے ؟ فرمایا: وه لوگ جو تمهارے اور تمهارے دوستوں کے راسته پر چلیں کے اور اسی سے متمسک رهیں گے ” [10] ۔

بریده اسلمی جو اهل سنت کے یهاں اصحاب رسول میں نمایاں حیثیت رکھتے هیں آنحضرت صل الله علیه وآله وسلم  سے نقل کرتے هیں که :” [اھدِنا الصِّراطَ المُستقیمَ] سے مراد وهی محمد و آل محمد علیهم السلام هیں ” [11]

رسول خدا فرماتے هیں : ” جو شخص پل صراط سے سے تیز هوا کی مانند تیزی سے گزرنا چاهتا هے اور حساب و کتاب کے بغیر جنت میں جانا چاهتا هے ،ا سے چاهئے که یقیناً فلیتولّ ولی و وصی و صاحبی وخلیفتی علی اھلی علی ابن ابی طالب “ وه میرے ولی ، وصی ، اور خلیفه علی ابن ابی طالب کی ولایت قبول کرے ۔

اور جو شخص جهنم میں جانا چاهتا هے ” فلیترک ولایته فو عزت ربی و جلاله انَّه لباب الله الذی لا یوتیٰ الامنه و انّه الصراط المستقیم و انّه الذی یسئل الله عن ولایته یوم القیامۃ “ [12] ۔

” وه ان (علی) کی ولایت کو ترک کرے میرے پروردگار کے جلال و عزت کی قسم که وهی باب الٰهی هے وه باب که جس کے سوا کسی اور باب سے خدا تک نهیں پهنچا جا سکتا بلا شبهه وه صراط مستقیم هیں : یه وهی هیں جن کی ولایت کے سلسله میں خداند عالم روز قیامت لوگوں سے پوچھے گا ۔

کن لوگوں کے اعمال قابل قبول هیں ؟

ولایت ، عبادت قبول هونے کی شرط هے !

اهل سنت کی نقل کرده متعدد روایات کے مطابق خداوند عالم کے نزدیک لوگوں کے اعمال کی قولیت کی بنیادی شرط لوگوں کا امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی ولایت کو قبول کرنا اور ان کی تعظیم کرنا هے ۔

حضرت رسول اکرم صل الله علیه وآله وسلم  فرماتے هیں : ” امیر المومنین علی ابن ابی طالب کے چهره مبارک کی طرف دیکھنا عبادت هے ان کا ذکر عبادت هے اور کسی بھی شخص کا ایمان ان سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کے بغیر مقبول نهیں هوگا ” [13] ۔

اس روایت سے جو نتیجه نکلتا هے وه یه که اصل میں ایمان کی قبولیت کی شرط تولّا اور تبریٰ هے ۔

علمائے اهل سنت نے یه بھی نقل کیا هے که :

” پیغمبر اکرم صل الله علیه وآله وسلم  نے فرمایا هے : ” اے علی ؑ! اگر کوئی شخص حضرت نوح ؑ کی عمر کے برابر خدا کی عبادت کرے ، احد کی پهاڑی کے برابر اس کے پاس سونا هو اور وه اسے را خدا میں خرچ کرے ، اس کی عمر اتنی طولانی هو که ستر مرتبه حج کرے ، اور پھر صفا و مروه کے درمیان شهید هوجائے لیکن (اے علیؑ) تمهاری ولایت اس کے دل میں نه هو تو وه جنت کی بو بھی نهیں سونگھ سکتا اور کسی بھی حال میں جنت نهیں جا سکتاهے “[14]۔

لیکن غیر شیعه جهنم میں جائیں گے یا نهیں ؟یه ایک علیحده بحث هے جس کی طرف هم ذیل میں اجمالی طور سے اشاره کرتے هیں :

دین اسلام پر ایمان نه لانے والے لوگ دو قسم هیں :

1-      وه گروه جو اصطلاح میں جاهل مقصر اور کافر کے نام سے معروف هے ؛ یعنی اسلام تک پهنچا ، وه اس کی حقیقت سے واقف هوئ لیکن سرکشی ضد اور هٹ دھرمی کی وجه سے حق کو قبول کرنے پر تیار نهیں هیں ، یه گروه عذاب کا مستحق هے اور همیشه جهنم کی آگ می جلے گا ۔

