ملت تشیع کو بدنام کرنے کی سازش ۔ ملت تمام تر پروپیگنڈے کو رد کرتی ہے

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ میں ملت تشیع سے ہمدردی رکھنے والے افراد کے سامنے پروپینڈے اور میڈیا کے زریعے ملت تشیع کا وقار، عزت و احترام ختم کیا جائے گا۔عام فہم انسان کے زہنوں میں سوشل میڈیا، الکٹرونک میڈیا اور انٹر نیٹ کے زریعے ملت تشیع کے خلاف منفی جذبات کو جنم دیا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں گزشتہ دنوں بس ٹرمینل بم دھماکے کا الزام زبردستی ملت تشیع سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے اوپر دالا جارہا ہے اور وہ بھی ایک ایسی تنظیم جس کا پورے پاکستان میں کوئی وجود ہی نہیں۔

نمائندوں کا رپورٹ میں کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں پشاور میں بس ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اس بم دھماکے کا الزام مہدی ملیشیا اور حیدری طالبان کے زمہ دالا جائے گا۔ اور یوں ظاہر کیا جائے گا کہ یہ تنظیم شیعوں کی مُسلح تنظیم ہے۔ حالانکہ ایسی کسی تنظیم کا پاکستان میں وجود ہی نہیں۔ ثبوت کے طور پر کہا جائے گا کہ فون کال کے زریعے تنظیم کے زمہ داروں نے زمہ داری قبول کی ہے۔اور کہا ہے کہ یہ پارہ چنار میں بم دھماکے کا بدلہ ہے۔ ان تمام تر پروپیگنڈے کا مقصد عام انسانی زہنوں میں ملت کے تشخص کو برباد کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام تر کوششوں کا مقصد ملت تشیع کو ملک پاکستان کا دشمن کرار دے کر شیعہ نسل کشی کو حکومتی سرپرستی یا سکیورٹی اداروں کی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر شروع کردینا ہے۔ اور ملت تشیع کے خلاف ایک نیا محاز کھول دینا ہے۔

البتہ ملت تشیع سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ دشمن پرہشان ہوگیا ہے۔ ہمارا ہتھیار ہماری مظلومیت ہے دشمن نے کوشش کی ہے کہ پارہ چنار میں بم دھماکے اور ایف سی کی فائرنگ سے شہید ہونے والے شہداہ کی مظلومیت پر پردہ دال جائے۔ دشمن ناکام رہے گا کیونکہ عام انسان جانتا ہے کہ ایک شیعہ سب سے پہلے انسان دوست ہوتا ہے۔ شیعہ بم دھماکے کیا کسی معصوم کو ازیت میں بھی نہیں دیکھ سکتا کیونکہ کربلا کے بعد شیعہ ازیت اور بربریت سے نفرت کرتا ہے۔ ایک شیعہ عالم دین کا کہنا تھا کہ تعجب ہے کہ ہمارا دشمن کتنا بیوقوف ہے۔

پاراچنار کے مجاہدین جو انسان دشمن طالبان سے برسر پیکار ہے اُن مومنین سے دشمن خوفزدہ ہے۔ مذہب شیعہ معصوم انسانوں کے قتل عام کے سخت خلاف ہے مگر شیعت انسان دشمن دہشتگردوں کے لیے ایک تیز تلوار ہے۔ اور وہ بھی ایسی تلوار جو کسی بھی صورت معصوم انسانوں کے قاتل طالبان کے خلاف چلتی رہے گی۔

 

تبصرے
Loading...