اگر نماز دین کا ستون هے تو کیوں فروع دین میں شمار هوتى هے؟

0 0

” دین ” ایک عربى لفظ هے که اصطلاح میں اس کے معنى ” پروردگار عالم پر اعتقاد اور اس اعتقاد کے متناسب عملى دستورات کا عقیده هےـ”[1] اس تعریف کے پیش نظر دین کى اصطلاح واضح هوتى هے که هر دین دو حصوں پر مشتمل هوتا هے:

1ـ عقیده یا وه عقائد جن کا حکم اس دین کے اصول هوں ـ

2ـ وه عملى دستورات جو ان اصولوں کے متناسب هوں[2] لفظ ” اصول دین ” پهلے حصه کو (عقائد) اور لفظ ” فروع دین ‘ دوسرے حصه (عملى احکام) کو کها جاتا هے ـ[3] اصول دین کواس لحاظ سے اصول دین کها جاتا هے که اس کى حدود فکر و عقیده هیں ـ یعنى ایک ایسى چیزجو دین کى بنیاد هے اور هر انسان کے فروع دین کى کمیت و کیفیت اس کے اصول دین پر اعتقاد کے میزان کے مطابق هوتى هےـ[4]

اصول دین کى دو اصطلاحیں هیں : اصول دین عام معنى میں واصول دین خاص معنى هیں ـ جو اصول دین احکام دین کے مقابلے میں هے، اسے عام معنى میں اصول دین عام کهتے هیں اور جو اصول دین کسى خاص مذهب کے  (اصول دین عام کےعلاوه) ایک یا چند اعتقادى اصولوں پرمشتمل هو، کوخاص معنى میں اصول دین خاص کهتے هیں ـ[5]

اسلام کے اصول دین (عام معنى میں) توحید، نبوت اور معاد پر مشتمل هیں ـ اور اصول دین خاص معنى میں (اصول مذهب)، توحید ، نبوت اور معاد کے علاوه عدل و امامت پر بھى مشتمل هیں ـ

اس تشتریح سے واضح هوا که اصول دین پر کونسے معنى اور کونسے امور اطلاق هوتے هیں ـ اس کے علاوه یه بھى معلوم هو که فروع دین کا مراد اسلام کے عملى احکام هیںـ اصول دین کا مرتبه چونکه علم کے باب سے هے اس لئے یه فروع دین کا مقدمه هے جو عمل کے باب میں سے هے، یعنى جب تک علم و اعتقاد نه هو عمل کوئى معنى نهیں رکھتا هےـ البته اصول اعتقادات میں علم، صرف علم نهیں هے بلکه علم یقین کے ساتھـ یا وهى علم الیقین هے ـ

اس سلسله میں مرحوم فیض کا شانى فرماتے هیں:” ان دو (علم و عمل) میں سے اشرف علم هے، علم درخت کى حیثیت رکھتا هے اور عبادت اس کا میوه هے”ـ[6]

علم وایمان (یقین) کے بارے میں فرماتے هیں: ” ایمان کا مرجع بھى علم هےـ کیونکه ایمان کسى چیز کى تصدیق هے اور مجبوراً تصور شے کا لازمه هے که یه وه هى علم هےـ ایمان اسى علم کے برابر هوتا هےـ”[7]

