اگرمراجع تقلید امام زمان (عج) کے توسط سے منتخب هوتے هیں تو مجتهد کو معرفی کرنے والے دوسرے منابع کا کیا کردار هے؟

0 0

آپ کی توجه کا شکریه ادا کرانےکے ضمن میں قابل ذکر بات هے که هم نے سوال نمبر 1393 کے تفصیلی جواب میں اشاره کیا هے که امام (عج) نے کسی خاص شخص کو حاکمیت کے لئے منصوب نهیں فرمایا هے بلکه فقها کو عام صورت میں منصوب فرمایاهے ـ

اس لحاظ سے حضرت صاحب الزمان عجل الله تعالی فرجه الشریف کے توسط سے مراجع کو منتخب کرنے کا مراد کسی خاص شخص کو منتخب کرنا یا اس کی تائید کرنا نهیں هے بلکه معصوم (ع) کی طرف سے عام فقها کو مرجعیت کے منصب پر منصوب کرنا مراد هے ـ اور کسی خاص مجتهد اعلم کو معرفی کرنے میں دوسرے طریقه کار جیسے مدرسین حوزه علمیه یا اهل فن و ماهرین یا خبرگان کے توسط سے ولی فقیه کا انتخاب اور خبرگان اراکین کا لوگوں کے توسط سے منتخب کرنا، صرف مذکوره منصب کے لئے خاص اور مناسب شرائط والے شخص کو پیدا اور منتخب کرنا هے ـ

البته غیبت صغریٰ کے زمانه میں امام زمان ـ عج الله تعالی فرجه الشریف ـ اس منصب کے لئے خاص افراد کو منتخب فرماتے تھے، لیکن غیبت کبریٰ کے شروع هونے کے بعد امام (عج) نے کسی خاص شخص کو اس منصب کے لئے منتخب نهیں فرمایا هے اور عام صورت میں فقها کو اس منصب کے لئے منتخب فرمایا هے ـ [1]



[1]  مزید معلومات کے لئے کتاب ولایت و دیانت تالیف استاد ھادوی، صص 102 تا 108 کی طرف رجوع کیا جائے .

مزید  صدوق کى "توحید" کےصفحه 117 میں ایک روایت نقل کى گئى هے که ابوبصیر نے امام صادق (ع) سے پوچھا: "اخبرنى عن الله عزوجل، ھل یراه المومنین یوم القیامۃ؟" اور حضرت (ع) نے مثبت جواب دینے اور مطلب کى وضاحت کرنے کے بعد فرمایا: "الست تراه فى و قتک ھذا؟ کیا تم اس وقت خدا کو نهیں دیکھ رهے هو؟ " اس حدیث کے آخرى حصه سے مراد کیا هے؟ یعنى حضرت (ع) نےابوبصیر میں کوئى تصرف کیا هے که اس کے دل کى آنکھیں کھل گئیں اور خدا کو "بحقائق ایمان" دیکھا؟ یا یه که کوئى تصرف نهیں تھا؟ اگر کوئى تصرف درکار نه تھا اور ابوبصیر کے لئے پهلے سے یه دیدار حاصل تھا، تو اس نےکیوں خدا کے دیدار کے بارے می سوال کیا ؟
تبصرے
Loading...