اسلامی معاشرے میں ایک شھری کی اھم خصوصیت کیا ھیں؟

0 0

مذکوره سوال کا جواب حاصل کرنے کے سلسلھ میں مندرجھ ذیل مقدمات ھماری رھنمائی کرسکتے ھیں۔

۱۔ انسان ایک معاشرتی مخلوق ھےا ور واضح تر الفاظ میں ” مدنی بالطبع ” [1] (فطری طور پر اجتماع پسند) ھے اور تاریخ کے مطابق بھی انسان قدیم زمانھ سے اجتماعی صورت میں زندگی بسر کرتا رھا ھے۔

۲ ۔ اسلام کا حیات بخش مکتب آخری شریعت الھی کے عنوان سے ایک جامع اور مکمل دین ھے ، اور جو انسان کی اجتماعی زندگی سمیت انسان کی زندگی کے مختلف پھلووں کےلئے قوانین اور اخلاقی ضابطے رکھتا ھے ۔

دوسرے الفاظ میں جس طرح خدا سے رابطھ برقرار رکھنے کےلئے یھ دین ، احکام اور دستور العمل کا حامل ھے ، اسی طرح ایک معاشره کے افراد سے رابطھ قائم کرنے کے بارے میں بھی، اس دین نے بھت سے اھم احکام اور قوانین پیش کئے ھیں ،کھ ھر مسلمان کے لئے اجتماعی تعلقات اور طرز عمل میں ان کی رعایت کرنا ضروری ھے۔

۳۔ اسلام کی ھمھ گیری اور کاملیت سے مراد یھ ھے کھ اسلام میں موجود آفاقیت کے عناصر سے استنباط کرکے اسلامی فلسفھ و نظام [2] کو حاصل کیا جاسکتا ھے اور اس کے طریق کار[3] کی منصوبھ بندی کی جاسکتی ھے ۔

۴۔ اس لحاظ سے ھم اعتقاد رکھتے ھیں کھ اگرچھ ماضی میں ، خاص کر صدر اسلام میں اجتماعی زندگی، آج کے مانند ترقی یافتھ اور ماڈرن نھیں تھی اور آج کے ماڈرن معاشره کی مشکلات اور مسائل ، جیسے : ٹریفک ، ھوا کی آلودگی ، راھوں کی رکاوٹیں وغیره بھی اس زمانے میں نھیں تھے ، کھ ھمارے لئے ایک مسلمان شھری کا نمونھ عمل ھو، لیکن اپنی کم آبادی والے چھوٹے شھروں اور سیدھی سادی روایتی زندگی کے لئے بھی اسلام میں ایسے قوانین اور ضابطے مرتب کئے گئے ھیں جو آفاقی ھیں اور ان کا آج کی ترقی یافتھ اور ماڈرن معاشره کی اجتماعی زندگی میں بھی خیالی رکھا جانا چاھئے اور حقیقت میں ان سے ایک مسلمان شھری کی خصوصیا تک پھنچا جاسکتا ھے۔

ذیل میں ایک مسلمان شھری کی بعض سب سے اھم خصوصیات اور صفات کی طرف اشاره کیا جاتا ھے:

الف۔ لوگوں کے حقوق ( حق الناس ) کو پامال نھ کرنا بلکھ ان کا احترام کرنا۔

دین اسلام کی نظر میں ، اجتماعی زندگی کی بنیاد ، دوسروں کے اجتماعی حقوق کا احترام کرنے اور انھیں قبول کرنے پر ھے۔ ذیل میں ھم نمونھ کے طور پر اس کی چند مثالیں پیش کرتے ھیں:

پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم نے ھمسایوں کی حالت کا خیال رکھنے کے سلسلے میں فرمایا ھے:

” جو شخص اپنے ھمسایھ کو تکلیف پھنچائے ، خداوند متعال اس پر بھشت کی خوشبو حرام کرتا ھے۔ [4]

