امام کے حکومت اور ولایت کو ھاتھ میں لینے کے عدم امکان کی صورت میں ، اس کا وجود کیسے مھربانی ھوسکتا ھے ؟

0 0


سائٹ کے کوڈ
fa3537


کوڈ پرائیویسی سٹیٹمنٹ
11744

امام کے حکومت اور ولایت کو ھاتھ میں لینے کے عدم امکان کی صورت میں ، اس کا وجود کیسے مھربانی ھوسکتا ھے ؟

شیعه کھتے ھیں که : “ امامت واجب ھے ، کیونکه امام ، پیغمبر (ص ) کا جانشین ھوتا ھے اور اسلامی شریعت کا محافظ ھوتا ھے اور راه راست کی طرف مسلمانوں کی راھنمائی کرتا ھے اور احکام میں کم یا زیاده ھونے کی حفاظت کرتا ھے ۔ “ اور کھتے ھیں که : “ امام کو خداوند متعال کی طرف سے معین و منصوب ھونا چاھئے اور چونکه دنیا کو اس کی ضرورت ھوتی ھے ، اس لئے ایساھی ھونا چاھئے ، اس لئے امام کا معین و منصوب ھونا واجب ھے ۔ ۔ ۔ “ اور کھتے ھیں که : “ امامت اس لئے واجب ھے که یه خدا کی مھربانیوں میں سے ایک مھر بانی ھے ۔ ۔ ۔ جب لوگوں کا کوئی رھبر و راھنما ھو تو ظالموں کو ظلم کرنے سے روکتا ھے اور انھیں نیک کام انجام دینے پر مجبور کرتا ھے ، اور ان کو ظالموں کے شر سے محفوظ رکھتا ھے اور لوگ صلاح و نجات کے قریب ھو جاتے ھیں اور فساد سے دوری اختیار کرتے ھیں ، اور مھربانی اسی کو کھتے ھیں ۔ “
ان سے کھنا چاھئے که آپ کے باره اماموں میں سے حضرت علی (ع ) کے علاوه کسی کو حکومت اور فرمانروائی نھیں ملی ھے اور وه یه طاقت نھیں رکھتے تھے که ظالم کو ظلم کرنے سے روکتے اور لوگوں کو نیک کام انجام دینے پر مجبور کرتے اور انھیں شر اور برائیوں سے محفوظ رکھتے ! پس آپ کیوں ان کے بارے میں اس چیز کا کھوکھلا دعویٰ کرتے ھیں ، جس کی کوئی حقیقت نھیں ھے ؟ ! اگر آپ خیال کریں که وه آپ کے عقیده کے مطابق امام نھیں ھیں ، تو جس مھربانی کا آپ دعویٰ کرتے ھیں وه حاصل نھیں ھوئی ھے !

مزید  کیا عقائد میں تقلید کے جائز نه هونے کا لازمه احکام میں تقلید کا جائز نه هونا نهیں هے؟

دیگر زبانوں میں (ق) ترجمہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.