{ایرانیوں کے ساتھه جنگ میں} رومیوں کی فوج کی سربراهی “هرکلیوس” نامی شهنشاه کے هاتھه میں تھی- کیا یه شهنشاه خدا کے محبوب بندوں میں سے اور مومن هے؟ اور کیا وه بهشت میں جائے گا؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa2824


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
8215

{ایرانیوں کے ساتھه جنگ میں} رومیوں کی فوج کی سربراهی “هرکلیوس” نامی شهنشاه کے هاتھه میں تھی- کیا یه شهنشاه خدا کے محبوب بندوں میں سے اور مومن هے؟ اور کیا وه بهشت میں جائے گا؟

سوره روم میں، ابتداء میں مشرقی روم{بیزانس} جو اهل کتاب تھے، کی پارسی آتش پرستوں کے مقابلے میں شکست کی بات کی گئی هے، اس کے بعد یوں کها گیا هے: “ایک مختصر مدت میں چند برسوں کے دوران وه پست ترین زمین میں پارسیوں پر غلبه پائیں گے، اس دن مومنین خوش هوں گے- خداوندمتعال ظالموں کو اسی طرح سزا دیتا هے اور فرمانروائی کا حق صرف خداوندمتعال کو هے۔ ۔ ۔ ” شیخ سعید نورسی “رساله نور” نامی اپنی کتاب میں “هراکلیوس” شهنشاه کی تعریفیں کرتا هے اور لکھتا هے که وه مسلمان هوا اور مسلمان کی حیثیت سے اس دنیا سے چلا گیا-
اب میرا سوال یه هے که رومیوں کی فوج کا سپه سالار “هراکلیوس” شهنشاه تھا- کیا یه شهنشاه، خدا کے محبوب بندوں میں سے تھا؟ جس نے اس جنگ کی سرپرستی کی هے اور اس جنگ میں گمنام سپاهی مارے گئے هیں؟ کیا وه مومن تھا اور کیا وه بهشت میں جائے گا؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

مزید  ایک ھی جلسه میں چار افراد ایک مرد کے زنا کرنے کی گواھی دیتے ھیں۔ قاضی اس کے رجم[ سنگسار] کا حکم صادر کرتا ھے۔ چار گواھوں میں سے ایک شخص زانی کو سنگسار کرنے میں شرکت بھی کرتا ھے اور باقی تین افراد شرکت نھیں کرتے ھیں، زانی کو سنگسار کرنے کے بعد واپس لوٹنے پر زانی کے مرنے سے پھلے وه ایک گواه اپنی گواھی سے انکار کرتا ھے اور باقی تین گواه زانی کے مرنے کے بعد اپنی گواھی سے انکار کرتے ھیں۔ تو اس مرد کا دیه کس کے ذمه ھے؟
تبصرے
Loading...