یا ” جو شخص ھمسایھ کا حق ضائع کرے وه ھم میں سے نھیں ھے ” [5]

راستوں میں رکاوٹیں ڈالنا اور کوڑا کرکٹ پھینکنا ،آج کل ، شھروں کے اھم مشکلات میں شمار ھوتا ھے ، یھ وه مسائل ھیں جن کے بارے میں دین اسلام نے ۱۴۰۰ سال قبل توجھ کی ھے اور اسے ایک ناپسند کام قرار دیا ھے اور اپنے پیرؤں کو اس کام کی ممانعت کی ھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم اس سلسلھ میں فرماتے ھیں:

” راستوں پر بیٹھنے سے پرھیز کرنا چاھئے [6]” اور ” مسلمانوں کے راستوں سے آزار و اذیت پھنچانے والی چیزوں کو ھٹا دینا چاھئے” [7]

امام علی علیھ السلام فرماتے ھیں:

گزرگاھوں میں بیٹھنے سے پرھیز کرنا چاھئے ” [8]

امام صادق علیھ السلام فرماتے ھیں: ” جو بھی چیز مسلمانوں کے راستھ پر رکھنے سے انھیں نقصان پھنچائے اس چیز کا مالک ضامن (ذمھ دار ) ھے۔ [9]

لھذا امام خمینی(رح) اس قسم کی روایات سے استفاده کرکے اپنی فقھی کتاب تحریر الوسیلھ میں لکھتے ھیں:

” اگر کوئی شخص کسی تنگ کوچھ یا سڑک پر کھڑا ھو اور عبور کرنے کےلئے کوئی راستھ نھ رھے اور کوئی دوسرا شخص اچانک (بغیر قصد ) اس سے ٹکرا کر مرجائے اور اس طرح اگر کوئی کسی راه پر بیٹھا ھو اور کوئی شخص اس کی وجھ سے پھسل کر مرجائے ، تو راستھ پر بیٹھا ھو شخص اس کے خون بھا کا ضامن (ذمھ دار ) ھے۔ [10]

اس لئے ایک مسلمان شھری ، اسلامی تعلیمات کے مطابق ، دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرنے اور ان کے حقوق ضائع کرنے کا سبب نھیں بن سکتا ھے ، بلکھ وه شھری ، حقوق کے خیال رکھنے کا پابند ھوتا ھے۔

ب) ذمھ داری کا احساس :

اسلامی معاشره کی اصلی خصوصیت مشترک اجتماعی ذمھ داری میں (پیدا ھوتی )ھے ۔

یھ مشترک ذمھ داری خاندان سے شروع ھوکر ھمسایھ اور شھر وغیره تک پھنچتی ھے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق اسلامی معاشره میں ایک شھری کو ثقافتی ، اقتصادی ، سیاسی مسائل سمیت معاشره میں رونما ھونے والی ھر چیز   یھاں تک کھ طبیعی آفات جیسے غیر متوقع حوادث کے بارے میں بھی تکلیف شرعی کا احساس کرنا چاھئے۔ اور اپنی طاقت اور امکان بھر ان مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاھئے۔

ذیل میں ھم ان میں سے چند ذمھ داریوں کی طرف اشاره کرتے ھیں:

۱۔ دوسروں کی مدد کرنا:

قرآن مجید میں دوسروں کی مدد کرنا ھر مسلمان کا فرض جانتے ھوئے ارشاد ھوتا ھے:۔

” اگر دین کے معاملھ میں تم سے مدد مانگیں تو تمھارا فرض ھے کھ مدد کرو ” [11]

اور ” مومن آپس میں بھائی ھیں ” [12]

اسلامی معاشره میں مسلمان ایک دوسرے کی قسمت ، مستقبل اورمشکلات کے بارے میں ذمھ دار ھیں اور اگر کوئی اس ذمھ داری سے پھلو تھی کرے ، تو منقولھ روایات کے مطابق مسلمانوں کے زمره سے وه خارج ھوتا ھے:

