اگر موت کے بعد مرده کی آنکهیں اور کان کھل جائیں ، تو وه اپنی موت کے بعد رونما هو نے والے حوادث کے بارے میں کیوں دوسروں سے سوال کر تا هے؟ !

0 0

انسان کے تکوینی سفر کے مختلف مراحل هیں – ایک زمانه میں وه جماد هوتا هے ، اس کے بعد نبات یا حیوان کی شکل اختیار کر تا هے اور رحم میں نطفه کی شکل اختیار کر نے کے بعد جب اس کے بدن کے تکوینی مراحل ضروری حد تک پهنچ جاتے هیں تو روح الهی کو اس میں پهونک دیا جاتا هے اور وه انسانی حیات پاتا هے – جنین کے دور کو طے کر نے کے بعد یه انسان ایک دوسرے مرحله میں داخل هوتا هے ، جس کو دنیا( پست اور نزدیک زندگی) کهتے هیں – ایک مختصر یا نسبتا لمبی مدت کے بعد اسے بر زخ ( دنیا اور قیامت کے در میان فاصله) نامی ایک تیسرے مر حله میں داخل کر تے هیں – اس مر حله (برزخ) کی دنیا سے نسبت، دنیا کی رحم مادر سے نسبت کے مانند هے اور مکمل طور پر قابل تصور و تجسم نهیں هے ,اس کے بعد دنیا کی عمر کا خاتمه هو نے پر، تمام انسان، ایک ساتھـ ، محشر و قیامت نام کے ایک پائدار مر حله میں منتقل هوتے هیں –

قیامت کی برزخ سے نسبت بھی ، برزخ سے دنیا کی نسبت کے مشابه هے – قیامت اور برزخ میں انسان کے لئے کچھـ ایسے امور هو یدا هو تے هیں ، جو دنیا کی زندگی میں محصور انسان کے لئے قابل تصور نهیں هیں – چنانچه دنیا اور جو کچھـ اس میں هے، وه بھی رحم میں موجود جنین کے لئے قابل تصور نهیں هے-

جو انسان حس کی محدودیت میں اسیر بن گیا هے اور اس نے وحی و عقل کے بال و پر سے ماورائے طبیعت تک پرواز نهیں کی هے اور سچی خبر دینے والوں ، جیسے اولیائے الهی کی باتوں پر دھیان نھیں دیا  هے ، وه موت کے بعد برزخ اور قیامت کی زندگی کو قبول نهیں کرسکتا هے – جبکه خواه نخواه اس کے لئے موت اور اس کے بعد والے دو مرحلوں میں منتقل هو نا لازمی هے اور اس سے فرار کی کوئی گنجائش نهیں هے ، کیونکه موت ایک تقدیر الهی هے اور روئے زمین پر موجود هر مخلوق کو دیر سویر ضرور اس سے دو چار هو نا هے اور کوئی انسان، حتی که بار گاه الهی کے محبوب ترین افراد بھی اس سے مستثنی نهیں هیں- خدا وند متعال تاکید فر ماتا هے : ” اور هم نے آپ سے پهلے بھی کسی بشر کے لئے همیشگی نهیں قراردی هے تو کیا اگر آپ مر جائیں گے تو یه لوگ همیشه رهنے والے هیں ؟ هر نفس موت کا مزه چکھنے والا هے اور هم تو اچھائی اور برائی کے ذریعه آپ سب کو آز مائیں گے اور آپ سب  پلٹا کر هماری هی بار گاه میں لائے جائیں  گے- ” [1]

