انسانوں کے درمیان فرق و تفاوت ،جیسے خوبصورتی وبدصورتی ،هدایت وگمراهی ،رزق وروزی وغیره کا فلسفه کیا هے؟

0 0

کیامخلوقات،خاص کر انسانوں کے درمیان تفاوت صحیح هے؟خداوند متعال کیوں کسی کو رزق دیتا هے اوردوسرے کو نهیں دیتا هے ، کسی کو خوبصورت اور دوسرے کو بد صورت پیدا کراتا هے، کسی کی هدایت کرتا هے اور دوسرے کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا هے ، کیایه خدا وند متعال کی عدالت کے منافی نهیں هے؟

سوال کے جواب کے سلسله میں هم پهلے”عدل” کے معنی پر بحث کرتے هیں- عدل کے سلسله میں چار معانی بیان کئے گئے هیں:

الف: “موزون هونا” اگر هم ایک مجموعه کو مدنظر رکھیں ،جس میں مختلف اجزا استعمال هوئے هیں اور اس سے ایک خاص مقصد منظور هو ،تو اس میں هر چیز کی ایک معین مقدار کےلحاظ سے، کیفیت اور مختلف اجزا کے ایک دوسرے سے رابطه کے لحاظ سے خاص اور معین شرائط کی رعایت کی جانی چاهئے، صرف اسی صورت میں وه مجموعه باقی ره سکتا هے اور اپنا مطلوب نتیجه دے سکتا هے اور مدنظر نقش ایفا کر سکتا هے –مثلاً اگر ایک مجموعه باقی اور برقرار رهنا چاهتا هو ،تواسے متعادل هو نا چاهئے … اجتماعی تعادل کے لحاظ سے جوچیز ضروری هے، وه یه هے که ضرورت کے معیار کو مد نظر رکھنا چاهئے اور ان کی ضرورتوں کے لحاظ سے بجٹ اور طاقت صرف کی جانی چاهئے-یهاں پر ” مصلحت ” کا مسئله پیش آتا هے اور یه مصلحت ،یعنی مصلحت کل ،وه مصلحت جس میں کلی بقا اور کل سے متعلق مقاصد کو مدنظر رکھا جاتا هے ، عالم ، موزون اور متعادل هے، اگر موزون و متعادل نه هو تا تو عالم قائم نه رهتا اور اس میں نظم و ضبط نه هو تا – اس معنی میں عدل کا نقطه مقابل متناسب نه هو نا هے نه که ظلم ، اس لئے وه عدل بحث سےخارج هے، جس میں موضوع امتیازی سلوک اور تفاوت هو – متناسب نه هو نے کے مقابل میں تناسب کے معنی میں عدل کی بحث ،پورے نظام عالم کے پیش نظر هے، لیکن ظلم کے مقابل میں عدل کی بحث، هرفردوجزو کے پیش نظر دوسرے اجزا سے جدا هے-

ب:عدل کے دوسرے معنی، دوسروں کے حقوق کی رعایت کر نا اور حقدار کو حق پهنچانا هے- ظلم، یعنی دوسروں کے حقوق کو پامال کر نا اور ان کے حقوق کو چھیننا اور ان پر ناجائز قبضه کر نا هے- عدل و ظلم کے یه معنی ، اس بناپر که ایک طرف ترجیحات کی بنیاد پر هیں اور دوسری طرف عدل و ظلم کا بے معنی انسان کی ایک ذاتی خصوصیت سے ترقی پاتا هے ، اس لئے انسان بعض اعتباری افکار سے استفاده کر نے پر مجبور هے تاکه باید و نباید کو تشکیل دے اور حسن وقبح کو کو الگ الگ کرے ، یه انسان کی خصوصیات میں سے هے اور یه مقام کبریائی سے متعلق نهیں هے، کیو نکه وه مالک علی الاطلاق هے اور کوئی مخلوق کسی بھی چیز کی نسبت موازنه میں اس سے اولیت نهیں رکھتی هے-