” جو شخص صبح کرے اور مسلمانوں کے امور کے بارے میں اھتمام نھ کرے ، وه مسلمان نھیں ھے ” [13]

امیر المؤمنیں حضرت علی علیھ السلام ، اسلامی معاشره کے شھری، من جملھ ، علماء ، و رؤسا ء وغیره کو اس معاشره کے لوگوں کی بھ نسبت زیاده ذمھ دار جانتے ھوئے فرماتے ھیں: ” خداوند متعال نے اَن پڑھوں پر سیکھنے کی ذمه داری ڈالنے سے پھلے عالموں کو سکھانے کی ذمھ داری سونپی ھے”[14] ۔

خداوند متعال نے محتاجون کی روزی کو دولتمندوں کے ھاتھه میں قرار دیا ھے۔۔۔ اور خداوند متعال ان صاحبان ثروت سے باز پرس کرے گا” [15]

اس سلسلھ میں ھمسایوں کی مدد کرنے کی کافی اھمیت ھے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیھ السلام فرماتے ھیں:

” پیغمبر اکرم صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم ھمسایون کے بارے میں اس قدر تاکید اور سفارش فرماتے تھے کھ ھمیں ھمسایھ کو ھمسایھ سے وراثت ملنے کا شک ھونے لگا ” [16]

اس سلسلھ میں امام سجاد علیھ السلام کے رسالھ حقوق میں آیا ھے :

” جب ھمسایھ پر کسی قسم کا ظلم ھوجائے ، تو اس وقت اس کی مدد کی جانے چاھئے اور اس کے ساتھه رحم و کرم کا برتاؤ کرنا چاھئے۔” [17]

۲۔ امر بالمعروف و نھی عن المنکر [18]

ایک مسلمان شھری اسلامی معاشره کو کشتی کے مانند آگے بڑھاتا ھے قدرتی بات ھے اس کشتی کو چلانے میں حسب حال امور کا اھتمام کرتا ھے اور اجتمعاعی نا مساعد حالات کے بارے میں حساس ھوتا ھے اور انھیں معمولی جان کر لاپروائی کی حالت میں دریا عبور نھیں کرتا ھے اور وه اعتقاد رکھتا ھے کھ اس کشتی کے ایک کونے میں سوراخ کرنے کا نقصان صرف سوراخ کرنے والے کو ھی نھیں پھونچے گا بلکھ اس کی لپیٹ میں کشتی میں سوار سب لوگ آجائیں گے اور آخر کار کشتی غرق ھوجائے گی۔

اسلام میں امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا مقولھ اسی خصوصیت کی طرف اشاره کرتا ھے۔

اسلام میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر ، نماز و زکات جیسے دوسرے واجبات کے مانند ھیں اور انھیں ایک قسم کا جھاد شمار کیا جاتا ھے اور کمال تک پھنچنے ، اقدار کے احیاء اور برائیوں اور نا مساعد حالات سے معاشره کو سدھارنے کے اھم عوامل میں گنا جاتا ھے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ھے : ” مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ھیں کھ یھ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ھیں اور برائیون سے روکتے ھیں ۔۔۔ ” [19]

ایک دوسری آیھ شریفھ میں ارشاد ھوا ھے:

” آپ بھترین امت تھے۔ جو انسانوں کے فائدے کے لئے پیدا کئے گئے ھیں تا کھ نیکیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے روکیں ” [20]

امام علی علیھ السلام ایک مثالی مسلمان کے بارے میں فرماتے ھیں:

” امر بالمعروف اور نھی عن المنکر (نیکیوں کا حکم اور برائیوں سے روکنا) دو الھی صفتیں ھیں ۔ [21]

حضرت علی علیھ السلام ایک اور جگھ پر ، امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو تمام عبادتوں ، حتی کھ راه خدا میں جھاد سے بھی بالا تر اور برتر جانتے ھیں:

