آپ کیوں اهل بیت کو چند مخصوص افراد تک محدود کرتے هیں ؟

0 0

” اهل بیت ” کے پنجتن آل عبا سے مخصوص اور منحصر هونے کو ثابت کرنے کے لئے متعدد دلالتی [1] اور روائی دلائل سے استناد کیاجاسکتا هے جنھیں عام سنی اور شیعه قبول کرتے هیںـ اس لئے هم هر ایک دلیل  کو جداگانه طورپر بیان کریں گےـ

دلالتی ( متنی) دلائل:

الف) قرآن مجید، خدا کا کلام هے اور اس میں معجزانه پهلو بهت پائے جاتے هیںـ لیکن دوسرے معجزات کی نسبت جس معجزه تک آسانی کے ساتھـ هماری پهنچ هے، وه اس کے  فصاحت وبلاغت کا موضوع هے ،[2] یعنی اس مصحف شریف میں اسلوب، الفاظ کے انتخاب یا الفاظ کے استعمال کے لحاظ سے کسی قسم کی ادبی غلطی نهیں پائی جاتی هےـ هم جانتے هیں که عربی زبان مین دوسری زبانوں کے برعکس مونث مخاطبین کے لئے خاص ضمائر اور الفاظ استعمال هوتے هیںـ اور ایک ضمیر کو پلٹانے کے سلسله میں مختلف اور گوناگون جهات کو مد نظر رکھاجاتاهے[3] ـ مثال کے طورپر جس جماعت مین قابل توجه حد تک مذکر کی نسبت مونث کی تعداد زیاده هو وهاں پر مونث ضمیر کا استعمال کیا جاتا هےـ

اب اگر اس کے برعکس هو، یعنی مونث کی اکثریت والی جماعت سے خطاب کرتے هوئے مذکر ضمیر کا استعمال  کیا جانے، تو یه عربی زبان کے قواعد کے خلاف اورغلط هےـ جو اس چیر کا مرتکب هوجائے، یعنی مونث ضمیر کی جگه پر مذکر اور مذکر کی جگه پر مونث ضمیر کا استعمال کرے تو اس کا مذاق اڑایا جاتاهے، قرآن مجید میں تو یھ بالکل ممکن نهیں یه تو کلام الهی ھے اور پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم پر نازل لافانی معجزه[4] هےـ

آیه تطهیر کے متن میں آیا هےـ عنکم… یطهرکم… که یه مذکر ضمائر هیںـ یه اس حالت میں هے که خداوند متعال بخوبی جانتا هے که پیغمبر اکرم (ص) کے گھر میں مردوں کی نسبت عورتوں[5] کی تعداد قابل ملاحظه حد تک زیاده هےـ اس فرض کی بنا پر اگر هم مذکوره آیت کو پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے تمام خاندان اور عام اهل بیت سے مربوط جانیں، تو همیں کهنا چاهئے که هم نے قرانی آیات کے اندر خداوند علیم و حکیم کے ارشادات میں ایک واضح ادبی غلطی کو پایا هے که دو ضمائر مونث کی جگه پر دو ضمائر مذکر کا استعمال هے- یه ایک فا ش اور ناقابل انکار غلطی هے-

واضح هے که یه امر ، ایک مسلمان کے قرآن مجید کے معجزه هو نےاور علم و حکمت الهی کے بارے میں کلی اعتقادات کے خلاف اور نا قابل قبول هے ـ پس ضمیر کا مرجع اس طرح هو نا چاهئے که مذکوره دو ضمائر کوپلٹانے میں کوئی مشکل پیش نه آئے ـ اور یه ممکن نهیں هے مگر یه که آیه تطهیر کے ضمائر کو فاطمه زهرا (ع) کے گھر میں موجود اهل بیت سے مربوط مان لیں ، یعنی محمد (ص)، علی (ع) ، فاطمه (ع)، حسن (ع) اور حسین(ع) ـ

