اسلامی حکومت میں شهری تنظیموں کا رول کیا هے ؟

0 0

180x480 Banner

ایک معاشره میں حکومت اور عوام کے درمیان تشکیل پانے والی تنظیموں کو شهری تنظیمیں کها جاتا هے ـ معاشره کی شهری تنظیمیں، آزاد تنظیمیں هوتی هیں جو معاشره میں عام لوگوں میں موجود موضوعات اور مسائل کے بارے میں بحث و مباحثه اور اقدام کرتی هیں ـ اس لئے ضروری هے که یه تنظمیں آزاد اور مستقل هوں ـ حکومت اور سماجی تنظیموں کے درمیان تعامل اور گفتگو کے طریقے کار کے نتیجه میں اس قسم کی تنظیمیں مستقل اور پائدار صورت اختیار کرتی هیں اس طرح یه تنظیمیں ایسے حالات میں رشد کرتی هین که ان کا وجود اور پھیلاو حکومت کی مشروعیت اور اقتدار کے لئے کوئی خطره شمار نهیں هوتا هے ـ[1]

ایک دینی معاشره میں، جهاں پر لوگ دینی احکام کے پابند هوتے هیں، شهری تنظیمیں بھی دینی رنگ و روپ کی حامل هوتی هیں، اور دینی معاشره کو فکری هویت اور جهت دینے میں کلیدی رول ادا کرتی هیں ـ اس طرح جس قدر معاشره دینی تر هو، اسی قدر ان شهری تنظیموں کا اثر و رسوخ بھی زیاده هوگا اور جس قدر یه تنظیمیں حکومت سے آزاد تر هوں، ایک معاشره کی تعمیر میں بهتر اور موثر رول ادا کر سکتی هیں ـ اس کے علاوه اکثر شهری اور دینی تنظیمیں گزشته زمانه سے مربوط هیں معاشره کے جدید فکری اور تعلیم یافته افراد میں زیاده موثر هیں ـ

ایران کی شهری تنظیموں کی ماهیت :

ایران کے لوگوں کے مذهبی هونے اور ان کی آگاهی کی سطح بلند هونے کو وجه سے دینی اور شهری تنظیمیں قدیم زمانه سے اس معاشره میں سرگرم عمل تھیں اور دوسری شهری تنظیموں کی به نسبت، بهت قدیمی تر هیں ـ ان تنظیموں نے مختلف سیاسی و اجتماعی میدانوں میں کلیدی رول ادا کیا هے ـ “قنوت”، اور “عیاران”، جیسی تنظمیں اور خانقا هیں، ثقافتی تنظمیں، عزاداری کی تنظیمیں، مسجد اور حتی بعض صنفی تنظیمیں، جیسے بازار وغیره جیسی شهری تنظیمیں ایران کے معاشره میں سرگرم عمل تھیں اور مختلف حکومتوں کے ساتھـ مختلف معامله کرتی تھیں ـ ان شهری تنظیموں کے ساتھـ حکومتوں کا برتاو بھی یکساں نهیں هوتا تھا اور مختلف مواقع پر ان تنظیموں کے ساتھـ مختلف برتاو کیا جاتا تھا، کبھی ان کے ساتھـ سازگار اور مناسب برتاو کیا جاتا تھا اور یهاں تک ان که تایئد کی جاتی تھی اور کھبی ان کی مخالفت کی جاتی تھی اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جاتی تھی ـ حقیقت میں ان تنظیموں کی آزادی کا ان کی سرگرمیوں سے براه راست تعلق هوتا تھا ـ جس قدر ان تنظیموں کی سرگرمیاں سیاسی هوتی تھیں، ان کی مخالفت اور دشمنی زیاده هوتی تھی ـ چنانچه جب “اخوان الصفا” نامی فکری و فلسفی تنظیم نے سیاسی رقابت کا فیصله کیا، تو حکومت کی طرف سے شدید ردعمل کا مظاهره کیا گیا ـ جبکه خانقاهیں، چند وجوهات کی بنا پر مسلسل ارباب اقتدار کے کنٹرول میں هوا کرتی هیں اور ان کے خلاف بهت کم رد عمل دکھایا جاتا تھا ـ کیونکه یه سیاست میں زیاده مداخلت نهیں کرتی تھیں ـ

