اس حدیث کی کیفیت کیا هے که جس میں حضرت علی علیه السلام نے ایرانیوں کے بارے میں اعراب سے مخاطب هوکر فر مایا هے : ” آپ لوگوں نے نزول قرآن کی خاطر ان سے جنگ کی هے ، لیکن دنیا تب تک ختم نهیں هوگی جب تک نه وه اس کی تاویل کی خاطر آپ سے جنگ کریں گے؟

0 0

جس حدیث کا متن آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا هے وه کسی بهی حدیث کی کتاب میں موجود نهیں هے ، لیکن ایک روایت هے جس سے یهی معنی نکلتے هیں – یه روایت کتاب ” قرب الاسناد” میں درج هے-

کتاب ” قرب الاسناد” میں امام جعفر صادق علیه السلام سے ایک روایت نقل کی گئی هے ،جسے انهوں نے اپنے آباد و اجداد علیهم السلام سے اور انهوں نے حضرت علی علیه السلام سے نقل کیا هے که حضرت (ع) نے ایرانیوں کے بارے میں فر مایا : ” آپ لوگوں (اعراب) نے نزول قرآن کی خاطر ان سے جنگ کی هے لیکن دنیا تب تک ختم نهیں هوگی جب تک نه وه ( ایرانی) اس (قرآن) کی تاویل ( تفسیر وباطن) کی خاطر تم لوگوں سے جنگ کریں گے[1]-“

اس روایت کی سند کے بارے میں هم پهلے یاد دهانی کرانا چاهتے هیں که روایتوں کے اعتبار سے ان کے موضوع کے پیش نظر بحث وتحقیق هوتی هے، جوروایتیں اصول عقائد کے بارے میں هوتی هیں ضروری هے که وه مختلف اور قابل اعتماد سلسلوں سے نقل هوئی هوں ، جبکه فقه سے مربوط روایتیں سند کا صرف ایک قابل اعتبار سلسله رکهنے پر قابل اعتبار و نفاذ هو تی هیں-

آپ کی مد نظر جیسی روایتیں ، چونکه نه اصول اعتقاد سے مر بوط هیں اور نه احکام عملی سے ، اس لئے ایسی روایتوں کے اعتبار کے بارے میں عام طور پر بحث و تحقیق نهیں هوتی هے – لیکن اس کے جواب میں جو چیز بیان کی جاسکتی هے ، وه یه هے که ، کتاب قرب الاسناد ، علامه مجلسی کے بحار الانوار کے مقدمه میں کهنے کے مطابق ، علماء میں قابل اعتماد اور مشهور کتاب هے[2] – اس کے مٶلف حمیری بھی عظیم اور قابل اعتبار شیعه راویوں میں شمار هو تے هیں – اس روایت کی سند حمیری کے بعد مختصر طور پر حسن بن ظریف اور حسین بن علوان پر مشتمل هے – حسن بن ظریف کو شیعوں کی رجال کی کتابوں میں قابل اعتماد راوی کے طور پر معرفی کیا گیا هے[3]– لیکن حسین بن علوان کے بارے میں اختلاف پایا جاتا هے اور یه اختلاف اس کے بارے میں ذکر کی گئی ایک عبارت کی وجه سے هے که اس میں آیا هے : ” وه غیر شیعه هے اور اس کے بهائی کی کنیت ابا محمد هے اور وه قابل اعتماد هے-” چونکه صحیح طور پر معلوم نهیں هے که ” قابل اعتماد هے[4]” کی عبارت کا مراد خود حسین بن علوان تها یا اس کا بهائی ، اس لئے اس کے قابل اعتماد هونے پر شک کیا گیا هے – لیکن مرحوم آیت الله خوئی اسے قابل اعتبار جانتے هیں اور فر ماتے هیں که: “اس قسم کی عبارتیں، کتب رجال میں کافی پائی جاتی هیں اور اسی اصلی راوی پر دلالت کرتی هیں [5]–”

بهر حال چونکه کتاب ” قرب الاسناد” کی بهت سی روایتیں اسی سند سے نقل هوئی هیں اس لئے یه روایت سند کے لحاظ سے قابل اعتبار و اعتماد هے-


مزید  اگر میں غسل یا وضو کے لیے وقت تنگ ہونے کی وجہ سے تیمم کروں تو کیا یہ کافی ہے؟ یا یہ کہ پھر بھی مجھے غسل یا وضو کرنا چاہئیے {حتی کہ وقت کی کمی کے فرض پر بھی}؟ مثال کے طور پر، اگر اس وقت مغرب قریب ہو اور میں نے ظہر اور عصر کی نماز ابھی نہیں پڑھی ہے اور غسل یا وضو کرنے کے لیے کافی وقت نہیں ہے تو، کیا میں تیمم کر کے پاک ہو سکتا ہوں؟ اور اس صورت میں کیا مغرب کے بعد بھی میں پاک رہوں گا؟ مذکورہ مفروضات کے پیش نظر کیا مجھے اپنی نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے؟

[1] – وعنه عن الحسین بن ظریف عن ابی علوان عن جعفر عن ابیه عن علی (ع) قال فی فارس ضربتمو هم علی تنزیله ولا تنقضی الدنیا حتی یضربوکم علی تاویله ، قرب الاسناد، ٥٢; اس طرح ملاحظه هو: بحار لانوار، ج ٦٤،ص١٧٤-

[2] – بحار الانوار ،ج١،ص٢٧-

[3] -رجال النجاشی ،ص٦١; الخلاصۃ ص٤٣-

[4] – رجال النجاشی ،ص٥٢-

[5] – معجم رجال حدیث ،ج٤،ص٣٨٣-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.