بداء لوح محفوظ ، کتابب مبین، لوح محو و اثبات کا مفهوم اور معنی کیا هیں؟

0 0

“بداء” کے لغوی اور اصطلاحی معنی:

“بداء” کی اصل “بدوّ” هے اور اس کے معنی شدید طور پر ظاهر هونا هے[1]، اور اصطلاح میں کها گیا هے که: نسخ کے مانند “بداء” کے بھی دو معنی هیں:

۱۔ خداوند متعال کے لئے نئی رائے کا ظاهر هونا، جس کے بارے میں اس سے پهلے وه آگاهی نهیں رکھتا تھا، اور بعد میں اس سے آگاه هوا هو، یه معنی باطل هیں اور اس کا خداوند متعال کی طرف منسوب کرنا ناممکن اور ممتنع هے-

۲۔ لوگوں کے لئے ایک ایسا امر ظاهر کرنا جو ماضی میں ان کے لئے پوشیسده تھا، یعنی اس امر کو خداوند متعال ازل سے جانتا تھا اور اسی ظاهر کی هوئی نئی صورت میں پهلے سے مقدر کر چکا تھا، لیکن کسی مصلحت اور ضرورت کی بنا پر ایک مدت کے لئے اسے لوگوں سے مخفی رکھا تھا اور اس کے بعد اپنے وقت پر اسے ظاهر و آشکار کیا هے، یه معنی معقول اور قابل قبول هیں[2]– علمائے شیعه، اهل بیت اطهار علیهم السلام کی روایتوں سے استناد کر کے “بداء” کے معنی کے بارے میں اعتقاد رکھتے هیں که “بداء” کو صرف اس صورت میں خدا سے نسبت دی جا سکتی هے جب ایک ایسی چیز کو ظاهر کرنا هو جو پهلے ظاهر نه تھی اور غیر متوقع بھی هو[3]– امام صادق علیه السلام نے فرمایا هے که: ” خداوند متعال نے تمام {انبیاء علیهم السلام} سے توحید کے ساتھه “بداء” پر ایمان کا بھی عهدوپیمان لیا هے[4]– یا ایک دوسری حدیث میں فرماتے هیں: ” جو شخص یه خیال کرے که خداوند متعال کے لئے کوئی ایسا نیا مسئله واضح هوا هے، جسے وه پهلے نهیں جانتا تھا ، اس سے بریّت اختیار کرنا چاهئیے[5]-“

جو آیات اس حقیقت پر دلالت کرتی هیں، ان میں یه آیت بھی هے: “— لکل اجل کتاب یمحو الله ما یشاء و یثبت و عنده امّ الکتاب[6]” یعنی: ” هر مدت اور معیاد کے لئے ایک کتاب {اور قانون} مقرر هے- الله جس چیز کو چاهتا هے، اسے مٹا دیتا هے یا برقرار رکھتا هے اور اصل کتاب اسی کے پاس هے-“

اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی هے که خداوند متعال جس علم کے ذریعه اپنی مخلوقات کے حالات کی تدبیر کرتا هے، وه دو قسم کا هے: ان میں سے ایک علم مخزون هے ، که جس کے بارے میں خداوند متعال کے علاوه کوئی آگاه نهیں هے، اسے “لوح محفوظ” کها جاتا هے- اور دوسرا وه علم هے جسے خداوند متعال نے اپنے فرشتوں، انبیاء علیهم السلام اور اولیائے الهی کو سکھایا هے، اس علم کو ” لوح محو و اثبات” کها جاتا هے- اور علم کا یهی وه حصه هے جس میں “بداء” کی گنجائش هے[7]

