باوجودیکه زید بن علی (رح) بھی اهل بیت سے هیں ، انهوں نے کیوں ابو بکر کی خلافت کے صحیح هو نے کا اعتراف کیا هے؟

0 0

سوال کے جواب سے پهلے قابل ذکر بات هے که، سوال کر نے والے نے اپنے دعوی کے بارے میں کسی دلیل وسند کی طرف اشاره نهیں کیا هے اور هم نے بھی نسبتا ایک جامع اور مفصل تحقیق کے بعد مذکوره نقل کے صحیح هونے کے بارے میں کوئی دلیل نهیں پائی ,اس لحاظ سے ،اولا: ایک علمی موضوع پر صرف دعوی کر نا ، قابل قدر و اعتبار نهیں هے ـ ثانیا : زید بن علی(رح) کی طرف سے ابو بکر کی خلافت کی تائید کے سلسله میں اقوال کے موجود هو نے کے مفروضه پر بھی ، مسئله کی تحقیق کا بهترین طریقه یه هے که ان قرائن پر غور کیا جائے ، جو مذکوره نسبت اور دعوی کو ایک طرح سے کمزور کرتے هیں ـ اس لئے پهلے زید بن علی(رح) کی شخصیت کے بارے میں تحقیق کی جانی چاهئے پھر هم ان قرائن کے بارے میں تحقیق کریں گے جو مذکوره موضوع کے بارے میں موافقت یا عدم موافقت کے سلسله میں ان کے جذ بات سے مربوط هیں ـ

زید بن علی(رح) ، ایک زاهد، سخی اور شجاع بنده خدا تھے جو امام باقر علیه السلام کے بعد ان کے بھائیوں میں بڑی شخصیت تھےـ [1] ان کے والد بزرگوار ، علی بن الحسین (ع) سجاد کے لقب سے ملقب تھے ـ وه ماه صفر ١٢٠ھ میں امویوں کے ساتھـ ایک جنگ میں شهید هو گئے ـ اس عظیم شخصیت کے بارے میں صرف اتنا هی کافی هے ، که ان کے انقلاب بر پا کر نے کے لئے روانه هو نے کے بعد امام باقر علیه السلام نے فر مایا : ” افسوس هو اس پر جو اس کی ندا کو سنے اور اس کی مدد کر نے کے لئے آگے نه بڑھےـ “[2] اس کے علاوه حضرت امام محمد باقر(ع) ان کی شهادت پر انتهائی غمگین هو ئے اور ان کی عزاداری کے لئے اپنے مال سے ایک هزار دینار الگ رکھےـ [3] پس ان کے جلیل القدر شخص هو نے اور امام معصوم کی طرف سے تائید پا نے میں کسی قسم کا شک و شبهه نهیں هےـ [4] لیکن بات یه هے که کیا اس قدر نفس و تقوی کا صحیح هو نا کسی شخص کے کلام کی حجیت کے لئے کافی هے، جس حجیت کے لئے عصمت کا هو نا ضروری هے ؟ !یه نا ممکن نهیں هے که کوئی شخص اس مقام پر پهنچ جائے که محر مات الهی کو ترک کرے اور واجبات اسلامی پر عمل کرے اور یهاں تک که مکروهات سے بھی اجتناب کرےـ معصوم کے علاوه عام انسان بھی یه کام انجام دے سکتے هیں ـ دوسرے الفاظ میں ، ممکن هے کوئی شخص عصمت کے اس درجه پر فائز هو جائے ، لیکن حقیقت یه هے که عصمت کا یه در جه اور گناهوں سے اجتناب انسان کے افعال ، کردار اور حتی کھ گفتار کو حجیت نهیں بخش سکتا هے ـ اس سلسله میں جو معیار هے، وه ایسی عصمت هے جو امامت سے متصل هو اور اس سلسله میں متواتر احادیث کے ذریعه رسول اکرم (ص) اور اپنے پهلے والے امام کی صراحت هو چکی هوـ لهذا اس مفروضه  پر که اگر زید بن علی (رح) نے ابو بکر کی خلافت کے صحیح هو نے کا اعتراف بھی کیا هو، تو یه امر ان کی خلافت کو صحیح قرار دینے کی حجت نهیں بن سکتا هےـ

ممکن هے کها جائے که: وه بھی، شیعوں کے دوسرے اماموں کے مانند اهل بیت پیغمبر (ص) سے هیں پس وه آیه تطهیر کے مخاطب تھے اور عصمت و امامت الهی کے اسی مقام کے حامل هو نے چاهیں !