ج:وجود کو پھیلانے میں اور اس پھیلاٶ سے پرهیز نه کر نے میں حقوق کی رعایت : قابلیتوں اور مبدا هستی سے فیض حاصل کر نے کے سلسله میں نظام هستی میں مخلوقات آپس میں متفاوت هیں- هر مخلوق اپنے هر مقام پر پھیلاٶ کی قابلیت کے لحاظ سے اپنے لئے خاص حقوق رکھتی هے –خداوند متعال جو کمال مطلق اور فیاض علی الاطلاق هے، هر مخلوق کو، اس کی ظرفیت کے مطابق وجود اور کمال وجودعطا کر تا هے اور بخل نهیں کرتا هے-فلاسفه کا اعتقاد هے که کسی بھی مخلوق کا خداوند متعال پر کوئی حق نهیں هے که اس حق کو ادا کر نے کو “انجام فریضه” اور “قرض کی ادائیگی” شمار کیا جائے- عدل الهی اس کے وجود کا عین فضل وکرم هے-

د:عدل کے ایک اور معنی مساوات اور هرقسم کےامتیازی سلوک کی نفی هیں – اگر مقصود یه هو که عدل کا تقاضا هے که کسی قسم کے حق کا خیال نه کیا جائے اور تمام چیزوں اور هر ایک کے ساتھـ مساوی برتاٶ کیا جائے ،ایسی عدالت، عین ظلم هے – لیکن اگر مراد یه هو که عدالت ، یعنی مساوی حقوق کے سلسله میں مساوات کی رعایت، تو یه معنی صحیح هیں –عدل اس قسم کی مساوات کا تقاضا کر تا هے اور یه مساوات اس کی ضروریات میں سے هے-

مخلوقات کے در میان تفاوت اور اختلافات کے بارے میں قابل ذکر بات هے که مفهوم حق واستحقاق اشیا کی خدا وند متعال سے نسبت حق و استحقاق کا مفهوم عبارت هے : وجود کی ضرورت، امکان اور کمال- هر موجود جو امکان وجود یا کمال وجود کی ایک قسم کا امکان رکھتا هو، توخدا وند متعال اس حکم سے که تمام الفا علیه و واجب الفیاضیه هے، وجود کا پھیلاٶ یا کمال وجود عطا کر تا هے – خدا وند متعال کا عدل عبارت هے : فیض عام، کسی امتیازی سلو ک کے بغیر تمام مخلوقات کے بارے میں وسیع پیمانے پر بخشش ، جو امکان هستی یا هستی میں کمال رکھتے هیں-[1] ممکن هے ،سوال کیا جائے که، پروردگار عالم نے اس کائنات اور اس میں موجود مخلوقات کو کیوں اس طرح پیدا کیا هےکه اشیا قابلیت ، امکان اور استحقاق کے لحاظ سے متفاوت هیں؟ اور کیا خداوند متعال کے افعال انسانوں کے افعال کے مانند اغراض و مقاصد کے سبب هیں؟ کیا خداوند متعال کے افعال انسانوں کے افعال کے مانند “کیوں” اور”کس لئے” کے حامل هیں؟

معتزله ، تخلیق الهی کے غرض وغایت کے مطابق هونےکے قائل هیں اور خداوند متعال کے حکیم هو نے کو اسی معنی سے مربوط جانتے هیں جس کے بارے میں قرآن مجید میں مکرر وضاحت کی گئی اور اس طرح وه اس امر کے معتقد هیں که خداوند متعال اصلح اور ارجح کا انتخاب کر کے انجام دیتا هے –اس لئے موجوده نظام، احسن واکمل نظم هے ،یعنی بهترین ممکن صورت میں خلق هوا هے-

لیکن اشاعره، خدا وند متعال کے اپنے کام میں غرض وغایت رکھنے کے منکر هیں اور قرآن مجید میں موجوده حکمت کے مفهوم کی عدل کے مانند توجیه کرتے هیں ، یعنی جو کچھـ خدا وند متعال انجام دیتا هے وهی حکمت هے ، نه یه که جو حکمت هے اسے خدا انجام دیتا هے – اس گروه کے مطابق یه کهنا غلط هے که خدا وند متعال کے افعال کچھـ مصلحتوں کے لئے انجام پاتے هیں-[2]

شیعوں کے کلامی مکتب میں ،توحید سے متعلق کئی مسائل هیں ، تمام رجحانات توحیدی هیں – لهذا مسئله غایت وغرض بھی غایت کو غایت فعل و غایت فاعل میں تقسیم کر نے کے بعد ، اور یه که خدا کے بارے میں مفهوم حکمت ، مفهوم غایت واشیا کے اپنے مقاصد کے مساوی هے ، ایک واضح امر هے –اسلامی فلاسفه کے مطابق هر فعل کا ایک مقصد هو تا هے اور خداوند متعال کی ذات غایت کل هے، یعنی غایت الغایت هے- تمام اشیا اسی کی طرف سے اور اسی کی طرف پلٹ کے جانے والے هیں –” وان الی ربک المنتهی”[3]

