امتحانات میں نقل کر نے کا حکم کیا هے؟

0 0

نقل کے حرام هونے میں فقها کے در میان بظاهر کوئی اختلاف نهیں هے، جیسا که کتاب ” رساله دانشجوئی” میں اس سوال کے جواب میں که ، امتحانات میں نقل کا حکم کیا هے ؟ تمام مراجع کی طرف سے اس کے جائز نه هو نے کا جواب نقل کیا گیا هے[1]

اسی طرح اس کتاب میں اس سوال که، اگر طرف مقابل (ممتحن) راضی هو که تحریر سے نقل کی جائے ، تو اس کا حکم کیا هے ؟ کے جواب میں یوں آیا هے : ” تمام مراجع کے مطابق، طرف مقابل کی رضامندی ، حکم پر کوئی اثر نهیں ڈالتی هے[2]-” یعنی نقل کر نے کا حکم وهی اس کا حرام هو نا هے اور طرف مقابل کی رضا مندی سے جائز نهیں هوسکتا هے-

اسی سلسله میں بعض مراجع کے دفاتر سے ایک اور سوال کیا گیا هے که هم اس سوال کو اس کے جواب کے ساتھـ ذیل میں پیش کرتے هیں :

سوال : اگر طالب علم امتحانات میں نقل کر کے پاس هو جائے اور اگلے مراحل میں داخل هو کر وظیفه اور تنخواه جیسے امکانات سے استفاده کرے تو اس وظیفه اور تنخواه وغیره سے استفاده کر نے کا حکم کیا هے؟

حضرت آیت الله العظمی خامنه ای (مدظله العالی) : ” نقل کر نا حرام هے – لیکن جس نوکری میں لگ گیا هو ، اگر اس کے لئے ضروری مهارت رکهتا هو اور نوکری کے لئے قوانین و مقررات کی رعایت کی گئی هوتو، اس کی نوکری اور تنخواه حاصل کر نے میں کوئی حرج نهیں هے”

حضرت آیت الله العظمی فاضل لنکرانی (رح): ” مشکل هے، شرعی لحاظ سے ان امکانات (وظیفه یا تنخواه وغیره) سے استفاده نهیں کر سکتا هے-“

حضرت آیت الله العظمی بهجت (مدظله العالی): ” اس درس کی تلافی کی جانی چاهئے-“

حضرت آیت الله العظمی تبریزی (رح) : ” نقل کر نا ایک عملی جهوٹ هے اور جائز نهیں هے اور اگر کسی نے یه کام انجام دیا اور کسی ایسے کام میں مشغول هو گیا ، جس کے لئے مهارت لازم نه هو اور دوسروں کے مانند کام کر تا هو ، تو کوئی مشکل نهیں هے اور اگر اس کام کے لئے مهارت کی شرط هو اور مذ کوره شخص اس کی مهارت نه رکهتا هو تو اس کے لئے وه کام جائز نهیں هے -“

حضرت آیت الله العظمی صافی گلپائیگانی (مدظله العالی ) :” نقل کر نا کسی کام میں جائز نهیں هے-“

حضرت آیت الله العظمی ناصر مکارم شیرازی : ” اگر درس کے ایک دو باب میں نقل کی هو ، اگر چه اس نے برا کام انجام دیا هے ، لیکن سند حاصل کر کے تعلیم کو جاری رکهنے کے بعد اس سند کی بنیادی پر نوکری میں لگ گیا هو تو کوئی حرج نهیں هے-“

حضرت آیت الله العظمی سیستانی (مدظله العالی) : اس کا استفاده کر نا کوئی حرج نهیں هے ، اگر چه یه عمل (نقل کرنا) جائز نهیں هے[3]

اس بات کی وضاحت کرنا ضروری هے که یه مسئله (نقل کرنا) کئی دیگر خلاف ورزیوں کا سبب بن جاتا هے:

١- نقل کرنا ، امتحانات کے قانون کی خلاف ورزی هے اور قانون کی خلاف ورزی جائز نهیں هے-

٢- نقل کرنا ،جھوٹ بولنے کا سبب بن جاتا هے ، چونکه طالب علم ، امتحان کے پرچے کو حواله کرتے وقت اپنے کام کے طور پر حواله کرنا چاهئے اور اس میں لکهے گئے معلومات اس کے اپنے هونے چاهئے ، جبکه نقل کرنے کی صورت میں ایسا نهیں هوتا هے-

٣- طرف مقابل کی رضامندی کا نه صرف اعتبارنهیں هے- بلکه ممکن هے وه بهی جرم میں شریک شمار هو جائے-

٤- دوسرے کا حق ضائع هو تا هے-


مزید  حضرت زهراء سلام الله علیها کی شخصیت کے کونسے ابعاد تھے؟

[1] – رساله ی دانشجوئی ،مسئلی ی٥٣٩-

[2] – ایضاً، سوال٥٤٣-

[3] – مسائل جدید از دید گاه علماو مراجع تقلید،ج٣،ص٢١١-

تبصرے
Loading...