افسانه غرانیق کیا هے؟

0 0

افسانه ” غرانیق” کے بارے میں ، اهل سنت کی بعض کتا بوں میں ابن عباس سے کچھـ عجیب روایتیں نقل کی گئی هیں ، من جمله یه که : ” پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم مکه میں سوره ” النجم” کی تلاوت میں مشغول تهے، جب ان آیات پر پهنچے جن میں مشرکین کے بتوں کے نام تھے که : ” ا فرء یتم اللات و العزی ومنوۃ الثالثۃ الاخری ” یعنی: مجهے خبر دیجئے که کیا ” لات” ، ” عزّی” اور ان کا تیسرا ” منات” نامی بت ( خدا کی بٹیاں هیں ) ؟ [1]“- اس وقت شیطان نے ان کی زبان پر یه دو جملے جاری کئے : ” تلک الغرانیق ، وان شفاعتهن لترجی” !یعنی : ” یه خوبصورت اور بلند مقام رکهنے والے پرندے هیں اور ان سے شفاعت کی امید هے[2]-“!

اس وقت مشرکین خوش هو کر بولے : ” محمد نے آج تک همارے خداٶوں کا نام احترام سے نهیں لیا تھا –” اس وقت پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم نے سجده بجا لایا اور انهوں نے بهی سجده کیا – جبرئیل نازل هوئے اور پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کو انتباه کیا که یه دو جملے میں نے آپ کے لئے نهیں لائے تهے ، یه شیطان کا ڈالا هوا خیال تها- اس وقت زیر بحث آیات ( وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی—) نازل هو ئیں اور پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم اور مو منین کو خبردار کیا گیا [3]-!

اگر چه بعض مخالفین اسلام نے پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے منصوبوں کو کمزور کر نے کے لئے اس خیال سے که ایک اچھے دستاویز کو پیدا کر چکے هیں ، اس افسانه کو پورے جوش وخروش کے ساتھـ نقل کیا هے اور اس میں اپنی طرف سے بهی کچھـ چیزیں اضافه کی هیں ، لیکن بهت سے قرائن سے معلوم هو تا هے که یه ایک جعلی اور گھڑی هوئی حدیث هے جسے شیطان صفت افراد نے قرآن مجید اور پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی فرمائشات کو ناقابل اعتبار ثابت کر نے کے لئے جعل کیا هے، کیونکه :

اولاً : محقیقن کے کهنے کے مطابق ، اس حدیث کے راوی ضعیف اور غیر موثق افراد هیں اور اس کا ابن عباس سے بیان کیا جانا کسی صورت میں ثابت نهیں هے، اور ” محمد بن اسحاق” کے کهنے کے مطابق اس حدیث کو زندیقیوں نے جعل کیا هے – اس نے اس سلسله میں ایک کتاب بهی تالیف کی هے[4]

ثانیاً : سوره نجم کے نازل هو نے اور اس کے بعد پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم اور مسلمانوں کے سجده بجالانے کے بارے میں مختلف کتا بوں میں متعدد احادیث نقل کی گئی هیں ، لیکن ان میں سے کسی ایک حدیث میں افسانه غرانیق کا اشاره نهیں ملتا هے، اور اس سے معلوم هو تا هے که یه جمله بعد میں اضافه کیا گیا هے[5]

ثالثاً : سوره نجم کی ابتدائی آیات واضح طور پر ان خرافات کو جھٹلاتی هیں جهاں پر بیان هو تا هے :” پیغمبر نه گمراه هوا هے اور نه بهکا هے اور وه اپنی خواهش سے کلام بهی نهیں کر تا هے[6]-” یه آیت مذکوره افسانه سے کهاں جوڑ کهاتی هے ؟

رابعاً : اس سوره میں ، بتوں کے نام ذکر کئے جانے کے بعد جو آیات بیان هوئی هیں ، وه سب بتوں کی مذ مت اور ان کی برائی اور پستی کے بیان میں هیں اور کهلم کهلا کهتی هیں : ” یه سب وه نام هیں جو تم نے اور تمهارے باپ دادا نے طے کر لئے هیں ، خدا نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نهیں کی هے در حقیقت یه لوگ صرف اپنے گمانوں کا اتباع کر رهے هیں اور جو کچھـ ان کا دل چاهتا هے اور یقیناً ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس هدایت آچکی هے[7]-“

ان سخت اور شدید مذ متوں کے باوجود کیسے ممکن هے که ، ان سے چند جمله پهلے بتوں کی ستائش کی گئی هو؟ اس کے علاوه قرآن مجید نے واضح الفاظ میں یاد دهانی کی هے که خدا وند متعال پو رے قرآن مجید کو تحریف اور تضعیف سے محفوظ رکهتا هے ، چنانچه هم آیه شریفه میں پڑھتے هیں که : ” هم نے اس قرآن کو نازل کیا هے اور هم هی اس کی حفا ظت کر نے والے هیں [8]–”

خامساً : بتوں اور بت پرستی کے ساتھـ پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم کا مبارزه آپ کی پوری زندگی میں اول سے آخرتک ایک نا قابل سازش ، مسلسل اور بدون توقف جنگ تھی – پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم نے عملی طور پر دکها یا هے که آپ (ص) نے بتوں اور بت پرستی کے مقابلے میں سخت ترین حالات میں بھی کبهی سازش اور نرم رویه کا مظا هره نهیں کیا هے !! ان اوصاف کے پیش نظر کیسے ممکن هے پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ جاری هو جائیں؟