کیاعالم کانطام، اس کا ذاتی هے ؟ جواب میں کهنا چاهئے :موجودات کی تر تیب اور نظام ان کا عین وجودهے که جوذات باری تعالی کی طرف سے عطا هو تا هے- یه خداوند متعال کا اراده هے جس نے انهیں نظم بخشا هے –لیکن نه اس معنی میں که ایک اراده سے انهیں پیدا کیا اور ایک دوسرے اراده سے انهیں نظم بخشا هے تاکه یه فرض کیا جائے که اگر نظام کا اراده اٹھالیا جائے تو ان کی تخلیق کا اراده باقی رهے گا- مخلوقات نظام طول میں ایک ایسے سبب پر منتهی هوتے هیں که اراده حق براه راست ان سے متعلق هو تا هے- اور وجود کی نسبت اراده حق، تمام اشیا و نظامات کے وجود کا عین اراده هے-[4]

“تفاوت” اور”امتیازی سلوک” کے در میان فرق: جو کچھـ خلقت میں موجود هے”تفاوت” هے نه” که امتیازی سلوک” تفاوت وه هے که غیر مساوی حالات میں فرق پایا جاتا هو ، لیکن امتیازی سلوک وه هے که مساوی حالات اور یکسان حقوق میں ، اشیا کے در میان فرق پایا جائے- دوسرے الفاظ میں امتیازی سلوک عطا کر نے والے کی طرف سے هو تا هے ، لیکن تفاوت حاصل کر نے والے سے متعلق هے- مثال کے طور پر ، اگر معلم اپنے شاگردوں کو، جو مساوی اور یکساں حالات میں هیں، مختلف نمبرات دیدے تو، اسے امتیازی سلوک کهتے هیں ، لیکن اگر امتحان لے کر استعداد اور لیاقت کے مطابق هر شاگرد کو اس کے مستحق نمبرات دیدے تو اسے تفاوت کهتے هیں-[5]

مخلوقات کا تفاوت ان کا ذاتی هے اور یه علت و معلول کے نظام کا لازمه هے – چونکه تمام کائنات آغاز سے انجام تک ایک الهی اراده سے وجود میں آئی هے نه که الگ الگ ارادوں سے،وه بھی ایک وسیع اراده سے ، چنانچه قرآن مجید فر ماتا هے : “بے شک هم نے هر شے کو ایک اندازه کے مطابق پیدا کیا هے – اور همارا حکم پلک جھپکنے کی طرح ایک بات هے”[6]

اس عقیده کے مطابق ،خلقت کے لئے ایک خاص اور مرتب و معین نظام هے اور یهیں سے قانون علیت و معلول یا نظام اسباب و مسببات وجود میں آتا هے، یعنی هر معلول کی ایک خاص علت اور هر علت کا ایک مخصوص معلول هو تا هے –نظام علت ومعلول میں هر موجود اپنی مشخص و معین جگه پر هوتا هے، یعنی هر معلول ، ایک معین شے کا معلول اور ایک معین شے کی علت هو تا هے- اس لئے علت سے معلول کی مخالفت محال هے اور مثلاً انسان کی علت وجود سے حیوان متحقق نهیں هوسکتی هے اور اسی طرح اس کے بر عکس –کیونکه ایک علت کا ایک معین معلول کے لئے علت هو نا اور کسی چیز کا کسی معین علت کے لئے معلول واقع هو نا، جعلی اور قراردادی نهیں هے ، بلکه یه اس خصوصیت کی وجه سے هے جو علت و معلول میں پائی جاتی هے جو ان کے وجود کا طریقه هے اور وه خصو صیت ایک حقیقی امر هے نه که اعتباری،عارضی اور قابل انتقال –لهذا علت اپنی پوری ذات کے ساتھـ معلول کے صادر هو نے کا سرچشمه هے-هر چیز کی اپنی مخصوص جگه هے اور اس کو اپنی جگه کے علاوه کهیں اور فرض کر نا اس چیز کی ذات کو کھودینے کے برابر  هے- چنانچه قرآن مجید میں اس مطلب کی طرف اشاره هوا هے-[7]