جوشخص اپنے مشاهدات یا انبیاء کی خبروں پر اعتماد کر کے ، موت اور اس کے بعد والی زندگی کے بارے میں یقین پیدا کر تے ھوئے اپنے آپ کو اس مرحله کے لئے آماده کر چکا هو اور اس دنیا کے لئے ایمان اور نیک اعمال کا زادراه ساتھـ لے چکا هو ، تو اسے اس مرحله کا کوئی خوف نهیں هے، بلکه وه اس کا مشتاق بھی هو تا هے ، کیو نکه وه جانتا هے که مرنے سے دنیا کی محدود ، تنگ اور تکلیف ده سرائے سے نکل کر آرام و آسائش کے قصر میں داخل هو گا ، بالکل اسی طرح جیسے وه تنگ و تاریک رحم سے نکل کر دنیا میں داخل هوا هے – لیکن جو اس امر کے سلسله میں سنجیده نهیں هو تا هے ، وه موت کے وقت اور اس کے بعد ان امور کے بارے میں یقین پیدا کر تا هے ، جیسے ، موت کے موکلوں کے حاضر هو نے ، ان کے برتاٶ اور دنیوی تعلقات سے رابطه کٹ جانے کا اپنے پورے وجود کے ساتھـ احساس کر تا هے – وه دیکھتا هے که ابھی ایک صورت میں زنده هے ، لیکن پهلے کی نسبت بالکل مختلف ، دیکھتا هے که اس کا بدن اس کے رشته داروں کے در میان پڑا هے ، وه اگر مسلمان اور دین دار هوں تو تجهیز و تکفین کر کے اس کی مشایعت کردیتے هیں اور سر انجام ایک تنگ و تاریک گڑھے میں ڈال دیتے هیں – اس کی داد و فر یاد کی طرف کوئی تو جه نهیں کرتے، کیونکه وه دنیا میں هیں اور اس پر گزر نے والے حالات سے بے خبر هیں – چنانچه وه اپنی زندگی میں مردوں کی دنیا کا حجاب تھا ، اب وه انهیں دیکھتا هے اور پهچا نتا هے اور ان سے رابطه بر قرار کر نے کی کوشش کرتا هے ، لیکن وه اسے نهیں سمجھتے هیں اور اسے ایک جسد کے علاوه کچھـ نهیں جانتے که، اگر اسے اسی طرح چھوڑ دیں تو گل سڑ کر بد بو پیدا کر ے گا! وه قبر میں تنها هو تا هے ، نکیر ومنکر اس کے پاس آتے هیں اور سوال و جواب کے بعد، اگر گناهگار هو تو اس کے لئے جهنم کی طرف ایک دریچه کهول دیتے هیں اور اس پر عذاب شروع هو تا هے، یعنی جهنم میں اپنی جگه کو دیکھنے اور اس کی حرارت اور عذاب کو محسوس کر کے رنج و الم سے دو چار هوتا هے یهاں تک که قیامت بر پا هوتی هے اور جهنم میں اپنی جگه میں داخل هو تا هے – اور اگر مو من هو تو، قبر کی تنهائی اور سوال و جواب کے بعد ، ایک دریچه کے ذریعه بهشت میں اپنی جگه سے رابطه بر قرار کرتا هے اور اسے دیکھـ کر آرام و آسائش محسوس کر تا هے ، یهاں تک که قیامت بر پا هوتی هے اور بهشت میں اپنی جگه میں داخل هو جا تا هے – اس طرح انسان کے لئے قبر اور برزخ نعمت و بهشت کی طرف ایک دریچه هے یا آتش و جهنم کی طرف ایک روزن هے-

اس لئے، موت کے بعد هر انسان کی نظر کھلتی هے اور وه موت کے بعد والی زندگی اور اس کی ضروریات اور نتائج کا عینی مشاهده کرتا هے اور اس کے لئے ان سے انکار کر نے کی کوئی گنجائش باقی نهیں رهتی هے ـ اس کے دنیوی اعمال اس کے سامنے مجسم هو کر اس کے لئے خوشی یا بے چینی کا سبب بنتے هیں – دنیا کی بے وفائی اور اس کے تعلقات ، جیسے : شهرت ، نام و نمود، سند، پیسه ، اور مقام و منزلت اس کے لئے بالکل واضح اور عیاں هو جاتے هیں اور حسرت کے علاوه اس کے لئے کوئی چیز باقی نهیں رهتی هے – اگر فاسق اور کافر هو تو کف افسوس ملتا هے که کاش وه مو من هوتا اور آج کی فکر میں هو تا ! اور اگر مومن اور نیکو کار هو تو، حسرت کر تا هے که کاش میں نے اس سے زیاده کوشش کی هو تی اور اس سے زیاده زاد راه لے آیا هو تا تاکه میرے در جات عالی تر هو تے اور اولیائے الهی کی مصاحبت میں پهنچتا !

البته ، برزخی آنکھـ کا اس طرح کهلنا ، عام اور وسیع هے ، اگر چه یه بھی مختلف افراد کے لئے مختلف هے- مثلا جس کے دنیوی تعلقات شدید هوں ، اسے موت اور جان دینے اور دنیاوی و دنیوی امور کو ترک کر نے پر یقین حاصل کر نے میں دیر لگتی هے اور جو متوسط لوگوں میں سے هو گو یا وه ایک گهری نیند میں چلاجاتا هے اور کسی قسم کا خواب نهیں دیکھتا هے تاکه اپنے خواب سے معذب هو کر بے آرام هو جائے یا نعمتیں پاکر هو کر شاد مانی کا احساس کر ے ـ ایسے شخص کو جان دینے اور قبر میں داخل هو نے کے مراحل طے کر نے کے بعد بر زخی زندگی کا کوئی خاص ادراک نهیں هو گا – لیکن جو ایمان کے عر وج پرپهنچ کر اس دنیا سے رخصت هو تے هیں اور اپنی روح کو تقویت بخشتے هیں اور اپنے آپ کو آخرت کے لئے آماده کرتے هیں ، کیونکه اس کا یقین رکھتے هیں اس لئے وه دوسری دنیا میں بھی مو منین کی ارواح سے رابطه بر قرار کر سکتے هیں اور دنیا میں اپنے دوستوں کے حال واحوال پوچهـ سکتے هیں اور دوسرے مومنین کی ارواح سے ملا قات کر کے خوشی اور مسرت کے ساتھه  هو کر زنده لوگوں کے لئے دعا کر سکتے هیں – پس ایک دوسرے کی ملاقات اور حال و احوال پو چھنا ان سے مخصوص هے جو ایمان و عمل صالح کے بلند درجات کے حامل هوں-

