“امام زمانھ ” (عج) کے متعلق ابن عربی کا نقطھ نظر کیا ھے؟

0 0

محی الدین ابن عربی(۶۳۸۵۶۰ق) کا اصلی نام محمد بن علی بن محمد بن احمد بن عبدا للھ حاتم طایی، معروف بھ محی الدین ، مکنی بھ ابن عربی اور ملقب بھ شیخ اکبر ھے۔

محی الدین عربی اسلام کے بزرگ عارفوں اور علوم عرفان و عرفان نظری کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ھیں۔ وه اسلامی دنیا کے سب سے بڑے مؤلف ھیں۔   عرفاء کے درمیان گذشتھ سے حال تک بے نظیر ھیں۔ ان کے رسالوں کا اصلی موضوع عرفان ، حالات ، واردات اور قلبی تجربے ھیں۔ لیکن اس  کے ساتھه ساتھه وه علوم تفسیر ، حدیث ، فقھ ، کیمیا ، جفر ، نجوم ، حساب ، جمل اور شعر میں بھی صاحب نظر ھیں۔ آج تک ان کی مطبوئه تالیفات کی تعداد ۵۰۰ تک پھنچ گئی ھے۔ [1]

ابن عربی کی کثیر الابعاد شخصیت اور ان کے گھرے افکار، صدیوں تک بھت سے علم اور دین کے پیاسوں کو اپنی طرف کھینچ چکے ھیں۔

شھید محراب آیۃ اللھ قاضی نے کتاب “انیس الموحدین ” کے حوالھ جات میں لکھا ھے کھ شیعھ اور سنی علماء نے ان کے بارے میں تین قول بیان کئے ھیں۔

۱۔ بعض نے ان کی تکفیر کی ھے جیسے علامھ تفتازانی۔

۲۔ بعض نے ان کو اکابر اولیاء میں سے جانا ھے بلکھ انھیں کامل عارفوں اور   عظیم مجتھدوں میں شمار کیا ھے۔

۳۔ بعض  ان کی ولایت کے قائل ھوئے ھیں لیکن ان کی کتابوں کا مطالعھ کرنا حرام جانا ھے۔ [2]

آیۃ اللھ جوادی آملی لکھتے ھیں: “ابن عربی کے بارے میں مختلف فیصلے ، ان کے مشھور ھونے کے زمانے سے آج تک مختلف مذاھب کے بارےمیں بیان ھوئے ھیں ، ھر کوئی اپنے گمان کے مطابق ان سے محبت یا ان سے بغض رکھتا ھے بعض ان کو سب سے بلند حد تک یعنی عصمت تک لے جاتے ھیں ، اور بعض انھیں زندیق قرار دیتے ھیں”۔ [3]

علامھ شھید مرتضی مطھری لکھتے ھیں: “محی الدین عربی اندلس(سپین) کے رھنے والے ھیں اور اندلس ان سرزمینوں میں سے ھے جھاں کے مکین نھ صرف سنی تھے۔ بلکھ انھیں شیعوں سے کافی دشمنی تھی اور ناصبی گری کے اثرات  ان میں موجود تھے، اور اھل سنت کے علماء کے درمیان ، اندلس کے علماء ناصبی ھیں اور شاید ھی اندلس میں کوئی شیعھ ھو اور اگر ھو بھی تو بھت ھی کم محی الدین اندلس کے ھیں لیکن چونکھ وه عرفانی ذوق رکھتے ھیں ۔ وه معتقد ھیں کھ زمین کبھی بھی ولی اور حجت سے خالی نھیں ھوسکتی ھے۔  یعنی اس نے شیعوں کے نقطھ نظر کو مانا ھے اور ائمھ اطھار اور حضرت زھرا علیھم السلام کے نام کا ذکر کیا ھے۔  یھاں تک که حضرت حجت (عج) تک پھنچتے ھیں اور یھ دعوی کرتے ھیں کھ میں نے سال چھه سو ھجری میں حضرت سے فلاں جگھ پر ملاقات کی ھے”۔ [4]

علامھ حسن زاده آملی لکھتے ھیں : “ابن عربی نے کتاب ” الدر المکنون و السر المکتوم ” میں کھا ھے که قرآن کے اسرار پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے بعد امیر المومنین علیھ السلام کے پاس ھیں۔ اس کے بعد وه ھر ایک امام کا نام لیتےھیں یھان تک کھ حضرت بقیۃ اللھ تک پھنچ جاتے ھیں۔” [5]