ان تنظیموں نے همیشه ایرانی قوم میں خاص هویت کو تقویت بخشی هے که ایک طرف سے ان کی سیاسی جهت تھی (البته مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے ساتھـ کو شش کی گئی هے) اور دوسری جهت سے ان تنظیموں نے معاشره میں دین، اصول اور دینی قدروں کے بارے میں ایک تعبدی تصور کو ایجاد کیا که یه مسئله ایرانی معاشره میں بعض دینی اعتقادات اور رسم و رسوم کو تقویت بخشنے میں موثر ثابت هوا ـ شائد یه کها جاسکتا هے که قدیم زمانه میں لوگوں کی دینی هویت ان کی دوسری هویتوں پر غالب تھی اور دینی تنظیمیں، معاشره کے افراد کو هویت بخشنے میں کلیدی رول ادا کرتی تھیں  چونکه اس زمانه کی شهری تنظیمیں، کل معاشره کی بی نسبت هویت کے لحاظ سے کوئی بنیادی فرق نهیں رکھتی تھیں، اس لئے نتیجه کے طور پر حکومت، عوام اور ان کے درمیان واسطه کے لحاظ سے تنظیمیں کم و بیش مشترک هویت رکھتی تھیں، شائد اس لئے ان کے درمیان کوئی خاص اختلاف نهیں پایا جاتا تھا ـ

ایران میں شهری تنظیموں کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک شریعت کی پابندی اور ظواهر شریعت سے تمسک پیدا کرنا هے یهی وجه هے که اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پهلے ایران کے معاشره میں کبھی آزاد شهری تنظیمیں تشکیل پانے کے حالات رونما نهیں هوئے، کیونکه انقلاب سے پهلے یه تنظیمیں حکومت کی مخالفت میں فعال تھیں، لیکن انقلاب کی کامیابی اور اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد ان تنظیموں نے کافی حد تک رشد کی اور اپنے مقام کو پایا هے ـ یه بات قابل ذکر هے که ایران میں دینی و شهری تنظیمیں دوسری تنظیموں کے مانند، تقریباً سیاسی هیں، یعنی ایک قسم کا سیاسی رول ادا کرتی هیں اور حکومت کے ساتھـ تعاون کرتی هیں بلکه مسلسل سیاسی میدان میں خود کو موثر جانتی هیں ـ

اسلامی حکومت میں دینی و شهری تنظیموں کو مختلف میدانوں میں دیکھا جاسکتا هے، مثال کے طور پر اقتصادی میدان میں “اوقاف” ایک دینی و مدنی تنظیم هے یا اعتقادی میدان میں، حوزه علمیه اور مسجد، اهم دینی و مذهبی تنظیمیں هیں یا ثقافتی میدان میں، عزاداری کی کمیٹیاں اور تعزیه کی کمیٹیاں، همارے معاشره کی موثر تنظیمیں هیں ـ

ایران کی اکثر دینی و شهری تنظیموں پر نظر ڈالنے سے معلوم هوتا هے که یه تمام تنظیمیں اخلاق، تعالیم، اور خاص آداب و رسوم کی همت افزائی کرتی هیں جو مذهب و آگاه انسانوں کے مطالبات کے مطابق هیں اور تقریباً یه سب تنظیمیں تعبدی توعیت کی هیں ـ[2]

اسلامی انقلاب کے بعدوالی شهری تنظیمیں :

اسلامی انقلاب نے ایران کے معاشره میں ایک بنیادی تبدیلی ایجاد کی، مسلمانوں کی سیاست اور اقتدار کو سنبھالنے کے بعد، لوگوں کی اجتماعی ثقافت اور سیاسی اجتماعی زندگی کی تفسیر کے لئے مسلسل کوششیں شروع کی گیئں، که اس کے نتیجه میں انقلاب کےبعد حکومت نے ثقافتی امور کو کافی حد تک اپنے کنٹرول میں لے لیا، اس بنا پر ایران میں دینی و شهری تنظیمیں بھی، جو انقلاب سے پهلے حکومت کے ساتھـ جنگ و ستیز کی سرگرمیوں میں مشغول تھیں، نے انقلاب کےبعد حدایت پر مبنی رول اختیار کیا اور حکومت کےساتھـ تعاون شروع کیا ـ اور ایران میں دینی حاکمیت کے نتیجه میں شهری اور دینی تنظیموں کے مقام اور سرگرمیوں میں ایک عظیم تبدیلی رونما هوئی اور شهری تنظیموں کی حیثیت سے کافی حد تک ان کی پوزیشن مستحکم هوگئی اور وه ایران کی حکومت کے عظیم ڈھانچے کے ایک جزو کی حیثیت میں تبدیل هوگیئں، اور خود کو اسلام کے مقدس مقاصد کو بڑھاوا دینے میں حکومت سے تعاون کرنے، لوگوں کی خدمت کرنے اور انقلاب کی وفاداری کے لئے آماده کیا ـ

