جب پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) بیمار تھے، تو اس مدت کے دوران کیوں ایک بار بھی حضرت علی (ع) نے نماز کی امامت نهیں کی؟

0 0

اس سوال کا جواب دینے سے پهلے، چند نکات کا تذکر دینا ضروری هے:

امامت کا مفهوم:

لغت میں امامت پیشوائی و رهبری کے معنی میں هے اور جو بھی کسی گروه کی رهبری کو سنبھالے، اسے “امام” کهتے هیں، خواه وه حق پر هو یا باطل پر ـ[1]

علم کلام کی اصطلاح میں امام عبارت هے : “اسلامی معاشره کے تمام دینی و دنیوی امور کے سلسله میں عمومی اور وسیع ریاست”[2] یعنی امامت، نبوت کے مانند هےاور اس منصب کو سنبھالنے والے کے فرائض، پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) کے فرائض کا سلسله جاری رهنا هےاور فرق صرف اس میں هے که نبوت میں وحی نازل هوتی هے، لیکن امامت میں یه چیز نهیں هے ـ

امامت کی صفات و شرائط:

شیعوں کے عقیده کے مطابق امامت کی اصلی اور بنیادی شرائط عبارت هیں: وسیع علم اور عصمت (گناه و خطا سے محفوظ هونا)ـ اس بنا پر اس قسم کے شخص کو پهچاننا صرف وحی کے ذریعه ممکن هے ـ

حضرت علی (ع) کی امامت و ولایت:

بهت سی آیات و روایات پائی جاتی هیں جو حضرت علی (علیه السلام) کی امامت و ولایت کو ثابت کرتی هیں اور خلاصه کے طور پر هم ان میں سے صرف بعض کی طرف اشاره کرنے پر اکتفا کرتے هیں:

1ـ قرآن مجید میں ارشاد الٰهی هوتا هے: “انما ولیکم الله ورسولھ والذین آمنوالذین یقیمون الصلواۃ و یو تون الزکوٰۃ وھم راکعون “ـ[3] “ایمان والو! بس تمھارا ولی الله هے اور اس کا رسول اور وه صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے هیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے هیں ـ”

شیعه اور سنی علماء کے توسط سے نقل کی گئی روایتوں کے مطابق یه آیه شریفه حضرت علی (علیه السلام) کی شان میں نازل هوئی هے اور حضرت علی علیه السلام کی ولایت کی وضاحت و صراحت کرتی هے ـ[4] خاص کر یه مذکوره آیت میں لفظ “ولی” دوست و یاور کے معنی میں نهیں هوسکتا هے، کیونکه دوستی اور یاری تمام مسلمانوں سے مربوط هے، نه صرف ان سے، جو رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے هیں ـ

2ـ آیه شریفه : “انمایریدالله لذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیراً”[5] حضرت علی علیه السلام اور آپ (ع) کے کیاره فرزندان کی عصمت پر دلالت کرتی هے ـ اس آیت میں خداوند متعال ارشاد فرماتا هے :”بس الله کا اراده هے اے اهل بیت که تم سے هر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزه رکھے جو پاک و پاکیزه رکھنے کا حق هے ـ” شیعه و سنی علماء سے نقل کی گئی متعدد احادیث سے معلوم هوتا هے که یه آیه شریفه، حضرت پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) اور آنحضرت (ص) کے اهل بیت (ع) پر نازل هوئی هے ـ[6] هر عاقل اور صاحب فکر انسان جانتا هے که بنیادی ترین اجتماعی مسئله حکومت هے، یه صالح ترین افراد کے هاتھـ میں هونی چاهئے ـ اس بنا پر عقل اس بات کی اجازت نهیں دیتی هے که معاشره میں معصوم کے هوتے هوئے حکومت دوسری کے هاتھـ میں هو ـ

3ـ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) نے آیه شریفه: “وانذر عشیر تک الا قربین” نازل هونے کے بعد حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں فرمایا :”ھذا اخی ووصی و خلیفتی فیکم فاسمعوالھ واطیعوا”[7]، “یه علی آپ کے درمیان، میرے بھائی، وصی اور جانشین هیں، ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو” ـ