امام جعفر صادق علیه السلام فرماتے هیں: ” خداوند متعال کا علم دو حصوں پر مشتمل هے: پهلا علم مکنون و مخزون هے جس کے بارے میں خداوند متعال کے بغیر کسی کو آگاهی حاصل نهیں هے- دوسرا وه علم هے جسے اس نے اپنے فرشتوں اور انبیاء علیهم السلام کو سکھایا هے اور هم بھی اس سے آگاه هیں[8]-” اس بنا پر همارے پاس دو قسم کے علم هیں: ایک وه علم ، جو بداء کا سرچشمه هے اور وه “لوح محفوظ” هے اور دوسرا وه علم هے، جس سے متعلق “بداء” هے اور وه ” لوح محو و اثبات” هے- پس ، “بداء” یعنی، پهلے مٹنا اور پھر برقرار رهنا اور خداوند متعال دونوں کے بارے میں عالم هے اور یه ایک ایسی حقیقت هے، جس سے کوئی عقلمند انکار نهیں کر سکتا هے، کیونکه امور و حوادث کے محقق هونے اور وجود میں آنے کے لئے دو قسم کی دور اندیشیاں قابل تصور هیں: ایک قابل تغیر تحقق، جو ناقص اسباب کے مطابق هوتا هے، جیسے شرط یا علت یا عدم مانع- دوسرا، ناقابل تغیر تحقق اور وجود، جو حوادث کے اسباب و علل تامه کے مطابق هوتا هے، اور ایک مستقل ، غیر مشروط اور ناقابل تغیر وجود هے- آیه شریفه میں ذکر کی گئی دو کتابیں، یعنی کتاب ” محو و اثبات” اور “ام الکتاب” ، حقیقت میں اس وجود کے دو مرحلے یا ان کا سرچشمه هیں[9]

لوح محفوظ، کتاب مبین اور ” لوح محو و اثبات”:

“—-وعندنا کتاب حفیظ[10]-” ” اور همارے پاس ایک ایسی کتاب هے جس میں هر چیز محفوظ هے-” یا آیه شریفه ” فی لوح محفوظ[11]” ، یه آیات اس بات کی دلیل پیش کرتی هیں که ایک ایسی کتاب هے، جو تمام انسانوں وغیره کے اعمال کی حفاظت کرنے والی هے- اس کے علاوه یه کتاب تمام حوادث کے حالات، افراد کے کوائف اور ان میں پیدا هونے والے تغیرات پر مشتمل هے، لیکن خود اس کتاب میں کسی قسم کی تبدیلی اور دگرگونی پیدا نهیں هوتی هے- بهت سے مفسرین کے کهنے کے مطابق، “لوح محفوظ” اور “کتاب مبین” ایک هی چیز هے- “کتاب مبین” سے مراد خداوند متعال کا وهی مقام علم هے، یعنی تمام مخلوقات، پروردگار عالم کے لامتناهی علم میں درج اور اس کے گواه هیں، اور یه وه آیتیں هیں، جن میں بیان هوا هے: “—– تمھارے پروردگار سے زمین و آسمان کا کوئی ذره دور نهیں هے اور کوئی شے ذره سے بڑی یا چھوٹی ایسی نهیں هے جسے هم نے اپنی کھلی کتاب میں جمع نه کر دیا هو[12]-” اور ” زمین پر چلنے والی کوئی مخلوق ایسی نهیں هے جس کا رزق خدا کے ذمه نه هو- وه هر ایک کے سونپے جانے کی جگه اور اس کے اقرار کی منزل کو جانتا هے اور سب کچھه کتاب مبین{لوح محفوظ یعنی خدا کے علم کی کتاب} میں محفوظ هے[13]-” اور یه آیات اس بات کی دلیل پیش کرتی هیں که یه وسیع عالم هستی بھی اسی لوح محفوظ کی عکاسی کرتا هے- پس، لوح محفوظ {ام الکتاب} اور “کتاب مبین” {کھلی کتاب} سے مراد وهی خداوند متعال کا ازلی علم هے ، جس میں مقدرات محکم، مستقل، ثابت اور ناقابل تغیر هیں- اس کے برعکس ” لوح محو و اثبات” هے جس میں هر چیز کی تقدیر اور قسمت درج هے، لیکن ان تقدیرات میں سے کوئی بھی مستقل اور پائدار نهیں هے، بلکه ان سب کا ادعائی پهلو هوتا هے- ” لوح محو و اثبات” سے مراد کائنات، عالم هستی اور جهان فطرت هے، که هر ایک چیز کی تقدیر اپنی فطرت میں، تقاضے اور ضرورت کے مطابق هے که عدم مانع اور علت تامه کی صورت میں هر چیز پیدا هوگی اور هم رکاوٹ کے بارے میں علم نهیں رکھتے هیں – جبکه خداوند متعال اس کے بارے میں علم رکھتا هے- اس لئے علی بن الحسین علیه السلام فرماتے هیں: ” اگر قرآن مجید میں کوئی آیت نه هوتی تو میں قیامت تک کهتا که کیا حوادث رونما هوتے هیں؛-” زراره کهتے هیں که : ” میں نے پوچھا کون سی آیت؟ امام۴ نے جواب میں فرمایا: ” یمحو الله ما یشاء ویثبت و عنده ام الکتاب[14]” پس ” لوح محو و اثبات”  زمانه و مدت میں محدود هونے والے تمام حوادث پر مشتمل ایک عام حکم هے- به الفاظ دیگر، آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان موجود تمام مخلوقات اس کے زمره میں آتی هیں- جیسا که ارشاد الهی هے : ” هم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوقات کو حق کے ساتھه اور ایک مقرره مدت کے ساتھه پیدا کیا هے[15]-“