امام صادق علیه السلام فر ماتے هیں : ” جب انسان قبر اور برزخ میں داخل هو تا هے تو برزخی لوگ اس کی ملاقات کے لئے اس کی طرف دوڑ تے هیں اور اسے تھوڑا آرام کر نے دیتے هیں تاکه وه هوش میں آئے ، کیو نکه وه ایک خظر ناک موڑ، قبر کی تھکاوٹ والی حالت، سوال و جواب اور فشار قبر وغیره سے گزر کر آیا هے – اس کے بعد اس کے نزدیک جاکر اپنے کسی دوست یا احباب کے بارے میں سوال و جواب کر تے هیں – اگر وه جواب میں کهے که وه ابھی دنیا میں هے تو وه امید وار هو تے هیں که مر نے کے بعد ان سے ملے گا اور اگر کهے که : وه پهلے مر گیا هے ،تو اس وقت برزخی کهتے هیں : وه زوال سے دو چار هوا هے، یعنی عذاب الهی میں گرفتار هوا هے ورنه اس کو همارے پاس لاتے-” [2]

کتاب ” کافی” میں اسحاق بن عمار سے ایک روایت نقل کی گئی هے جس میں وه کهتے هیں : “میں نے ابوالحسن اول( حضرت امام موسی کاظم (ع) )سے پوچھا، کیا دنیا سے کوچ کر نے والا شخص اپنے خاندان سے ملا قات کرتا هے یا نهیں؟ حضرت (ع) نے فر مایا ” جی هاں” ، اس کے بعد میں نے پوچھا:کتنی مدت کے بعد ؟ حضرت (ع) نے فر مایا: یه، خدا کے پاس ان کی منزلت پر منحصر هے ، هر هفته، یا هر ماه یا هر سال…” [3]

اس کے علاوه “کافی” میں امام جعفر صادق علیه السلام سے نقل کیا گیا که آپ(ع) نے فر مایا: ” کوئی مومن و کافر ایسانهیں هے جو ظهر کے وقت اپنے اهل و عیال کے پاس حاضر نه هو جائے – جب مومن اپنے خاندان کو نیک اعمال بجالاتے هو ئے دیکھتا هے ، تو اس وقت وه خدا کا شکر بجالاتا هے اور جب کافر اپنے خاندان والوں کو اعمال صالح انجام دیتے هو ئے دیکھتا هے تو کف افسوس ملتا هے-” [4]

ان سے بالاتر افراد ، اولیائے الهی هیں ، جن کی روح مر نے اور مادی جسم کو چھوڑ نے کے بعد قوی تر هوتی هے اور ان کی سر گر می وسیع تر هوتی هے کیو نکه اب ان کے لئے تقیه ، تعطل وغیره جیسی رکاوٹیں دور هو گئی هیں – یه گروه موت کے دوران مو منوں کے استقبال کے لئے آتے هیں اور ان کے لئے سکرات مو ت کو آسان بناتے هیں اور قبر میں ان کے مونس ودوست بن کر اس کو تنهائی اور وحشت کے عذاب سے رهائی بخشتے هیں اور ابتدائی مراحل کو طے کر نے کے بعد اسے دوسرے دوستوں سے ملاتے هیں – اس لئے اس گروه کو زندوں کے بارے میں دوسری ارواح کے توسط سے خبر ملنے کی ضرورت نهیں هوتی هے ، کیو نکه یه بزرگ شخصیتیں دنیا و برزخ پر تسلط رکھتی هیں اور مخلص مومنین ، خاص کر جو ان کے ساتھـ رابطه بر قرار کئے هو ئے هیں اور ان کے خادم اور ان سے متوسل هیں، سے غافل نهیں هیں که ان کے حالات کے بارے میں سوال کر نے اور خبر معلوم کر نے کے محتاج هوں-