4ـ پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) نے ایک اور مناسبت سے، اپنے بعض صحابیوں سے خطاب کرکے حضرت علی (ع) کے بارے میں فرمایا : “ان علیا منی وانامنھ وھو ولی کل ھو من بعدی”ـ[8] ” علی مجھـ سے هیں اور میں ان سے هوں ـ وه میرے بعد تمام مومنون کے سرپرست اور صاحب اختیار هیں ـ”

5ـ سلمان، ابوذر اور مقداد (رضوان الله علیهم) نقل کرتے هیں که هم نے رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) سے سنا که فرماتے تھے : “علی حق کے ساتھـ هیں اور حق علی کے ساتھـ هے ـ”[9]

6ـ رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) نے امیرالمومنین حضرت علی علیه السلام سے فرمایا :”حق تیرے ساتھـ هے اور حق تیری زبان، قلب اور دوآنکھوں کے درمیان هے، اور ایمان تیرے خون اور گوشت کے ساتھـ اس طرح آمینحته هوا هے جس طرح میرے خون گوشت کے ساتھـ آمینحته هوا هےـ”[10]

7ـ ابن عباس کهتے هیں که میں نے رسول خدا (صلی الله علیه وآله وسلم) سے سنا هے که آپ (ص) فرماتے تھے :”میں، علی (ع)، حسن(ع)، حسین(ع) اور حسین (ع) کی اولاد میں سے نو افراد پاک اور معصوم هیں ـ “[11]

پس، مذکوره آیات ورایات کے مطابق حضرت علی (ع) امامت کی صفات اور شرائط رکھتے تھے اور حضرت (ع) کا حق ثابت هے ـ[12]

لیکن آپ کے سوال کے بارے میں که کیوں حضرت علی (ع) نے پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی بیماری کے دوران لوگوں کی نماز جماعت کی امامت نهیں کی؟ کے جواب میں کهتے هیں:

اولاً : همارے پاس کوئی دلیل موجود نهیں هے جس سے یه ثابت هو جائے که پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی حیات میں امام جماعت هونا امامت کی شرائط میں سے هے ـ

ثانیاً جن مواقع پر حضرت علی (ع) نے پیغمبر کارم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی جگه پر نماز جماعت کی امامت کے فرائض انجام دئے هیں، وه دوسروں سے زیاده هیں ـ[13] مثلاً جب پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) جنگ تبوک کے لئے مدینه سے باهر تشریف لے گئے تھے، علی بن ابیطالب (ع) کو مدینه میں اپنی جگه پر رکھا تا که نماز جماعت کی امامت بھی کریں اور پیغمبر اکرم کی عدم موجودگی میں مدینه کے مسائل کو اداره کریں اوراسی عنایت سے پیغمبر (ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا : “انت منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انھ لا نبی بعدی”[14] “میری نسبت تیری حالت ویسی هے جیسی هارون (ع) کی موسیٰ (ع) کی به نسبت تھی، صرف یه که میرے بعد کوئی نبی نهیں هوگا ـ “

ثالثاً : نماز جماعت کی امامت کرنا دوسروں پر فضیلت کی کوئی دلیل نهیں هے، کیونکه سعد بن عباده، زید بن حارثه اور عثمان اور دوسرے افراد نے بھی پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی جگه پر نماز جماعت پڑھی هے ـ[15] جبکه ان کے بارے میں خلافت و ولایت کے سلسله میں کوئی شخص خاص فضیلت کا قائل نهیں هے ـ

نتیجه یه که امامت صغریٰ کا امامت کبریٰ سے کوئی رابطه نهیں هے اور یه خلافت و ولایت کے سلسله میں استنباط کے قابل کسی فضیلت کو ثابت یا نفی نهیں کرتی هے ـ