سادساً : حتی، جو لوگ پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کو خدا کی طرف سے مبعوث شده بھی نهیں جانتے هیں اور مسلمان نهیں هیں ، پهر بهی انهیں ایک مفکر ، آگاه اور با تد بیر انسان جانتے هیں جو اپنی حکمت عملیوں کے ذریعه عظیم کا میا بیاں حاصل کر چکے هیں – کیا ایک ایسی شخصیت ، جس کا اصلی شعار ، “لا اله الا الله” تها اور جس کی جنگ هر قسم کے شرک و بت پرستی سے تهی، اور عملاً ثابت کیا هے که بتوں کے سلسله میں کسی قسم کی سازش کے لئے حاضر نهیں تھے، کیسے ممکن هے که وه اپنے اصلی پروگرام کو چھوڑ کر بتوں کی اس طرح ستائش اور تجلیل کریں ؟ !

مذکوره مجموعی بحث سے اچهی طرح واضح هو جاتا هے که افسانه غرانیق دشمنوں اور مخا لفین کی ایک من گهڑت داستان هے، که انهوں نے قرآن مجید اور پیغمبر صلی الله علیه وآله وسلم کی حیثیت کو کمزور کر نے کے لئے اس قسم کی بے بنیاد حدیث کو جعل کیا هے –اسلام کے تمام محققین اسلام ، من جمله شیعه وسنی علماء نے اس حدیث کو سختی سے مسترد کر کے اسے جهٹلا دیا هے اور اسے حدیث جعلل کر نے والوں کی کارستانی بتائی هے[9]

البته بعض مفسرین نے اس حدیث کے بارے میں ایک تو جیه اور تشریح کی هے جو صرف اصلی حدیث کے صحیح هونے کے فرض پر، قابل ذکر هے اور وه یه هے که پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم قرآن مجید کی آیات کو آهسته و آرام سے پڑهتے تهے، اور کبھی تلاوت کے دوران چند لمحات رکتے تهے، تاکه لوگوں کے دلوں کو جذب کرسکیں ، جب آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم سوره نجم کی آیات کی تلاوت میں مشغول تهے ، اور اس آیت ” افراء یتم اللات والعزی و مناۃ الثالثۃ الآخر” پر پهنچ گئے تو بعض شیطان صفت موقع پرستوں (مشرکین) نے فرصت سے استفاده کرتے هوئے جمله ” تلک الغرانیق العلی وان شفا عتهن لترتجی” کو ایک خاص لهجے میں پڑھنا شروع کیا تاکه آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کا منه بنائیں اور لوگوں کے لئے شبهه ایجاد کریں،لیکن اس سوره کی بعد والی آیات نے ان کا بخوبی جواب دیا اور بت پرستی کی سختی سے مذمت کی[10]-“

یهاں پر واضح هو تا هے که بعض لوگوں نے غرانیق کی داستان سے پیغمبر خدا صلی الله علیه وآله وسلم کی طرف سے ان کو اسلام کی طرف جذب کر نے کے لئے بتوں کی به نسبت ایک قسم کی نر می اور انعطاف سے تعبیر کر نے کی کوشش کی هے، لیکن وه ایک بڑی غلط فهمی کے مرتکب هوئے هیں ، اور لگتا هے که اس قسم کی توجیه اور تفسیر کر نے والوں نے بت اور بت پرستی کے خلاف پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کے موقف کو نهیں سمجها هے اور وه قابل اعتبار تاریخی حقائق کو بهی نهیں سمجھـ سکے هیں ، جن کے مطابق آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی طرف سے هر قسم کی لالچ مسترد کی گئی اور انهوں نے اپنے پرو گرام سے ذره برابر پیچهے هٹنا قبول نهیں کیا ، یا یه توجیه کر نے والے تجاهل عارفانه سے کام لیتے هیں[11]


مزید  بعض عرفا نے کیوں اپنے عرفانى مقامات کو بیان کیا هے اور بعض دوسروں نے اس کى ممانعت کى هے؟

[1] – سوره نجم ، ١٩ و٢٠-

[2] – غرانیق، ( مزدور کی وزن پر) غرنوق کی جمع هے – یه ایک قسم کا دریائی پرنده هے- یه پرنده سفید یا سیاه رنگ کا هو تا هے اور دوسرے معنی میں بهی آیا هے (قاموس اللٹۃ)

[3] – المیزان میں زیر بحث آیات کی تفسیر میں یه حدیث اهل سنت حافظوں کی ایک جماعت من جمله ابن حجر سے نقل کی گئی هے-

[4] – تفسیر کبیر فخررازی جلد ٢٣صفحه ٥٠-

[5] – ایضاً-

[6] – سوه نجم ٣و٤ ، وما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی-ا

[7] – النجم ،٢٣، ان هی الا اسماء سمیتموها انتم واباٶکم ما انزل الله بها من سلطان ان یتیعون الا الظن وما تهوی الانفس ولقد جاءهم من ربهم الهدی-

[8] – سوره حجر، ٩، ” انا نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون”-

[9] – مجمع البیان ، تفسیر فخررازی ، قرطبی ، فی ظلال ، تفسیر صافی، روح المعانی والمیزان وتفسیر های دیگر ذیل آیات مورد بحث-

[10] – تفسیر “قرطبی” جلد ٧ص٤٤٧٤” مرحوم طبرسی ” “مجمع البیان” میں بهی اس کو ایک احتمال کے عنوان سے نقل کیا گیا هے-

[11] – تفسیر نمو نه ، ج١٤،ص١٤٢-١٤٥-

تبصرے
Loading...