تغییر جنسیت “پرورش کے حق”، پر کیا اثر ڈال سکتی هے؟

0 0

“حضانت”، لغت میں پرورش کے معنی میں هے اور فقهی [1] اصلطلاح اور شهری قانون[2] کے مطابق والدین یا اس کے رشته داروں کے توسط سے بچے کی پرورش کے معنی میں هے، یه ایک حق بھی هے اور ذمه داری بھی ـ پرورش مادی لحاظ سے بھی اور معنوی و اخلاقی لحاظ سے بھی شمار هوتی هے ـ ایران کے شهری قانون میں بچے کی پرورش کے بارے میں یوں آیا هے :

بچے کی پرورش کے سلسله میں پیدائش سے دوسال تک اس کی ماں کو پرورش کی ذمه داری سنبھالنے کی اولویت هوتی هے اس مدت کے گزرنے کے بعد پرورش کی ذمه داری باپ پر هے، لیکن لڑکی کی پرورش کی ذمه داری سات سال تک ماں کے ذمه هوگی ـ[3]

تغییر جنسیت کے بارے میں جو سوال کیا جاتا هے، وه یه هے که اگر ماں بچے کی پروراش کی ذمه داری کی مدت میں تغییر جنسیت دیکر مرد بن جائے تو کیا پھر بھی وه پرورش کی صلاحیت رکھتی هے یا نه؟ اس کے علاوه اگر باپ بچے کی پرورش کی ذمه داری کی مدت میں تغییر جنسیت دیکر عورت بن جائے تو کیا پھر بھی وه پرورش کی صلاحیت رکھتا هے یا نهیں؟

اس مطلب کو هم مندرجه ذیل دو موضوعات کے ضمن میں بیان کریں گے:

پهلا موضوع: ماں کی تغییر جنسیت اور بچوں کی پرورش کا مسئله:

اگر بچه لڑکا هو تو دوسال تک اور اگر لڑکی هو تو سات سال تک اس کی پرورش ماں کے ذمه هے ـ اگر اس مدت کے دوران ماں نے تغییر جنسیت انجام دی تو پرورش کی حالت کیسی هوگی؟

اس مطلب کی طرف توجه کرنا ضروری هے که بچه کی پرورش اس کے ابتدائی سالوں کے دوران ماں کے ذمه هے، یه اس لئے هے که وه ماں هے، کیونکه بچے کو اس عمر میں ماں کی زیاده ضرورت هوتی هے ـ ایران کے شهری قانون کے دفعه نمبر 1169، 1170، اور 1176 میں واضح طور پر بچے کی ابتدائی عمر میں پرورش کی ذمه داری ماں کو سونپی گئی هے ـ

اب سوال پیدا هوتا هے که جب “ماں” تغییر جنسیت انجام دے گی تو وه ماں کے عنوان سے خارج هوجائے گی؟ اس کا جواب منفی هے، کیونکه ماں باپ کا عنوان خاص عناوین میں سے هے جو تغییر جنسیت سے بدل نهیں سکتا هے اور عرف میں، تغییر جنسیت کے بعد بھی “مادری” کا عنوان باقی رهتا هے ـ اس کے علاوه شرعی لحاظ سے ماں وه هے که فرزند اس کے بیفک (ovule)  سے پیدا هوا هو اور اس کے بطن میں رشد کرچکا هو اور اس نے اسے جنم دیا هو پس تغییر جنسیت سے، یه خصوصی عنول تبدیل نهیں هوتا هے ـ اس لحاظ سے اطمینان کے ساتھـ کها جاسکتا هےکه ماں کی تغییر جنسیت اطفال کی پرورش کے حق میں کوئی اثر نهیں ڈالتی هے ـ دوسرے الفاظ میں، تغییر جنسیت کی وجه سے صرف اس کا عورت هونا تبدیل هوا هے لیکن اس کے باوجود اس سے پیدا هوئے فرزندوں کے بارے میں اس کا ماں هونے کا عنوان تبدیل نهیں هوا هے ـ دوسرے الفاظ میں “عورت هونے” اور “ماں هونے” کے دو عنوانوں کے درمیان تفکیک قابل تصور هے ـ

