بعض ملائکه خدا وند متعال کی عبادت و تسبیح کے علاوه کوئی اور کام انجام نهیں دیتے هیں- کیا ان کا یه عمل اختیاری هے یا غیر اختیاری؟! اور اگر ملائکه اختیار نهیں رکھتے هیں، تو کیا خداوند متعال اس قسم کی عبادت کا محتاج هے؟

0 0

ملک ایک ماورائے فطرت مخلوق هے. اس کے وجود کو ثابت کرنے کا طریقه یا وحی پر مبنی کتابوں اور بندگی  کی طرف رجوع کرنا هے یا اس مخلوق کی ان امدادوں کا تجربه هے جو اس نے بندوں (انبیاء و اولیاء میں سے مخلصین )کی ایمانی زندگی میں کی هیں.

یه ماورائے فطرت مخلوق جسم وجسمانیت والی  نهیں هے که اس کی کمیت و کیفیت کے بارے میں بحث کی جائے یا قابل تصور هو. البته یه مخلوق بعض اوقات انسان کی شکل میں ظاهر کرسکتی هے تا که انسان اسے بشرکی شکل میں دیکھـ سکے جبکه وه حقیقت میں انسان نهیں هے، جیسے حضرت مریم علیها السلام[1] کا روح کا مشاهده کرنا ملایکه کا حضرت ابراھیم علیه السلام[2] یا حضرت لوط[3] علیه السلام کے هاں مهمان کی صورت میں حاضر هونا اورجبرئیل امین علیه السلام کا رسول خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں رحیه کلبی کی صورت میں حاضر هونا. هم صرف اس قدر جانتے کھ ان کے درمیان ان کے وجود کی نسبت سے محدودیت، تکثیر اور تنوع پایاجاتاهے، لهذا ان میں سے بعض دنیا میں عذاب کےموکل هیں، بعض برزخ میں عذاب کے موکل هیں اور بعض قیامت میں عذاب کے موکل هیں . بعض انسان کے نامه اعمال کے کاتب هیں اور بعض فیصلوں اور قضا اور قدر الهی کے کاتب هیں، بعض امور کی تدبیر کرنے والے هیں اور بعض وحی کو لانے والےهیں ، بعض دلوں میں الهام ڈالنے والے هیں اور بعض مومنین کے محافظ، یاور اورحامی هیں، بعض دوسروں پر امر وفرمانروائی کرنے والے هیں اور بعض اپنے مافوق کے فرمانبردار ، مطیع اور مامور هیں اور بعض رزق کے موکل هیں اور بعض بارش کے موکل هیں اور ان میں سے بعض روح کو قبض کرنے والے هیں. ان میں سے بعض همیشه سجده کی حالت میں هیں اور بعض همیشه رکوع کی حالت میں هیں اور بعض مسلسل تسبیح وتمجید کی حالت میں، بعض کعبه ، مقدس مقامات اور مومنین کی قبروں کے طواف اور زیارت میں مشغول هیں، بعض مومنین اور شیعیان علی علیه السلام کے لئے استغفار و شفاعت میں مشغول هیں، بعض کفارو مشرکین و منافقین اور آل الله کے دشمنوں پر لعن ونفرین کرنے میں مشغول هیں. ملائکه یه ذمه داریاں ایسے نبھاتے هیں که هر ایک کی اپنی ذمه داری اور ایک مقام هے اور اپنے فریضه سے نافرمانی کرنے کی قدرت نهیں رکھتے هیں اورجو حکم انھیں ملے اس پر عمل کرتے هیں.

عبادت ، اپنے رب، مولی اور مالک کی عبودیت کا اظهار کرنے کے علاوه کچھـ نهیں هے.جس قدر حق تعالی کی عظمت و هیبت کا ادراک زیاده هو اسی قدر اس عظمت والے کے حضور اس کی عبودیت کا ظهور اور عجز  کا اظهار زیاده نمایان هوتاهے. بندگی کا یه ظهور واظهار خود بندے کے کمال و درایت کی علامت هے اور اس کی اس عبادت سے خداوند متعال کو کوئی فائده نهیں پهنچتا هے اور ضروری بھی نهیں که اس ذات اقدس کو کوئی فائده ملےتاکه اس کے لئے یه امر ان بندوں کی تخلیق وتکوین کا سبب بن جاتی  ، کیو نکه ان کی اصل تکوین اور تخلیق قدرت الهی کا ظهور اور انھیں وجود کی نعمت عطا کر نا هے – اب اگر کوئی بنده اختیار کے ساتھـ عبادت کرے ، اس کی یه عبادت اس کے باطنی صفا اور اس کے کمال نفس کا سبب بن جاتا هے اور اس کے نتیجه میں اس کی عبودیت اور انسانیت کے مراتب میں ترقی حاصل هوتی هے – پس اس تسبیح وتمجید وتکریم و تعظیم کا اثر خود بنده میں پیدا هو تا هے اور اس عباد ت سے خدا وند متعال کو کوئی فائده نهیں پهنچتا هے که اس کے ترک کر نے سے خدا کو کوئی نقصان پهنچے گا – بلکه عبادت کوترک کر نے سے خود بنده اس کے بلند نتائج سے محروم هو تا هے –