هستی کا نظام انسان کے وجود کے مانند هے ، جو مختلف اجزا سے تشکیل پانا چاهئے اور اس کا هرجزو اپنی مناسب جگه پر قرار پانا چاهئے – دوسرے الفاظ میں اجزا کو آپسمیں مختلف هو نا چاهئے تاکه یه مجموعه وجود میں آئے اور هر چیز اپنی خاص جگه پر قرار پانی چاهئے تاکه احسن نظام وجود میں آئے-[8]

عالم میں تفاوت کا وجود ضروری هے –جب هم عالم کو مجموعی طور پر مدنظر رکهیں تو هم یه قبول کر نے کے لئے مجبور هیں که کلی نظام اور عمومی توازن میں ، نشیب وفراز ، رنج ولذت اور فتح وشکست کا وجود ضروری هے – اگر اختلاف و تفاوت نه پایا جاتا تو گونا گوں مخلوقات وجود میں نهیں آتیں –دنیا کی پر شکوه خوبصورتی رنگ برنگ تفاوت پر مبنی هے – بد صورتیاں ، خوبصورتیوں کی مظهر هیں- بدصورتیاں فقط اس لحاظ سے ضروری هیں که عالم کے مجموعه کا ایک جزهیں اور کلی نظام ان سے وابسته هے، بلکه خوبصورتیوں کو نمایاں کر نے اور ظاهر کر نے کے لئے بھی ان کا وجود ضروری هے- اگر بد صورتی اور خوبصورتی کے در میان قربت بر قرار نه هوتی ، تو نه خوبصورت خوبصورت هو تا اور نه بدصورت بد صورت هوتا- اگر سب یکساں هو تے تونه کوئی تحرک هو تا ،نه کشش،نه تحریک اور نه عشق، کیو نکه تمام چیزوں کے یکساں اور هم سطح هو نے کے نتیجه میں تمام زیبائیاں ،خوبیاں ،جوش وخروش اور تکامل نابود هو تے-

جهان چون چشم وخط وخال وابروست                      که هرچیزی به جای خویش نیکوست

بد صورتی کا فلاں فائده هے ، یه اس معنی میں نهیں هے که فلاں شخص ممکن تھا خوبصورت هو تا مخصوصآً بد صورت پیدا کیا گیا هے اس لئے که دوسرے شخص کی خوبصورتی کی قدر و منزلت واضح هو جائے اور یه کهاجائے که کیوں اس کے بر عکس انجام نهیں پایا؟ بلکه اس کے معنی یه هیں  که اس کے باوجود که هر مخلوق نے زیاده سے زیاده  کمال و جمال جو اس کے لئے ممکن تھا ،حاصل کیا هے ، اس کے نیکی کے آثار بھی اس اختلاف پر مرتب هوئے هیں ، جیسے خوبصورتی کی قدر و منزلت ،جذبه وتحرک وغیره، اس کے علاوه عالم هستی علتوں اور معلو لیتوں کا ایک مجموعه هے اور هر معلول اپنی خاص علت کے نتیجه میں وجود میں آیا هے اور اس کی خلاف ورزی محال هے-[9]

لیکن یه سوال که انسان کی زندگی میں کیوں بلائیں اور مصیبتیں همیشه اس کے ساتھـ هیں؟ جواب میں کهنا چاهئے که: بلاٶں اور مصیبتوں کی مختلف قسمیں هیں:

١- وه بلائیں جو انسان کے اعمال کا نتیجه هو تی هیں – مثال کے طور پر انسان خود اپنے لئے بد بختی کا سبب بن جائے- اس قسم کی بلاٶں کے لئے خداوند متعال کو ذمه دار نهیں ٹھرا یا جاسکتا هے – چنانچه قرآن مجید بھی اس مطلب کی طرف اشاره کر تا هے که اگر زمین پر کوئی ظلم وستم هے، وه ظالم انسان کے اعمال کا نتیجه هے اور اس کو خدا وند متعال سے نسبت نهین دی جانی چاهئے-

٢- وه بلائیں جو بعض لوگوں کی لاپروائی کے سبب دوسروں کے لئے پیدا هوتی هیں- جیسے، والدین کے توسط سے حفظان صحت کے اصولوں کاخیال نه رکھنے کے سبب بیمار اور اپاھج بچے کا پیدا هو نا، اس قسم کی بلاٶں کا ذمه دار بھی خود انسان هے ، نه که خالق کائنات-

