اھل بیت (ع) سے کیا مراد ھے؟

0 0

ا ھل بیت ایک قرآنی، حدیثی ، اور کلامی اصطلاح ھے جو پیغمبر اسلام کے افراد خانھ کے معنی میں ھے۔ یھ اصطلاح اس معنی میں قرآن مجید کی آیت تطھیر ( سوره احزاب آیت  ۳۳) میں استعممال ھوتی ھے ” انما یرید اللھ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا ” بس اللھ کا اراده یھ ھے کھ اے اھل بیت (ع)  کھ تم سے ھر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک رکھے و پاکیزه رکھنے کا حق ھے”

“اھل ” کی لغوی جڑ انس اور قرابت [1] کے معنی میں ھیں ، اور ” بیت” بھی “ساکن ھونے کی جگھ” اور “بیتوتھ” کے معنی میں ھے [2]

اھل بیت  کی اصل لغت میں کسی فرد کے رشتھ داروں کے معنی میں ھیں جو اس کے ساتھه قرابت اور رشتھ رکھتے ھوں۔ [3] لیکن مطلق طور پر ایک عام معنی میں ان  سب افراد کے لئے بھی جو  نسب ، دین ، سکونت ، وطن یا شھر میں کسی کے ساتھه شریک ھوں استعمال ھوا ھے [4]

لیکن متکلمین ، محدثیں ، مفسرین قرآن نے اھل یبت کی اصطلاح کو جو قرآن مجید میں استعمال ھوئی ھے خاص معنی اور مفھوم میں استعمال کیا ھے کیوں کھ ان کا یھ عقیده ھے کھ اس معنی میں پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آله وسلم اور ائمھ طاھرین علیھم السلام   سے بھت سی روایات وارد ھوئی ھیں اور لھذا قرآن مجید کے اس جملے کی خاص قرآنی تفسیر موجود ھے۔

یھ خاص تفسیر کن افراد کو شامل ھے اس سلسلے میں مفسرین ، محدثین ، متکلمین میں اختلاف نظر ھے۔

۱۔ بعض اھل سنت مفسرین کا یھ عقیده ھے کھ جملھ ما قبل اور ما بعد کے قرینھ سے جو پیغمبروں کی بیویوں ( امھات المومنین ) کے بارے میں ھے یھ آیت صرف پیغمبر صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم  کی بیویوں کو شامل ھے انھوں نے اس نظریھ کی تائید میں ابن عباس کی روایت جسے   عکرمھ ، مقاتل اور ابن جبیر ، ابن سائب نے نقل کیا ھے اور ان کے استناد سے لکھتے ھیں: “عکرمھ بازار میں فریاد کرتے تھے کھ صرف آنحضرت صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم مراد ھیں اورجو بھی اس کا منکر ھو میں اس کے ساتھه مباھلھ کروں گا” [5]

بعض اھل سنت مفسرین اور سب شیعھ مفسرین نے اس نظریه پر تنقید کی ھے اور کھا ھے که اگر آیھ شریفھ میں اھل بیت سے مراد رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کی بیویاں  تو ھوں ،مناسب تھا کھ اس سے پھلے اور اس کے بعد جملوں کے مانند خطاب جمع مؤنث کی طرح ھوتا ، اس آیھ شریفھ  ۔۔۔ “انما یرید اللھ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا” ، میں خداوند متعال “عنکم” اور”یطھرکم” کے بدلے “عنکن” اور “یطھرکن ” فرماتا جبکھ ایسا بالکل نھیں ھے اور آیھ میں خطاب جمع مذکر کی صورت ( عنکم و یطھرکم ) ھے اور اس کا مطلب یھ ھے کھ اس گروه کا نظریھ صحیح نھیں ھے۔

روایت سے اس کا استناد بھی صحیح نھیں ھے من جملھ ابو حیان غرناطی جو خود اھل سنت میں سے ھیں، رقمطراز ھیں: کھ ابن عباس سے روایت کی نسبت صحیح نھیں ھے ۔