” ۔۔ ان میں ایک اور گروه کے لوگ ھیں ، جنھوں نے نھی عن المنکر سے اپنے ھاتھه   ، زبان اور دل کو روکا ھے ، یھ چلتے پھرتے مردے ھیں جن کی زندگی کا کوئی فائده نھیں ھے ، کیونکھ تمام قابل قدر اعمال ، حتی کھ راه خدا میں جھاد بھی ، امر بالمعروف اور نھیں عن المنکر کے مقابلھ میں کچھه نھیں ھے۔ [22]

ج ) اجتماعی معاملات میں اخلاق اسلامی کے اثرات

لوگوں کے ساتھه اچھے برتاؤ اور حسن اخلاق سے پیش آنا ، معاشرے میں انسان کی ترقی کے اھم ترین عوامل ھیں ، حتی کھ مختلف قوموں میں اس کا رواج ، معاشره میں عدل و انصاف نافذ کرنے میں موثر ثابت ھو سکتا ھے۔

یھاں پر ھم اسلام کے اجتماعی اخلاق کے چند نمونوں کی طرف اشاره کرتے ھیں؛

۱۔ حسن اخلاق ، نیک کردار اور خنده روئی

قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کو مخاطب قرارد ے کر ارشاد الھی ھے؛

” اور آپ بلند ترین اخلاق کے درجھ پر ھیں ” [23]

” پیغمبر یھ اللھ کی مھربانی ھے کھ تم ان لوگوں کے لئے نرم ھو ورنھ اگر تم بد مزاج اور سخت دل ھوتے تو یھ تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ھوتے ۔۔۔۔” [24]

پس قرآن مجید ، نیک اخلاق ( حسن خلق ) کو پیغمبر صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم کی طرف لوگوں کے جذب و کشش کا کامیاب عامل سمجھتا ھے۔

اس موضوع کے بارے میں ائمھ اطھار علیھم السلام کی طرف سے ھم تک بھت سی روایتیں پھنچی ھیں ، جن میں سے چند نمونوں کی طرف ھم ذیل میں اشاره کرنے پر اکتفا کرتے ھیں:

پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ وآلھ وسلم نے فرمایا: ” اچھا اور پسندیده اخلاق نصف ایمان ھے ” [25]

امام صادق علیھ السلام ، پیغمبر اسلام سے نقل کرتے ھیں کھ آنحضرت (ص) نے فرمایا؛ ” ایمان وھی نیک اخلاق ھے۔۔۔” [26]

امام علی علیھ السلام لوگوں کے ساتھه نیک برتاؤ اور خنده پیشانی سے پیش آنے کے بارے میں فرماتے ھیں : ” ایمان میں مکمل ترین لوگ ، ان میں سے خوش اخلاق ترین افراد ھیں” [27]

امام صادق فرماتے ھیں: ” لوگوں کے حق میں نیکی اور حسن اخلاق۔ زمیں ( اور معاشره ) کے آباد ھونے کا سبب بن جاتا ھے” [28]

شاید یھ کھا جاسکتا ھے کھ اپنے ھی جیسے شھریوں کے ساتھه معاشرے کی تمام سطحوں پر ، خاص کر گاھکوں کے ساتھه شائستھ برتاؤ اور انھیں خنده پیشانی سے قبول کرنا ، ممکن ھے اجتماعی تعلقات میں تقویت پیدا ھونے کا سبب بن کر بھت سے اجتماعی مسائل اور لوگوں کے مشکلات کو حل کرنے کا ،   ماحول فراھم کردے۔ اور آج کل کی مشینی زندگی کے بھت سے مشکلات جیسے نفسیاتی مشکلات کو روکنے کا سبب بن جائے ، اسلام میں حسن اخلاق کی تاکید کرنے میں یھی راز مضمر ھے۔

۲۔ تواضع و انکساری:

