بدعت کیا هے اور اسلام میں اس کا معیار کیا هے؟

0 0

اس سوال کا جواب واضح هونے کے لئے مندجه ذیل چند نکات کی وضاحت کرنا ضروری هے:

1ـ دین میں بدعت[1] ایجاد کرنا، گناهان کبیره میں سے هے اور اس کے حرام هونے میں کسی قسم کا شک و شبهه نهیں هے ـ پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے اس سلسله میں فرمایا هے: “کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ و کل ضلالۃ فی النار”[2] &quotر اس امر کی ایجاد جو دین نه هو بدعت هے، هر بدعت گمراهی هے اور هر گمراهی آگ هے ـ”

2ـ بدعت کم یا زیاده کرنے کی صورت میں، دین میں ایک قسم کی مداخلت هے ـ اس بنا پر، جهاں پر نئی ایجاد، کا دین و شریعت سے کوئی رابط نه هو، بلکه عرفی اور عادی مسئله کے عنوان سے انجام پائے تو وه بدعت نهیں هے مثلاً اگر کوئی قوم ایک دن کو اپنے لئے شادی کے موسم کے عنوان سے معین کرے، لیکن اس نیت سے نهیں که شرع نے اس قسم کا دستور دیا هے، تو یه کام بدعت نهیں هے اگرچه اس کے جائز اور محترم هونے کے سلسله میں دوسرے ابعاد سے بحث و تحقیق کی جاسکتی هے ـ

اس طرح واضح هوتا هے که فن، ورزش اور صنعت وغیره کے میدان میں انسان کی بهت سی ایجادات اصطلاح بدعت کے دائره سے خارج هیں اور ان چیزوں کے بارے میں جو چیز قابل بحث هے ان کا دوسرے جهات سے حلال یا حرام هونا هے که اس کا اپنا جدا معیار هے ـ

3ـ دین میں کسی نئی اور بے سابقه چیز کا مراد یه هے که اسلام کے کلی و جزئی قوانین و دستورات میں سے کسی ایک کے ساتھـ هم آهنگ اور سازگار نه هو اور اسلام کے کلی دستورات کو جدید و تازه مصادیق سے تطبیق نه دے سکے ـ[3]

وضاحت: شرع میں بدعت کی بنیاد یه هے که کسی چیز کو امر شرعی کے عنوان سے ایسے استعمال کریں که دین نے اس کا حکم دیا هے، جبکه اس کے شرعی هونے کے لئے دین میں کوئی اصول اور ضابطه موجود نه هو، لیکن اگر انسان کسی کام کو ایک دینی عمل کے عنوان سے انجام دیتا هو اور (خاص یا کلی و عام صورت میں) اس کے شرعی هونے کے سلسله میں دلیل موجود هو، تو وه کام بدعت نهیں هے اسی لحاظ سے شیعوں کے بڑے عالم علامه مجلسی (رح) نے فرمایا هے: “والبدعۃ فی الشرع ماحدث بعد رسول (بماانھ من الدین) ولم یکن فیھ نص علی الخصوص ولا یکون داخلاًفی بعض العمومات”[4] “شرع میں بدعت وه چیز هے جو رسول گرامی (ص) کے بعد ایجاد هوئی هو اور اس کے حق میں اور اس کے جائز هونے میں کوئی خاص یا عام دلیل موجود نه هوـ”

اهل سنت کے مشهور دانشور، ابن حجر عسقلانی بھی کهتے هیں: “البدعۃ مااحدث ولیس لھ اصل فی الشرع، وما کان لھ اصل یدل علیھ الشرع فلیس ببدعۃ”[5] “بدعت وه چیز هے جو ایجاد هوجائے اور شریعت میں اس کے جائز هونے کے بارے میں کوئی دلیل نه پائی جائے، اور جس چیز کی اصل اور جڑ دین میں موجود هو، وه بدعت نهیں هے ـ”

مذکوره بیان سے، بهت سے بے بنیاد شبهات دور هوتے هیں، جن کی وجه سے بعض افراد تعطل سے دوچار هوئے هیں ـ مثال کے طور پر دنیا کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی ولادت پر جشن و شادی مناتے هیں اور ایک گروه کے افراد اس کام کو بدعت جانتے هیں! جبکه جیسا که هم نے کها، اس کے مطابق، هرگز اس پر بدعت کا معیار صادق نهیں آتا هے، کیونکه اگر فرض بھی کریں که اس قسم کی تعظیم اور اظهار محبت، شرع میں موجود نه هو، لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم اور آپ (ص) کے اهل بیت (ع) کی به نسبت اظهار محبت کرنا اسلام کے مسلم اصول میں سے هے که اس قسم کے مذهبی جشن اس کلی اصول کے جلوے اور مظهر هیں ـ قرآن مجید فرماتا هے: ” قل لا اسالکم علیھ اجراً الا المودۃ فی القربی”[6] “تو آپ کهدیجئے که میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نهیں چاهتا علاوه اس کے که میرے اقربا سے محبت کروـ”

اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا: ” لا یومن احدکم حتی اکون احب الیھ من مالھ واھلھ والناس اجمعین” ـ[7] آپ میں سے کوئی مومن نهیں هوگا، مگر یه که میں اس کے پاس اس کے فرزندوں اور تمام لوگوں سے محبوب تر هوں گا ـ” اور یه اصل مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے لئے جلوے پیدا کرسکتی هے ـ ولادتوں پر جشن منانا ان دنوں خداوند متعل کی حرمت اور برکت نازل هونے کی یادهانی کا شکریه ادا کرنے کا پهلو رکھتا هے اور یه امر (نزول رحمت کے دن جشن منانا) گزشته ادیان الٰهی میں بھی رائج تھا، چنانچه قرآن مجید کی واضح آیات کے مطابق حضرت عیسی علیه السلام نے خداوند متعال سے درخواست کی که ان کے لئے اور ان کے حواریوں کے لئے ایک مائده (دسترخوان) آسمانی نازل فرمائے تاکه نزول مائده کے دن کو وه اور ان کے پیرو نسل در نسل عید منایئں :

“قال عیسی ابن مریم: اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لناعیداً الا اولنا و آخرنا آیۃ منک”[8] “عیسی بن مریم نے کها: خدایا! پروردگارا! همارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل کردے که همارے اول و آخر کے لئے عید هوجائے اور تیری قدرت کی نشانی بن جائے …..”

اس کے علاوه قابل توجه بات هے که حدیث متواتر ثقلین کے حکم سے ائمه اطهار علیهم السلام شریعت اور دینی احکام کےمصادر شمار هوتے هیں ـ اس بنا پر ان کے اقوال کی پیروی کرنا دین کی پیروی هے اور یه دین میں بدعت ایجاد کرنے میں شامل نهیں هوسکتا هے ـ

4ـ بدعت کے معنی پر غور و خوض کرنے سے، ثقافتی، سیاسی اور اجتماعی مسائل سے مربوط ایک اهم مطلب معلوم هوتا هے اور وه یه هے که باطل کبھی اپنے اصلی چهره میں کسی کےلئے قابل قبول نهیں هوتا هے، کیونکه باطل اندر سے کھوکھلا هوتا هے، لهذا توجه کو اپنی طرف متمرکز کے لئے اپنے کو حقیقت کے رنگ و روپ میںظاهر کرتا هے، تاکه حقیقت نما بن جائے، کیونکه تمام انسان بلکه تمام مخلوقات طالب حقیقت هوتے هیں اور پوری تاریخ میں باطل کی سرگرمی کا میدان، ثقافت کا میدان رها هے تاکه وه اس کے ذریعه اپنے بد نما چهرے کو خوبصورت اور حقیقی ظاهر کرے ـ

قرآن مجید نے بیس سے زیاده مواقع پر باطل کے اس حربه کو “تزین” (خوبصورت نما) کی تعبیر سے یاد کیا هے ـ مثلاً ارشاد هوتا هے : ” وزین لھم الشیطان اعمالھم”[9] “اور شیطان نے ان کے کاروبار کو ان کے لئے آراسته کردیا” یا ارشاد فرماتا هے : “افمن زین لھ سوء عملھ فراه حسنا ….”[10] تو کیا وه شخص جس کے برے اعمال کو اس طرح آراسته کردیا گیا که وه اسے اچھا سمجھنے لگا …..” (کیا یه اس کے مانند هے جو واقع کو جیسا هے ویساهی پاتا هے)؟ !