ابن کثیر نے بھی کھا ھے اگر اس روایت سے مراد یھ ھو کھ آیھ تطھیر کی شان نزول پیغمبر کی بیویان ھیں نھ کوئی اور یھ بات صحیح نھیں ھے کیونکھ بھت ساری روایات اس نظریھ کو رد کرتی ھیں۔ [6]

البتھ جیسا کھ اشاره ھوا اس بارے میں ابن کثیر کا قول کھ ” آیھ تطھیر کی شان نزول پیغمبر کی بیویاں ھیں” صحیح نھیں ھے کیونکھ اولاً : یھ بات سیاق کے خلاف ھے۔

ثانیا: ان روایات سے مخالف ھے جن کی اس نے خو د تائید کی ھے۔

۲۔ اھل سنت مفسرین کی دوسری جماعت کا نقطھ نظر یھ ھے کھ آیھ شریفھ میں اھل بیت سے پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کی بیویاں اور علی ، فاطمھ ، حسن اور حسین علیھم السلام ھیں [7] اس نظریھ کے ماننے والوں نے اپنے نظریھ کی تائید میں کسی روایت سے استناد نھیں کیا ھے۔

۳۔ بعض مفسرین حضرات کھتے ھیں ، ظاھر طور پر آیھ عام ھے جو سارے خاندان کو شامل ھے چاھے وه بیویاں اور فرزند ھوں یھاں تک کھ  پیغمبر (ص) کی کنیزوں اور غلاموں کو بھی شامل ھے ، ثعلبی کھتے ھیں ۔ سب بنی ھاشم ” یا مومن بنی ھاشم کو شامل ھے” [8] یھ نظریھ بھی کسی روایت کے استناد کے بغیر ھے۔

۴۔ بعض مفسرین نے اشاره کیا کھ کھ شاید اھل بیت وه ھوں جن پر صدقھ حرام ھے، یھ نظر زید بن ارقم سے منقول حدیث پر مبنی ھے کھ ان سے پوچھا گیا کھ اھل بیت پیغمبروه ھیں جن پر صدقھ حرام ھے یعنی آل علی ، آل عقیل ، آل جعفر ، آل عباس[9] ، ابو الفتح رازی کے قول کے مطابق یھ نظریھ بھی شاذ اور نادر ھے جس کی کوئی دلیل نھیں۔

۵۔ سب شیعھ مفسرین اور بھت سے اھل سنت نے شواھد اور قرائن کے استناد سے بھت سی روایات جو پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم ، حضرت علی ، حضرت فاطمھ ، امام حسن ، امام حسیں علیھم السلام ، امام سجاد اور دیگر ائمھ معصومین علیھم السلام سے وارد ھوئی ھیں ، یھ نقطھ نظربیان کیا ھے کھ آیھ تطھیر اصحاب کساء یعنی حضرت محمد ، علی ، فاطمھ حسن اور حسین علیھم السلام کے بارے میں نازل ھوئی ھے اور اھل بیت سے مراد وھی ھیں۔

جو سوال ذھن میں آتا ھے وه یھ ھے کھ کس طرح پیغمبروں کی بیویاں شامل نھیں ھیں۔

اس سوال کے بعض جوابات جو دئے گئے ھیں ۔ ان کی جانب اشاره کیا جاتا ھے۔

الف) طبرسی (رح)کھتے ھیں ؛ صرف یھ مورد نھیں ھے کھ جس میں قرآنی آیات جو ایک ساتھه بیان ھوتی ھیں اور ان کے درمیان کسی اور موضوع کو چھیڑ دیا گیا ھے قرآن میں ایسے موارد بھت زیاده ھیں ، حتی کھ عرب کے فصیحوں اور ان کے اشعار میں بھی اس طرح کے بھت سارے نمونے دیکھے جاتے ھیں۔ [10]