چنانچه پهلے بھی بیان کیاگیا که نظام هستی ،علتوں و معلولیتوں کا ایک مجموعه هے اور هر علت سے اس کا ایک خاص معلول صادر هو تا هے، مثلاً معیوب علت سے ایک معیوب و بیمار معلول صادر هو تا هے-

جس طرح انسان سے انسان اور حیوان سے حیوان وجود میں آتا هے ، اسی طرح گندم سے گندم اور جوسے جو وجود میں آتا هے- بهر حال خدا وند متعال اپنے لامتناهی لطف و کرم اور فضل و بخشش سے اس انسان کو آخرت میں اجر دیتا هے اور اس کی بے چینیوں اور بیقراریوں کی تلافی کر تا هے-

٣-وه بلائیں ، جو گناه کے اثرات کو دور کر نے کے لئے هو تی هیں، اور یه نه صرف خداوند متعال کے عدل وانصاف کے منافی نهیں هے بلکه اس کاعین عدل هے اور اس کی رحمت اور  مهر بانیوں کا تقاضا هے ، کیو نکه ایسی بلائیں حقیقت میں گناهوں کا کفاره هو تی هیں تاکه آخرت میں انسان کے گناهوں کا بوجھـ هلکا هو جائے – دنیوی بلائیں اور مصیبتیں جلدی ختم هو نے والی هوتی هیں، لیکن اس کے بدلے میں انسان اخروی عذاب سے امان میں رهتا هے-

٤- وه بلائیں جو انسان کے لئے اپنے خالق و معبود کی طرف زیاده توجه کر نے کا سبب بنتی هیں یا غافل افراد کے لئے اپنی غفلت و نسیان کے بارے میں متوجه هو نے کا سبب بنتی هیں اور اس طرح انسان اپنی گزشته غلطیوں سے آگاه هو تا هے – اس قسم کی بلائیں بھی پروردگار عالم کی طرف سے رحمت او لطف و مهر بانی هوتی هیں-

٥-وه بلائیں اور مصیبتیں جو انسان کے لئے آزمائش وامتحان کے طور پر هوتی هیں یا اولیائے الهی کے مراتب کو عظمت و بلندی بخشنے کے لئے هوتی هیں اور ایسی بلائیں قرآن مجید کی فر مائش کے مطابق ایسی سنتیں هیں جو قابل تغیر و تبدل نهیں هیں اور همشه امتوں کے لئے پیش آتی رهتی هیں-قرآن مجید فر ماتا هے: ” اور هم یقیناً تمهیں تھوڑے خوف تھوڑی بهوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آز مائیں گے اور اے پیغمبر! ان صبر کر نے والوں کو بشارت دیدیں-“[10]

لیکن یه که پروردگار عالم کسی کو رزق دیتا هے اور دوسرے کو نهیں دیتا هے ، صحیح بات نهیں هے ،کیونکه زمین (وآسمان) میں موجود تمام جانداروں کا رزق خداوند متعال کے ذمه هے:” ومامن دابۃ فی الارض الا علی الله رزقها-“[11] اس کے سوا کوئی “رزاق” نهیں هے – لیکن ضروری هے که مقدر کی گئی روزی کو حاصل کر نے کے لئے کوشش کی جائے ،کیونکه طلب کرنےکے لئے اٹهنا بندوں کے فرائض میں سے هے اور امور کی تدبیر اور ظاهری و غیر ظاهری اسباب، که اکثر بندوں کے دائره اختیار سے خارج هیں، خداوند متعال کے هاتھـ میں هیں[12] . پروردگار عالم نے ابتدا سے هی کسی کی روزی نهیں روکی هے. لیکن جو اپنی مقدر کی روزی کو حاصل کرنے کے لئے کسی قسم کی کوشش و تلاش نهیں کرے گا، وه اس سے محروم هوگا. بهر حال روزی کو حاصل کرنا اور حاصل نه کرنا خدا کے علم واذن میں هے اور کوئی بھی شخص رزق وروزی حاصل کر نے میں مستقل و آزاد نهیں هے[13] .

روایات کے مطابق رزق وروزی کی دو قسمیں هیں: “رزق طالب” اور “رزق مطلوب” رزق طالب وه رزق هے جو خود بخود لوگوں کو ملتا هے اور همیشه ان کے پیچھے آتا هے، اس قسم کی روزی کا منشا قضائے الهی هوتا هے اور قابل تغییر و تحول نهیں هے. رزق طالب عبارت هے: وجود هستی، عمر، امکانات اور  خاندان کا ماحول اور استعداد وغیره که اس قسم کی روزی کام انجام دینے کے لئے ضروری قوت اور گھرائی پیدا کرتی هے.