تواضع ، یعنی لوگوں کے سامنے ادب، انکساری اور فروتنی سے پیش آنا اور خود نمائی اور خود پسندی سے اجتناب کرنا ، تواضع انسان کے اندرونی حالات اور صفات میں سے ھے جو اس کے اعمال و افعال میں نمودار ھوتا ھے ۔

بیشک لوگوں اوراپنے جیسے شھریوں کے سامنے فروتینی اور انکساری کا مظاھره کرنا۔ دنیا میں اجتماعی محبوبیت کا سبب اور آخرت میں رضائے اھلی کا موجب بن جاتا ھے۔ یھ موضوع اھم مسائل میں سے ایک ھے ، جس کے بارے میں اولیائے الھی نے ھمیشھ لوگوں کو تاکید کی ھے۔

امام علی علیھ السلام فرماتے ھیں: بلند رتبھ کے وقت تواضع ، اور فروتنی اقتدار کے وقت عفو و بخشش کے مانند ھے” [29]

” انکساری نعمت کو کمال بخشتی ھے” [30]

بیشک ، تواضع ، انسان کو اونچے رتبھ اور بلند مقام کے علاوه کوئی چیز نھیں دیتی ، پس تواضع کرنا چاھئے ، خدا کی رحمت آپ پر ھو ، [31]

قرآن مجید میں تواضع اور فروتنی کو خدکے صالح بندوں کی علامت قرار دیا گیا ھے۔ : ” اور اللھ کے بندے وھی ھیں جو زمیں پر آھستھ چلتے ھیں” [32]

۳۔ نرمی و مھربانی

رفق و مدارا ، یعنی لوگوں کے ساتھه نرمی اور مھربانی سے پیش آنا،

چونکھ انسان اجتماعی زندگی بسر کرتا ھے ، اسلئے دوسرے انسانوں سے مسلسل تعلقات رکھتا ھے اور اس کے حقوق کا دوسرے لوگوں کے حقوق سے مختلف صورتوں میں چولی دامن کا ساتھه ھے ۔ لھذا لوگوں کے ساتھه نرمی اور مھربانی سے پیش آنا ان مسائل میں سے ھے ، جس کی طرف مکتب اسلام نے خصوصی توجھ کی ھے۔

امام صادق علیھ السلام نے پیغمبر اسلام صلی اللھ علیھ و آلھ وسلم سے نقل کرتے ھوئے فرمایا ھے: ” جس طرح خداوند متعال نے ھمیں واجبات کا حکم دیا ھے ، اسی طرح لوگوں کے ساتھه نرمی اور مھربانی سے پیش آنے کا بھی حکمدیا ھے۔[33]

اسی طرح فرماتے ھیں : ” لوگوں کے ساتھه نرمی سے پیش آنا نصف ایمان ھے اور ان کے ساتھه مھربانی سے پیش آنا حیات ھے ۔ [34]

دین اسلام نے مھربانی اور نرمی سے پیش آنے کے سلسلھ میں ، دشمنوں کا بھی خیال رکھا ھے ، اس سلسلھ میں قرآن مجید میں ، خداوند متعال حضرت موسی اور ھارون علیھما السلام کو پیغمام دیتا ھے ؛ ” اس سے نرمی سے بات کرنا کھ شائد وه (فرعون ) نصیحت قبول کرلے یا خوف زده ھوجائے ” [35]

امام علی علیھ السلام اپنے بیانات میں مومن کی خصوصیات اور اوصاف کے بارے میں فرماتے ھیں: ‘ مومن ۔۔۔ نرم مزاج اور مھربان ھوتا ھے باوجودیکھ پتھر سے سخت تر جان کا مالک ھوتا ھے، لیکن غلام سے بھی زیاده خاکسار ھوتا ھے ۔”[36]