جواب میں کهنا چاهئے : ” اهل” اور ” آل” کو اگر مطلق معنی میں استعمال کیا جائے تو قبیله ، خاندان اور جوبھی گھر اور صاحب خانه سے منسوب هو اس میں شامل هو تے هیں ـ لیکن آیه تطهیر میں ” اهل” اور چیز هے ، یعنی لغوی معنی سے محدود تر هے ، لیکن لغوی معنی کے مخالف نهیں هے ، کیونکه بهت سی احادیث سے معلوم هو تا هے که: پنجتن پاک اور امام حسین علیه السلام کی اولاد میں سے نو اماموں کے علاوه کوئی بھی آیه تطهیر [5] میں شامل نهیں هو تا هے ـ اس سلسله میں بهت سی روایتوں کی طرف اشاره کیا جاسکتا هے ـ هم یهاں پر چند شیعه سنی روایتوں کو نقل کر نے پر اکتفا کرتے هیں:

ابن جبر، اپنی کتاب نهج الایمان میں کهتا هے : ” محمد بن محمد بن نعمان ، مشهور به شیخ مفید روایت کرتے هیں که یه آیت پیغمبر اکرم (ص) کی ممتاز بیوی ام سلمه کے گھر میں نازل هوئی هے- وه روایت کو ام سلمه سے منسوب کر کے کهتے هیں که ام سلمه نے یوں کها : پیغمبر اکرم (ص) گھر پر تھے اور علی(ع) ، فاطمه (ع) حسن(ع) وحسین(ع) ان کے پاس بیٹھے هوئے تھےـ آنحضرت (ص) نے انهیں عبائے خیبری کے نیچے جمع کر کے فر مایا : خدا وندا ! یه میرے اهل بیت هیں ـ اس وقت خدا وند متعال نے آیه تطهیر کو نازل فر مایا اور پیغمبر اکرم (ص) نے بھی اس آیت کو ان کے لئے تلاوت فر مایا ـ اس کے بعد میں (ام سلمه) نے پیغمبر اکرم (ص) سے مخاطب هو کر پوچھا ، کیا میں آپ(ص) کے اهل بیت میں سے نهیں هوں ؟ آپ(ص) نے فر مایا : ” تم خیر و نیکی پر هو ” ـ مفید کهتے هیں : لیکن آنحضرت (ص) نے نهیں فر مایا که اهل بیت میں سے هوـ [6]   اس قسم کے مضامین شیعوں کی مستند احادیث میں بهت زیاده پائے جاتے هیں ، مثال کے طور پر حدیث شریف کساء کی طرف اشاره کیا جاسکتا هےـ [7]

اهل سنت کی حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بھی مذکوره آیت میں اهل بیت کے بارے میں بارها پنجتن پاک کی تعبیر کی گئی هےـ ابن جریر طبری اس سلسله میں کهتے هیں : محمد بن المثنی نے… سے اور اس نے پیغمبر اسلام (ص) سے نقل کیا هے که آپ(ص) نے فر مایا : یه آیت پانچ افراد کے بارے میں نازل هوئی هے ، میں ، علی(ع) حسن(ع) حسین(ع) اور فاطمه(ع) ـ”

ابن جریر طبری ایک دوسری جگه پر اپنی تفسیر میں انهی پانچ افراد کو اهل بیت جانتا هے اور ایک روایت کو ذکر کرتے هوئے کهتا هے: ابن وکیع نے ایک گروه سے نقل کرتے هوئے سند کو انس تک پهنچایا هے اور اس نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کر کے کها هے : نبی اکرم (ص) چھـ ماه تک روزانه، نماز کے وقت، فاطمه(ع) کے گھر کے دروازه پر دستک دیکر فر ماتے تھے : انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا” [8]