مذکوره پوری بحث سے یه نتیجه نکالا جا سکتا هے که مصلحتوں اور زمان و مکان کی ضرورتوں کے مطابق ” لوح محو و اثبات” میں تغیّر و تبدّل جاری هے- اس کے برعکس “لوح محفوظ” { خداوند متعال کا ازلی علم} نا قابل تغیّر هے- پس تمام مخلوقات کے دو پهلو هیں ، ایک پهلو اس کے تغیروتبدل کا هے، که اس کے مطابق تمام مخلوقات موت و حیات، زوال و بقا اور مختلف قسم کی تبدیلیوں سے دوچار هوتی هیں – اور دوسرا پهلو ثبات کا هے، جس کے مطابق مخلوقات کسی صورت میں بھی قابل تغیر نهیں هوتی هیں اور اپنی پهلی قسم میں باقی رهتی هیں-


مزید  دعائے جوشن کبیر کے ۸۵ویں بند میں یه کیوں کھا گیا ھے که انسان پانی سے پیدا کیا گیا ھے ؟

[1] قرشى، سید على اکبر، قاموس قرآن، ج 1، ص 172.

[2] معرفت، هادى، تفسیر و مفسران، مؤسسه فرهنگى التمهید، طبع اول اردیبهشت 1379ش، ج 1، ص 522.

[3] مکارم شیرازى، ناصر، تفسیر نمونه، ج 10، ص 249.

[4] کافى، دارالکتاب الإسلامى، تهران، 1365 ه، ص 148، حدیث 15.

[5] سفینة البحار، ج 1، ص 51، و قریب به مضمون حدیث، کافى، ایضاً، ص 148، حدیث 9.

[6] رعد، 38 و 39.

[7] معرفت، هادى، تفسیر و مفسران، ایضاً، ص 523.

[8] مجلسى، بحار الانوار، ج 4، ص 109 – 110، شماره 27، و مضمون به همین حدیث در کافى، انتشارات اسوه، 1372، ج 1، ص 423، حدیث 8.

[9] علامه طباطبائى، تفسیر المیزان، ترجمه  فارسی موسوى همدانى، 20 جلدى، بنیاد علمى و فکرى علامه، تاریخ 1363 ه، ج 11، ص 584.

[10] سوره ق، 4.

[11] سوره بروج، 22.

[12] سوره یونس، 61.

[13] سوره هود، 6.

[14] عروسى حویزى، تفسیر نور الثقلین، مؤسسه اسماعیلیان، تاریخ 1373 هش، ج 2، ص 512.

[15] سوره احقاف، 3.

تبصرے
Loading...