برهان نظم کیا هے؟

0 0

خداوند متعال کی معرفت اور اثبات و جود کے لئے جو برهان اوردلائل پیش کئے گئے هیں ، وه متعدد هیں اور ان میں مختلف طریقوں سے استفاده کیا گیا هے- ایک اجمالی تقسیم بندی میں ان دلائل و برهان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا هے:

نفسیاتی یا فطری راه، علمی و فلسفی نماراه اور فلسفیانه راه – برهان نظم کو علمی و فلسفی نما راه کی اقسام میں سے ایک قسم شمار کیا جاسکتا هے-[1]

برهان نظم کی تشریح بیان کر نے سے پهلے ، اس مطلب کی طرف توجه کر نا ضروری هے که خدا وند متعال کے وجود کو ثابت کر نے کے برهان اور دلائل ، صحیح و کامل هو نے، یا معیوب و فاسد هو نے ، قدر و منزلت و محدودیت ، نتائج و مقصود ، ان میں سے هر ایک پر کی گئی تنقید اور  اشکالات کے سلسله میں دئے گئے جوابات ، حسی و تجرباتمقدمات سے استفاده کر نے اور حتی که سلسله میں پیش کئےگئے  تالیفات و بیانات کے لحاظ سے یکساں اور  هم سطح نهیں هیںاور اس مطلب کو مد نظر رکھنے کے نتیجه میں گمراهی کی بهت سی غلط فهمیوں کا ازاله هو سکتا هے-[2]

اس لحاظ سے ، خداوند متعال کو ثابت کر نے کے سلسله میں جو برهان قائم کئے جاتے هیں ، انهیں ،صحیح و غلط ، کمال و نقص اور یقین حاصل کر نے کی شرائط کے لحاظ سے مندر جه ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا هے:

الف) وه دلائل و برهان، جو ناقص ، خراب و فاسد اور کھو کھلے اور یقین حاصل

کر نے کے سلسله میں ضروری شرائط کے فاقد هوں- اس قسم کے برهان و دلائل ، حقیقت میں برهان نهیں هیں-

ب) وه بر هان ودلائل جو فاسد اور خراب نهیں هیں ، لیکن ناقص هو تے هیں اور مکمل صورت میں واجب الوجود کو ثابت کر نے کی طاقت  نهیں رکھتے هیں- اس قسم کے برهان کا اهم کام خدا وند متعال کے اوصاف میں سے کسی وصف اور اسمائے الهی میں سے کسی اسم کو ثابت کر نا هے اور واجب الوجود (خداوند متعال)کو ثابت کر نے کے لئے یه برهان دوسرے برهان کا سهارا لینے کے محتاج هو تے هیں –برهان نظم اسی قسم کا برهان هے-

ج) وه برهان و دلائل ، جوصحیح اور مکمل هیں اور اپنے مطلوب یعنی اثبات واجب الوجود کو صراحت سے انجام دے سکتے هیں-[3]

برهان نظم:جیسا که  پهلے اشاره کیا گیا که خدا کی معرفت کی علمی(حسی) وفلسفه نما راهوں میں سے ایک راه، بر هان نظم هے – اس بر هان میں ایک حسی و تجرباتی مقدمه هے جس سے استفاده کیا جاتا هے ،اس معنی میں که هم خارجی و فطری واقعات اور مخلوقات کا حسی وتجرباتی مطالعه اور وآیات الهی کا مشاهده کر کے، اور استد لال بر هانی میں ان سے استفاده کر کے مطلوبه نتیجه حاصل کرتے هیں- اسی لئے برهان نظم صرف حسی و تجرباتی استدلال نهیں هے بلکه اس میں عقل و مقدمه عقلی کی بنیاد بھی هے-[4]

برهان نظم پر غور وتحقیقات، بعض بزرگوں کی تعبیر میں ، مشهور ترین ، معروف ترین اور عام  ترین دلیل هے ، جس کو علمائے دین نے وجود خدا کے ثبوت  کے طور پر پیش کیا هے- [5]یهی دلیل اور نظام موجودات کا مسئله (مستحکم نظام) هے که جسے آیه شریفه ” صنع الله الذی اتقن کل شئی” [6]سے استفاده کر کے “اتقان صنع” (مستحکم صنعت) کے نام سے یاد کیا جاسکتا هے- برهان نظم کا ” حکمت الهی” کے مسئله سے نزدیکی رابطه هے-یهاں پر اس سلسله میں بحث کر نے کی گنجائش نهیں بلکه اس کے لئے الگ سے فرصت کی ضرورت هے- [7]یه بات قابل ذکر هے که اسلامی فلسفه نے برهان نظم میں موجود محدودیتوں کے پیش نظر “واجب الوجود” کی ذات کو ثابت کر نے کے سلسله میںاس سے استفاده نهیں کیا هے-[8]