بظاهر یه شبهه بعض ملائکه کے لئے بھی پیش آیا هے ، کیونکه جب خدا وند متعال نے ان کے لئے اعلان فر مایا که: ” میں زمین میں اپنا خلیفه بنانے والا هوں اور انهوں نے کها که کیااسے بنائے گا جو زمین میں فساد بر پا کرے اورخونریزی کرے، جبکه هم تیری تسبیح و تقدیس کرتے هیں تو ارشاد هوا که میں وه جانتا هوں جو تم نهیں جانتے هو، اور خدا نے آدم کو تمام آسماء کی تعلیم دی اور پھر ان سب کو ملائکه کے سامنے پیش کر کے فر مایا که ذرا تم ان سب کے نام تو بتاٶ اگر تم اپنے خیالی استحقاق میں سچے هو،ملا ئکه نے عرض کی هم تو اتناهی جانتے هیں جتنا تونے همیں بتایا هے که تو صاحب علم بھی هے اور صاحب حکمت بھی …پھر اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے هوئےملائکه نے آدم کے لئے سجده کیا ـ”[4] یه امر اپنی جگه پر مسلم هے که جانی بوجھی  ویا اختیاری عبادت، تکوینی اور اجباری عبادت سے زیاده قدر و منزلت رکھتی هے، لهذا اختیاری عبادت کا اثر هے اور غیر اختیاری عبادت کا کوئی اثر نهیں هے، اختیاری عبادت بالقوه موجود کو بالفعل میں تبدیل کرتی هے لیکن غیر اختیاری عبادت کی فعلیت کا نتیجه ثابت هے اس میں کمال وارتقا کی کوئی گنجائش نهیں هے اور اگر نافرمانی کرے تو زوال سے دوچار هو تاهے! امام علی علیه السلام ، ملائکه کی یوں توصیف فر ماتے هیں:

” تو نے ملا ئکه کو پیدا کر کے انھیں آسمانوں میں جگه دی- ان کے لئے تھکن ، غفلت اور معصیت نهیں هے – وه تیرے سب سے اعلم بندے هیں اور تمام مخلوقات  میں سے تجھـ سے خائف تر هیں اور سب تیرے لئے نزدیک تر هیں اور سب سے زیاده تیرے مطیع هیں-ان پر نیند طاری نهیں هوتی هے… ان کی عقل غلطی نهیں کرتی هے اور ان کا بدن تھکن محسوس نهیں کرتا هے – اصلاب میں قرار نهیں پاتے هیں اور ارحام میں مخفی نهیں هوتے اور وه نجس پانی (منی) سے پیدا نهیں کئے گئے هیں- انھیں تو نے ایک خاص طریقه سے پیدا کیا هے اور اپنے آسمانوں میں جگه دی هے اور اپنے جوار میں انھیں کرامت بخشی هے اور انھیں اپنی وحی کا امین بنایا هے اور انھیں آفات و بلیات سے محفوظ رکھا هے اور انھیں گناهوں سے پاک کیا هے – اگر تو انھیں طاقت نه بخشتا تو وه کوئی طاقت نهیں رکھتے ، اگر تو انھیں مستحکم نه بناتا تو وه مستحکم نه هو تے- اگر ان پر تیری رحمت نه هو تی تو وه اطاعت نه کر تے اور تو نه هو تا تو وه بھی نه هوتے- اس کے باوجود تیرے نزدیک ان کی منزلت تیرے لئے ان کی عبادت ، تجھـ سے ان کا تقرب اور تیرے اوامر سے ان کی عدم غفلت، تیری هی عنایت هے – اگر تو اپنی ذات کے بارے میں مخفی رکھی چیز کو بھی ان کے سامنے ظاهر کرتا ، تو بیشک ان کے اعمال اس کی نظر میں حقیرتر بن جاتے اور وه شرمنده هو تے اور جانتے که انهوں نے تیری شایاں شان عبادت و بندگی نهیں کی هے – تو خالق و معبود هو اور تسبیح تیرے لئے هے، تو اپنے بندوں کی عجیب آزمائش کرتا هے-“[5]

