اھل سنت کے وضو کے طریقھ کے پیش نظر آیھ وضو میں لفظ ” الی ” کن معنی میں ھے؟ اور اس سلسلھ میں پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کی سیرت کیا ھے؟

0 0

سوال کا جائزه لینے سے پھلے درج ذیل تمھید کی طرف اشاره کیا جاتا ھے :

شیعھ فقھا اس بات کے قائل ھیں کھ وضو کے لئے ھاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا واجب ھے ، لیکن اھل سنت متفقھ طورپر کھتے ھیں کھ انسان کو اختیار ھے کھ ھاتھوں کو نیچے سے اوپر کی طر ف یا برعکس دھولیں ۔ لیکن نیچے ( انگلیوں کے سرے) سے اوپر کی طرف دھونا مستحب ھے ۔ [1]

شیعھ فقھا کی دلیل ان روایا ت پر مبنی ھے جن میں بیان کیا گیا ھے کھ : رسول خدا صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم ھاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھوتے تھے ۔[2]

اور ایک صحیح روایت ھے کھ امام معصوم (ع) نے وضو سے متعلق آیت کی تفسیر میںفرمایا ھے : [3] : ” ھاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاھئے” [4]

لیکن قرآن جید کی آیھ شریفھ : ” یا ایھا الذین آمنوا اذا قمتم الی الصلاۃ فاغسلوا وجوھکم و ایدیکم الی المرافق۔۔۔۔” ایمان والو ! جب نماز کے لئے کھڑے ھوجاؤ ،چھره اور ھاتھوں کو کھنی تک دھولو۔۔۔” میں لفظ ” الی ” صرف دھونے کی حد اور مقدار بیان کرنے کےلئے ھے ، نھ کھ دھونے کی کیفیت بیان کرنے کےلئے ۔

آیھ شریفھ میں وضو کے دوران ھاتھه کو دھونے کی حد کھنی تک[5] معین ھوئی ھے ، اس کی وضاحت اس طرح سے کی جاسکتی ھے کھ جب کسی سے کھا جائے کھ ھاتھه کو دھولے ، ممکن ھے اس کے ذھن میں آئے   کھ اگر ھاتھه کو کلائی تک دھولیا جائے تو کافی ھے ، کیونکھ عام طورپر ھاتھه دھونے میں اسی قدر دھویا جاتا ھے ، اس وھم کو دور کرنے کے ئے ارشاد ھوا ھے کھ ھاتھ کو کھنی تک دھولیا جائے ۔

مذکوره بیان کو واضح کرنے کےلئے اس مثال سےاستفاده کیا جاسکتا ھے ؛ مثلا : مسجد کے خادم سے کھا جاتا ھے کھ ” اکنس المسجد من الباب الی المحراب ” “مسجد میں دروازه سے محراب تک جھاڑو دیدو ” یھاں پر کھنے والے کی مراد وه حد اور مقدار ے جسے جاڑودینا ھے اور وه یھ نھیں کھنا چاھتاھے کھ کھاں سے شروع کرے اورکھاں پر ختم کرے خاص طورپر جب کھ آیھ شریفھ میں لفظ “من”    نھیں آیا ھے ۔ پس مذکوره آیت میں لفظ “الی ” مستحب کے طور پر بھی نھیں کھتا ھے کھ ھاتھوں کو انگلیوں کے سروں سے کھنی کی طرف دھویا جائے ۔

رسول اللھ صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کا عمل اور آپ ( ص) کی سنت ، جو اھل بیت علیھم السلام کے توسط سے بیان کی گئی ھے ، اس معنی کی بھتریں گواه ھے۔ [6]

پس ” الی ” یا ” غایت ” [7] کے معنی میں ھے ، لیکن غایت مغسول [8] نھ کھ غسل اور دھونا[9] اور یا شیخ طوسی ( رح) کے ارشاد کے مطابق ” من” [10] یا ” مع” [11] کے معنی میں ھے ۔ [12]


مزید  امام زمان (عج) کا خوراک اور لباس کیا هے؟

[1] الفقھ علی المذاھب الخمسۃ ، ص ۸۰ ، الفقھ علی مذاھب الاربعۃ ، ج ۱ ص ۶۵۔ مبحث بیان عدد السنن و غیرھا ۔۔ ، صلاۃ المومن القحاطانی ، ج ۱ ص ۴۱، ۴۲۔

[2]  ملاحظھ ھو: وسائل الشیعھ ، ج ۱ ص ۳۷۸۔ ، ابواب الوضو ، با ۱۵ ، باب کیفیۃ الوضو و جملۃ مں احکامه،

[3] سوره مائده/ ۶۔

[4] وسائل الشیعھ ، ج ۱ ، ابواب الوضو، با ۱۹ ح۱۔

[5]  ” مرافق” جمع “مرفق” کھنی کے معنی میں۔

[6]  مزید آگاھی کیلئے ملاحظھ ھو : عطائی اصفھای ، علی ، چرا ؟ چرا؟ ص ۱۹ أ ۳۷۔

[7]  تا

[8]  یعنی ھاتھه دھونے کی حد کھنی تک ھے۔

[9]  یعنی یه نھیں ھے کھ کھنی تک دھونا ھے اس لحاظ سے وھم ھوسکتا ھے کھ دھونے کی کیفیت کھنی کی طرف ھو۔

[10]  سے

[11] معھ

[12] وسائل الشیعھ ، ج ۱ ، ص ۴۰۶۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.