اس کے پیش یه احتمال بیان کیا جاسکتا هے که اگر عدالت کی تشخیص پر تغییر جنسیت کے بعد ماں بچه کی پرورش کی ضروری صلاحیت نه رکھتی هو، تو یه حق اس سے سلب هوگا اور بچے کے باپ کو یه ذمه داری سونپی جائے گی جس میں یه صلاحیت موجود هے ـ چنانچه شهری قانون کی دفعه نمبر 1170 کے مطابق اگر ماں دیوانه هو جائے، یا دوسرا شوهر کرے، تو اس کا پرورش کا حق ساقط هوتا هے ـ اس دفعه سے استفاده کرنے کا مفهوم یه هے، که بچے کی پرورش کرنے کے لئے ماں میں صلاحیت هونی چاهئے ـ چنانچه وه دیوانه هوجائے یا کسی دوسرے سے ازدواج کرے تو وه فاقد صلاحیت هوتی هے ـ اس بنیاد پر کها جاسکتا هے که ماں کی تغییر جنسیت بچے کی پرورش کرنے کے سلسله میں اس کی صلاحیت ختم هونے کا سبب بن جاتی هے ـ اگرچه عرف کے لحاظ سے یا شرع کے مطابق تغییر جنسیت کے بعد بھی “ماں” کا عنوان صیحح هے ـ البته هم تاکید کرتے هیں که اس امر کی تشخیص دینا صالح عدالت که ذمه هے ـ

دوسرا موضوع: باپ کی تغییر جنسیت اور بچوں کی پرورش کا مسئله:

اگر باپ اس مدت کے دوران که بچے کی پرورش کی ذمه داری سنبھالے هوئے هے، تغییر جنسیت انجام دے کر عورت میں تبدیل هوجائے تو یه امر اس کی بچے کی پرورش پر کیا اثر ڈال سکتا هے ؟

اس کے جواب میں کها جاتا هے که تغییر جنسیت کے بعد “باپ” کا عنوان تبدیل نهیں هوتا هے اور عرف کے مطابق انسان کهه سکتا هے که یه میرا باپ هے جو تغییر جنسیت انجام دیکر عورت میں تبدیل هوا هے اور فرض اس پر هے که باپ کو بچے کی پرورش اس لئے سونپی جاتی هے که وه اس کا باپ هے ـ اس کے علاوه شرعی لحاظ سے باپ وه هے که جس کے نطفه (sperm) سے فرزند پیدا هوا هو اور یه امر تغییر جنسیت سے تبدید نهیں هوتا هے ـ

دوسرا احتمال یه هے که تغییر جنسیت انجام دینے کے بعد باپ عورت میں تبدیل هوکر بچے کی پرورش کرنے کی صلاحیت نه رکھتا هو، خاص کار اگر تغییر جنسیت کے بعد عورت میں تبدیل هوکر کسی دوسے مرد سے ازدواج کرے که شهری قانون کے دفعه نمبر 1170 کے مفهوم سے اس کی عدم صلاحیت معلوم هوتی هے اس کے علاوه شهری قانون کے دفعه نمبر 1172 میں آیا هے:

“اگر باپ یا ماں، جن کے ذمه بچے کی پرورش هو، اخلاقی انحطاط کی وجه سے بچے کی جسمانی صحت یا اخلاقی تربیت خطره سے دوچار هوجائے تو بچے کے رشته داروں یا اس کے ولی یا عدلیه کے ریئس کی درخواست پر عدالت مناسب فیصله دے سکتی هے ـ”

دفعه نمبر 1173 کے ضمن میں ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے اخلاقی انحطاط سے دوچار هونے کے سلسله میں مصادیق بیان کئے گئے هیں ـ مذکوره قرائن و شواهد کے پیش نظر کها جاسکتا هے که : پرورش کا مقصد، بچے کی چھوٹی عمر میں حفاظت اور نگرانی کرنا هے جب اس کو معنوی، روحی اور فکری حمایت کی ضرورت هوتی هے ـ اور باپ کی تغییر جنسیت کی وجه سے یه حمایت نابود هوتی هے اور عدالت کی تشخیص پر بچے کی ماں کو یاکسی دوسرے صالح شخص کو بچے کی پرورش اور حفاطت کی ذمه داری سونپی جائے گی ـ


مزید  کیا اسلام کے علاوه دوسرے ادیان کے ذریعھ بھی کمال و عروج تک پھنچا جا سکتا ھے ؟ توحید تک کیسے پنچا جا سکتا ھے؟

[1]  ملاحظه هو: محمد حسن نجفی، جواهر الکلام، ج 4، ص 548 – 549؛ شیخ طوسی، المبسوط، ج 2، ص 1666 – 1667.

[2]  ملاحظه هو: محمد جعفر جعفری لنگرودی، مبسوط در ترمینولوژی حقوقی، ج 2، واژه ی حضانت؛ ناصر کاتوزیان، حقوق خانواده، ج 2.

[3]  قانون مدنی ایران، ماده 1168.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.