رزق مطلوب ، وه روزی هے جس کی تلاش میں لوگ نکلتے هیں، یه وه روزی هے جو طالب کے لئے مقدر هوئی هے. اگر طالب اس کے پیچھے جائے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے شرائط و امکانات فراهم کرے تو وه اس قسم کی روزی کو حاصل کرتا هے[14] .

لیکن یه که خداوند متعال نے کیوں بعض لوگوں کی هدایت کی هے اور بعض لوگوں کو اپنے حال ( اضلال) پر چھوڑدیا هے؟ خلاصه کے طورپر کها جاسکتا هے که[15]: هدایت الهی دوقسم کی هوتی هے: هدایت تکوینی اور هدایت تشریعی.

هدایت تکوینی کی بھی دو قسمیں هیں: ١. هدایت تکوینی عام، جو عالم هستی کی تمام مخلوقات پر مشتمل هے اور هر مخلوق کا رخ اس کی طرف هے.٢. هدایت تکوینی خاص، جو خدا کے خاص بندوں پر مشتمل هے. جو لوگ خدا کی عام هدایت کے علاوه ، خدا کے اوامر و نواهی( هدایت تشریعی) پر عمل کرکے خداوند متعال کی خاص توجه و عنایت کے تحت آتے هیں وه هدایت تکوینی خاص کے مستحق هوتے هیں. اس قسم کی هدایت کو ایک لحاظ سے ( هدایت ثانوی) کها جاسکتا هے.

هدایت تشریعی: یه هدایت رسولوں کو بھیجنے اور کتب الهی(شریعت الهی) کو نازل کرنے کے ذریعه انجام پاتی هے اوریه هدایت کافر و مومن دونوں پر مشتمل هوتی هے. لیکن بعض لوگ اس سےناجائز فائده اٹهاکر، صراط مستقیم کے خلاف قدم بڑھا تےهیں اور عذاب الهی سے دو چار هو تے هیں. لیکن” اضلال الهی”(گمراهی) هرگز دو قسم کی نهیں هوتی هے بلکه صرف ایک هی قسم کی هےاور خداوند متعال ابتدا سے هی کسی کو گمراه نهیں کرتا هے. لیکن اگر انسان،خداوند متعال کی نعمتوں کا شکر گزار نه هو اور اپنے مولا کے احکام کی پیروی نه کرے اور خلقت وفطرت کی سنت کے خلاف، تباهی ،بر بادی اور انحراف کی راه پرگامزن هوجائے، تو خداوند متعال اسے اپنے حال پر چهوڑ دیتا هے. جب اس کی یه حالت بن جاتی هے تو وه اس وقت گمراه هوتا هے اورخداوند متعال اسے اپنے حال پر چھوڑدیتا هے اور اسی کو”اضلال الهی”(گمراهی) کها جاتا هے.

مزید مطالعه کے لئے تفاسیر و غیره کی طرف رجوع کیا جائے.[16]