برهان نظم کو مختلف صورتوں میں پیش کیا جاسکتا هے ، لیکن جیسا که پهلے اشاره کیا چکا هے که، اس صورت میں جو بھی نتیجه حاصل هو جائے وه دو مقد موں پر منحصر هے ان میں سے ایک تجرباتی اور دوسرا علمی مقدمه هے- [9]مقدمه علمی وهی قیاس (هرنظم ایک ناظم کا محتاج هے)کا کبری هے، ایک ایسے قیاس پر اعتماد کئے بغیر نتیجه نهیں نکلتا هے، جس نے حرکت ، حدوث یا امکان سے استفاده کیا هو ، اس کے مانند که کها جاتا هے: نظم حادث یاممکن کی ایک حقیقت هے اور هرحادث یا ممکن کے لئے ایک محدث مبدا یا واجب الوجود کی ضرورت هے، پس نظم کا بھی ایک مبدا محدث یا واجب الوجود هے-

البته، چونکه اس مبدا سے نظم صادر هوتا هے ، اس لئے اسے”ناظم” بھی کها جاتا هے ، اس لئے کها جاسکتا هے که برهان نظم ،جس حد میں بھی نتیجه دینا چاهے ، ایک دوسرے برهان کا محتاج هے اور یه ایک مستقل برهان شمار نهیں هو سکتا هے-[10]

دوسری جانب چونکه برهان نظم کسی دوسرے برهان کی مدد سے مبدا ناظم کو ثابت کرتا هے اور جو فعل ناظم سے صادر هوتا هے وه (نظم)عالمانه هے، علم کی صفت بھی ناظم کے لئے ثابت کی جاسکتی هے-[11]

نظم کی اجمالی صورت یوں بیان کی جاسکتی هے: نظم موجود هے، یعنی عالم منظوم (صاحب نظم) هے – اور هر منظوم کا ایک ناظم هو تا هے ، اس لئے کائنات کا ایک ناظم هے-[12] برهان نظم کی معرفت کے لئے چند امور ضروری هیں: ١- نظم کی تعریف(نظم کی کیفیت)٢- نظم کی قسمیں ٣- نظم کے وجود کا ثبوت ٤- نظم کی دلیل اور ضرورت-[13]

نظم کی تعریف:چنانچه بعد میں بیان هو گا که، نظم ، چیزوں کے درمیان ایک قسم کا رابطه هے اور جو نظم کو وجود میں لاتا هے ،وهی وجود اور وجودی رابطه هے ،اور وجودی ربط تکوینی نظم میں حاصل هوتا هے ،اس لئے، ایک محدود مجموعه کے مختلف اجزا کے جمع هو کر آپس میں تعاون اور هم آهنگی ، یا مجموع هستی اور یا فعل کی فاعل سے سنخیت یا فعل کی غایت سے ضروری رابطه کے نتیجه میں حاصل هو نے والی چیز سے نظم کی تعریف کی جاسکتی هے-[14] اگر چه وجودی رابطه کی هر قسم میں وجود کی اسی قسم سے مربوط مخصوص نظم کا وجود هوگا-

نظم کی قسمیں: اس لحاظ سے لفظ نظم سے جو چیز ابتدا میں ذهن میں پیدا هوتی هے ،وه ایک قیاسی اور نسبتی امر هے (جو دو یاچند چیزوں کے خاص شرائط میں موازنه کر نے سے حاصل هو تا هے) اور قیاس و موازنه ، کبھی اعتباری ، صناعی و تکوینی (وفطری) میں تقسیم هو تا هے- “نظم اعتباری” اعتبار اور اعتبار کر نے والے کی قرارداد سے حاصل هوتا هے اور مختلف حالات میں متفاوت هو تا هے ، جیسے سپاهیوں کی صف کے نظم کے مانند یا نماز گزاروں کی صف کے مانند -“نظم صناعی” جو صنعت وحرفت کے خاص قانون کو آماده کر کے پیش کیا جاتا هے، ریڈیو ،گھڑی وغیره کے نظم کے مانند-“فطری و تکوینی نظم” جو تکوین و حقیقت کے محور پر پایا جاتا هے اور خارجی مخلوقات کے قیاس سے حاصل هو تا هے ،اس کےاپنے خاص قواعد وضوابط هو تے هیں-

