امام حسین علیه السلام اور آپ کے باوفا جانثاروں نے پانی کے قلّت کے باوجود کیسے عاشور کے دن غسل کیا ؟

0 0

امام حسین علیه السلام  اور آپ کے جانثار ساتھیوں کی پیاس اور ان پر پانی بند کئے جانے کے سلسله میں جو دلائل اور شواهد هم تک پهونچے هیں وه کچھ اسطرح هیں :

1۔ تقریبا تمام تاریخی منقولات اس بات پر متفق نظر آتے هیں که امام علیه السلام  اور آپ کے اصحاب کی شهادت سے تین دن قبل آپ پر پانی بند کر دیا گیا ابن زیاد نے عمر سعد کو حکم دیا که حسین بن علی علیه السلام  اور پانی کے درمیان حائل هو جائے اور انهیں پانی لینے کی اجازت نه دے ، اور عمر سعد نے عمرو بن حجاج کو 500 لوگوں کی همراهی میں بندش آب کے ذمه دار کے طور پر مامور کیا اور یه بیان هو اهے که یه بندش آب امام علیه السلام  اور ان کے باوفا ساتھیوں کی شهادت سے تین دن قبل سے تھی ۔ [1]

2۔شیعه[2] اور اهل سنت [3] دونوں کی تاریخ میں نقل هونے والے مطالب نیز پیغمبر [4] اور ائمه معصومین علیھم السلام [5]سے نقل هونے والی روایتوں اور زیارت ناموں[6] میں بیان شده مطالب کی روشنی میں یه کها جا سکتا هے که امام حسین علیه السلام  کی تشنه لبی کے ساتھ شهادت ایک یقینی اور مسلم امر هے اور تواتر کے ساتھ نقل هونے والی خبریں اس پر دلالت کر رهی هیں ۔

3۔ بهت سی روایتوں میں واضح طور پر عاشور کے دن امام علیه السلام  اور ان کے اصحاب کی پیاس کوبیان کیا گیا هے ان میں من جمله روایتیں کچھ یوں هیں :

الف: وه روایت جو حضرت علی اکبرعلیه السلام  کی پیاس کو جنگ کے دوران بیان کر رهی هے جس میں آپ نے اپنے بابا سے کها : العطش قد قتلنی ”بابا پیاس مجھے مارے ڈالتی هے “ [7]

ب: وه روایت جو شهادت حضرت عباسعلیه السلام  سے قبل آپ کے پانی لانے کے لئے میدان جهاد کی طرف جانے کو بیان کرتی هے ۔ [8]

ج: جناب حر علیه السلام  کا کوفیوں سے یه خطاب کرنا که حسینعلیه السلام  اور ان کی عورتوں اور بچوں کو تو تم نے فرات کے پانی سے روک دیا هے جبکه یهود و نصاری اور مجوس اس پانی کو پی رهے هیں اور جانور بھی اس سے سیراب هو رهے هیں لیکن یه اصحاب حسین علیه السلام  هیں جو پیاس کی شدت سے بیهوش هوجاتے هیں [9]

لیکن ان ذکر شده شواهد کے باوجود بعض تاریخی کتب میں ذکر هونے والے مختلف بیانوں سے معلوم هوتا هے که محاصره کے دوران هی امام علیه السلام  کے ساتھی پانی حاصل کرنے میں کامیاب هو گئے جن میں بعض شواهد یه هیں :

الف: پانی کے محاصره کا جناب عباس علیه السلام  کے ذریعه توڑا جانا ۔ بهت سے لوگوں نے روایت کی هے که امام اور ان کے اصحاب پر پانی بند کئے جانے کے بعد جب شدت پیاس کا غلبه هوا تو امام علیه السلام نے حضرت عباس علیه السلام  کو کچھ لوگوں کے ساتھ پانی لینے کے لئے بھیجا ، آپ کچھ لوگوں کو لیکر گھاٹ پر پهونچے اور وهاں عمرو بن حجاج کے لشکر سے لڑائی هوئی اس حمله کے نتیجه میں اکثر منابع ( عموماً اهل سنت ) یه کهتے هیں که آپ کامیابی کے ساتھ بھری هوئی مشکوں کے همراه خیمه میں واپس پلٹے [10] لیکن انساب الاشراف میں اس تذکره کے بعد یوں بیان هوا هے : یه کها جاتا هے که عمر سعد کے لشکر کی جانب سے پانی پهونچنے کو روکنے کی جو کوشش هوئی اس کشمکش کے نتیجه میں امام علیه السلام کی قیام گاه تک زیاده پانی نه پهونچ سکا[11]

مثیر الاحزان“ میں بھی امام علیه السلام  کی جانب سے پانی لانے کے لئے کچھ لوگوں کو بھیجنے کی خبر کے تذکره کے بعد صرف عمرو بن حجاج کی مزاحمت کا ذکر ملتا هے اور امام تک پانی پهونچنے کی خبر نهیں ملتی [12]

