افغانستان اور پاکستان میں سرگرم مذاهب اور فرقے کون هیں؟

0 0

1ـ مملکت افغانستان میں متعدد فرقے، مذاهب اور صوفی مسلک کے طریقے پائے جاتے هیں که ان میں سرگرم فرقے اور مسالک حسب ذیل هیں:

الف ـ فقهی فرقے : حنفی، شیعه، حنبلی (سلفیه)

ب ـ کلامی فرقے : شیعه اور ماتریدیه

ج ـ صوفیه مسالک : قدریه، نقشبندیه ، چشتیه

افغانستان میں سرگرم فقهی مذاهب:

الف ـ مذهب فقهی حنفی: یه ابو حنیفه نعمان بن ثابت (م 150 ھ) کے پیرو هیں ـ احکام کے استنباط میں ابوحنیفه کا طریقه یه تھا که وه اپنے اصحاب سے صلاح و مشوره کرتے تھے اور جب کسی معین نتیجه پر پهنچتے، اس کو تالیف کا حکم دیتے تھے اور اجتهاد میں فرضی مسائل سے بھی استفاده کرتے تھے ـ ابو حنیفه اهل رائے کے سردار شمار هوتے هیں ـ وه منابع میں اول قرآن، پھر سنت صیحح اور اس کے بعد اصحاب کے اقوال کی طرف رجوع کرتے تھے اور جب بزرگوں جیسے ابراهیم، شعبی اور ابن سیرین کے اقوال پر پهنچتے تو کهتے تھے: “ھم رجال ونحن رجال” ـ اس کے بعد قیاس، استحصان، اجماع اور عرف کی طرف رجوح کرتے تھے ـ[1]

ب ـ مذهب شیعه امامیه: یه اهل بیت پیغمبر (ص) میں سے باره اماموں {امام علی (ع)، امام حسن(ع)، امام حسین (ع) اور امام حسین (ع) کی اولاد}کے پیروکار هیں ان کا فقهی طریقه اکثر امام باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کے احدیث اور نظریات سے متاثر هے ـ شیعوں کے فقهی طریقه میں فقهی منابع عبارت هیں: قرآن، سنت (معصوم کا قول، فعل اور بیان)، اجماع (قول معصوم کو کشف کرنے والا اجماع) اور عقل ـ[2]

ج ـ سلفیه: یه وه لوگ هیں، جو خود کو سلف، یعنی اصحاب و تابعین سے نسبت دیتے هیںـ یه چوتھی صدی هجری میں پیدا هوئے هیں اور حنبلی مسلک سے تعلق رکھنے والے تھے اور یوں خیال کرتے تھے “ان کی تمام آرا احمد بن حنبل پر ختم هوتی هیں، یه وهی شخص هے جس نے سلفی اعتقاد کو زنده کیا اور اس راه میں جنگ کی”ـ اس کے بعد ساتویں صدی هجری میں ابن تیمیه نے اسے دوباره زنده کیا اور اس کی دعوت دینے میں بڑی کو ششیں کیں اور بعض دوسرے مسائل اس میں اضافه کئے ـ اس کے بعد بارهویں صدی هجری میں جزیره نما عربستان میں محمد بن عبدالوهاب نے اس نظریه کو احیا کیا که رهاهی بدستور ان افکار کے منادی هیں ـ

سلفیوں کا طریقه ــــ ان کے خیال میں ــــ وهی طریقه هے جو صحابه اور تابعین کے زمانے میں مرسوم تھا، یعنی عقائد کو کتاب اور سنت سے حاصل کرتے هیں ـ وه عقل اور نقل کے درمیان ٹکراو پیدا هونے کی صورت میں نقل (روایت) کو مقدم جانتے هیں اور تاویل اور ظاهر کے بر خلاف کهنے سے سخت پرهیز کرتے هیں ـ سلفی، توحید، خاص کر توحید عبادی پر کافی تاکید کرتے هیں لیکن اس کو صیحح نه سمجھنے کی وجه سے صالحان سے هر قسم کے تقرب، ان کی قبور کی زیارت کو توحید کے منافی جانتے هیں ـ[3]

اس وقت افغانستان میں جوگروه طالبان کے نام سے سرگرم هیں، تشدد سے کام لیتے هیں، خشک اور تند قوانین اجراکرتے هیں اور اس وجه سے دنیا والوں کو اسلام کی به نسبت بدظن اور متنفر کرنے کا سبب بنے هیں، یه گروه سلفی سے منسوب هیں ـ