برهان نظم میں زیر بحث موضوع، فطری و تکوینی نظم هے نه که اعتباری یا اس کی صناعی قسم، اگر چه اس قسم (صناعی) سے مدد چاهنے والے متعلم کے ذهن کی تائید کے لئے[15] قیاس تمثیلی سے مدد لی جائے – مثلا جب انسان ایک جزیره میں ایک گھڑی کو دیکھتا هے ، گھڑی کا صنعتی نظم مشاهده کر نے والے کو ناظم اور اس کے بنانے والے کی طرف رهنما ئی کرتا هے اور تمثیل میں، تکوینی نظم کے صناعی نظم سے مشابهت نظم تکوینی کی نسبت وجود ناظم کا استدلال هو تا هے-[16]

فطری وتکوینی نظم کی قسمیں : فطری و تکو ینی نظم کو تحقق بخشنے والے( فطرت و تکوین میں)وجودی ربط کی تین قسمیں هیں،کیونکه وجودی ربط صرف علت ومعلول کے محور پر هے اور جو امور آپس میں علت و معلول کا رابطه نهیں رکھتے هیں ،باهمی نسبت کے سلسله میں ان پر کسی قسم کا نظم نهیں هو گا اور علت و معلول کا رابطه تین حالتوں  سے خالی نهیں هے: ١- علت فاعلی کارابطه ٢- علت غائی کا رابطه ٣- علت قوام( داخلی) کا رابطه-

پهلی قسم جو علت فاعلی کا معلول سے رابطه هے ،اس کا “نظم” عبارت هے&quotر فعل کی خاص سنخیت کا فاعل کے مطابق هو نا هے –”کل یعمل علی شاکله “ورنه هر اثر ، هر موثر سے متوقع هو گا اور هر موثر کا ایک اثر هوگا، که یه امر وهی توافق اور قانون علیت و معلو لیت کا انکار هو گا-

دوسری قسم، یعنی علت غائی کا معلول سے رابطه، اس کا نظم بھی عبارت هے:&quotر موجود غیر واجب کے لئےمعین مقصد کے ساتھـ مخصوص تکاملی رابطه کی ضرورت هے،ورنه ایک چیز هر طرف رجحان پیدا کر ے گی اور هر مخلوق کا خاتمه اور معاد کوئی دوسری چیز هو گی اور یه ناهم آهنگی غائی ، غیر هم آهنگی فاعلی کے مانند هو گی ،جو هر ج و مرج کا سبب بن جاتا هے-

تیسری قسم، یعنی ایک چیز کے اجزا کا داخلی رابطه ،یه اس چیز سے مربوط هے جو ماده وصورت ،جنس و فصل یا عناصر اور متعدد ذرات پر مشتمل هو اور وه چیز جو خارجی طور پر وسیع هو ، خارج کے لحاظ سے اس کے لئے داخلی نظم تصور نهیں کیا جاسکتا هے – اگر چه جنس وفصل وغیره کے مانند تر کیب کے لحاظ سے نظم داخلی اس کے لئے معقول هو –اور جو چیز وسعت ذهنی کی حامل هے ، جس طرح اس کے لئے خارج کے لحاظ سے نظم داخلی قابل تصور نهیں هے، ذهن کے لحاظ سے داخلی نظم اس کے لئے معقول نهیں هوگا-[17]

اندرونی اور داخلی نظم بھی دو قسم کا هو سکتا هے :وه نظم جو” مجموع هستی کے اندر” هستی کے عناصر کی هم آهنگی سے حاصل هو تا هے-[18]

البته، اس قسم کے نظم ، مذکوره اقسام تک محدود نهیں هیں اور عقلی طور پر محدود نهیں هیں بلکه ممکن هے کچھـ اور قسمیں بھی ان میں اضافه هو جائیں – اس کے علاوه بعض مذکوره اقسام عدد عاد هو سکتے هیں-[19]