ب) لفظ “اهل” [6] عربی زبان میں فارسی زبان کے لفظ اهالی کے مانند ، دائم الاضافه معنوی هے، یعنی اس کا ایک سهارا اور مضاف الیه هو نا چاهئے تاکه اس کے لغوی معنی واضح هو جائیں ، جیسے اهل الکتاب [7]، اهل الایمان ، اهل النفاق و … پس لفظ “اهل” کے معنی کے بوجھـ کا ایک حصه اس کا مضاف الیه بر داشت کر تا هے ـ آیه تطهیر میں بھی اگر هم “اهل ” کا مراد سمجھنا چاهیں تو پهلے همارے لئے ” البیت” کے معنی واضح هو نا چاهئیں ـ

بیت یعنی گھر، سرائے ، کاشانه و… که سب لفظ ماوی یعنی جگه کے معنی میں هے ـ اب ماوی اور جگه کے مختلف استعمال کیا هیں ؟ ! اس کو کلام کے ضروری قرائن ، خواه خارجی قرائن هوں یا داخلی ، بیان کرتے هیں ـ

زیر بحث موضوع، یعنی اهل بیت کے بارے میں بھی یه مطلب لازم آتا هے ، یعنی اگر خصوصیت ، عمو میت اور یا “البیت” کے بارے میں الهی مراد بیان کر نے کے لئے کوئی قرینه پیدا نه هو جائے تو کلام میں ادبی نقص سے چشم پوشی کر کے اهل ابیت کے معنی کو پیغمبر اکرم (ص) کے گھر میں موجود اور آنحضرت (ص) سے منسوب تمام افراد پر مشتمل جانا جاسکتا هے ـ اور اس صورت میں بیت سے مراد ، زندگی بسر کر نے کے گھر یا رهائشی مکان هوں گے ـ

لیکن بعض خارجی قرائن جیسے آیات کے نزول کے حالات پر تھوڑی گھرائی کے ساتھه  دقت اور غور کر نے سے مذ کوره مطلب کا باطل هو نا واضح هو جاتا هے،  کیوکه ام سلمه کے گھر میں آیت کے نازل هو نے کے باوجود ، پیغمبر (ص) کے ارشاد  کے مطابق وه اهل بیت کے عنوان کے تحت شامل هوئی هیں ـ جب که اگر بیت سے مراد وهی رهائشی گھر هو تا تو ام سلمه کو سب سے پهلے اس آیت کا مخاطب هو نا چاهئے تھا، کیونکه یه آیت ان کے هی گھر میں نازل هوئی هے اور انھیں دوسروں کی بھ نسبت اس عنوان کو حاصل کر نے میں اولیت تھی

لیکن اس سے پهلے ثابت هوا که یه دعوی خلاف حقیقت اور بے بنیاد هے ـ مناسب هے که یهاں پر هم اس سلسله میں واحد نیشاپوری کی نقل کی گئی ایک روایت کی طرف اشاره

کر یں :

” ام سلمه (رض) کهتی هیں که پیغمبر اکرم (ص) میرے گھر میں تشریف فر ما تھے اور ان کے سامنے ایک غذا تھی ، اسی اثنا میں فاطمه(ع) داخل هوئیں اور پیغمبر (ص) نے فر مایا که( اے فاطمه (ع) !) اپنے شوهر اور فرزندوں کو میرے پاس بلانا ـ پس علی(ع)، حسن (ع) و حسین (ع) آگئے اور بیٹھـ گئے ـ اور اس غذا کو کھانے میں مشغول هو گئے ، پیغمبر اکرم (ص) نے آرام فر مایا ، اس وقت پیغمبر اکرم (ص) کے پاس ایک خیبری عبا تھی اور میں (ام سلمه) بھی ساتھـ والے کمرے میں نماز پڑھنے میں مشغول تھی ـ اس کے بعد خدا وند متعال نے آیه تطهیر کو نازل فر مایا ـ بعد میں پیغمبر (ص) نے عبا کو پھیلا کر ان کو (علی(ع) ، فاطمه(ع) ، حسن(ع) وحسین(ع) )بھی عبا کے نیچے بلایا ـ اس کے بعد اپنے دست مبارک کو آسمان کی طرف بلند کر کے فر مایا : پروردگارا ! یه میرے اهل بیت اور مجھـ سے مخصوص هیں ، ان سے هر قسم کی آلودگی کو دور کر نا اور انهیں پاک و پاکیزه بنانا ـ میں (ام سلمه ) نے اس وقت ان کے کمرے میں جھانک کر پو چھا: یا رسول الله ! کیا میں بھی آپ لوگوں کے ساتھـ هوں ؟ آپ (ص) نے فر مایا: تم خیر پر هو ، خیر پر هو ـ [8]