دونوں مکاتب فکر سے جو احادیث هم نے نقل کیں ان کے علاوه آیه شریفه میں لفظ ” اهل” مطلق صورت میں استعمال نهیں هوا هے اور هم جانتے هیں که یه لفظ دائم الاضافه معنوی ، یعنی اس کے صحیح لغوی معنی پیدا کر نے کے لئے ، ایک پناه گاه کی ضرورت هےـ مثل ” اهل الایمان” ، ” اهل ایران” و… آیه تطهیر میں بھی لفظ ” اهل” ، “بیت” پر اضافه هوا هے اور بهت سے مفسرین کے مطابق ” بیت” سے  مراد خانه یا گھر نهیں هے ، کیونکه اگر بیت سے مراد زندگی یا سکونت کی جگه هو تی تو ام سلمه، جن کے گھر میں آیت نازل هوئی ، کو اهل بیت کی پهلی مصداق هو نا چاهئے تھا ـ

لیکن مذکوره احادیث کے مطابق حضرت پیغمبر اسلام (ص) نے ام سلمه ، عائشه اور اپنی بیویوں میں سے کسی اور کو اهل بیت کے زمرے میں داخل نهیں فر مایا هےـ لهذا بیت سے  مراد ، ” نبوت ورسالت کا گھر” هےـ

بهت سی روایتیں صراحت یا اشاره کے ساتھـ پائی جاتی هیں جو ” بیت” کے ” بیت نبوت و رسالت” پر حصر کی دلالت پیش کرتی هیں ـ ایسی روایتیں موجود هیں جو علی(ع) و فاطمه(ع) کے گھر کو رسالت کے گھر کے علاوه کوئی اور گھر نهیں جانتی هیں ـ اور اس خاندان پر ” اهل بیت النبوه ” کا اطلاق زیارتوں میں اسی لحاظ سے آیا هے ـ[9] پنجتن آل عبا اور امام حسین عله السلام کی اولاد سے نو ائمه کے علاوه کسی کا کلام کسی چیز کو مسترد یا تائید کر نے کے سلسله میں ماخذ نهیں بن سکتا هے ، مگر یه که معصو مین کے کلام یا قرآن مجید کی آیات پر منتهی هو جائے اور یا یه که واضح عقلی قرائن سے مربوط هو ـ لهذا، زید بن علی (رح) کے تمام فضائل کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کے بعد پیش آنے والے ناگفته یه واقعات کے صحیح هو نے کے بارے میں ان کی تائید کی بناپر ان حالات کو اراده الهی کے مطابق جان کر (حضرت علی علیه السلام کو خلافت پر نصب کئے جانے کے) پیغمبر اسلام کے فرمودات اور ان واقعات کے ناشائسته هو نے کے بارے میں ائمه معصومین کے فرمودات سے چشم پوشی نهیں کی جاسکتی هے –لیکن بنیادی مسئله یه هے که کیا زید بن علی(رح) کا سقیفه کے حادثه کے نتیجه میں ، وجود میں آئی ابو بکر کی خلافت کے صحیح هو نے کی تائید کر نا ، حقیقت هے؟ !

جیسا که هم نے کها که زید بن علی(رح) ، ایک باتقوی ، پرهیز گار اور شجاع شخص تھے، وه اپنی آرزٶں کے سلسله میں که وهی مرضی الهی کو حاصل کر نا تھا کوئی دقیقه فرو گزاشت نهیں کر تے تھےـ وه شجاعت و بهادری میں اس قدر توفیق رکھتے تھے که ائمه معصو مین علهیم السلام انهیں احترام کی نگاه سے دیکھتے تھے اور انهیں عزت کرتے تھے ـ وه ظلم و استبداد سے متنفر تھے اور هر گز ظلم کو برداشت نهیں کرتے تھےـ وه ظالموں اور طاغوتی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابله کرتے تھے ـ اس لئے انهوں نے اپنے جد امجد امام حسین علیه السلام کے انتقام میں انقلاب برپا کیا جو ” انقلاب زید” کے نام سے مشهور هے ـ اس کا مقصد یهی تھا که تمام  لوگوں کو سمجھا دیں  که رسول اکرم (ص) کا خاندان نه امویوں کے ساتھـ اور نه کسی اور کے ساتھـ اپنے غصب شده حق سے چشم پوشی کر نے کے لئے آماده هے  ـ کیا یه تصور کیا جاسکتا هے که ایسا شخص اس درجه علم وآگاھی اور شجاعت رکھنے کے باوجود وقت کے سیاسی حالات سے مرعوب هو کر پیغبر اکرم(ص) کی دعوت ذی العشیره، لیلۃ المبیت ، یوم الغدیر و… میں ارشاد کئے فرماںوں کو پائمال کرے گا؟ !کیا یه تصور صحیح هے؟ !

