اسلام کا نظم و نسق کیوں فقھاء کے ھاتھه میں ھے؟

0 0

یھ ایک عقلی اور کلی قاعده ھے، کھ سب مذھبوں میں ، ھمیشھ سب سے آگاه، عالم اور عقیدتمند افراد اس مذھب کی سیاست اور اس کے نظریات کا اجراء کرنے کے ذمھ دار ھوتے ھیں۔

چونکھ اسلام، دین خاتم ھے اور اس کے قوانین معاشرے کی سب ھی اصناف میں یکسان طور پر جاری ھونے کے لئے هیں اس لئے یھ احکام اور قوانین ھر طرف ثابت مستحکم اور جاوداں ھیں، اور سماج کے سبھی افراد کے مسائل اور مشکلات کو ھر زمانے میں یکسان طور پر حل کرتے رھتے ھیں۔ یھ ایک حقیقت ھے که اس دین کو قیامت تک لوگوں کے سوالات کا جواب اور ان کے مسائل کو حل کرتے رھنا ھے۔ بالکل اسی طرح جس طرح صدر اسلام میں یھ دین لوگوں کے مسائل کو حل کرتا رھا ھے۔ کیونکھ ” حلال محمد صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم قیامت کے دن تک حلال ھے اور حرام محمد قیامت کے دن تک حرام ھے” [1]

دوسری جانب، زمانه طبعی طور پرمتغیر اور تبدیلی کا متقاضی ھے، ھر دن حالات اور شرائط بدلتے رھتے ھیں اور ایسے حالات اور شرائط پیدا ھوتےھیں جو پھلے کے حالات اور شرائط سے بالکل مختلف ھوتے ھیں۔ اس بنیاد پر کس طرح ممکن ھے کھ ایک دین جیسی چیز، جو اپنی ذات میں مستحکم اور نا قابل تغییر ھے ، زمانه جیسی چیز سے ، جو اپنے اندر متغیر اور سیال ھے ، کے ساتھه موافق ھو۔

یهیں پر دین کے فقھاء کا کردار روشن ھوتا ھے۔ جو مسائل دین کے ماھرین کے طورپر ثابت عناصر ( یعنی دین) کو متغیر عناصر ( یعنی زمانه ) کے ساتھه ھم آھنگ کرتے ھیں۔

کلی عناصر کا استنباط کرنےکے لئے، کلامی روش کو اپناکر دین کے فلسفھ تک پھنچنا ممکن ھے، اسی طرح فقھی اور تجزیاتی روش[2] کو اپناکر اسلامی نظام اور مکتب فکر تک پھنچنا ممکن ھے۔  یھ صرف فقھاء کی هی ذمھ داری ھے جنھوں نے پوری تاریخ میں بطریق احسن اپنی اس ذمھ داری  کو انجام دیا ھے۔

اسلامی معاشره ، ایک رھبر کا محتاج ھے، اور اسلام میں رھبری کے فرائض کو فقھاء کے ذمھ سونپا گیا ھے۔ کیونکھ حکومتی مسائل ایسے امور نھیں ھیں کھ دین کے دائرے سے باھر ھوں ، بلکھ دینِ خاتم کے کلی عناصر نے بھی اس سلسلے میں ایک مکمل ضابطھ حیات پیش کیا ھے، اور عقل رھبریت کے حوالے سے دین کے دخل سے نھ صرف منع نھیں کرتی بلکھ بعض اوقات حکمت کے مطابق اس امر پر تاکید بھی کرتی ھے۔

اگرھم دینی نقطھ نظر سے حکومت کو دیکھیں گے، اور اس کے اھم فریضے کو الھی اقدار اور اسلامی نصب العین اور شرعی احکام کی حفاظت جانیں گے تو عقل یھ حکم کرتی ھے کھ اس حکومت کے سربراه ایسے ھونے چاھئیں جو مکمل طور پر الھی احکام اور دینی فرائض سے آگاه ھوں اور اگر لوگوں کے درمیان معصوم امام ھوں تو عقل اُسی کو یھ منصب سونپتی ھے، اور جب وه پرده غیب میں ھیں تو عادل فقھاء  معاشره کے امور کو سنبھالنے کے لائق ھیں۔

دوسرے الفاظ میں، عقل حکم کرتی ھے کھ ایک اعتقادی اور عمده نصب العین حکومت کا سربراه ایسا شخص قرار پائے، جو نصب العین سے آگاه ھو اور اسلامی شریعت میں معصوم کی غیبت کے زمانے میں ، ایسے شخص کے مصداق عادل فقھاء ھیں۔


مزید  میں محسوس کرتا ھوں که ایک مدت سے خداوند متعال کے ساتھ میرا رابطه کمزور ھوا ھے۔ البته میرے خیال میں اس کی وجه برے خیالات ھیں جو میرے ذھن میں پیدا ھوتے ھیں۔ ھر چند میں کوشش کرتا ھوں که اپنے آپ کو اس سے نجات دلاﺅں، لیکن بے فائده ھے، بعض اوقات خیال کرتا ھوں که مجھے مرنا چاھئے تاکه اس حالت سے نجات پاﺅں۔ میں کیا کروں؟

[1]  کتاب الکلافی، ج ۱ ص ۵۸ ، ح ۱۹، علی بن ابراھیم عن محمد بن عیسی بن عبید عن یونس عن حریز عن زرارۃ قال سالت ، ابا عبدا للھ علیھ السلام عن الحلال و الحرام ، فقال حلال محمد حلال ابدا الی یوم القیامۃ و حرامھ حرام ابدا الی یوم القیامۃ کا یکون غیره و لا یحی غیره و قال علی علیھ السلام ما احد ابتدع بدعۃ ال ترک بھ سنۃ۔

[2]  مبانی کلامی اجتھاد ، ص ۳۸۳۔ ۔۔ ۴۰۵۔ مکتب و نظام اقتصادی اسلام ، استاد ھادوی ، س ۲۱۔ ۔۔ ۴۴۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.