نتیجه کے طور پر ، اگر چه بر زخی آنکھـ کهلنا ایک عام امر هے ، لیکن یه امر مختلف افراد کے لئے مختلف صورتوں میں پیش آتا هے اور تمام انسانوں کے لئے یکسان نهیں هے – (ثقافتی اور اعتقادی لحاظ سے ) مستضعف افراد اور بچوں وغیره کے لئے بهت کمزور حد تک هےاور اولیائے الهی کے لئے یه حالت بلند مرتبه میں واقع هوتی هے اور کفار و اھل عناد  کے لئے پست ترین حد میں – اولیائے الهی نعمت کے عروج پر هوتے ییں اور کفار برزخی عذاب کی انتها میں مبتلا هو تے هیں – دوسروں کے لئے یه اموران کے مقامات ، افعال، اخلاق اور اعتقادات کے تناسب سے متحقق بے هو تے هیں – زندوں کی خبر سے آگاه هو نا صرف بعض مومنین کے لئے  مخصوص هے نه که سب کے لئے – دوسرے الفاظ میں موت کے بعد ، برزخ اور قیا مت میں رونما هو نے والے حالات ، انسان کے دنیوی اعتقادات، اخلاق اور کار کردگی کے باطن کی تجلی هے اور اس کے علاوه کوئی چیز نهیں هے – اگر انسان دنیا میں ایمان ، عمل صالح اور وسعت قلبی کا مالک تھا، تو برزخ اور قیامت میں بھی ایساهی هو گا – لیکن اگر دنیا میں تنگ نظر ، دشمن ، ضدی اور درندگی اور حیوانیت جیسی عادات سے مانوس تھا ، تو اس دنیا میں بھی اس کے لئے یهی خصلتیں جلوه گر هوکر اسے عذاب میں مبتلا کرے گی اور اس کے لئے حسرت کا سبب بن جائیں گی ، کیو نکه دنیا آخرت کی کھیتی هے اور جیسی یهاں پر اپنی صورت و سیرت کی پرورش کرے گا وهاں پر ویسی هی صورت ظاهر هوگی,

” ایمان والو الله سے ڈرو اور هر شخص یه دیکھے که اس نے کل کے لئے کیا بھیج دیا هے اور ( اس نفس کے محاسبه میں توجیهات سے پرهیز کر نا ) الله سے ڈرتے رهو که وه یقینا تمهارے اعمال سے باخبر هے- اور خبردار ان لوگوں کی طرح نه هو جانا جنهوں نے خدا کو بهلا دیا تو خدا نے خود ان کے نفس ( اور ان کی انسانی تکریم ) کو بھی بھلا دیا اور وه سب واقعی فاسق اور بد کار هیں – اصحاب جنت اور اصحاب جهنم ایک جیسے نهیں هو سکتے ، اصحاب جنت وهی هیں جو کامیاب هونے والے هیں ـ”[5]

اس لئے بهت سے مخفی اسرار هیں ، جو موت اور برزخ کے بعد واضح نهیں هوتے هیں بلکه جب انسان قیامت کبری کے میدان میں داخل هو تا هے تو اس وقت عیاں هو تے هیں – وه دن ” یوم تبلی السرائر” [6] هےاور اس دن سب اسرار ظاهر هوں گے-

مطالعه کے لئے منابع و ماخذ:

١- اسدی ، علی محمد ، حیات پس از مرگ-

٢- جوادی آملی، عبدالله، سیره ی پیامبران در قرآن ج٧، ص ٥٧- ٥٢-

٣- جوادی آملی، عبدالله ، صورت وسیرت انسان در قرآن ، ج١٤، ص٢١٤- ٢٣٠، ٥٧- ٦٦-

٤- حسینی تهرانی ، محمد حسین ، معاد شناسی ، ج١ و٢، ص٢٤٥- ١٣٩-

٥- شبر ، عبدالله، حق الیقین ، ج٢ـ

٦- طباطبائی ، محمد حسین، حیات پس از مرگ ، ص٢٠ و٤٢-

٧- فیض کاشانی ، حق الیقین-


مزید  اگر ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان رابطه برقرار هو اور وه ایک دوسرے کو چاهتے هوں {ان کا مقصد ازدواج کرنا هو} لیکن بعد میں لڑکا اپنے وعده پر قائم نه رهے {یعنی عهد شکنی کرے} تو کیا اس لڑکے نے گناه کیا هے؟ جبکه لڑکی کو اس سے ضرر پهنچا هے

[1]  سوره انبیاء، ٣٤ و ٣٥-

[2]  ملاحظه هو: علامه مجلسی ، بحار الانوار ، ج٦، ص٢٤٩- ٢٥٠، ٢٦٩، فیض کاشانی ، علم الیقین، ج٢، ص٨٧١-

[3]  حق الیقین ، سید عبدالله شبر، ج٢، ص٦٧، علامه طباطبائی ، حیات پس از مرگـ –

[4]    حق الیقین ، سید عبدالله شبر، ج٢، ص ٦٧، علامه طباطبائی ، حیات پس از مرگ-

[5]   سوره حشر، ١٨- ٢٠-

[6] سوره طارق ، ٩-

تبصرے
Loading...