دوسرے الفاظ میں چار قسم کے نظم پائے جاتے هیں :

١لف) ایک محدود نظام کی داخلی هم آهنگی-

ب) مجموع هستی میں، هستی کے عناصر کی هم آهنگی –

ج) فعل کی فاعل سے هم آهنگی اور ایک هی قسم کا هو نا-

د)علل غائی کے سلسله میں هر فعل کی اسی فعل سے مخصوص مقصد کے سلسله میں ضروری هم آهنگی ورابطه-

هرنظم میں نتیجه کا اختلاف: نظم جب” ایک محدود نظام کی اندرونی هم آھنگی ” یا &quotستی کے مجموع هستی میں عناصر کی هم آهنگی” کی صورت میں حاصل هو تا هے یه اس نظم کے علاوه هے که جو علل فاعلی کے سلسله میں فعل کے فاعل سے سنخیت کے نتیجه میں علل غائی کے سلسله میں هر فعل کے اسی فعل کی  مخصوص غایت سے ضروری رابطه کے نتیجه میں وجود میں آتا هے جو بر هان ایک نظام کے عناصر کی هم آهنگی سے استفاده کر کے وجود میں آتا هے ، وه تمام ھونے  کی صورت میں غایت بالذات یعنی پهلے فاعل تک نهیں پهنچتا هے اور صرف ایک مبدا و علت کو ثابت کر تا هے که جو معین هم آهنگی کا حامل هو تا هے اور اسی کے بارے میں آگاه هے اور اس قسم کا فاعل ایک امر ممکن ، حادث یا متحرک هو سکتا هے-حتی اگر مجموع هستی کاعمومی نظم بھی استدلال کا محور قرار پائے ، تو اس کا ناظم ایک عالم وقادر مجرد موجود هو سکتا هے جو هم آھنگ مجموع سے خارج هو، اور واجب بھی نه هو ، اس صورت میں بر هان نظم تمامیت اور واجب الوجودکے اثبات کے لئے برهان امکان سے استفاده کیا جاناچاهئے-[20]

جو چیز برهان نظم میں مرکز بحث هے ، وه وهی (هم آهنگی اور) داخلی نظم اور نظم غائی هے[21] اور بیشتر وهی &quotم آهنگی” مراد هے جو ایک مجموعه کے عناصر اور افعال ورفتار اور مختلف اعضا کے ایک خاص مقصد حاصل کر نے میں مشهود هے اور یه مقصد ایسا هو تا هے جو فعل ورفتار کی حد میں عناصر اور اعضا میں سے کوئی ایک الگ سے قرار نهیں پاتا هے-وقت او زمان کو ایک گھڑی کے اجزا کی رفتار هم آهنگ کے توسط سے معین کر نے کے نظم صناعی کے مانند اور حتی که ایک بورڈ پر آرٹسٹ کی مختلف رنگوں کی تر کیب کا کام جو مشاهده کر نے والے کے لئے لذت و نشاط مهیا کرتا هے –اور شاید، مشابه فاعلوں کے توسط سے مشابه فعل کی تکرار اور مقدمه صغری کے مانند نظم کو قرار دینے والوں نے نظام علی عالم میں فعل کے فاعل کے ساتھـ هم آهنگی اور یکسانیت کا بھی اسی قیاس پر تجزیه کیا هے-[22]

اثبات وجود نظم (هستی نظم): نظم کی تعریف اور اقسام کر نے کے بعد، وجود نظم کو ثابت کر ناچاهئے- کیونکه جیسا که پهلے اشاره کیاگیا که ،برهان نظم کا پهلا مقدمه(صغری) وجود نظم (تکوینی ،نه که نظم اعتباری و صناعی )هے-[23]

نظم تکوینی کے محور اور متعلق کبھی مادی اور فطری مخلوقات هو تی هیں ، کبھی عالم مثال کی مخلوقات (مجردات مثالی) اور کبھی مخلوقات عالم عقل (مجردات عقلی) هوتی هیں-[24]

برهان نظم کو پیش کر نے والوں اور اس کی تنقید کر نے والوں کی نظر میں وهی مادی مخلوقات کا فطری نظم هے[25] جس کو ثابت کر نے کی ذمه داری علوم تجرباتی کو هے-

