امام جماعت کو نه پهچاننے کی صورت میں نماز جماعت کا کیا حکم هے؟

0 0

180x480 Banner

امام جماعت کی شرائط میں سے ایک شرط یه هے که وه عادل هو[1] اور یه عدالت امام جماعت میں ثابت هونی چاهئے ـ[2]

اسی حد میں که کسی کے ساتھـ روابط رکھتے هوں اور اس سے کسی گناه کا مشاهده نه کریں وهی عدالت کی علامت هے اور اسے “حسن ظاهر” کهتے هیں جو باطنی ملکه کی دلیل هےـ[3]

عدالت کو ثابت کرنے اور اقتداء جائز هونے کے لئے معیار، اطمینان حاصل کرنا اور امام جماعت میں اس (عدالت) کے وجود کا وثوق پیدا کرنا هے، اگرچه یه دوسروں کی اقتداء کے طریقه سے بھی حاصل هوجائے ـ[4]

اس لئے عدالت کو ثابت کرنے کی راهوں کے بارے میں بعض علماء کی تعبیرات میں یو آیا هے: “عدالت دو عادل گوهوں کی گواهی سے ثابت هوتی هے ، بشرطیکه دو دوسرے عادل گواهوں کی گواهی، بلکه ایک عادل شاهد کی امام کے فسق کے بارے میں گواهی سے ٹکراو پیدا نه هوجائے ـ

مجهولا لعداله ایک گروه کے خبردینے سے اگر اطمینان حاصل هوجائے تو اقتداء کے جائز هونے کے لئے کافی هے بلکه ایک عادل کی گواهی یا دو عادل گواهوں کی شهادت یا  مجهول الحال چند افراد کے اقتداء کرنے سے بھی اگر وثوق و اطمینان پیدا هوجائے تو کافی هے، اس شرط پر که اطمینان کرنے ولا اهل فن، ماهر و صاحب بصیرت هو اور شرعی مسائل سے آگاه هو نه یه که جاهل هو یا ایسا هو جو معمولی چیزوں پر اطمینان پیدا کرتا هو ـ[5]


مزید  بعض اوقات میں روبه قبله بیٹھ کر ائمه اطهار(ع) کےساتھ گفتگو کرتا هوں، ایسے مواقع پر میں اپنےبدن میں ایک خاص حالت محسوس کرتا هوں اور بقول معروف میرے بدن کے رونگٹے کھڑے هوتے هیں، یه حالت کس چیز کى علامت هے؟

[1]  توضیح المسائل (المحشى للإمام الخمینی)، ج‏1، ص: 791 مسأله 1453.

[2]  (فاضل:) امام جماعت کی عدالت ماموم کے لئے ثابت هونی چاهئے اور اصل عدالت میں شک کی صورت میں اس کے پیچھے اقتدا نهیں کی جاسکتی هے ـ

[3]  (مکارم:) مسأله 1268.

(بهجت:) مسأله 1171 امام جماعت میں قابل اعتبار عدالت عبارت هے حسن ظاهری یعنی گناهان کبیره سے پرهیز کرنا اس طرح که اس کے شخصی حالات ظنی صورت میں دلالت کریں که وه ترک گناه کرتا هے نه اتفاقاً چند دنوں کے لئے گناه کو ترک کیا هے ـ اور ماموم کو اس ظاهری حسن زن پر یقین کرنا چاهے اور گناهان ضیغره کی تکرار گناه کبیره کے برابر هے ـ

[4]  الغایة القصوى فی ترجمة العروة الوثقى، ج‏2، ص63.

[5]  الغایة القصوى فی ترجمة العروة الوثقى، ج‏2، ص63، مسأله 14 و 15.

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...