افغانستان میں سرگرم کلامی فرقے:

الف ـ شیعه: اس کی وضاحت پیش کی گئی ـ

ب ـ ماتریدی: ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی (م 333ھ) کے پیروں کو ماتریدی کهتے هیں ـ یه مکتب چوتھی صدی هجری کے اوائل میں اشعری کلامی مکتب کے همزمان پیدا هوا هے ـ ماتریدی اپنے کلامی استدلال میں ، اهل سنت کے کلامی مکتب میں شیعوں کے نزدیک ترین مکتب هےـ ماتریدی عقائد میں سے بعض حسب ذیل هیں:

1ـ خداوند متعال کی صفات اور ان سے مربوط آیات کی تاویل کے بارے میں تشبیه سے نفی ـ

2ـ حسن و قبح عقلی کا اعتقاد ـ

3ـ قیامت کے دن خدا کو دیکھے جانے کا امکان ـ

4ـ صفات کا عین ذات هونا ـ اگر چه بعض متاخریں نے انھیں ذات پر صفات کا اضافه هونے کی طرف اشاره کیا هے ـ[4]

تصوف کے مسالک اور طریقے:

الف قادریه: یه حنبلی مذهب کے عبد القادر گیلانی کے پیروهیں ـ یه فرقه تمام اسلامی ممالک میں صوفی فرقه کا سب سے بڑا اور وسیع فرقه هے ـ قادری طریقت کے بزرگوں میں سے عبدالقادر جزائری اور دارالشکوه قابل ذکر هیں ـ[5]

ب نقشبندیه : مشهور هے که اس فرقه کا بانی “عبدالخالق غجدوانی” هین جو چھٹی صدی هجری میں زندگی بسر کرتے تھے ـ البته موجوده زمانه کے نقشبندی آٹھویں صدی هجری کے بزرگ بهاءالدین نقشبند سے منسوب هیں ـ

“قادریه” کے بعد یه فرقه صوفی فرقوں میں سب سے بڑا فرقه هے جو ایک خاص علاقه میں محدود نهیں هیں ـ اس فرقه کےسلسله کو خلیفه اول تک پهنچا تے هیں لیکن ان کے سلسله مشائخ میں امام جعفر صادق (ع) کا نام بھی موجود هے ـ خواجه محمد پارسا، عبدالرحمن جامی اور شیخ احمد سر ھندی جیسے عارفوں نے اسی سلسله میں تربیت پائی هے ـ کها جاتا هے که فرقه نقشبندیه میں (اکثر صوفی فرقوں کے برخلاف) شیعی رجحان پایا جاتا هے ـ

مسلک نقشبندیه کے اصول عبارت هیں : دائمی ذکر، مراقبه اورمرشد کی اطاعت ـ[6]

ج ـ چشتیه : یه خواجه معین الدین چشتی (م 663ھ) کے پیروهیں ـ ان کی تعلیمات، نظام مرید و مرادی، ذکر، مراقبه اور سماع پر مشتمل هیں ـ

ذکر میں مرید کو، تصور کرنا چاهئے که اس کا شیخ ذاتی طور پر اس کے سامنے حاضر هے ـ ان کے آداب میں پیر کے پاوں کو چومنا اور اس کے سامنے سجده کرناهے ـ[7]

2ـ پاکستان میں بھی مختلف فرقے، مذاهب اور صوفی مسلک کے طریقے پائے جاتے هیں که ان میں سے سرگرم فرقے اور مسالگ حسب ذیل هیں :

الف ـ فقهی فرقے : حنفی، شیعه، حنبلی (سلفیه)

ب ـ کلامی فرقے : شیعه اور ماتریدیه

ج ـ صوفیه مسالک : دیو بندی، بریلوی، چشتیه، قادریه

پاکستان میں سرگرم مذاهب:

الف، ب، ج ـ حنفی، شیعه اور حنبلی (سلفیه) ـ ان کے بارے می قبلاً وضاحت کی گئی هے لیکن یهاں پر یه بیا ن کرنا ضروری هے که : اس وقت جو گروه، سپاه صحابه کے نام سے پاکستان میں کافی سرگرم هیں، تشدد سے کام لیتے هیں، حضرت امام حسین علیه السلام کے عزاداروں پر حملے کرتے هیں، پزدلانه قتل عام کرتے هیں، مسلمانوں میں خشک و تند قوانین رائج کرتے هیں ، دین کی حقیقت اور مغز کو سمجھنے کے بجائے اس کی سطح پر اکتفا کرتے هیں، خود کو سلفی جانتے هیں اور اس پر فخر کرتے هیں ـ