ابن عربی کتاب” عنقاء مغرب فی ختم الاولیاء وشمس المغرب ” میں خاتم الولایۃ کی توصیف اور خصائص شرائط اور کمالات کو بیان کرکے کچھه نکات کو گن لیتے ھیں جن کو حضرت حجت (عج) ، شیعوں کے بارھویں امام کے علاوه کھیں بھی نھیں پایا جاسکتا ھے وه اسی کتاب کے آخر میں خاتم الاولیاء کو معین کرتے ھیں اورکھتے ھیں که بے شک امام مھدی رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کے اھل بیت علیھم السلام سے منسوب ھیں۔ [6]

فتوحات مکیۃ کے باب ۳۶۶ میں جوآخر الزمان میں حضرت مھدی ( عج ) کے اصحاب اور وزیروں کی پھچان اور معرفت کے بارے میں ھے یوں لکھتے ھیں: “خداوند متعال کا ایک زنده خلیفھ (پرده غیب میں ) ھے ، جو ظاھر ھوگا اور وه اس زمانے میں ظھور کرے گا جب دنیا ظلم و ستم سے بھری ھوگی۔ وه دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ، اگر دنیا کی عمر سے فقط ایک دن باقی رھے گا تب بھی خداوند اس دن کو اتنا طولانی کردے گا که وه خلیفھ ولایت کرے، وه رسول اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کی عترت سے ھے اور اس کے  دادا حضرت حسین بن علی علیھ السلام ھیں۔ شیخ اکبر ابن عربی کا ایک رسالھ “الوعاء المختوم علی السر المکتوم ” ھے کھ جو مھدی موعود ( عج) کے ختم ولایت مطلقھ کے شئون میں سے ھے اور یھ رسالھ حضرت حجت کے ظھور کی کیفیت کے بارے میں تالیف کیا گیا ھے ۔ [7]

حضرت مھدی کے بارے میں ابن عربی کا نقطھ نظر شیعوں کے مانند ھے اور جیسا کھ وه کھتے ھیں کھ بے شک مھدی حضرت امام حسن عسکری (علیھ السلام ) کے فرزند ھیں اور وه نیمھ شعبان ۲۵۵ ھ کو متولد ھوئے وه تب تک باقی رھیں گے یھان تک که حضرت عیسی ان سے ملحق ھوں گے ۔ [8]

اس طرح وه حضرت مھدی کی عصمت کے قائل ھیں اور وه ان کے علم کو تنزیل الھی (خدا کی جانب ) سے جانتے ھیں [9]

یھ بات قابل ذکر ھے کھ شیعوں کے بھت سے علماء نے اپنے آثار اور تالیفات میں محی الدین ابن عربی سے بھت سے مطالب ، شاھد کے طور پر پیش کئے ھیں من جملھ علامھ امینی نے کتاب ” الغدیر” میں ، احادیث نبوی در فضائل امام علی علیھ السلام کے عنوان کے تحت، اھل سنت کے منابع سے حدیث ” انا مدینۃ العلم و علی بابھا” کو ابن عربی کی کتاب ” الدر المکنون ” سے نقل کیا ھے ” [10]


مزید  کیا اسلام سے پہلے لفظ " اللہ" کا استعمال ہوتا تھا؟

[1]  محی الدین عربی ، ۵۷۳۔۔ ۵۷۶۔

[2] علامه مھدی نراقی ، انیس الموحدین ، فٹ نوٹ ، ص ۱۷۰۔

[3]  جوادی آملی ، آوای توحید۔ س ۸۳۔۔ ۸۴۔

[4]  مجموعھ آثار شھید مرتضی مطھری ، ج ۴، ص ۹۴۴۔

[5]  محمد بدیعی ، گفتگو با علامھ حسن زاده آملی ص ۲۰۳۔

[6]  ھدایۃ الامم ، (مقدمھ) ص ۲۵۔

[7]  تفسیر فاتحۃ الکتاب، ، مقدمۃ استاد سید جلال الدین آشتیانی۔

[8]  محی الدین ابن عربی ، ھدایۃ الامم ، (مقدمھ ) ص ۲۴۔

[9] فتوحات مکیۃ ، ج ۶۔ ص ۵۰ ۔۔ ۶۶۔

[10]  الغدیر ، ج ۶۔ ص ۹۳۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.