لیکن نظم کی تعریف اور تجزیه کے پیش نظر ، جو دو یا چند چیزوں کا آپس میں ضروری جوڑ اور رابطه هے ، برهان نظم کا تجرباتی مقدمه (صغری) ایک “تجرباتی” مقدمه هے نه که “حسی” کیو نکه حس کو فطری امور کے مشاهده سے جو زیاده سے زیاده استفاده هوتا هے ، ان اشیا کا ادراک هے ، جو آپس میں یکے بعد دیگرے اور عد دعاد کی صورت میں قرار پاتے هیں – اور نظم ( ضروری جوڑ اور رابطه) احساس کے ذریعه حاصل نهیں هوتا هے- [26]

برهان نظم میں اگر وجود نظم فطرت کے ایک حصه میں مراد هو تو جو نتیجه برهان کے کبری ( هر نظم کا ایک ناظم هے) کو ضمیمه کر کے حاصل هو تا هے وه اسی حد میں نظم کو ثابت کرے گا اور پوری فطری کائنات مد نظر هو تو ، پھر بھی نتیجه اسی عالم فطرت کی حد میں هوگا که عالم فطرت کے لئے ایک مدبر و ناظم کا وجود ضروری هے اور چونکه مشاهده ، حس اور تجربه سے عالم فطرت کے ایک حصه تک رسائی حاصل کی جاسکتی هے، اس لئے اس راه میں کوئی خاص مشکل نهیں هو گی-[27]

لیکن جو مجموعه هستی (عالم فطرت، عالم مثال اور عالم عقل) میں نظم کو ثابت کر نے کے درپے هو، اس کے لئے یه کام برهان عقلی کے سوا ممکن نهیں هے-[28]

برهان لم[29] ،یعنی عالی اصولوں کو مدنظر رکھنے کے طریقه سے اور اوصاف و اسمائے الهی کے ذریعه نه صرف فطری نظم یا کائنات کے کلی نظم کو ثابت کیا جاسکتا هے بلکه موجوده نظام کے احسن هو نے کو بھی ثابت کیا جاسکتا هے-

لیکن جو شخص بر هان لم کے طریقه سے نظم و هم آهنگی کے ثبوت یا نظام کے احسن هو نے کا استدلال کر تا هے ، وه اصل نظام کو پانے سے پهلے مبدا کے وجود سے آگاهی حاصل کر تا هے-[30]

نظم کی علت ودلیل: اب یه سوال که عالم میں( فطرت کے ایک حصه مین یا پوری کائنات میں یا مجموعی هستی میں ) کیوں نظم موجود هے؟ یه وهی قیاس میں کبری کی بحث هے که کس علت فاعلی کے سبب نظم پایا جاتا هے – اگر موجوده نظم کے لئے ، کوئی ناظم اور مبدا فاعلی موجود نه هو اور نظم اتفاقی طور پر وجود میں آیا هو ، تواستدلال کا دوسرا مقد مه (کبری) که هر نظم کا ایک ناظم هے ، صحیح نهیں هوگا کیونکه اگر ایسا نه هو تو اس میں کوئی فرق نهیں هے که پورا نظم ، ناظم کے بغیر وجود میں آئے یا نظم کا ایک حصه اتفاقاً وجود میں آئے اور اس کا دوسرا حصه ایک ناظم کے توسط سے وجود میں آئے –[31]

ناظم سے مراد، ایک مشخص، خارجی و عینی مو جود هے جو فطری مخلوقات کے داخلی یا غائی نظام میں مخصوص نظم و هم آهنگی کے وجود میں آنے کا سبب هو تا هے اور اس نظم کے تحقق کے لئے اس کا وجود ضروی هے – اس لئے نظم کے اتفاقاً وجود میں آنے کے احتمال کو با لکل مسترد کر نا چاهئے-[32]

قرآن مجید میں برهان نظم کا استفاده: برهان نظم میں پائی جانے والی محدودیتوں سے صرف نظر کرتے هوئے ،جن میں سے بعض کی طرف اشاره کیا گیا ، اس بر هان کا ان لوگوں کے مقابل میں استفاده کر نا، جو نظم فطرت کے بعض حصوں میں یا پورے عالم میں قبول کر تے هیں اور ذات واجب الوجوداور تخلیق و تو حید پر یقین رکھتے هیں، مفید هے –