پاکستان میں کلامی مذاهب:

ماتریدی اور شیعه کلامی فرقوں کی وضاحت کی گئی ـ

تصوف کے مسالک اور طریقے:

الف ـ دیوبندی : یه مدرسه دارالعلوم دیوبند سے منسوب هیں ـ یه مدرسه هندوستان کے شهر سهارنپور کے شهروں میں سے ایک شهر دیوبند میں، شیخ قاسم نانوتومی (م1297ھ) کے توسط سے تاسیس هوا هے ـ اس مدرسه کے موسسین کا اس مدرسه کو تاسیس کرنے میں اصلی مقصد حنفی فقه کی بنیاد پر اسلامی اصولوں کی تقویت کرنا تھا ـ کها جاتا هے که مدرسه دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں کا مذهب : اعتقادات کے لحاظ سے ماتریدی، فقه کے لحاظ سے حنفی اور طریقت کے لحاظ سے چشتیه هے، اگرچه نقشبندیه، قادریه اور سهروردیه کے طریقوں کا بھی احترام کرتے هیں ـ

دیوبندی عقائد کے بارے میں مندرجه ذیل عقائد کی طرف اشاره کیا جاسکتا هے :

1ـ وحدت وجود

2ـ صوفیانه آداب

3ـ اولیاء و انبیاء کی قبور کی زیارت کرنے کا جواز

4ـ پیغمبر اکرم (ص) کی ذات اقدس سے توسل کا جواز

5ـ صفات الٰهی میں بعض آیات کی ظاهری تاویل

ب ـ بریلوی: یه مکتب احمد رضاخان بریلوی (1272 ـ 1340) سے منسوب هے ـ بریلوی، ایک صوفی فرقه هے جو سلسله قادریه سے تعلق رکھتا هے ـ حقیقت میں بریلوی “میاں میر” نامی طریقه قادریه کے ایک بزرگ کے پیروکار هیں، یه ابن عربی سے سخت متاثر هیں ـ لهذا بریلوی عقائد کو وحدت وجود اور ماتریدی کے بنیادی عقائد، جیسے حسن و قبح عقلی اور صفات و ذات کی عینیت میں خلاصه کیا جاسکتا هے ـ البته موجوده بریلوی تصوف کی به نسبت زیاده تر حدیث کی طرف رجحان رکھتے هیں ـ[8]

اهم نکته : انگریزوں نے سید احمد بریلوی کی تحریک کو وهابیت کا لقب دیا هے، اس وجه سے عام طور پر انکی راه پر چلنے والوں کے بارے میں “وهابیت” کا لقب استعمال کیا جاتا هے، لیکن اس کا مراد معروف و مشهور “وهابیت ” نهیں هے اور وهابیت کا دیوبندی اور بریلویوں سے رابطه سوفیصدی صیحح نهیں هے، لیکن چونکه حالیه برسوں میں ان کا حدیث کی طرف رجحان زیاده هوا هے، اس لئے وهابییت کے نزدیک هوئے هیں لیکن پھر بھی ان کے اور وهابیت کے درمیان فرق پایا جاتا هے ـ

چشتیه و قادریه کی وضاحت اس سے پهلے کی گئی ـ

مزید معلومات حاصل کرنے کے سلسله میں اس مقاله کے حاشیه میں ذکر کئے گئے منابع کی طرف رجوع کیا جاسکتا هے ـ


مزید  اپنی سالی ( بیوی کی بھن) کے ساتھه شادی کرنے کا حرام ھونا زمانه بدلنے کے ساتھه ساتھه تبدیل کیوں نھیں ھوتا؟

[1]  ضمیری، جستاری در مکاتب فقهی، بخش مذهب حنفیه؛ اسلامی، رضا، مدخل علم فقه، انتشارات مرکز مدیریت حوزه علمیه قم، تابستان 1384، طبع اول.

[2]  طباطبایی، شیعه در اسلام.

[3]  فرمانیان، مهدی، فرق تسنن، بخش سلفی، نشر ادیان، بهار 1386، قم، طبع اول.

[4]  فرق تسنن، جلالی، مقاله ماتریدیه.

[5]  غنی، قاسم، تاریخ تصوف، انتشارات زوار، تهران، 1383، چاپ نهم.

[6]  ایضاً

[7]  زرین کوب، عبدالحسین، در جستجوی تصوف.

[8]  ایضاً

تبصرے
Loading...