ب : بعض لوگوں نے نقل کیا هے که بندش آب کے بعد امام علیه السلام  پشت خیمه کی طرف گئے اور اور چند جگهوں پر امام نے کھدائی کی اور وهاں چشمے جاری هوئے جس سے تمام اصحاب سیراب هوئے اور انهوں نے اپنی مشکوں کو پانی سے بھرا لیکن جب عمر سعد کو اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے حکم دیا که پانی حاصل کرنے سے انهیں روکا جائے [13]

ج: وه روایات جو جنگ سے پهلے امام علیه السلام کے غسل اور آپکی نظافت کو بیان کرتی هیں ، شیخ صدوق نے امام صادق علیه السلام  سے نقل کیا هے که : ”امام حسین علیه السلام  نے ( ظاهر عاشور کے دن صبح میں ) اپنے اصحاب سے فرمایا : ”پانی پی لو یه تمهارے لئے پانی کا آخری ذخیره هے ، وضواور غسل کر لو اپنے لباس دھو لو که یهی لباس تمهارے کفن هوں گے اس کے بعد نماز صبح ادا کی “ [14]

تاریخ میں موجود ان دلائل کی روشنی میں جن کا خلاصه هم نے بیان کیا حسب ذیل چند نتائج حاصل هوتے هیں :

1۔ یه بات مسلم هے که عمر سعد کا لشکر امام علیه السلام  کی شهادت سے تین دن قبل سے هی اس کوشش میں تھا که امام علیه السلام  اور آپ کے ساتھیوں تک پانی نه پهونچ پائے اور یه امر اس بات کا بیان گر هے که امام کے اصحاب علیه السلام  کو پانی کی شدید قلّت تھی اسی لئے آپ پهرے اور محاصره کے ایام میں بھی پانی کی ضرورت کے تحت لڑنے پر مجبور تھے ۔

2۔ هر مسلمان اور مورخ اس بات پر یقین رکھتاهے که نواسه رسول جنت کے جوانوں کے سردار امام حسین علیه السلام پیاسے شهید هوئے اور آپکے سنگ دل دشمنوں نے آخر وقت تک امام کو پانی نصیب نه هونے دیا ،

3۔ کتب تاریخ میں ذکرهونے والے دوسرے اقوال کے سلسله میں قطعی طور پر کوئی نظر نهیں دی جا سکتی ، اس لئے که نه ان کی شهرت اور کثرت تواتر کی حد تک هے ، نه هی سند که اعتبار سے یه نقل هونے والے مطالب قابل اعتماد هیں پس ان سب کو گمان اور احتمال کی نظر سے دیکھنا هوگا لهذا نه تو امام علیه السلام اور آپ کے اصحاب کی دو یاتین دن کی پیاس کے سلسله میں یقین سے کها جا سکتا هے اور نه پانی کی کثرت کو مانا جا سکتا هے ۔

4۔ اگر رویات کی سند میں پائی جانے والی مشکل کو نظر انداز کر دیں اور تمام تاریخ میں نقل هونے والے اقوال کو ایک ساتھ جمع کر کے انکا ایک مفهوم اخذ کر نا چاهیں تو چند نکتوں کی طرف توجه ضروری هے :

الف: 1- امام علیه السلام اورآپ کے با وفا ساتھیوں کو اپنی شهادت کا یقین تھا اور سب نے خود کو شهادت کے لئے تیار کر رکھا تھا ، ظاهری قرائن اور شواهد بھی کچھ اس طرح تھے که جنکی روشنی میں اول تو جنگ کا نتیجه صر ف یهی تھا که امام اور آپ کے با وفا ساتھی جام شهادت نوش کریں ۔ 2- ظاهری طور پر جنگ کو بهت طولانی نهیں هونا چاهیے تھا اس لئے که امام علیه السلام  کے ساتھیوں کی تعداد دشمن کے مقابله میں بهت کم تھی اور هزاروں کے لشکر کااتنی مختصر تعداد کو شهید کرنا بهت زیاده وقت کاطالب نهیں تھا۔ جیسا که تاریخ بھی یه بتاتی هے که تقریبا 50 لوگ یعنی امام علیه السلام  کے ساتھیوں میں آدھے سے زیاده صبح عاشور حمله اولٰی میں هی شهادت کے درجه پر فائز هو گئے [15] لهذا ان تمام باتوں کو ذهن میں رکھتے هوئے یه کها جا سکتا هے که امام علیه السلام  نے یه چاها که یه شهادت ظاهریاور باطنی دونوں صورتوں میں اپنے حسین انداز میں محقق هو اس کے جزئی سے جزئی حصه میں بھی تقدس اور پاکیزگی کی رنگ آمیزی هو ۔ جیسا که هم جانتے هیں غسل نه صرف ظاهری طور پر طهارت اور پاکیزگی کا باعث هے بلکه باطنی اور معنوی طهارت کی فضا کو بھی فراهم کرتا هے اور یه بات بھی توجه کے لائق هے که ( هماری عادت کے برخلاف ) غسل کی انجام دهی میں بهت زیاده پانی صرف نهیں هوتا هے بلکه بهت مختصر سے پانی میں بھی غسل کیا جا سکتا هے

