اولو العزم انبیاء اور ان کی کتابیں کون کونسی هیں؟ انھیں اولو العزم کیوں کها جاتا هے اور زرتشت و داؤد اولو العزم نهیں هیں؟

0 0

لفظ اولو العزم قرآن میں ایک بار آیا هے۔ الله نے فرمایا هے [اولو العزم انبیاء کی طرح صبر کرو][1]۔

عزم در حقیقت حکم اور شریعت کے معنی میں هے۔ راغب نے مفردات میں لکھا هے؛ عزم کسی کام کو انجام دینے کے ارادے کے معنی میں هے۔[2]

لسان العرب میں آیا هے: اولو العزم انبیاء وه هیں جنھوں نے امر خدا کا مستحکم اراده کرلیا هے جسے کے بارے میں انھوں نے الله سے عهد کیا تھا۔[3] قرآن کریم میں عزم کبھی صبر معنی میں استعمال هوا هے[4] اور کبھی وفائے عهد کے معنی میں آیا هے۔[5]

تفسیری کتابوں میں آیا هے که: نئی شریعت اور جدید آئین کی وجه سے کیونکه انبیاء کو زیاده مشکلات کا سامنا تھا اور اس کے مقابلے کے لئے اٹل اوت مضبوط اراده کی ضرورت تھی اس لئے ان انبیاء کو اولو العزم کها گیا هے اور اگر کچھ لوگوں نے عزم کی تفسیر حکم اور شریعت کے معنی میں کی هے تو وه بھی اسی مناسبت سے هے[6] ورنه لغت میں عزم اس معنی میں نهیں آیا هے۔[7]

کسی نبی کا اولو العزم هونا اس کے صاحب شریعت هونے کی علامت هے۔ یعنی وه پیغمبر ایک نئی شریعت لیکر آیا هے اور اس کے هم عصر یا اس کے بعد انبیاء کو اسی کی شریعت کی تبلیغ کرنا هوگی[8] جب تک که کوئی نبی ایک اور نئی شریعت لیکر نه آجائے۔

الله نے بھی قرآن میں دین کی تشریع اور نبی کے ذریعه اس کی تبلیغ کی طرف اشاره کیا هے ۔اور آخری دین لانے والے رسول اسلام کو مخاطب کرکے۔ باقی چار انبیاء کے اسماء ذکر کئے هیں: آپ کے لئے اسی دین کی تشریع کی هے جس کی نوح کو سفارش کی تھی، اور جس کی آپ کو وحی کی ابراهیم، موسی اور عیسی کو بھی اسی کی سفارش کی تھی که دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقه نه ڈالو[9]۔

روایات میں اولو العزم انبیاء

اگرچه قرون اولیه کے عموما غیر شیعه بعض مفسرین نے اولو العزم ان انبیاء کو مانا هے جو جهاد پر مامور تھے یا جنھوں نے اپنے مکاشفات کا اظهار کیا هے اور مصداق کی تعیین میں حضرت نوح، ابراهیم، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب یاابراهیم، نوح، هود علیهم السلام اور محمد صلی الله علیه وآله کا نام لیا هے[10]؛ لیکن اولو العزم کی وجه تسمیه کت بارے میں روایات اهل بیت علیهم السلام صریح هیں، صفات اولو العزم کے اعتبار سے بھی اور مصداق کے اعتبارس سے بھی۔

روایات میں اولو العزم انبیاء کے شرائط یوں بیان کئے گئے هیں:

۱۔ عالمی دعوت کا علمبردار هونا، اس طرح که انس و جن دونوں کے شامل هو۔[11]

۲۔ صاحب دین و شریعت هونا[12]

۳۔ صاحب کتاب هونا[13]

ان موارد میں انبیاء کی پانچ صفات کی طرف اشاره کیا گیا هے، یعنی عالمی پیمانے پر دعوت، الهی دین اور کتاب۔ امام صادق علیه السلام کی ایک روایت میں دوسری اور تیسری صفت ایک ساتھ آئی هے جو بعد کے اس سوال کا جواب هوسکتی هے که بعض انبیاء صاحب کتاب هونے کے باوجود اولو العزم نهیں تھے؟

امام رضا علیه السلام سے ایک شخص نے پوچھا که یه انبیاء کس طرح اولو العزم هوگئے تو آپ نے فرمایا: کیونکه انھیں (نوح و ابراهیم وغیره) ایک خاص شریعت اور کتاب کے ساتھ مبعوث کیا گیا [14]۔