اس طرح ، پیغمبر اکرم (ص) نے ام سلمه(رض) کی تائید کے ضمن میں انھیں اهل بیت[9] کے زمرے میں شامل نهیں فرمایا ـ

مذکوره مضمون کی متعدد روایتیں ، اهل سنت کی حدیثوں کی کتا بو، میں موجود هیں ـ یه وهی معروف روایت هے جو شیعوں کے نزدیک حدیث کساء [10] کے نام سے مشهور هے اور حدیث اور دعا کی اکثر کتابوں میں پائی جاتی هے ـ

روایی دلائل: آیه تطهیر میں لفظ اهل البیت سے خدا کا مقصد بیان کر نے والی روایتوں کی تعداد کم نهیں هے ، لیکن هم ان روایتوں میں تفصیلات اور مختلف پھلو بیان هو نے کے پیش نظر انھیں تین حصوں میں تقسیم کر تے هیں ان میں سے هر ایک سے مربوط ایک نمونه پیش کریں گے ـ قابل ذکر بات هے که مندرجه ذیل روایتوں کے منابع کے سلسله میں صرف اهل سنت کی کتابوں سے استفاده کیاگیا هے ، اگر چه ان کی جیسی شیعوں کی کتب حدیث مین بھی بھت زیاده ھیں ـ

الف) روایتوں کی پهلی قسم پیغمبر اکرم (ص)  کے ان ارشادات اوراقوال پر مشتمل هے جس میں  آیه شریفه تطهیر میں لفظ اهل البیت کا استدلال ھوا  هے ـ

محمد بن المثنی ، سند کو سعید خدری تک پهنچا کر کهتا هے که رسول خدا(ص) نے فر مایا :” یه آیت انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا” پنجتن کے حق میں نازل هوئی هے، یعنی میں ، علی(ع) ، حسن(ع) ، حسین (ع) اور فاطمه(ع) “[11]

ب) روایتوں کی دوسری قسم ، وه روایتیں هیں جو ایک قول کے بیان کر نے کے بعد لفظ “اهل البیت” کے مراد و مقصد پر روشنی ڈالتی هیں اور پیغمبر اکرم (ص) کی کے انداز سیرت کے بارے میں ایک فعل کو بیان کر نے کے بعد اس مطلب کی وضاحت کرتی هیں ـ

ابن وکیع ، روایت کی سند کو انس تک لے جانے کے بعد کهتا هے که انس کهتا تھا:

” پیغمبر اکرم(ص) آیه تطهیر کے نازل هو نے کے بعد پورے چھـ ماه کی مدت کے دوران، جب نماز کے لئے باهر نکلتے تھے ، تو فاطمه (ع) کے گھر کے سامنے فر ماتے تھے: الصلاه اهل البیت ، انما یرید الله …[12]