اسلامی انقلاب سے پهلے، شهری و مذهبی تنظیموں نے حکمراں طبقه سے مخالفت کی وجه سے، لوگوں میں کافی اثر رسوخ پیدا کیا تھا اور حکومت کی هویت کو مختلف ابعاد میں چیلینج کیا تھا، لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ان دینی و شهری تنظیموں کی حکومت کے ساتھـ هم آهنگی، تعاون اور یکجهتی کی وجه سے جو نئی تنظیمیں وجود میں آیئں وه اسلامی جمهوریه کی حکومت کے هم آهنگ اور هم گام هیں ـ

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، ایران میں قائم هوئی حکومت نه صرف مساجد اور مذهبی کمیٹیوں جیسی شهری، دینی تنظیموں کو اپنے مقابل میں پاتی هے بلکه انھیں اس حکومت کی خدمت میں اور تمدن سازی میں شریک جانتی هے اور تمام ان شهری دینی تنظیموں، من جمله حوزه هائے علمیه، مساجد، امام بارگاهوں، اور اوقاف وغیره کو اپنی حمایت میں قرار دیا اور ان سے توقع رکھتی هے که حکومت کی طرف سے لوگوں کی خدمت کرنے کے کام کو تقویت بخشنے میں تعاون کریں ـ

بهرحال اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، دینی رهبروں کے هاتھـ میں سیاسی قدرت قرار پانے سے، بهت سی دینی شهری تنظیموں نے اپنا حقیقی مفهوم و معنی کو پایا ـ یه مسئله ایک طرف سے حکومت کی طرف سے ثقافتی امور کوکنٹرول کرنے سے مربوط هے اور دوسری طرف سے اکثر شهری، دینی تنظیموں کے سیاسی تفکر کا اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی حکومت سے هم آهنگ هونے سے مربوط هے ـ

یه موضوع، متعدد دینی تنظیموں، جیسے ائمه جمعه و جماعات کی سیاست گزاری کی کونسل، مساجد کے امور کو نظم و انتظام بخشنے کا مرکز، عظیم اسلامی مرکز، مختلف تعلیمی مراکز، یونیورسیٹوں اور فوج میں ولی فقیه کی نماینده تنظیمیں اور حوزه هائے علمیه میں مالی اور ایڈمنسٹریشن سے متعلق تنظیمیں وغیره تشکیل پانے کا سبب بنا ـ اور اس طرح دینی اور شهری تنظیموں اور حکومت کے درمیان ایک قسم کی هم آهنگی، هم نوعی اور یک جهتی ایجاد هوئی ـ

دینی، شهری تنظیموں میں مذکوره تبدیلیوں کے پیش نظر، معاشرے میں مزید تبدیلیاں رونما هویئں هیں جس کی وجه سے انقلاب کے بعد دینی و شهری تنظیموں میں مناسب هم آهنگی ایجاد هوئی ـ[3]


مزید  کیا باره ساله لڑکا، نماز جماعت میں مردوں کی صف میں کھڑا هو سکتا هے؟

[1]  ملاحظه هو: زھره مھر نوروزی، “سرمایه اجتماعی و نقش نھادھا” حدیث زندگی، بھمن و اسفند 1384، شماره 27.

[2]  مقصود رنجبر، “بھادھای مدنی دینی و ھویت در ایران” قسمت اول، پیگاه حوزه، 17 شھریور 1386، شماره 214.

[3]  مقصود رنجبر، “نھادھای مدنی دینی وھویت در ایران” قسمت دوم، پگاه حوزه، 31 شھریور 1386، شماره 215.

120x240 Banner - 2

300x250 Banner

تبصرے
Loading...