اس لئے، اس حقیقی مومن کی زندگی پر تھوڑا غور کر نے سے معلوم هوتا هے که یه سب تهمتیں هیں جو ان کی شان و منزلت کے خلاف میں ، اور یه حقیقت کو الٹا دکھانے کے لئے جعل بنائی گئی چیزیں هیںـ هم بھی اس قسم کے دعوی کی ترویج کر نے والے سے ، اس مطلب کو زید بن علی(رح) سے منسوب کر نے کے سلسله میں قابل اعتبار دلیل کا مطالبه کرتے هیں ، اگر چه هم اس قسم کی دلیل کے وجود کے مفروضے کو بھی اپنے ذهن میں پیدا هو نا قبول نهیں کرتے هیں ـ

منابع و ماخذ:

١-ابی جعفر محمد ابن جریر الطبری ، جامع البیان عن تاویل آیات القرآن ـ

٢ـ المنجد فی اللغه ـ

٣ـ خوئی، سید ابوالقاسم ـ

٤ـ زین الدین علی ابن یوسف ابن جبر، نهج الایمان ، تحقیق سید احمد حسینی ـ

٥ـ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)ـ

٦ـ علی ابن عیسی ابن ابی الفتح الاربلی ـ

٧ـ فضل ابن الحسن الطبرسی ، اعلام الوری باعلام الهدی ـ

٨ـ قمی، شیخ عباس ، مفاتیح الجنان ـ


مزید  اگر میں غسل یا وضو کے لیے وقت تنگ ہونے کی وجہ سے تیمم کروں تو کیا یہ کافی ہے؟ یا یہ کہ پھر بھی مجھے غسل یا وضو کرنا چاہئیے {حتی کہ وقت کی کمی کے فرض پر بھی}؟ مثال کے طور پر، اگر اس وقت مغرب قریب ہو اور میں نے ظہر اور عصر کی نماز ابھی نہیں پڑھی ہے اور غسل یا وضو کرنے کے لیے کافی وقت نہیں ہے تو، کیا میں تیمم کر کے پاک ہو سکتا ہوں؟ اور اس صورت میں کیا مغرب کے بعد بھی میں پاک رہوں گا؟ مذکورہ مفروضات کے پیش نظر کیا مجھے اپنی نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے؟

[1] فضل ابن الحسین الطبرسی ، اعلام الوری باعلام الهدی ، ج١، ص ٤٩٣ـ

[2] شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع) ، ج١، ص٢٢٥ـ

[3] فضل بن الحسن الطبرسی ، اعلام الوری باعلام الهدی ، ج١، ص ٤٩٥ـ

[4] ابو القاسم خوئی ، معجم رجال الحدیث ، ج٧، ص ٣٥٦ـ

[5] انما یرید الله لیذ هب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا ـ ” پس الله کا اراده یه هے اے اهل بیت که تم سے هر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزه رکھے جو پاک و پاکیزه رکھنے کا حق هےـ ” احزاب/ ٣٣

[6] زین الدین علی ابن یوسف ابن جبر ، نهج الایمان ، ص ٧٨ـ

[7] شیخ عباس قمی ، مفاتیح الجناح ، ص١٠٢١ـ

[8] ابو جعفر محمد ابن جریر الطبری ، جامع البیان عن تاویل آیات القرآن ، ج٢٢،ص٩ـ

[9] شیخ عباس قمی ، مفاتیح الجناح، ص ٩٠١ـ

تبصرے
Loading...