لهذا صاحب کتاب هونا اولو العزم کے شرائط میں سے ایک هے۔ لیکن یهاں دو اهم شرطیں اور بھی هیں ایک: تمام جن و انس کے لئے عالمی دعوت اور دوسرے: ایک مستقل اور نئی شریعت۔

یه خیال رکھنا چاهئے که نئی شریعت کا مطلب یه نهیں هے که گزشته انبیاء کی شریعت سے بالکل هی الگ هو اور اس سے بالکل هی میل نه کھاتی هو بلکه اس کا مطلب یه هے که زمانے کے تقاضوں کی بنیاد پر شریعتیں بھی بدلی جاتی تھیں اور یه ایک فطری بات هے۔

حضرت داؤد اگرچه آسمانی کتاب والے تھے لیکن ان کی کتاب مستقل احکام اور شریعت پر مشتمل نهین تھی جیسا که حضرت آدم، شیث، اور ادریس علیه السلام بھی صاحب کتاب تھے لیکن اولوالعزم نهیں تھے۔[15]

روایات میں اولو العزم انبیاء کے اسماء کا صراحت ساتھ ذکر آیا هے۔ امام علی ابن الحسین علیه السلام سے نقل هوا هے که: اولو الرزم پانچ تھے: حضرت نوح، ابراهیم، موسی، عیسی علیهم السلام اور حضرت محمد صلی الله علیه وآله[16]۔ اسی طرح یه مضمون امام صادق علیه السلام[17] اور امام رضا[18] سے بھی نقل هوا هے۔ روایات میں حضرت نوح ابراهیم کی کتابوں کو صحف کها گیا هے، اگرچه قرآن میں حضرت موسی علیه السلام کی کتاب کو بھی صحف کها گها هے[19]، لیکن ان صحیفوں کے مجموعه کو توریت کهتے هیں۔ حضرت عیسی علیه السلام کی کتاب انجیل اور حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله کی کتاب قرآن هے۔

البته بات یقینی نهیں هے که آیا موجده اوستا بھی وهی کتاب هے جو زرتشت پر نازل هوئی اور اس کتاب کے اندر بعض جگهوں پر خود ان کے اقوال اور الله یا لوگوں سے ان کی گفتگو بھی بیان هوئی[20]۔ (مزید وضاحت کے لئے اوستا کے قدیم اور اهم حصه یسنا کی طرف رجوع کریں فصل۴۶، بند۱و۲۔ اگرچه بعض روایات کی بنیاد پر وه الهی پیغمبر اور صاحب شریعت کتاب تھے۔[21]


مزید  اسلام کی نظر میں آزادی بیان کی حد معین کرنے کا معیار کیا هے ؟

[1] احقاف ۳۵

[2] مفردات راغب، لفظ عزم

[3] و اولو العزم من الرسل الذین عزموا علی امر الله فیما عهد الیهم، لسان العرب، ج۱۲، ص۳۹۹

[4] شوری۴۳

[5] طه۱۱۵

[6] علامه طبا طبائی فرماتے هیں: عزم کا حکم اور شریعت کے معنی میں هونا اهل بیت علیهم السلام کی روایات میں تصدیق شده هے۔ ترجمه المیزان، ج۱۸، ص۳۳۲

[7] تفسیر نمونه، ج۲۱، ص379

[8] مصباح یزدی، اصول عقائد، ص۲۳۹

[9] شوری۱۳

[10] بحار، ج۱۱، ص۳۵، چاپ بیروت، وفا

[11] ایضا ص۳۲

[12] ایضا ص۳۴؛ علل الشرائع، ج۱، ص۱۴۹، باب۱۰۱

[13] ایضا ص۳۵

[14] ایضا ص۵۶

[15] المیزان، ج۲، ص۱۴۲؛ ترجمه المیزان، ج۲، ص۲۱۳

[16] بحار، ج۱۱، ص۳۲

[17] ایضا، ج۱۱، ص۵۶

[18] علل الشرائع، ج۱، ص۱۴۹، باب۱۰۱

[19] اعلی۱۹

[20] رابرٹ هیوم، ادیان زنده جهان، ص۲۷۸، مزید توضیح کے لئے [یسنا] فصل۴۶، بند۱،۲ کی طرف رجوع کریں جوکه اسوتا کا اهم اور قدیم حصه هے۔

[21] من لایحضره الفقیه، ج۲، ص۵۳، ح۱۶۷۸،؛ سفینۃ البحار، ج۴، ص۳۴۶

تبصرے
Loading...