2-      وه گروه جو جاهل قاصر هے نام سے معروف هے یعنی اسلام اور اسلام کا پیغام اس تک نهیں پهنچا یا بهت ناقص اور غیر حقیقی اسلام اس کے سامنے پیز کیا گیا هے ، اس قسم کا اسلام جسے هندوستان ، چین کے ادیان یا زیاده سے زیاده یهودی ، عیسائی ادیان کے برابر جانا جاتا هے ایسے لوگ اپنے دین و مذهب میں سچے هونے کی بنیاد پر نجات والے هوں گے ۔

اسلام کی نظر میں ایسے افراد اگر اپنے دین و مذهب (جو که فطرت پر مبنی هے) میں سچے هوں مثال کے طور پر جھوٹ بولنے سے پرهیز کریں اور انسانیت کے خلاف کام انجام نه دیں تو اهل نجات هیں اور رحمت الٰهی کے حق دار هیں یهی نطلب ان کے لئے صادق هے جن کے سامنے تشیع کی حقیقت واضح و روشن نهیں هوئی هے ۔

مختصر یه که هر وه شخص جس تک حقیقت نه پهنچی هو اور اس نے بھی حق کی تلاش میں کوتاهی نه کی هو اور مقصر نه هو جهنم کا مستحق نهیں هے ؛ اس لئے که جهنم گنهگاروں که جگه هے ، نه که ان لوگوں کی جو حقیقت کو پهچان نه سکے هوں اور اس تک ان کی رسائی نه هوئی هو۔

مزید مطالعه کے لئے عنوانات کی طرف رجوع کریں :

1-      غیر مسلم اور جهنم، سوال نمبر 48 (سائٹ 283 )

2-      قاصرین اور جهنم سے نجات ، سوال نمبر 323 (سائٹ 1751 )


مزید  فلاسفه کى نظرمیں میٹافزیک یا ماوارءا لطیبعت کے وجود کا مفهوم کیسے خدا کى صورت اختیار کر گیا هے اور اس خدا کى مختلف مفکرین کى نظروں میں کیا خصوصیات هیں اور قرون وسطى کے دوران مسیحى فلاسفه کى نظر میں خدا کے مفهوم نے کون سى دوسرى خصوصتیں پیدا کى هیں؟ کیا قرون و سطى کے فلاسفه کے خدا اور ان سے قبل والے فلاسفه کے خدا کے درمیان کوئى فرق هے یا نهیں؟

[1]  ” مثل الجنۃ الّتی وعد المتقون” سوره محمد/ 15

[2]  سوره توبه / 72

[3]  سوره نساء /13

[4] سوره بروج/ 11

[5] سوره آل عمران/ 15

[6]  “اطیعوا الله َ و اطیعوا الرّسول و اولی الامرِ مِنکُم”نساء/ 59 ،” قل لا اسئلُکم علیه اجراً الّا المودۃ فی القربیٰ” سوره شوریٰ / 23 ؛ ” من کنتُ مولاه ُ فهذا علیٌ مولاهُ ” ۔ المستدرک علی الصحیحین ، ج 3 ، ص 159

[7]  البته لوگوں کے لئے امام کی ضرورت کے موضوع پر مزید بحث در کار هے اس طرح کے مقاله میں اس کی گنجائش نهیں هے لهذ ا اس کی تفصیل کسی اور وقت پیش کریں گے ۔

[8]  سوره صافات / 83- 84

[9]  سوره شعراء / 87- 89

[10]  الاصابۃ فی التمییز الصحابه ، عسقلانی ، ج 2 ، ص 174

[11]  رشفۃ الصادی ، سید شهاب الدین شافعی ، ص 25 ؛ ینابیع المودۃ ، شیخ سلما حنفی ، ص 114

[12]  شواهد التنزیل ، حسکانی ، ج 1 ، ص 59- 90

[13]  مناقب خوارزمی ، 19 و 212 ؛ کفایۃ الطالب ، گنجی شافعی، ص 214

[14]  “۔ ۔ ۔ ثم لم یوالیک یا علی لم یشم رائحۃ الجنۃ ولم یدخلھا”، مناقب خطیب خوارزمی ، مقتل الحسین ؑ ، خوارزمی ، ج 1، ص 37 ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.