هر ممکن الوجود خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی هے – قرآن مجید آسمانوں ،زمین ، نفوس و ابدان ، ذی روح وغیر ذی روح کو خدا کی نشانیاں جانتا هے اور ان سب کے بارے میں آیه کے عنوان سے یاد کر تا هے اور منظم موجودات کو، مختلف جهات سے مبداً هستی کی ایک نشانی وآیت جانتا هے-[33]

شب وروز کے لحاظ سے مختلف موسموں میں یا ایک موسم میں نظم زمان ، مختلف مکانات میں یا پهاڑوں کے توسط سے سکون مهیا کر نے کا زمین میں نظم ، عالم طبیعت میں موجود نظم کے نمو نے هیں که ان سب کا ذکر کر نا اس تحریر کے طو لانی هو نے کا سبب بن جائے گا-[34]

اسی لئے قرآن مجید میں برهان نظم ایک خاص طریقه سے مشرکین سے خطاب کی صورت میں استعمال هوا هے-[35]

قرآن مجید، اس گروه کے ساتھـ احسن جدل سے پیش آتا هے ، جو خالق کی وحدانیت اور مخلوقات مین اصل تد بیر کے قائل هیں، لیکن اس کے مد بر و ناظم کو ارباب اور شفیع جانتے هیں جو خدا اور بندوں کے در میان واسطه هیں-[36]

آفر ینش همه تنبیه خداوند دل است            دل ندارد که ندارد به خداوند اقرار

این همه نئش عجب بر در ودیوار وجود                     هر که فکرت نکند نقش بود بر دیوار[37]

آخر پر هم ان آیات اور روایات کے چند نمونوں کی طرف اشاره کر تے هیں جن میں خدا وند متعال اور عالم هستی کے ناظم کی آیات و نشانیوں کو بیان کیا گیا:[38]

” ومن آیاته خلق السماوات والارض و…” یا ” من آیاته ان یر سل الریاح مبشرات…” یا” افلا ینظر ون الی الابل کیف خلقت و…”

امیرالمومنین علی علیه السالم کے کلام میں بھی مخلوقات الهی کے تعجب آور نظم کے بارے میں اشارے هوئے هیں که نهج البلاغه کے مطالعه کر کے اس چشمه زلال سے استفاده کیا جاسکتا هے-[39]

حضرت امام جعفر صادق علیه السلام اپنےکلام میں کائنات کے نظم و هم آهنگی کے بارے میں اشاره کر تے هو ئے فر ماتے هیں :” فلما راینا الخلق منتظماً والفلک جاریاً واختلاف اللیل والنهار والشمس والقمر دل صحھ الامر والتدبیر وس ائتلاف الامر علی ان المدبر واحد”[40] که عالم خلقت کا منظم هو نا اور شب وروز کا یکے بعد دیگرے واقع هونا، سورج اور چاند کی منظم حر کت ،وغیره ا س موضوع کی طرف ھماری رهنمائی کرتے هیں که کائنات کا ناظم و مدبر ایک هے-” اس کے علاوه جب ” هشام بن حکم ” نے حضرت امام جعفر صادق علیه السلام سے خدا کی و حدانیت کے بارے میں سوال کیا تو حضرت نے فرمایا :” اتصال الندبیر وتمام الطنع” [41]” نظام هستی کی هم آهنگی اور نظام کی پائداری و خلقت کی سالمیت ، اس کی وحدا نیت کی دلیل هے-“


مزید  کیا ٹروریسٹ کے الزام سے بچنے کے لئے پردے کو هٹایا جاسکتا هے؟

[1] – ملاحظه هو: مطهری، مرتضی، توحید،ص٣١ و٥٨، روش رئا لیسم ،ج٥،ص٣٤، مصباح ،محمد تقی، آموزش فلسفه ،ج٢،ص٣٦٧-٣٦٥-

[2] – جوادی آملی ،عبدالله، تبیین براهین اثبات خدا،ص٢٣- ٢٢-

[3] – ایضا ،ص٢٣- ٢٢-

[4] – مصباح یزدی ، آموزش فلسفه ،ج٢،ص٣٦٦، الهیات، سبحانی، جعفر،ص٥٦ و٥٧، جوادی

ملی ، عبدالله ، تبیین براهین اثبات خدا، ص٣٢ و٢٣١-

[5] – مجموعه ی آثار شهید مطهری، ج٨، درس های الهیات شفا،ص٤٥٤، روش رئا لیسم ،ج٥،ص٤٠-