۴۔ حلم و بردباری

حلم ، یعنی اجتماعی و انفرادی زندگی کے مسائل اور مشکلات سے دوچار ھوتے وقت ثابت قدم اور استحکام کا مظاھره کرنا ، مختلف جذبات ، مختلف سلیقون اور مختلف نظریات و افکار اور مختلف مزاجوں اور اخلاق سے برتاؤ   کرنا اس لئے اجتماعی زندگی کی ابتدائی شرط حلم و بردباری ھے ، مخالفوں اور مشرکوں کی طرف سے اذیت و آزاد کے مقابل ، تمام انبیاء علیھم السلام کی صفات اور خصوصیات میں سے ایک یھی حلم و برباری تھی۔

امام علی علیھ السلام حلم و بردباری کو اوصاف الھی بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں:

” شکر اس خدا کا کھ ۔۔۔ جس کا حلم اس قدر عظیم ھے کھ خطاؤں کو معاف فرماتا ھے” [37]

حضرت علی علیھ السلام ایک دوسری جگھ پر فرماتے ھیں : ” جو حلم و بردباری کا مالک ھو ، وه اپنے کام میں تفریط کا شکار نھیں ھوتا ھے اور لوگوں کے درمیان قابل ستائش زندگی بسر کرتا ھے ” [38]

” بردبار شخص جو اپنی بردباری و حلم کا سب سے پھلا صلھ پاتا ھے ، وه نادانوں کے مقابل لوگوں کی طرف سے اس کی حمایت ھے [39]۔

ایک اسلامی معاشره کا باشنده ، زندگی کے نا مساعد حالات کے مقابلے میں برد بار ھوتا ھے اور دینی تعلیمات کے الھام سے امام علی علیھ السلام کے اس فرمان پر توجھ کرتا ھے ” پرھیز گار انسان ، زندگی کے حوادث اور نا مساعد حالات کا برد باری سے مقابلھ کرتا ھے۔ [40]

مذکوره مطالب اسلامی معاشره کے ایک شھری کے اوصاف کے چند نمونے تھے جنھیں ھم نے خلاصھ کے طور پر بیان کیا۔

آخری نکتھ یھ ھے کھ اجتماعی قوانین بنانے کا مقصد ، اجتماعی زندگی کو استحکام بخشنا ، شھرویوں کے حقوق کی حفاظت کرنا اور معاشره کو تباھی اور زوال سے بچانا ھے۔  ایک معاشره میں اخلاقی نظام کو رائج کرنے کے لئے ضروری ھے کھ ان اخلاقی موضوعات کی طرف خاص توجھ دی جائے جو انسان اور معاشره کی عزت و سربلندی کی حفاظت کے لئے لازم ھیں ، معاشره کے ھر فردکو اخلاق اسلامی کی مسلسل تربیت دیتے ھوئے فضائل اخلاقی کو عملی جامھ پهنا کر معاشره میں ایک اخلاقی تمدن تشکیل دینا چاھئے ، اور لوگوں کو اخلاقی خصوصیات کی مشق کرکے اپنی زندگی کے ماحول میں انھیں مستحکم کرنا چاھئے ۔ تا کھ یھ اخلاقی فضائل پورے معاشره پر چھا جائیں۔

اسلامی معاشره کے اخلاقی موضوعات میں عام لوگوں کی شرکت کے نتیجھ میں ایک سالم انسان اور اسلامی معاشره وجود میں آئے گا۔


مزید  کن دلائل سے معلوم هوسکتا هے که سوره الرحمن کی آیت نمبر ٢٦ سے مراد انس و جن هے اور یا جنات زمین پر زندگی کر تے هیں اور یا. . . اس قسم کے دوسرے مسائل ، اور کن قرائن کے پیش نظر قرآن مجید کی آیات سے اس سلسله میں استفاده کیا جاسکتا هے؟