اس لئے، ظالم حکام اور سامراجی طاقتوں کا گزشته زمانه سے آج تک ایک حربه نئے دین، مذهب اور گونا گون عقائد کو ایجاد کرنا رها هے تاکه اس کے ذریعه ادیان الٰهی کے ساتھـ مقابله کریں اور حق کے محاذ کو چیلنج کر سکیں ـ

البته دشمن کے پروپیگنڈے کے طریقه کار کی دقیق تحقیق اور بظاهر خوبصورت اور دھوکه دینے والے مخفی باطل چهروں کو کشف ومعرفی کرنا کوئی آسان کام نهیں هے ـ یه کام وه لوگ انجام دے سکتے هیں جو علمی اور فکری لحاظ سے کافی توانائی رکھتے هوں ـ اسلام میں علماه کے ساتھـ هم نشینی کی جو تاکید کی گئی هے [11] شائد اس کا فلسفه یهی هو که حقیقی علماء سے رابطه رکھنے کے سبب انسان گمراهی سے بچ سکتا هے ـ

5ـ چوتھا نکته یه هے که گمراهی کی صرف اس کے ابتدائی مراحل میں تحقیق نهیں کی جانی چاهئے، بلکه اس گمراهی کے استمرار کو مستقبل میں دیکھنا چاهئے، جس طرح جیومیٹر کے مسائل میں زاویه کا فاصله ابتداء میں اصلاً قابل توجه نهیں هوتا هے، لیکن جب آگے بڑھتا هے تو یهی ناچیز فاصله سیکڑوں بلکه هزاروں کلومیٹر میں تبدیل هوتا هے ـ

یهیں سے رسمی فقه ـــــ حوزه علمیه میں رائج طریقه کار ــــ کو اهتمام دینے کا فلسفه اور راز اور مراجع کی تبعیت کرنے کی ضرورت سمجھی جاسکتی هے که کیوں ائمه اطهار علیهم السلم اس طریقه کا رکی تائید فرماتے هیں ـ[12] دینی کتابوں کے حقائق کو سمجھنے کے لئے یه طریقه کار مستحکم ترین اور عاقلانه طریقه کار هے ـ[13]

بهر حال دین میں بدعت ایجاد کرنے کے تخریب کا رانه سیاسی، اجتماعی اور ثقافتی آثار هیں اور یه طریقه معاشرے میں دین کو مسخ کرنے کا سب سے اهم طریقه هے ـ شاید اسی وجه سے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے مسجد ضرار کو منهدم کرنے کا حکم دیا هے ـ[14] اس سلسله میں قرآن مجید میں ارشاد هوتا هے :

“اور جن لوگوں نے مسجد ضرار بنائی که اس کے ذریعه اسلام کو نقصان پهنچایئں اور کفر کو تقویت بخشیں اور مومنین کے درمیان اختلافات پیدا کرایئں اور پهلے سے خدا و رسول سے جنگ کرنے والوں کے لئے پناه گاه تیار کریں وه بھی منافقین هی هیں اور یه قسم کھاتے هیں که هم نے صرف نیکی کے لئے مسجد بنائی هے حالانکه یه خدا گواهی دیتا هے که یه سب جھوٹے هیں ـ”[15]


مزید  کتاب بحار الانوار کی خصوصیات ، امتیازات اور تنقید کیا ہے؟۔

[1]  ایک ایسی چیز کو دین سے نسبت دینا جو دین کا جزو نه هو

[2]  بحارالانوار، ج 2، ص 263؛ مسند، احمد حنبل، ج 4، ص 126.

[3]  منشور عقاید، جعفر سبحانی، ص 219 به بعد.

[4]  بحار، ج 74، ص 202.

[5]  فتح الباری، ج 5، ص 156.

[6]  سوره شوری، 23 ـ

[7]  جامع الاصول، ج 1، ص 238.

[8]  سوره مائده، 114.

[9]   سورهنحل، 63ـ

[10] سوره فاطر، 8.

[11]  کافی، ج 1، باب مجالسة العلماء و صحبتهم.

[12] وسائل الشیعة، ج 18، ص 19، امام صادق (ع) سے روایت هے: “من کان منکم قد روی حدثینا و نظر فی حلالنا و حرامنا عرف احکامنا… فانی قد جعلته حاکماً “: ” جو همارے قول کی روایت کرے اور همارے بیان کئے گئے حلال و حرام کا مطلعه کرکے انھیں پهچان سکے ….. اس قسم کے شخص کو میں نے حاکم قرار دیا هے ” ـ شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمه، ج 2، ص 844، از امام عصر (عج) سے روایت کرتے هیں: “واما الحوادث الواقعه فارجعوا فیها الی رواة احادثینا فانهم حجتی علیکم و انا حجة الله”. واقع هونے والے حوادث میں هماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرنا، کیونکه وه آپ پر میرے حجت هیں اور میں خدا کی حجت هوںـ

[13]  مذید معلومات حاصل کرنےلے لئے اصول فقه اور استدلال فقه کی کتابوں کا مطالعه کیا جائے

[14]  سیره ی ابن هشام، ج 2، ص530؛ بحارالانوار، ج 20، ص 253.

[15]  سوره توبه، 107.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.