[6] – سوره نمل ،٨٨-

[7] – ملاحظه هو: مجموعه ی آثار،ج٨،ص٤٥٤، اسفار،ج٧،ص٩٤- ٥٦ و٩٥ و١٠١ و١٠٦و ١٨٨،آموزش فلسفه،ج٢،ص٤٢٣ و٤٢٤،الهیات،جعفر سبحانی،ص٢٢٧، المیزان،ج٤،ص٢٦٩،مفاتیح الغیب،ج١،ص٣٥٢-٣٥٠،تبیین براهین اثبات خدا، جوادی آملu، عبدالله، ص ٢٤-٤١و ٢٣٣-

[8] – جوادی آملی، عبدالله تبیین براهین اثبات خدا ،ص٤٢- و٢٢٧-

[9] – ایضا ،ص٢٢- و٢٣١، سبحانی، جعفر، الهیات،ص٥٧-٥٦-

[10] – جوادی آملی،عبدالله،تبیین براهین اثبات خدا،ص٢٣١-

[11] – ایضا ،ص٢٣٢-

[12] – ایضا، ،ص٣٩ و٤٠-

[13] – ایضا مرتضی مطهری ،توحید،ص٦١-٦٠-

[14] – ملاحظه هو: تبیین براهین اثبات خدا، ص٣٠- ٢٩وص ٢٣٠-٢٢٨-

[15] – ایضا،ص ٢٩-

[16] – ایضا،ص٢٢٨-

[17] – تبیین براهین اثبات خدا، ص ٣٣-

[18] – ١یضا، ٢٣٠-

[19] – ایضا،٢٢٨-

[20] – ایضا،ص٢٣٠-

[21] – ایضا، ص٣٢ملاحظه هو: برا هین اثبات خدا،ص٢٢٩-٢٢٨-

[22] – ایضا،ص ٢٣٠-

[23] – تبیین براهین اثبات خدا،ص٢٢- و٢٢٨-

[24] -ایضا،ص٣٢-

[25] – ملاحظه هو: مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، ج٨،ص٤٨٦- ٤٥٤،جوادی آملی ،عبدالله، تبیین برا هین اثبات خدا، بر هان نظم ، سبحانی ،جعفر، الهیات ،ج١،ص٥٩- ٥٥ و…-

[26] – تبیین براهین اثبات خدا، ص٣٣-

[27] – ایضا ،ص٢٣٣-

[28] – ایضا، ص٣٥ و ٢٣٣-

[29] – اقسام برهان کے بارے میںمعلو مات حاصل کر نے کے لئے منطق کی کتابوں کے حصه صناعات خمس اور سنعت بر هان کی طرف رجوع کیا جائے-

[30] – تبیین براهین اثبات خدا،ص ٢٣٣-

[31] – تبیین اثبات خدا ،ص٣٧- ٣٦-

[32] – ایضا،ص٣٧-

[33] – ایضا، ص٤٣-

[34] – ملاحظه هو: مصباح یزدی ، محمد تقی، معارف قرآن، ج١-٣،ص٣١٧- ٢٢٥، مطهری،

مرتضی ،روش رئا لسیم ، ج٥،ص٤٨- ٣٩ وتوحید،ص١٥٣- ٤٤، صدر، رضا، نشانه های از او، نجفی خرد مند ، احمد، هستی بخش جهان و…-

[35] – ” لئن سائلتهم من خلق السموات والارض لیقو لن الله ” (لقمان ، ٢٥)

[36] – تبیین براهین اثبات خدا،ص٢٣٨-

[37] – سعدی-

[38] – سوره روم- ٢٥- ٢٢-و ٤٦،لقمان،٣١،سوه فصلت٣٧،سوره شوری٢٩،سوره غاشیه،٢١-١٧و…-

[39] – نهج البلاغه ،صبحی صالح ،خطبه های : ١،٨٣،٩١، ١٥٥، ١٦٥، ١٨٢،١٨٥،١٨٦، ٢١١ …-

[40] – صدوق، توحید،ص٢٤٤-

[41] – صدوق، توحید، ص٢٥٠-

مزید  جس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ حضرت امام علی ﴿ع﴾ فرزند آفتاب ہیں، کیا وہ صحیح ہے؟

 

تبصرے
Loading...