بندگی کیا هے؟ اور بنده کون هے؟ بندگی کی راه میں کیسے قدم بڑھایا جاسکتا هے؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa2208


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
6135

بندگی کیا هے؟ اور بنده کون هے؟ بندگی کی راه میں کیسے قدم بڑھایا جاسکتا هے؟

بندگی کیا هے؟ اور بنده کون هے؟ بندگی کی راه میں کیسے قدم بڑھایا جاسکتا هے؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  خداوند متعال نے اس دنیا کو کیوں پیدا کیا ہے؟ معمولاً اس کا جواب یہ ہے کہ مخلوقات عالم، خاص کر انسان خدا کو پہچان لیں اور اس کی عبادت کریں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ خداوند متعال نے عالم ہستی کو خلق کیا ہے تاکہ ہم محمد (ص) آور آپ (ص) کے اہل بیت (ع) کو پہچان لیں۔ اگر دوسرا نظریہ صحیح ہے تو خداوند متعال نے ان کے حق میں کیوں ایسے کام انجام دئے ہیں جو تکلیف دہ ہیں؟ اور اگر پہلا نظریہ صحیح ہے تو کیوں انھیں اذیت و آزار سے دوچار کیا ہے؟ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت (ص) اور آپ (ص) کا خاندان خدا کے محبوب ترین بندے ہیں اور دوسری طرف خداوند متعال نے ان کے حق میں سخت ترین کام انجام دئے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ اس نے کیوں ہم خاکی مجرمین کو پیدا کیا اور راہ راست پر ہدایت کے لئے اپنے انوار، یعنی آنحضرت (ص) اور آپ (ص) کے اہل بیت(ع) کو بدترین حالت میں قرار دیا؟ یہ مطلب گلاب کو کوئلے سے دھونے کے مترادف ہے۔ خداوند متعال نے کیوں اس دنیا میں درد و رنج کی راہ کا انتخاب کیا ہے؟ معلوم ہوتا ہے خداوند متعال درد و رنج اور برائی کو دوست رکھتا ہے اور اس کی سنت اسی پر استوار ہے، کیا خداوند متعال کا، اپنے محبوب کے ساتھ برتاؤ کرنے کا یہی مناسب طریقہ ہے؟ واقعاً خدا کیا چاہتا ہے؟میری زندگی اس وقت سخت بحرانی حالت سے گزر رہی ہے، شائد اس لئے کہ میں چاہتاہوں کہ خدا کی نظر میں نیک بن جاؤں، اسی لئے زندگی میں ان سب مشکلات سے دوچار ہوں۔ علماء کہتے ہیں کہ اگر اپنی زندگی میں برائیوں کو چھوڑ دوگے اور تقوی اور پرہیزگاری سے زندگی گزاروگے تو خدا کی طرف سے آزمائشوں اور امتحانات سے دوچار ہوجاؤ گے اورسختیاں دیکھو گے۔ اگر زندگی راحت اور گناہ سے آلودہ ہو، تو علماء کہتے ہیں کہ اس دنیا میں عذاب سے دوچار ہوجاؤ گے۔ پس اس میں کیا فرق ہے کہ دونوں صورتوں میں سختیاں ہی سختیاں ہیں۔کیا کوئی ایسا طریقہ موجود ہے کہ ہم خداوند متعال سے معاملہ انجام دیں اور وہ مجھے یہ فرصت دیدے کہ میں ایک ایسی زندگی کا انتخاب کروں( اچھی یا بری) جسے میں خود چاہتا ہوں؟ مجھ میں یہ طاقت نہیں ہے اور تصور نہیں کرسکتا ہوں کہ معصومین (ع) کی جیسی طاقت اور کردار کا مالک بن جاؤں اور حتی کہ ان کی خاک پا کے برابر بھی ہوجاؤں۔ ۔ ۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.