ب : توجه رهے که بندش آب کو لیکر ایک طرف تو دشمن کی سختی اور اسکا محاصره کی تنگی[16]، دوسری طرف گرمی کی شدت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رهی تھی جس کا نتیجه یه تھا که جتنا جتنا وقت گزر رها تھا امام علیه السلام  اور ان کے اصحاب کے لئے پانی کا حصول اتنا هی مشکل هوتا جا رها تھا اور جو لوگ دیر میں شهید هوئے وه زیاده پیاسے تھے پس یه کها جا سکتا هے امام علیه السلام  نے جب غسل کیا هے اور آپ صفائی ستھرائی سے فارغ هوئے هیں تو اس وقت مشقتوں کے باوجود پانی کی فراهمی کا امکان تھا لیکن جب دشمن کی طرف سے سختی اور تنگی بڑھتی گئی اور گرمی کی شدت میں بھی اضافه هوا هوگاتو ظهر کے بعد امام علیه السلام  کے قافله کو شدید پیاس کا سامنا کرنا پڑا هوگا ۔

ج۔ یه احتمال بھی دیا جا سکتا هے که وه پانی جس سے امام علیه السلام  نے غسل کیا وه پانی پینے کے قابل نه هوگا ۔

بهر صور ت بیان شده نکات کو مد نظر رکھتے هوئے کها جا سکتا هے که کسی حد تک روایات کے درمیان موجود تضاد بر طرف هو گیا هے ۔

مزید  کیا حالیه زمانه کی کسی سائنسی تائید کے ذریعه شق القمر کا واقعه ثابت ھوا ھے؟ فضائی محققین نے چاند کے بارے میں کونسے نئے انکشافات کئے ھیں اور کونسی خبر بیان کی ھے جو اس معجزه کو سائنسی طور پر ثابت کرے؟ مھر بانی کرکے اس خبر کے بارے میں ھمیں کسی سائنسی سائٹ کا پته بتائیے۔

 



[1]  ر.ک: تاریخ الطبری، ج 5، ص 409؛‌ البدایة و النهایة، ج 8، ص 175؛ الاخبار الطوال، ص 255؛ انساب الاشراف، ج 3، ص 181؛ روضة الواعظین، ج 1، ص ‌182؛ الارشاد، ج 2، ص 86 ؛ و با همین مضمون: کشف الغمة، ج 2، ص 47؛ اعلام الوری، ص 235؛ الامامة و السیاسة، ج 2، ص 11.

[2]  اللهوف، ص 117؛ بحار الانوار، ج 45، ص 56.

[3]  البدء و التاریخ، ج 6، ص 11؛ الاخبار الطوال، ص 258.

[4]  بحار الانوار، ج 44، ص 245.

[5]  کامل الزیارات، ص 131؛ وسائل الشیعة، ج 3، ص 282 و ج 25، ص 278؛ مستدرک الوسائل، ج 10، ص 237 و 239.

[6]  کامل الزیارات،صص 151 و 168 و 131.

[7]  بحار الانوار، ج 45، ص 43؛ الفتوح، ج 5، ص 115.

[8]  بحارالانوار، ج 45، ص41.

[9]  بحار الانوار، ج 45، ص 10، الارشاد، ج 2، ص 100؛ اعلام الوری، ص 242؛ تاریخ الطبری، ج 5، ص 428؛ الکامل، ج 4، ص 65

[10]  تاریخ الطبری، ج 5، ص 412؛ الاخبار الطوال، ص 255؛ الفتوح، ج 5، ص 6؛ انساب الاشراف، ج 3، ص 181؛ بحار، ج 44، ص 387، و با این مضمون الامامة و السیاسة، ج 2، ص 11.

[11]  انساب الاشراف، ج 3، ص 181

[12]  مثیر الاحزان، ص 71.

[13]  بحار الانوار، ج 44، ص 387؛ الفتوح، ج 5، ص 91.

[14]  الامالی، الصدوق، ص 150.

[15]  بحار الانوار، ج45، ص12.

[16]  بحارالانوار،ج 44، ص388 ۔

مزید  کھا جاتا ھے که اکثر احادیث کو امام باقر{ع} اور امام صادق{ع} نے بیان کیا ھے، لیکن میں نے ایسی کسی کتاب کے بارے میں نه سنا ھے اور نه اسے دیکھا ھے جس میں ان کا کلام درج کیاگیا ھو اور نھج البلاغه کے مانند ان کا کلام بھی کتابی صورت میں ھو، اگر ایسی کوئی کتاب ھے تو مھربانی کرکے ھمیں اس سے باخبر کیجئے۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.