اعلم فالاعلم کے کیا معنی هیں

0 0

الا علم فالاعلم ایک فقهی اصطلاح هے جو مرجع تقلید کی بحث میں سامنے آتی هے اور اس کے معنی سب سے زیاده علم والا اور اس کے بعد سب سے زیاده علم والا هے ۔

همیں علم هے که مرجع تقلید کی ایک شرط اعلم هونا هے یعنی بقیه مجتهدوں سے زیاده صاحب علم هونا (ایسے هی مجتهد کی تقلید کرنی چاهئے ) اب اگر اعلم مجتهد کا کسی مسئله میں فتویٰ موجود نه هو تو اس کی تقلید کرنے والے دوسرے مجتهد جو علم میں اعلم مجتهد کے بعد والے درجه پر هے ، کے فتوے کی طرف رجوع کر سکتے هیں اور اگر اس مجتهد کا بھی اس مسئله میں کوئی فتویٰ نه هو تو دوسرے مجتهد سے کم درجه والے مجتهدوں کی طرف رجوع کر سکتے هیں اور ضرورت پڑنے پر اسی طرح سلسله کو جاری رکھتے هوئے چوتھے ، پانچویں مجتهد کی طرف رجوع کیا جا سکتا هے ۔

مجتهد حضرات کے اسی علمی درجه کو (اعلیٰ درجه سے نیچے درجه تک) اصطلاح میں اعلم فالاعلم کهتے هیں ۔

لهذا اعلم یعنی علم کے اعلیٰ ترین درجه پر فائز مجتهد اور فالاعلم یعنی وه مجتهد جو پهلے مجتهد سے نیچے درجه پر هے ، اسی طرح آخر تک یه مختصر اور کافی جواب هے ، مگر اس مسئله میں اس سے زیاده دقیق اور علمی جواب موجود هے جس کی جانب بعض فقهاء نے اشاره کیا هے هم یهان پر اس کا ایک نمونه پیش کررهے هیں:

اعلم کا مطلب وه فقیه هے جو مسئله کے منابع اور قواعد سے سب سے زیاده آشنا ، روایات و نظریات کے سلسله میں سب سے زیاده باخبر اور روایات کے سمجھنے میں سارے فقهاء سے بهتر هو ، خلاصه یه که احکام کے استنباط میں بهتیرن هو۔

اعلم کی تشخیص کا منبع اهل خبره (صاحبان نظر اور جان کار افراد) اور اس مسئله میں استنباط کرنے والے هیں۔ اس کلام سے ظاهر هوتا هے که اعلمیت کا معیار یه هے که وه احکام کے استنباط میں بهترین مجتهد هو ، بهترین هونے کا مطلب یه هے که شرعی مسائل میں وظیفه کی تشخیص میں بهترین نمونه که فتویٰ یا واقعیت و حقیقت سے نزدیک هو اس لیئے که اسے اعلمیت کا معیار نهیں بنایا جا سکتا هے اور واقع یا حقیقت سے هونا احتیاط کے ذریعه ثابت هوتا هے اور احتیاط کا راسته اختیار کرنا عقلاء کے نزدیک نه علم کی پهچان هے اور نه هی اطلاع و آگاهی کی دلیل هے پس اجتهاد جمله شرعی مسائل میں وظیفه کی تشخیص و تعیین کے سوا ﻜﭽﻬ اور نهیں هے اور اعلم وه شخص هے جسے بطور کامل یه ملکه حاصل هو۔

ظاهر میں اس کلام سے جو بات ﺴﻤﺠﻬ میں آتی هے وه یه که بهترین مجتهد هونا اس کے اندر تین صفتوں کے هونے پر موقوف هے ۔

1. کسی مسئله سے متعلق قواعد و منابع سے مجتهد کی آشنائی سارے مجتهدوں سے زیاده هو ۔

2. کسی مسئله میں روایات و نظریات سے متعلق اس کی اطلاع سارے مجتهدوں سے زیاده هو۔

3. وه روایات کے فهم و درک کرنے میں بهتیرن مجتهد هو[1] ۔


مزید  یه کیوں کها جاتا هے که دن میں پانی پیتے وقت کهڑا رهنا چاهئے اور رات کو بیٹھ کر پانی پینا چاهئے؟ کیا اس میں کوئی علمی دلیل هے یا صرف روایت هے؟

[1]  صدر ، سید رضا ، الاجتهاد و التقلید ، ص 260-261 ۔

تبصرے
Loading...