ب) علامھ طباطبائی دوسرا جواب دیتے ھیں؛ کوئی دلیل موجود نھیں ھے کھ عبارت ” انما یرید اللھ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا” ان آیات کے ساتھه نازل ھوئی ھوگی بلکھ روایات سے اچھی طرح سمجھا جاتا ھے کھ یھ حصھ الگ نازل ھوا ھے ۔ اور پیغمبر کے حکم کے مطابق یا قرآن کی جمع آوری کی صورت میں آنحضرت (ص) کی رحلت کے بعد ان آیات کے ساتھه رکھی گئی ھو ۔ [11]

ج ) تفسیر نمونھ کے مؤلف لکھتے  ھیں : تیسرا جواب جو دیا جاسکتا ھے یھ ھے کھ قرآن رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم کی بیویوں سے کھنا چاھتا ھے که آپ اس گھر میں ھیں جس مں بعض افراد معصوم ھیں جو عصمت کے درخت کے سائے اور معصومین کے درمیان رھتا ھو ، اس کے لئے مناسب یھی ھے کھ دوسروں سے زیاده اپنی طرف توجھ کرے اور ھرگز یھ بھول نھ جائے کھ ان کی نسبت اس گھر کے ساتھه ھے جس میں پانچ پاک معصومین رھتے  ھیں جو ان کے لئے کافی بھاری ذمھ داری پیدا  کرتے ھے ۔ اور خدا اور خلق خدا کی کافی توقعات ان سے وابستھ ھیں۔ [12]

جو روایات،   اور آیھ تطھیر اور شان نزول کے بارے میں نقل ھوئی ھیں بھت زیاده ھیں اور وه چند حصوں میں تقسیم ھوتی ھیں۔

الف ) وه روایات جو واضح طورپر شان نزول اور آیھ تطھیر سے مراد اور اھل بیت کی اصطلاح کو پنج تن آل عبا جانتی ھیں۔ [13]

ب) وه روایات جو تائید کرتی ھیں کھ حدیث کساء کی روایات جو ابو سعید خدری ، انس بن مالک ابن عباس ، ابو الحمراء ، ابو برزه سے وارد ھوئی ھیں ، کھ کساء کے واقعھ ،  اور آیھ تطھیر کے نازل ھونے کے بعد پیامبر اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم ایک مھینے یا چالیس دن یا ساٹھه دن سے نو مھینے تک نماز صبح کے وقت ھمیشھ یا نماز پنجگانھ میں علی اور فاطمھ  کے دروازے پر جاتے تھے اور فرماتے تھے۔ السلام علیکم اھل البیت النبوۃ ورحمۃ اللھ و برکاتھ الصلاۃ یرحمکم اللھ ،۔ پھر آیھ تطھیر کی قرائت فرماتے تھے۔[14]

شرح احقاق الحق [15]ص ۱۵ میں اھل سنت کے ۷۰ معروف منبع اس سلسلے میں اکھٹا کئے گئے ھیں اور شیعھ منابع اس سلسلے میں بھت زیاده ھیں ۔ [16]

پس روایت کی نظر میں یھ بات قطعی ھے کھ آیھ شریفھ احزاب / ۳۳ میں اھل بیت سے مراد    پیغمبر اکرم (ص) ، علی ، فاطمھ ، حسن اور حسین علیھم السلام ھیں۔

لفظ ” اھل بیت ” روایات میں باقی اماموں یعنی امام علی بن الحسین سے امام زمانھ (عج) تک کو شامل ھے۔  ابو سعید خدری رسول اکرم صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم سے روایت کرتے ھیں کھ فرمایا: میں دو قیمتی چیزوں کو تمھارے درمیان چھوڑدیتا ھوں ایک خدا کی کتاب جو ایسی رسی ھے کھ  آسمان سے زمین تک کھینچی گئی ھے اور دوسری عترت میرے اھل بیت ھیں یھ دو قیامت تک آپس میں علیحده نھیں ھوں گے۔ [17]

ابوذر غفاری فرماتے ھیں؛ پیغمبر اکرم نے فرمایا: میرے اھل بیت کی مثال نوح کے سفینے کے مانند ھے جو بھی اس پر سوار ھوا اس نے نجات پائی اور جس نے بھی خلاف ورزی کی وه ڈوب گیا [18]

