اھل بیت کا مقصد اور کردار؟

0 0

180x480 Banner

اھل بیت علیھم السلام  ایک قرآنی ، حدیثی ، کلامی اصطلاح ھے جو پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کے گھرکے  افراد کے بارے میں استعمال ھوتی ھے۔ یھ اصطلاح اس معنی قرآن کریم کی آیھ تطھیر (سورہ احزاب/ آیھ 33 ) میں استعمال کی گئ ھے ، “بس اللھ کا ارادہ یھ ھے ، اے اھل بیت ! کھ آپ  سے ھر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا کا حق ھے ۔ [1]
مفسریں  اس آیھ کی تفسیر میں کھتے ھیں کھ ؛ اس آیت میں خدا کے ” ارادہ” کا مطلب ” تکوینی اور تخلیقی ارادہ” ھے [2]  کیوں کھ خداوند متعال کا تشریعی ارادہ سب انسانوں کی پاکی اور طھارت سے متعلق ھے  یعنی سب انسان  پروردگار متعال کی تعلیم اور دستور پر عمل کرکے اور سب گناھوں سے دوری کرکے  پاک دامنی تک پھنچ سکتے ھیں ۔ لیکن خداوند متعال کا تکوینی ( تخلیقی ) ارادہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم  کے اھل بیت علیھم السلام کی طھارت اور پاکی سے متعلق ھو اھے۔ جس کے معنی یھ ھیں کھ  کسی بھی طرح کی خطا اور سھو اس گھر میں ممکن نھیں اور یھ صرف اس لئے ھے کھ   اسلام کے مقدس اھداف و مقاصد تک پھنچنے میں اھم کردار اس گھر کے افراد کے شانوں  پر رکھا گیا ھے۔
اس کے علاوہ اھل بیت علیھم السلام کے منفرد مقام اور ان کی لیاقت پر قرآن مجید اور روایات   میں تاکید کی وجہ ، ان بزرگوں کی فکری بلندی ، اندیشھ ، اعمال اور نصب العین ھے  انھیں صرف خدا اور اس کی رضا کا خیال ھے ۔ قرآن مجید سورہ دھر میں اھل بیت کے ایثار کا ایک نمونھ پیش کرتا ھے  اور ان کی توصیف میں فرماتا ھے : ” یھ اس کی محبت میں مسکین ، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ھیں اور کھتے ھیں ھم صرف اللھ کی مرضی کی خاطر تمھیں کھلاتے ھیں ورنھ نھ تم سے کوئی بدلھ چاھتے ھیں اور نھ شکریھ [3]
اھل بیت کی زندگی کی تاریخ اور ان  کی عملی سیرت اور ان کی تعلیمات بھترین گواہ ھیں  کھ ان بزرگوں کا مقصد کلمھ طیبھ توحید کی سربلندی اور ھر طرح کی شرک اور گمراھی کی نفی کے سوا اور کچھہ نھیں ھے ۔ اھل بیت نے ھمیشھ  دین اسلام کی بقاء اور اس کے اقدار کی حفاظت کے لئے، آیات قرآنی کی تفسیر اور احکام و دستور کو  بیان کرکے لوگوں کی ھمدردی اور راھنمائی اور ان کے  رشد اور کمال کی جانب کی ذمھ داری پوری کی ھے۔
مسائل اور احکام کی تئیں ان کا اھتمام ان تائیدات کی وجھ سے تھا،  کھ لوگ ان کے بلند مقام کی طرف متوجھ رھیں اور کمال اور ھدایت کی جانب حرکت میں ان کی پیروی کریں ،کیونکھ کھ قرآن کا اصلی مقصد انسان کی ھدایت ھے ” الم ، ذلک الکتاب لا ریب فیھ  ھدی ً للمتقین”[4] جو بھی آیات قرآن میں غور کرے گا واضح طور پر اس نتیجھ کی تصدیق کرسکتا ھے۔  چونکھ شیعوں کے امام اور امت کے رھبر اور راھنمایی ھیں ۔ اس لئے اھل بیت علیھم السلام کا عنوان ان کے مطابق ھے اور رسول اکرم جو حقیقی طور پر  قرآن کے مفسیر اور بیان کرنے والے ھیں جب اپنےبعد دینی مرجعیت امامت ، اور رھبری کو بیان کرتے تھے تو اسی لفظ اھل بیت کا استعمال کرتے تھے جیسا کھ فرماتے ھیں۔
میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑدیتا ھوں ایک کتاب اللھ اور دوسری  میری عترت اھل بیت اگر ان کا دامن تھام لو گے  تو کبھی گمراہ نھیں ھو گے اور یھ ایک دوسرے سے الگ نھیں ھوں گی یھاں تک قیامت کے دن حوض کوثر پر وارد ھوں گی۔ [5]
اسی طرح آنحضرت صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے حدیث سفینھ میں فرمایا:
“بے شک میرے اھل بیت کی مثال نوح کی کشتی کے مانند ھے جو بھی اس میں سوار ھوگا نجات پائے گا اور جو بھی تخلف کرے گا وہ ڈوب جائے گا”۔ [6]
پس دین کی حفاظت ، احکام کی تفسیر و تبیین میں اوردینی دستور لوگوں کی سرپرستی اور سماج کی ھدایت میں اھل بیت علیھم السلام کا اتنا اھم کردار ھے کھ ان سے الگ رھنا اور ان کے دستور کو ترک کرنا تباھی اور نابودی کے سمندر میں ڈوبنے کا اور انسان کی ھلاکت کا موجب بنتا ھے ۔ اور ان کا مقصد خداوند متعال کی جانب دعوت کے علاوہ اور کچھہ بھی نھیں ھے۔ [7]

 

مزید  کیا قرآن مجید کی ہدایت صرف متقین کے لئے ہے اور کیا اس صورت میں دور کی مشکل پیش نہیں آتی ہے؟

 [1]  “انما یرید اللھ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا “

[2]  ترجمھ المیزان ، ج 16 ، ص 467۔
[3]  سورہ انسان / 8 اور 9 ۔ ” و یطعمون الطعام علی حبھ مسکینا و یتیما و اسیرا و،انما نطعمکم لوجھ اللھ لا نرید منکم جزاءً و لا شکورا”
[4]  سورہ بقری / 1، 2۔
[5]  صحیح ترمذی، ج 2 ، ص 380۔ ، احمد بن حنبل ، مسند ، ج 3 ص 17۔ ” انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللھ و عترتی اھل بیتی ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی ابدا فانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض “
[6]  حاکم ، مستدرک الصحیحین۔ ج 2۔ ص 432۔ فیروز آبادی، فضائل الخمسۃ ج 2 ، ص 65۔ ” انما مثل اھل بیتی فیکم کسفینۃ نوح مں رکبھا نجا و مں تخلف عنھا غرق”
[7]  مزید آگاھی کے لئے ، رجوع کریں ، عنوان ، اھل بیت علیھم السلام  اور آیھ مؤدت ( سورہ شوری آیت ، 23۔ سوال نمبر 160۔ اھل بیت علیھم کا کچھہ ھی افراد میں محدود کرنا،  سوال نمبر 243۔ رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے اھل بیت ، سوال 833۔

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...