[1]  مزید معلومات کے لئے ملاحظ ھو: ترجمھ المیزان ، ج۲۔ ص ۱۷۷۔

[2]    ان مفاھیم کو سمجھنے کےلئے ملاحظھ ھو :” مکتب و نظام اقتصادی اسلام” ، ھادوی تھرانی ، مھدی، ص ۱۹ ۔ ۵۱۔

[3]  قابل توجھ بات ھے کھ آفاقی عناصر کا استنباط اور مکتب و نظام اسلام کے فلسفھ تک دست رسی فقھی صورت میں انجام پاتی ھے اور یھ فقیھ کا کام ھے ۔ لیکن طریقھ کار کی منصوبھ بندی میں ، علم اور علوم اجتماعی کے علماء کا اھم رول ھوتا ھے ، حقیقت کو بیان کرنا ، اور مناسب طریقھ کار پیش کرنا اور اس طریقھ کو عملی جامھ پھننانے کے شیوه کی تجویز ، علوم اجتماعی کے علماء کی ذمھ داری ھے جو معاشره میں طریقھ کار کو عملی جامھ پھنانے سے پھلے انجام پانا چاھئے ، اور ا س کے محقق ھونے کے بعد بھی نظام کے مقاصد کے لئے اور اسے انحرافت سے بچانے کے لئے اقدام کرنا ، علوم اجتماعی کی ذمھ داری ھے۔

لیکن اس مرحلھ میں بھی طریقھ کا ر کے عناصر کے محقق ھونے کےلئے دینی نصوس کے ثابت اور پائدار طریقوں پر مبنی استنباط فقیھ کے ذمھ ھے ، اس کے علاوه زمان و مکان کے خاص حالات کے بارے میں اسلامی نظام کے آفاقی عناصر کی نظامت اور نگرانی بھی فقیھ ذمھ داریون میں شامل ھے ۔ ( “مکتب و نطام اقتصادی اسلام” ،ھادوی تھرانی ، مھدی ، ص ۴۴)

[4] بحار الانوار ، محمد باقر مجلسی ، ج ۷۲۔ ” من آزی جاره حرم اللھ علیھ ریح الجنۃ”

[5]  ایضا ً ج ۷۱ ص ۱۵۰۔ ” ۔۔ ” من ضیع حق جاره فلیس منا ”

[6]  ” ایاکم و الجلوس علی الطرقات ” نراقی ، محمد مھدی ، جامع السعادات ، ج ۲ ص ۲۳۸۔

[7]  ” اعزل الاذی عن طریق المسلمیں ” علاء الدین علی ، ھندی ، کنز العمال ج ۱۵۔ ص ۷۸۱۔

[8]  معادیخواه ، عبد المجید ، خورشید بی غروب ( ترجمھ نھج البلاغھ ) ص ۳۸۰،کلمھ، نمبر ش ۶۹۔ “۔۔۔ و ایاک و مقاعد الاسواق۔۔۔”

[9]   حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعھ ، ، ج ۱۹ ص ۱۸۱۔

[10] خمینی ، سید روح اللھ ، تحریر الوسیلھ ، ج ۲ ، ص ۵۶۲۔

[11] سوره انفال / ۷۲

[12] ” انما المومنون اخوه۔۔۔ ” سوره حجرات / ۱۰۔

[13] کلینی ، اصول کافی ، ج ۲، ص ۱۳۱۔ ” من اصبح و لا یھتم بامور المسلمیں ، فلیس بمسلم”

[14] معادیخواه ، عبد المجدی ، خورشید بی غروب ( ترجمھ نھج البلاغھ ) ص ۵۲۲، کلمات قصار ۴۷۸۔ ” ما اخذ اللھ علی اھل اجھل ان یتعلموا حتی اخذ علی اھل العلم ان یعلموا”

[15]   ان اللھ سبحانھ فرض فی اموال الاغنیاء اقوا الفقراء۔۔۔۔ ” ایضا ً ، ص ۴۷۹۔ کلمات قصار، ۳۲۹۔

