ازدواج موقت میں عده کی رعایت کر نے کا فلسفه کیا هے؟

0 0

آج تک جو کچھـ علم نے احکام الهی کے بیان کے فلسفه و علت کے با رے میں معلوم کیا هے ، وه یه هے که کسی ایک حکم کا مکمل فلسفه معلوم نهیں هے ، بلکه متعدد حکمتوں اور فلسفوں میں سے ایک حکمت یا اس حکم کے بیان کر نے کی علتوں میں سے کو ئی ایک علت معلوم هے اور ممکن هے اس حکم کی مزید علتیں اور فلسفے بھی هوں که ابھی تک علم نے انھیں معلوم نهیں کیا هے – صرف خدا وند علیم و حکیم هی احکام کے تمام فلسفوں اور علتوں سے آگاه هے – اس لئے هم احکام کے بارے میں صرف بعض فلسفوں کی طرف اشاره کر سکتے هیں نه سب کے بارے میں –

احکام الهی کے بارے میں جو هم فلسفه و احکام کے عنوان سے بیان کرتے هیں وه کسی ایک حکم کے تمام فلسفے نهیں هیں ، بلکه بهتر هے که یه کهیں ممکن هے ایک حکم کے بارے میں بعض فلسفے معلوم هوں ، کیو نکه ان کا اصلی اور مکمل فلسفه خدا وند متعال کے پاس هے- بهر حال عورت کے لئے ازدواج موقت میں، اگر وه یائیسه یا صغیره [1]( نا بالغ) نه هو تو، مباشرت کے بعد ، عده کی رعایت کر نا واجب هے- اس سلسله میں امام خمینی(رح) نے فر مایا هے :

” اگر کسی عورت کے ٩سال تمام هوئے هوں اور یائیسه نه هو اور اگر اس کا صیغه پڑ ھا جائے ، مثلاً ایک ماه کے لئے یا ایک سال کے لئے اور اس کا شوهر اس کے ساتھـ مباشرت کر ے اور اس عورت کی مدت ختم هو جائے یا اس کا شوهر باقی مدت اسے بخش دے اور حیض دیکھنے کی صورت دو حیض دیکھنے تک اور اگر حیض نه دیکھـ لے تو ٤٥ دنوں تک شادی کر نے سے اجتناب کرے،[2] یعنی ازدواج موقت کا عده ، مدت ختم هو نے کے بعد ماهانه عادت دیکھنے کی صورت میں مکمل دو حیض دیکھنا هے اور اگر عادت نه دیکھے تو پورے ٤٥دن هے –[3]

لیکن یائیسه عورت کے لئے عده کی رعایت کر نا ضروری نهیں هے – یائیسه عورت کا مراد پچاس ساله غیر قرشیه عورت اور ساٹھـ ساله قرشیه (سادات) عورت هے – لیکن جو عورت بانجھـ هو وه یائیسه شمار نهیں هوتی هے او ر اسے ازدواج کے بعد عده کی رعایت کر نا ضروری هے –

یائیسه عورت کی تعریف میں فر مایا گیا هے : اگر عورت غیر قرشیه هو ٥٠ سال کی عمر کے بعد یائیسه هوتی هے اور اگر قر شیه (سادات) هو تو ساٹھـ سال کی عمر کے بعد یائیسه هوتی هے اور عورت کا بچه دار هو نے کی صورت میں عورت یائیسه نهیں هو تی هے اور عورت کا بچه دار نه هو نے کا یقین پیدا کر نا اس کے لئے عده کے بغیر از دواج دائم یا موقت کا جواز پیدا نهیں کر سکتا هے –[4]

لیکن از دواج موقت میں عده کی رعایت کے واجب هو نے کے بعد فلسفه کے بارے میں هم صرف آج تک معلوم هوئے بعض موارد کی طرف اشاره کر سکتے هیں :[5]

