اگر رقص کرنے کا مقصد ــ خواه اجتماع میں یا تنهائى میں ــ ورزش کرنا هو اور کسى لهو لعب سے سرو کار نه هو، تو کیا یه رقص بھى حرام هے؟ ایروبیک جیسى ورزشیں مد نظر هیں ـ

0 0

مراجع تقلید کے دفاتر سے آپ کے استفتاء کے نتیجه میں آپ کے سوال کے درج ذیل جوابات ملے هیں

حضرت آیت الله العظمى خامنه اى (مدظله العالى)

رقص کرنا اگر شهوت کو ابھار نے، یا حرام کام کا لازمه یا کسى مفسد کا نتیجه هو یا عورت نامحرم مردوں کے سامنے ناچے، تو حرام هےـ

حضرت آیت الله العظمى ناصر مکارم شیرازى ( مدظله العالى)

اگر رقص کوئى لهو نه هو اور محرم کے سامنے انجام نه پائے تو کوئى حرج نهیں هے ـ

حضرت آیت الله العظمىٰ صافى گلپا یگانى (مدظله العالى)

جو ورزش رقص پر مشتمل هو، حرام هے اور موسیقى سننا کلى طور پر حرام هےـ والله اعلم ـ

قابل ذکر بات هے که دوسرے مراجع کى طرف سے جواب ملنے پر آپ کو مطلع کیا جائے گا ـ

مزید  کیا عورتیں مردوں کے لئے کھیتی کے مانند هیں ؟
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.