حضرت علی علیھ السلام فرماتے ھیں: رسول اکرم  صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم نے فرمایا: میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں امانت رکھتا ھوں ، خدا کی کتاب اور اپنے اھل بیت یھ دونوں  دو انگلیوں کے مانند ) قیامت تک آپس میں جدا نھیں ھوں گے ،   جابر نے عرض کیا : یا رسول اللھ ، آپ کی عترت کون ھیں؟ آنحضرت نے فرمایا: علی ، فاطمھ ، حسن اور حسین علیھم السلام ، اور وه امام جو امام حسین کی نسل سے قیامت تک پیدا ھوں گے[19]

حضرت علی نے فرمایا: میں ام سلمھ کے گھر میں رسول اکرم کی خدمت میں بیٹھا تھا کھ آیھ “انما یرید اللھ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا” ، نازل ھوئی ، آنحضور نے مجھه نے سے فرمایا کھ یھ آیت تمھارے اور تمھارے بیٹوں حسن اور حسین اور تمھاری نسل سے ھونے والے اماموں کی شان میں نازل ھوئی ھے عرض کیا: یا رسول اللھ آپ کے بعد کتنے لوگ امامت تک پھنچیں گے ، حضرت نے فرمایا: آپ کے بعد حسن اورحسن کے بعد حسین ، حسین کے بعد ان کے فرزند ، علی ، علی کے بعد، ان کے فرزند محمد ، محمد کے بعد ان کے فرزند جعفر، جعفر کے بعد ان کےفرزند موسی اور موسی کے بعد ان کے فرزند علی اور علی کے بعد ان کے فرزند محمد اور محمد کے بعد ان کے فرزند علی اور علی کے بعد ان کے فرزند  حسن ،اور حسن کے بعد ان کے فرزند حجت علیھم السلام امام کے مقام تک پھنچ جائیں گے ، ان کے نام اس ترتیب سے عرش کے تنے پر لکھے گئے ھیں ، میں نے خدا سے پوچھا۔ یھ کون ھیں ؟ ارشاد کیا ، آپ کے بعد معصوم اور پاک ( امام ) ھیں اور ان کےد شمن ملعون  ھوئی ھیں۔ [20]

دوسری بھت سے رویات موجود ھیں جو اھل بیت کو،  شیعوں کے باره ائمھ معصومین کو بتاتی  ھیں ، ان احادیث میں امام صادق علیھ السلام   اور دیگر ائمھ نے  اپنے آپ کے متعلق اھل بیت کی تعبیر کی ھے اور وضاحت کے ساتھه فرمایا ھے کھ ھم اھل بیت ھیں۔ [21]

چونکھ  قرآن مجید کی تاکید اور اصرار اھل بیت علیھم السلام کے امتیازی مقام کے بارے میں یھ تھا کھ لوگ کمال اور ھدایت کی راه کو طے کرنے میں ان کی پیروی کریں (قرآن کا اصلی مقصد لوگوں کی ھدایت کرنا ھے الم ذلک الکتاب لا ریب فیھ ھدی للمتقین، [22] ) اور چونکھ شیعوں کے امام امت کے ھادی ھیں ، اس لحاظ سے اھل بیت کا عنوان ان کے موافق آتا ھے ، اس لئے پیغمبر اکرم جو قرآن مجید کے حقیقی مفسر ھیں جب اپنے بعد کی دینی مرجعیت اور امامت اور راھنمائی کو بیان کرتے تھے تو وه اھل بیت کا لفظ استعمال فرماتے ھیں۔

اس سلسلے میں مزید معلومات کیلئے ۔

اھل البیت پیامبر گرامی اسلام ، سوال ۱۲۴۹۔

اھل بیت کا کردار اور مقصد، سوال ۹۰۰۔


مزید  امام زمانه کی غیبت کے زمانے میں هماری ذمه داری کیا هے ؟

[1]  قیومی ، مصباح المنیر ، ص ۲۸۔

[2]  ایضا ص ۶۸۔

[3]  ایضا۔

[4]  راغب اصفھانی ، مفردات الفاظ قرآن ، ص ۲۹۔

[5]  طبر ، جامع البیان فی تفسیر القرآن ص ۲۹۔

[6]  ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم ج ۵ ص ۴۵۲ ۔۔ ۴۵۳

[7]  فخر الدین ، تفسیر کبیر ، ج ۲۵ ص ۲۰۹۔ بیضاوی ، انوار التنزیل و اسرار التاویل۔ ج ۴ ص ۱۶۳۔ ابو حیان ، البحر المحیط فی التفسیر ، ج ۷ ص ۲۳۲۔