١- عده کی رعایت کر نا نسب کے مخلوط هو نے سے بچنے کا بهترین طریقه هے، اس لئے که اگر فرزند پیدا هوا ، تو یقین کی صورت میں معلوم هو جائے که اس کا باپ کون هے اور نتیجه کے طورپر اس فرزند کے محارم معلوم هو جائیں اوروه جان لے که کن کے ساتھـ ازدواج نهیں کرسکتا هے اور یه بھی معلوم هو جائے که کن لوگوں سے وراثت حاصل کر سکتا هے اور کون لوگ اس سے وراثت حاصل کر سکتے هیں وغیره –

٢- عده کی رعایت کر نا مرد اور عورت کی جسمانی ورو حانی صحت و سلامتی کا سبب بن جاتا هے- چنانچه آپ جانتے هیں که بهت سی خطر ناک بیماریاں مبا شرت کے نتیجه میں پھیلتی هیں اور عده بذات خود اس قسم کی بیماریوں سے بچنے کا ایک قسم کا قر نطینه شمار هو تا هے-

نفسیاتی سلامتی کا موضوع بھی ایک اهم مسئله هے ، کیونکه وقت کے فاصله کے بغیر جنسی رابطه انفرادی اور اجتماعی طور پر شدید روحانی نقصانات پهنچاتا هے جو سماجی مسائل کے ماهرین کے لئے واضح هے-[6]

٣- یه محدو دیت کسی حد تک مرد اور عورت کے لئے هوس پرستی اور بے راه روی کو روکنے کا سبب بن جاتی هے-

٤- واضح هے که خدا وند متعال نے احکام کو بیان کر نے میں انسان کی کرا مت و شخصیت کو مد نظر رکھا هے ، خواه یه شخصیت انفرادی هو یا اجتماعی – اس لئے ممکن هے یه مسئله (عده کی رعایت کر نا ) اس قسم کے حکم کا محافظ هو یعنی معاشره میں انسان کی حیثیت سے عورت کی انسانی شخصیت و کرامت کو مد نظر رکھنا اور اس کے ایک سا تھـ تجارتی سامان کے طور پر بر تاٶ نه کر نا –

ان قواعد و ضوابط کی رعایت کر نا انسانی معاشره میں عورت کے مقام و منزلت کو برتری حاصل هونے کا سبب بن جاتا هے، کیونکه دین اسلام عورت کے بارے میں انسان کامل آزاد اور مردوں کے برابر حقوق کا قائل هے، نه اس کو ایک تجارتی سامان کی حیثیت سے جانتا هے جو مرد کی هوس پرستی کا وسیله بن جائے- عده کی رعایت کرنا عورت کو قدر و قیمت اور شخصیت بخشنے کا سبب بن جاتا هے-

مذکوره موارد ازدواج موقت کے فلسفه کا صرف ایک حصه هیں جو اب تک همارے لئے معلوم هوسکے هیں، لیکن یقین کے ساتھـ کها جاسکتا هے که خدا وند علیم و حکیم دوسرے احکام کے مانند اس حکم کے بارے میں بھی مزید فلسفے اور منافع سے آگاه هے-


مزید  میاں بیوی جنھوں نے ایک دوسرے سے طلاق لے لی ھے۔ ان میں سے فرزندوں کی حضانت (سرپرستی ) کا حق کس کو حاصل ھے؟

[1] – مسئله ٤٨ : مذهب امامیه کے مطابق طلاق یافته یائیسه عورت اور صغیره (نابالغ) عورت کے ساتھـ مباشرت انجام پانے کے باوجود عده کی رعایت ضروری نهیں هے – توضیح المسائل ( المحشی للامام الخمینی) ،ج ٢،ص٨٩٦-

[2] – توضیح المسائل (المحشی الامام الخمینی) ،ج٢ ص٥٢٦، م٢٥١٥-

[3] ا- توضیح المسائل (المحشی للامام الخمینی )، ج٢، (مکارم) ،م٢٥١٥،ص٥٢٦-

[4] – مجمع المسائل (للگلپایگانی ) ،ج٢،ص١٦١،س٤٥١-

[5] – ان حکمتوں اور فلسفوں میں سے بعض بانجھـ اور غیر بانجھـ عورتوں میں پائے جاتے هیں –

[6] – ملاحظه هو: مسا ئل دینی بیان کر نے کی سائٹ-

تبصرے
Loading...