روایتوں کی تیسری قسم ان روایتوں پر مشتمل هے، جو تاریخی پهلو رکھتی هیں اور آیه تطهیر اور اس کے مخاطبین کے بارے میں اس ملک کے باشندوں کے افعال اور فکر و غور کو بیان کرتی هیںـ ان روایتوں کے پیش نظر کهنا چاهئے که، آیه تطهیر کے بس پنجتن آل عبا سے مختص هو نے کا مطلب مسلمانوں کے درمیان اس قدر شهرت پیدا کر چکا تھا که اگر ان میں سے ایک کو دیکھتے تو کهتے تھے میں نے اهل بیت میں سے فلاں شخص کو دیکھا اور یا سب کی طرف اشاره کر کے کهتے تھے فلاں شخص اهل بیت میں سے هےـ مثال کے طور پر اس سلسله میں ابن مجلز کی داستان کی طرف اشاره کیا جاسکتا هے که اس کی تفصیل اهل سنت کی تفسیر کی کتابوں [13] میں آئی هےـ

منابع و ماخذ:

١ ـ القرآن و اعجازه العلمی، محمد اسماعیل ابراھیم ـ

٢ ـ معجزه القرآن ، شیخ محمد متولی الشعراوی ـ

٣ـ تاریخ الامم والملوک ، ابن جریر طبری ـ

٤ـ معجم فروق اللغویه ، ابو هلال العسکری ـ

٥ـ اسباب نزول الآیات ، ابی الحسن علی ابن احمد واحدی النیسابوری ـ

٦ـ معانی القرآن ، ابی جعفر النحاس ـ

٧ ـ جامع البیان فی تفسیر آیات القرآن ، (جامع البیان عن تاویل آیات القرآن) ابی جعفر محمد ابن جریر طبری ـ

٨ ـ مفاتیح الجناح ، شیخ عباس قمی ـ

٩ـ جامع الدروس العربیه ، شیخ مصطفی الغلا یینی ـ


مزید  امام زمانه کی غیبت کے زمانے میں هماری ذمه داری کیا هے ؟

[1] دلالتی دلائل ، وهی لفظ کی خود گواهی هے که متون کے معنی کو سمجھنے کے لئے استعمال هوتے هیں اور کبهی کلام اور خاص حالت کے قرائن کا لازمه هوتے هیں اور منظور ومراد کو واضح طور پر بیان کرتے هوئے عدم احتمال خلاف کو ثابت کر کے نص کو صراحت کے درجه پر پهنچاتے هیںـ

[2] القرآن واعجاذه العلمی، محمد اسماعیل ابراهیم، ص٢١ – ٢٢.

[3]  جامع الدروس العربیه، شیخ مصطفی الغلائینی ج٢، ص٩.

[4] معجزه القرآن، شیخ محمد متولی الشعراوی، ص٩.

[5]  تاریخ الامم والملوک، ابن جریر طبری، ج٢، ص٤١٠.

[6] کیونکه لفظ اهل خاص گروه یا شخص یا جگه کے ساتھـ رابطه نسبی کو بیان کر نے کے لئے استعمال هوتا هے ـ معجم فروق اللغویه ، ابو هلال العسکری ، ص٨٥-

[7] ” وقالت طائفه من اهل الکتاب ” آل عمران ، ٧٢-

[8] اسباب نزول الآیات ، ابی الحسن علی ابن احمد واحدی النیسا بوری ، ص٢٤٠ـ

[9] معانی القرآن ، ابی جعفر النحاس ، ج٥، ص٣٤٩ـ

[10] مفاتیح الجناح ، شیخ عباس قمی ، ص١٠١٧ـ

[11] جا مع البیان فی تفسیر آیات القرآن ، (جامع البیان عن تاویل القرآن) ابی جعفر محمد ابن

ریری طبری ،ج٢٢،ص١٢ـ ١٩-

[12] جامع البیان فی تفسیر آیات القرآن ، (جامع البیان عن تاویل القرآن) ابی جعفر محمد ابن جریری طبری ، ج٢٢، ص١٢ـ١٩ـ

[13] جامع البیان فی تفسیر آیات القرآن ، (جامع البیان عن تاویل القرآن) ابی جعفر محمد ابن جریری طبری، ج ٢٥، ص٧٠-

تبصرے
Loading...