اگر امیرالمومنین علیه السلام کی مذکوره عبارت پر غور کیا جائے تو: ١- ان کی عبادتوں کا راز ٢ـ ان کے اس اعتراض کا راز ٣- ان کے اعتراف کر کے سجده کر نے کا راز بھی واضح هو تا هے – ان کی عبادتیں ذات حق تعالے کے بارے میں ان کے علم شهودی کے اقتضاء اور ان کا خوف وخشیت حق تعالی کی هیبت وعظمت سے اعزاز پاتا هے – البته یه علم ان کے محدود وجود کے تناسب سے انھیں حاصل هے اور ان کی عبادت بھی ان کی محدود ذات کے متناسب هے نه که خدا وند متعال کی ذات اقدس کے متناسب-

حضرت آدم علیه السلام کو پیدا کئے جانے کے وقت ان کا اعتراض ان کے علم کی محدودیت کی وجه سے تھا اور جب  یه امر ان کے لئے واضح اور روشن هوا تو اپنے عجز و ناچار گی سے آگاه هو گئے اور اپنی جهالت و خطا کا اعتراف کر کے ، خدا کے حکم سے آدم علیه السلام  کے لئے سجده کیا-

خلاصه یه که ملائکه کی اختیاری عبادت، انسانوں میں تشریع و تکلیف کے معیار کے مانند نهیں هے- لهذا یه عبادت ان کی ترقی ، بلندی، ارتفاع اور رشد کا سبب نهی بنتی هے – بلکه اگر وه اس عبادت کو چھوڑ دیں اور خطا کریں تو زوال سے دوچار هوتے هیں-

پس ا ن کی عبادت کا سر چشمه ایک طرف ذات اقدس الهی کی نسبت ان کا علم اور هیبت و عظمت کا ادراک کر نا هے اور دوسری طرف سے  ان کے وجود کی حقارت اور محدودیت هے، چنانچه یه امر انسان کی فطرت میں بھی مضمر هے- لیکن ملا ئکه کی تکوینی اور اجباری نیاز مندی کا بھی خدا وند متعال کو کوئی فائده نهیں هے اور پروردگار عالم کو ان کا اور ان کی عبادت کی کوئی احتیاج نهیں هے بلکه یه سب خالق ، قادر ، حکیم اورعا لم کی قدرت کی جلوه نمائی هے-

منابع و ماخذ:

١- قرآن کریم ، فاطر، ١، صافات، ١٦٤، تکویر ٢١، سجده، ٥ و١٢، انعام، ٦٢، نحل ، ٢ و١٠٢، بقره، ٩٧، عبس، ١٦، معارج، ٤ حجر، ٢١، حج، ٢٢، نازعات، ٥، تحریم، ٦، ذاریات، ٤، مٶمن، ٧، نجم،٢٦، انبیاء، ٢٨ و ١٠٣، بقره ١٦١ و ٣٣-٣٠ و ٢٤٨، آل عمران، ٣٩ و ١٢٥ – ١٢٤، تحریم ، ٤، مریم ، ٧ و١٩- ١٦، زمر، ٧٣، مدثر، ٣٠، زخرف،٧٧-

٢- طباطبائی، محمد حسین ، المیزان، دفتر انتشارات جامعه مدرسین، قم ،ص١٣- ٥-

٣- مصباح یزدی، محمد تقی، معارف قرآن، ٣-١، در راه حق، طبع ١٣٦٨، ٢، قم،ص٢٩٥-٢٨٣-


مزید  علامه طباطبائی کی نظر میں نفس کا حدوث جسمانی هونا عالم ذر کے ساتھ کسطرح قابل جمع هے؟

[1] مریم،١٩-١٦.

[2] هود,٧٧-٦٩.

[3] هود,٨١.

[4] – سوره بقره، ٣٣-٣٠-

[5] – ملاحظ هو: المیزان ،ج١٧،ص١٠- ٨-

تبصرے
Loading...