[8]  قرطبی ، الجامع لاحکام القرآن ج ۱۴ ص ۱۸۲۔ ۔؛ آلوسی ، روح المعانی ج ۲۲۔ ص ۱۴۔

[9]  ابو حیان البحر المحیط فی التفسیر، ج ۷ ص ۳۲۱۔ ۳۲۲۔

[10]  طبرسی ، مجمع البیان ، ج ۷ ص ۵۶۰۔

[11]  علامھ طباطبائی ، المیزان ، ج ۱۶۔ س ۳۱۲؛ فخر الدین ، تفسیر کبیر ج ۲۵ ص ۲۰۹۔ ” بیضاوی انوار التنزیل و اسرار التاویل ج ۴ص ۱۶؛ ابو حیان ، البحر المحیط فی التفسیر ، ج ۷ ص ۲۳۲۔ ؛ قرطبی ، الجامع لاحکام القرآن   ج۱۴ ص ۱۸۳؛ آلوسی ، روح المعانی ج ۳۲۔ ص ۱۴۔ ابو حیان ۔ البحر المحیط التفسیر ، ج ۷ ص ۲۳۱، ۲۳۲، ، طبرسی ، مجمع البیان ج ۷ ص ۵۶۰۔ ،

[12]  تفسیر نمونھ ، ج ۱۷ ص ۲۹۵۔

[13]  طبری ، جامع البیان فی تفسیر القرآن ، ج ۲۲ ص ۶ ۔۔۷۔ قرطبی ، الجامع لاحکام القرآن ، ج ۱۴، ص ۱۸۳۔ حاکم ، المستدرک ج ۲ ص ۴۱۶ ، بخاری ، التاریخ ج ۲ ص ۶۹، ۔۔ ۷۰ ، ترمذی ، سنن، ج ۵ ص ۶۶۳۔

[14]  طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن ، ج ۲۲ ص ۵أ ۶۔ بخاری ، الکنی ، ص ۲۵، ۔۔ ۲۶۔ احمد بں حنبیل ، مسند ، ج ۳ ص ۲۵۹۔ ، حسکانی شواھد التنزیل ، ج ۲ ص ۱۱۔ ۱۵، سیوطی ، در المنثور ج ۶ ص ۶۰۶ ، ۶۰۷۔

[15]  مرعشی ، شرح احقاق الحق ج ۲ ص ۵۰۲ ۔۔ ۵ ۴۷۔ ج ۹ س ۲ ۔۔ ۱۹۔

[16]   اس مقالے کے بعض حصے میں آیا ھے ، ، کتاب شناخت نامھ اھل بیت ، علی رفیعی علامرو دشتی ، ص ۳۰۱ تا ۳۰۸ ، میں مورد استقاده قرار پایا ھے ، مزید آگاھی کیلئے اسی کتاب کی طرف رجوع کریں۔

[17]  صحیح ترمذی ، ج ۵، ص ۶۶۳۔ باب مناقب اھل بیت النبی ح ۳۷۸۸۔

[18]  حاکم مستدرک الصحیحیں ، ج ۳ ص ۱۵۰۔ ذھبی ، میزان الاعتدال ، ج ۱ ص ۲۲۴۔

[19]  بحار الانوار ج ۲۳۔ ص ۱۴۷۔

[20]  بحار الانوار ، ج ۳۶۔ ص ۳۳۶، ح ۱۹۹۔

[21]  الکافی ، ج ۱ ص ۳۴۹۔ حدیث ۶۔

[22] سوره بقره / ۱ ۔۔ ۳۔

تبصرے
Loading...