اس کے علاوه همارے پاس کوئی قابل اعتبار دلیل نهیں هے، جو یه ثابت کرے که غدیر خم کے واقعه کے بعد پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی بیماری تک آنحضرت (ص) کے حکم سے کبھی ابوبکر نے نماز جماعت کی امامت کی هو ـ بلکه (پیغمبر اکرم (صلی الله علیه وآله وسلم) کی بیماری کے دوران ابوبکر کا نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں جانا، عائشه کے منصوبه کے تحت تھا، که جب پیغمبر (صلی الله علیه وآله وسلم) اس قضیه سے آگاه هوئے تو اسی بیماری کی حالت میں مسجد میں داخل هوئے اور ابوبکر کو هٹاکر خود نماز کی امامت کی [16]


مزید  کیا، غیر اضطراری حالت میں وضو کرتے وقت، کوئی دوسرا شخص ہمارے ہاتھ پر پانی ڈال سکتا ہے؟

[1]  مصباح یذدی، محمد تقی، آموزش عقاید، ص 298 ـ

[2]  ایضاً

[3]  س ـوره مائده، 55 ـ

[4]  تفسیر نور الثقلین، ج1 ، ص 643: منھاج البراعۃ، ج 2، ص 35: مزید اطلاع کے لئے کتاب “احقاق الحق” ج2، و “المراجعات” لی طرف رجوع کیا جائے سوره شود، تفسیر نمونھ، ج 4، ص 426

[5]  سوره احذاب، 33

[6]  صحیح مسلم، کتاب فضائل صحابھ، باب 9 :مجمع الزواید، ھیشمی، ج 9، ص 203 ـ

[7]  تھذیب الاثار، ابن جریر طبری، ج 3، ص 62 ـ

[8]  سنن ترمذی، ج5، ص 632، سنن نسائی، ج 5، ص 132 ـ

[9]  بحار الانوار، ج 38، ص 30 (ان علیاً مع الحق الحق معھ . . .) ـ

[10]  الغدیر، ج 3، ص 179: (ان الحق معک والحق علی لسانک وفی قلبک وبین عینیک والایمان مخالط لحمک و دمک کما خالط لحمی و دمی)ـ

[11]  ینایع المودۃ، ص 534،: (عن ابن عباس قال سمعت رسول الله (ص) یقول: انا و علی و الحسن والحسین وتسعھ من ولد الحسین مطھرون معصومون )

[12]  البته همارے دعویٰ کے سلسله میں مذکوره دو آیتوں کی دلالت میں مزید وضاحت کی ضرورت هے که اس مقاله کی گنجائش میں نهیں هے ـ

[13]  بحار الانوار، ج 22، ص 249 ـ

[14]  السسیرۃ النبویۃ، ابن ھشام، ج 4، ص 519، و 520 ـ

[15]  ومن قدمھم للصلاۃ فامیر المومنین کان یصلی با لمدینۃ ایام تبوک وفی غزوۃ الطائف وفدک و سعد بن عبادۃ علی المدینۃ فی الابواء ودان وسعد بن معاد فی بواط و زید بن حارثۃ فی صفوان و بنی المصطلق الی تمام سبع مرات وابا سلمۃ المخذومی فی ذی العشیرۃ وابا لبابۃ فی بدر القتال و بنی قینقاع و السویق و عثمان فی بنی غطفان و ذی امر و ذات الرقاع و وابن ام مکتوم فی قرقرۃ الکدر وبنی سلیم واحد وحمراء الاسد وبنی النضیر والخندق و بنی قریظۃ وبنی لحیان و ذی قرد و حجۃ الوداع والاکیدر و سباع بن عرفطۃ فی الحدیبیۃ و دومۃ الجندل ابا ذر فی حنین وعمرۃ القضاء وبن روحۃ فی بدر الموعد و محمد بن مسلمۃ ثلاث مرات و قد قدم عبد الرحمن بن عوف و معاذبن جبل و ابا عبیدۃ وعائشه بن محصن و مرثد الغنوی، عمالھ و لی عمروبن حذم الانصاری نجران و ذیاد بن اسید حضرموت و خال بن سعید العاص صنعاء وابا امیۃ المخزومی کندۃ والصدق و ابا موسی الاشعری زبید و زمعۃ عدن و الساحل و معاذ: ایضاً ـ

[16]  رسول جعفر یان، سیره رسول خدا (ص)، ص 676: ابن بی الحدید، شرح نھج البلاغه ،ج 9، ص 197 ـ

تبصرے
Loading...