مزید  تقلید کے معنی کیا ھیں؟ھمارے علماء اپنے جواب کے طریقه استنباط کو ھمیں کیوں نھیں بتاتے ھیں؟ کچھ ایسی آیتیں پائی جاتی ھیں، جن میں فرمایا گیا ھے که:" ھر انسان اپنے اعمال کا مسئول ھے، حتی که اگر دوسروں نے اسے گمراه بھی کیا ھو۔"خداوند متعال سوره اسراء کی آیت ۱۵میں ارشاد فرماتا ھے:" جو شخص بھی ھدایت حاصل کرتا ھے وه اپنے فائده کے لئے کرتا ھے اور جو گمراھی اختیار کرتا ھے وه بھی اپنا ھی نقصان کرتا ھے اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نھیں ھے اور ھم تو اس وقت تک [کسی قوم پر عذاب کرنے والے نھیں ھیں جب تک که کوئی رسول نه بھیج دیں [تاکه ان کے فرائض کو بیان کرے]۔"اسی طرح سوره فصلت کی آیت ۴۶ میں ارشاد فرماتا ھے :" جو بھی نیک عمل کرے گا وه اپنے لئے کرے گا اور جو برا کرے گا اس کا ذمه دار بھی وه خود ھی ھوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نھیں ھے۔"اسی طرح سوره فاطر کی آیت ۱۸ میں ارشاد فرماتا ھے:" اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گناھوں کا بوجھ نھیں اٹھا ئے گا اور اگر کسی کو اٹھانے کے لئے بلایا بھی جائے گا، تو اس سے کچھ بھی نه اٹھا یا جاسکے گا، چاھے وه قرابتدار ھی کیوں نه ھو۔ آپ صرف ان لوگوں کو ڈرا سکتے ھیں جو از غیب خداسے ڈرنے والے ھیں اور نماز قائم کرنے والے ھیں اور جو بھی پاکیزگی اختیار کرے گا وه اپنے فائده کے لئے کرے گا اور سب کی بازگشت خدا ھی کی طرف ھے۔"اس کے علاوه کهاگیا ھے که قیامت کے دن ھر شخص اپنے امام کے ساتھ محشور ھوگا نه که اپنے مرجع کے ساتھ ۔ میری نظر میں منطقی دلالتیں اس کی طرف اشاره کرتی ھیں که مرجع کی طرف آگاھی حاصل کرنے کے لئے ان مسائل میں رجوع کرنا چاھئے جن کو انسان نھیں جانتا ھے تا که اسے آگاھی حاصل ھوجائے نه که اس لئے که اس کی تقلید کی جائے، اس معنی میں که جو کچھ وه کهے اسے تعبداً قبول کیا جائے کیونکه ھر انسان اپنے اعمال کا خود مسئول ھے اور کوئی دوسرا اس کا جوابده نھیں ھوگا۔

[1] – مطهری، مرتضی، عدل الهی،ص٥٤-٦٠ملاصدرا ،اسفار اربعه ،ج٢بحث نحوه وجود کا ئنات-

[2] – مطهری، مرتضی، عدل الهی، ،ص٢٣،انتشارات صدرا ،١٣٨٠، سبحانی، الهییات،ج١،ص٢٧٣-٢٩٢-

[3] – نجم،٤٢،عدل الهی،ص٣٠-

[4] – ایضا، ص٩٧،معارف اسلامی ،ص٩٤-١٠٤،انتشارات سمت،١٣٧٦-

[5] – ملاحظه هو: مطهری ،مرتضی، عدل الهی،ص١٠١-

[6] – سوره قمر، ٥٠- ٤٩-

[7] – سوره صافات- ١٦٤-

[8]– طباطبائی،محمد حسین ، المیزان ،ج١٣،ص١٩٤،مطهری ،مرتضی،،عدل الهی،ص١٠٧،طباطبائی محمد حسین،نهایه الحکمه ،مرحله هشتم،ص١٥٦،جامعه مدرسین،ملاصدرا، اسفار اربعه،ج٢،بحث و علت ومعلول ،ص٢٦٨،انتشارات وزارت ارشاد، آموزش فلسفه، مصباح یزدی، محمد تقی،درس٣٥ و٣٦-

[9] -مطهری ،مرتضی،عدل الهی،ص١٤٣ و١٤٤-

[10]– سوره بقره ،١٥٥،ملاحظه هو: سبحانی، جعفر، الهیات،ج١،ص٢٩٠، معارف اسلامی ،ص١٠٠،انتشارات سمت،ملاصدرا،اسفار اربعه،انتشارات وزارت ارشاد، بحث شرور،ص٤٤٥،طباطبائی ، محمد حسین،نهایه الحکمه ،مرحله،١٢،فصل ١٧ و١٨،ص٣٠٨،امام خمینی ،اربعین حدیث،حدیث ٣٩-

[11] – سوره هود،٦-

[12] – امام خمینی (رح)،روح الله، شرح چهل حدیث،ص٥٦٠-

[13] – ملاحظه هو: عنوان:” روزی حاصل کر نے میں انسان کا کردار”

[14] – ملاحظه هو: نهج البلاغه، نامه ی ٣١-

[15] – ملاحظه هو:عنوان: &quotدایت و اضلال الهی-“

[16] – ملاحظه هو: ج١،ص٤٣-٤٥….،تفسیر ترتسنیم، جوادی آملی، عبدالله، ج١،ص٥١٦-٥٢٧، ٤٥٧- ٤٧٨، ٤٩٣، نیز ایضاً ج٢،ص٥١٥-٥٢١ هدایت در قرآن ،جوادی آملی، عبدالله-

 

تبصرے
Loading...