[16]  الکافی، ج ۷۔ ص ۵۱۔ ، بحار الانوار ج ۴۲۔ ص ۲۴۸۔

[17]  ایضا ً ج ۷۱، ص ۷، ” ۔۔۔ و نصرتھ اذا کان مظلوما ۔۔۔ و تعاشره معاشرۃ کریمۃ”

[18] لوگوں کو نیک کاموں کی دعوت اور برے کاموں سے روکنے کو امر بالمعروف و نھی از منکر کھتے ھیں۔

[19] ” المومنون و المومنات بعضھم اولیاء بعض ، یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر ، ، توبھ ۷۱۔

[20] “کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر” سوره توبھ۔

[21]  معادیخوه ، عبد المجید، “خورشید بی غروب” ( ترجمھ نھج البلاغھ ) ص ۱۷۷، ۱۷۸۔ ” ۔۔ و ان الامر بالمعروف و النھی عن المنکر لخلقات من خلق اللھ سبحانھ۔۔”

[22] معادیخوه ، عبد المجید، “خورشید بی غروب” ( ترجمھ نھج البلاغھ ) ص ۴۹۴۔

[23] ” انک لعلی خلق عظیم ” سوره قلم ۔ ۴

[24] آل عمران ، ۱۵۹۔ ” فبما رحمۃ من اللھ لنت لھم و کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک۔۔۔”

[25]  “الخلق الحسن نصف الدین “، ‘ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار ، ج ۶۸، ص ۳۸۵۔

[26]  ” الایمان حسن الخلق” ۔۔ ایضا ، ص ۳۹۲۔

[27] ایضاً

[28] حر عاملی ، محمد بن حسن ، وسائل الشیعھ ، ج ۵ ص ۵۰۴۔ ” البر و حسن الخلو یعمرون الدیار۔۔۔۔”

[29]  ” التواضع مع الرفعۃ ، کالعفو مع القدرۃ، غرر الحکم ، (فھرست موضوعی ) ص ۴۰۵۔

[30]  ” و بالتواضع تعم النعمۃ” معادیخواه ، عبد المجید ، “خورشید بی غروب “( ترجمھ نھج البلاغۃ ) ص ۴۴۸۔ کلمھ قصار ، ۲۱۵۔

[31]  نراقی ، محمد مھدی، جامع السعادات ، ج ۱، ص ۳۶۳۔

[32] و عباد الرحمن   الذین یمشون علی الارض ھونا “َسوره فرقان / ۶۳۔

[33]  حر عاملی ، محمد بن حسن ،وسائل الشیعھ ، ج ۸ ص ۵۴۰ ، ” امرنی ربی بمداراۃ الناس ” کما امرنی باداء الفرائض ”

[34]  ایضاً

[35] سوره طھ / ۴۴۔ ” فقولا لھ قولا لینا لعلھ یتذکر او یخشی ” اس آیت میں موجود جس اھم نکتھ سے سبق حاصل کیا جاسکتا ھے وه یھ ھے کھ ممکن ھے مدارا اور نرمی کی صورت میں ، حتی مخالفین بھی اس اسلامی اخلاق سے سبق حاصل کرکے ھدایت پائیں۔

[36] معادیخواه ، عبدالمجید، ، “خورشید بی غروب “( ترجمھ نھج البلاغه ) ص ۴۸۱۔ کلمھ قصار ۳۳۸۔

[37]  ” الحمد للھ ۔۔۔ الذی عظم حلمھ فعفا۔۔۔” ایضا ً ص ۲۷۵۔ خ ۳۳۳۔

[38] ایضاً س ۳۹۵۔ کلمھ قصار ۳۰۔

[39]  ایضا ، ص ۴۴۴۔ کلمات قصار ۱۹۷۔

[40] ” و اما النھار ، فحلماء علماء ۔۔” ایضا ً ص ۳۳۱۔ خ ۱۸۴۔

تبصرے
Loading...