پس اصول دین کا مراد، وه اصول هے، که انسان کو پهلے اس کے بارے میں علم و یقین پیدا کرنا چاهئے تاکه اسلام میں داخل هو کر اس کے عملى دستورات [8]  سے مواجه هو جائےـ اور چونکه ” علم حاصل کرنا عبادت پر مقدم هے “[9] اور علم کا شرف عمل کا مقدمه هے، اس لئے ان امور کو اصول کها گیا هےـ انسان، اسلام میں داخل هونے کے بعد بعض عبادات (ظاهرى عبادات،جیسے : نماز، زکواۃ اور روزه وغیره اور باطنى عبادات جیسے: توکل، تقوىٰ اور شکر وغیره)[10] سے مواجه هوتا هے، انھیں فروع دین کهتے هیںـ لیکن جیسا که واضح هوا فروع دین کى اصطلاح، هرگز اس کے منافى نهیں هے که کوئى عبادت یا چند عبادتیں دین اسلام کے ستون کى حیثیت رکھتے هوں ـ اگر هم اسلام کو ایک گھر کے مانند فرض کریں، تو یه اصول اس گھر میں داخل هونے کى چابى کے مانند هیںـ لیکن حتماً اس گھر کے کچھـ ستون بھى هوں گے جن پر یه گھر قائم هےـ بعض  عبادتوں کے بارے میں اهل بیت اطهار علیهم اسلام نے اس قسم کى تعبیریں کى هیں ـ حضرت امام باقر علیه اسلام فرماتے هیں: ” اسلام پانچ ستونوں پر قائم هے: نماز، زکواۃ، حج، روزه اور ولایت ـ” آپ (ع) نے زراره کو جواب دیتے هوئے فرمایا:” ولایت ان پانچ میں برترین هے”[11] یه پانچ موارد اور دوسرى عبادات اس وقت معنى پیدا کرتى هیں جب انسان اسلام میں داخل هو جائےـ

ایک دوسرى روایت میں امام صادق علیه اسلام ، علم و معرفت کے مقام اور اس کے بعد عمل کى طرف اشاره کرتے هوئے فرماتے هیں :” انسان کو قرب الهىٰ تک پهنچانے کى سب سے بلند چیز معرفت هے اور اس کے بعد نماز”[12]

بیشک نماز کى بهت زیاده اهمیت هے، اس لئے اس کو دین کے ستون [13] سے یاد کیا گیا هےـ امام باقر علیه اسلام فرماتے هیں : ” اگر (قیامت کے دن) انسان کى نماز قبول هو جائے[14]، تو اس کے باقى اعمال بھى قبول هوں گے اور اگر نماز قبول نه هو جائے تو اس کے باقى اعمال بھى قبول نهیں هوں گےـ[15] لیکن نماز کى یه غیر معمولى اهمیت اس کے فروع دین میں شمار هونے کے منافی نهیں هے ـ


مزید  عورت کے لئے اپنے محرموں کے سامنے لباس پھننے اور مرد کے اپنے محرموں کے بدن کو دیکھنے کی ضروری حد کیا ھے؟

 [1] آموزش عقاید، آیت الله مصباح یزدی، ص 11

[2] ایضاً ، ص 12

[3]   ایضاً

[4] اصول اعتقادات، شیخ على اصغر قائمى، ص 5.

[5]  آموزش عقاید با تصرف و تلخیص.

[6]  علم الیقین فی اصول الدین، ملامحسن فیض کاشانی، ج 1، ص 4-5، انتشارات بیدار.

[7]  ایضاً، ص 6-8.

[8]  مسلک امامیه در اصول عقاید، سید محمود مرعشی شوشتری، ص 11، ص انتشارات جامعه مدرسین.

[9]  علم الیقین فی اصول الدین، ص 12.

[10]  ایضاً

[11]  سفینة البحار، شیخ عباس قمی، ج 3، ص 109.

[12]  ایضاً

[13]  وسا ثل الشیعه ج: 4 ص : 27 عن ابی جعفر (ع) قال الصلاۃ عمود الذین.

[14]  واضح هے که روایات کے مطابق اسلام کے دوسرے اصول کو قبول کئے بغیر نماز کا قبول هونا مشکل سے دوچار هو گاـ مثلاً روایات میں نماز قبول هونے کى شرط ولایت کو قبول کرنا هے: ” اعمال کے قبول هونے کى شرط ولایت هے” ملاحظه هو : منا قب خوارزمى، 19، 252.

[15]  سقینه البحار، شیخ عباس قمى، ج 3 ، ص 109.

تبصرے
Loading...