تحقیق کیئے بغیر مرجع تقلید منتخب کرنے والے کا اب کیا فریضه هے ؟

0 0

انسان کوچاهیئے که شروع میں اعلم مجتهد کی تشخیص کی راهوں ، جسے فقهاء نے توضیح المسائل میں بیان کیا هے [1] ، کے ذریعه تحقیق کرے تا که اعلم کو پهچان لے اور اعلم کی تشخیص کے بعد اس کی تقلید کرے ، لهذا اگر تقلید شرعی معیار سے نه هوگی تو صحیح نهیں هے ۔[2]

دوسرے لفظوں میں اگراس نے ان طریقوں سے تحقیق نه کی اور کسی مرجع کو منتخب کرلیا تھا جو اعلم نهیں تھا تو وه اعمال که جنھیں شرعی معیار کے بغیر مرجع کی تقلید کے ذریعه انجام دیا تھا اگر اس مرجع کے فتوے کے مطابق تھےجس کی تقلید کرنی چاهیئےتو وه اعمال صحیح هیں اور آپ برئ الذمه هیں ، ورنه ان (اعمال) کی قضا آپ پرواجب هے [3] ۔

اس دور میں اعلم کی تشخیص مشکل هے اور حوزه علمیه کے اساتذه و مدرسین نے دس سے زیاده عالی مقام مجتهدین ، جو علمی اعتبار سے تقریباً ایک هی سطح پرهیں ، کی پهچان کرائی هے اور فرمایا هے که ان افراد میں سے جس کی بھی تقلید کی جائے صحیح هے [4] ۔



[1]  توضیح المسائل مراجع ، ج 1 ، ص15 ، مسئله 3

[2]  تو ضیح المسائل ( المحشی للأمام ال خمینی (ره) ) ، ج 2 ، ص798 ، مختلف موضوعات کے سلسله میں امام خمینی (ره) سے استفتاء کیئے جانے والے مسائل با حاشیه آیت الله نوری ، سوال 2 ۔

[3]  اجوبۃ الاستفتاء ات (فارسی) ، سوال 32

[4]  مزید معلومات کے لیئے ملاحظه هو: عنوان : اس دور کے اعلم مراجع اور انھیں تشخیص دینے والی کمیٹی ، سوال نمبر 678 ، (سائٹ :725 )

مزید  عثمان کے قتل کے واقعہ میں، امام علی(ع) نے امام حسن اور امام حسین (ع) کو عثمان کے گھر بھیجدیا اور انھیں حکم دیا کہ عثمان کا دفاع کریں کہ اس سلسلہ میں امام حسن(ع) کی پیشانی پر خون کے دھبے لگ جاتے ہیں اور محمد بن ابوبکر کہتے ہیں کہ ہمیں پیچھے سے حملہ کرنا چاہئے، کیونکہ ممکن اس صحنہ کو دیکھ کر بنی ہاشم میدان میں اتر آئیں۔ کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ایک جلیل القدر شخص اس قسم کے اہم موضوع کے سلسلہ میں امام (ع) کے حکم کی نافرمانی کریں؟
تبصرے
Loading...