اگر غلط فکر یا نا محرم سے انٹرنٹ کے ذریعه گفتگو کے سبب انسان کے اندر( آله تناسل) سے پانی نکل آئے تو کیااس پر غسل واجب هے ؟

0 0

مراجع عظام نے اپنے رساله عملیه (یعنی توضیح المسائل) میںجو ائمه معصومین کی روایات سے ماخوذ هے ، منی کی چند علامیتیںبیان کی هیں۔

وه کهتے هیں: اگر انسان کے اندر سے کوئی رطوبت خارج هو اور وه یه نه جانتا هو که یه منی هے یا پیشاب هے یا کوئی اور چیز تواگر :1- شهوت کے ساﺘﻬ باهر نکلے ،2- اجھل کر نکلے 3- نکلنے کے بعد بدن سست هوجائے، وه رطوبت منی کے حکم میں هے ، اگر تینوں علامتیں یا ان میں سے کوئی ایک بھی نه پائی جاتی هو تو منی کے حکم میں نهیں هے ، لیکن مریض یا عورت کے لیئے یه ضروری نهیں هے که وه رطوبت اجھل کر نکلے بلکه اگر شهوت کے ساﺘﻬ نکلے تو منی کے حکم میں هے  اور اس کے بدن کا سست هونا ضروری نهیں هے[1] ۔ لهذا اگر یه شرائط نه پائے جا یئں تو منی نهیں هے اورغسل جنابت واجب نهیں هے ، لیکن کیا یه رطوبت پاک هے یا نهیں تو یه جاننے کے لیئے امام خمینی (ره) کی توضیح المسائل کے مسئله نمبر 73، اور دیگر مراجع کی توضیح المسائل میں استبراء کے باب کی طرف رجوع کرنا پڑے گا جهاں عام طور سے فرماتے هیں که وه پانی (رطوبت) جو ملاعبت(خوش فعلی)، کے وقت نکلتا هے که آپ کا سوال بھی اسی قسم کا هے ، وه پاک هے ، اسی طرح وه پانی که جو کبھی کبھی منی یا پیشاب کے بعد نکلتا هے اگر پیشاب اس سے نه ملا هو تو پاک هے [2]۔


مزید  : "۔۔۔ جس کے بعد بجلی نے تم کو لے ڈالا اور تم دیکھتے ہی رہ گئے ( کہ کسی طرح ناقابل رویت خدا بنی اسرائیل کے لئے قابل رویت ہوتا ہے اور جسمیت پیدا کرتا ہے، جو خدا قابل تغیر ہو، وہ خدا نہیں ہوسکتا ہے)

[1]  توضیح المسائل مراجع ، ج 1 ، ص 208 ، مسئله 346

[2]  توضیح المسائل مراجع ، ج 1 ، ص 63 ، مسئله 73

تبصرے
Loading...