2022 - 09 - 30 ساعت :
دسته‌بندی نشده

مذہبی سوچ اور اخلاقیات کا جنازہ

2020-07-10 08

 

مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رہ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مغرب نے ریاست کو چرچ سے جدا کرکے بہت کچھ کھو دیا ہے، چونکہ اس سے ریاستی امور، اخلاقیات کی مہک سے محروم ہو گئے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ پہلی جنگ عظیم کی اندوہناک بھٹی میں جا گرا، جہاں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور اتنی قتل وغارت گری ہوئی کہ خون کی ندیاں بہہ نکلیں پھر دوسری جنگ عظیم میں بھی کئی ملین انسانوں کو گیس چیمبرز میں ڈال کر گھاس بوس کی طرح جلا دیا گیا۔ اُن کا قصور یہ تھا کہ وہ عیسائی نہیں بلکہ یہودی تھے، پھر جاپان میں کیا ہوا۔ سفاق حملہ آوروں نے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ ایٹم بم گرا کر معصوم لوگوں کے دو ہنستے بستے شہروں یعنی ہیروشیما اور ناگا ساکی کو راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا، یہ سب اخلاقی پستی کی کرب ناک داستانیں ہیں۔ کوریا، ویتنام، گلف وار، عراق اور افغان جنگوں سمیت یہ ساری قتل و غارت صرف معاشی وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے تھی۔ اخلاقیات کی تباہی کی سلسلے میں آج کے جدید دور میں بھی کیا کچھ نہیں ہو رہا۔ گوانتاناموبے میں قیدیوں کو ننگا کرکے اُن پر کتے چھوڑے گئے، افغانستان میں مسلمان نوجوانوں کو قتل کرکے ان پر پیشاپ کیا گیا اور پھر فلم بنائی گئی اور ڈرون حملوں سے درجنوں بلکہ سینکٹروں بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ یہ سب کچھ مذہب اور اخلاقیات سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اس حیوانیت کو انسانیت کہنا، انسانیت کی توہین کے مترادف ہو گا۔

دراصل قارئین، ریاستی امور سے مذہبی سوچ اور اخلاقیات کا جنازہ اٹھ جانے کے بعد مغربی قوموں کے افراد بھی بے راہ روی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اب مغرب کا نعرہ ’’آزادی‘‘ کا ہے اور یہ وہ آزادی ہے جس کو میں اور آپ اور ساری مہذب دنیا مادر پدر آزاد، آزادی کہتے ہیں۔ اس آزادی کا مطلب عریانی ہے اور بے حیائی بھی۔ اس آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کے جوان سال بیٹیاں یا بیٹے بے شک بغیر شادی کے ناجائز تعلقات استوار کرکے اپنے جوڑے چن لیں اور حتٰٰی کہ ناجائز بچے بھی پیدا کرلیں، تو ماں باپ کو یہ حق نہیں کہ وہ ان سے کوئی سوال بھی کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں ایسے بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جن کے والدوں کا پتہ نہیں۔

یورپ کے سمندری ساحلوں پر سیاحوں کے ہجوم میں سرعام بدکاری کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ سکنیڈے نیویا میں فری سیکس کا قانون ہے۔ سال 2001ء میں جب میں بطور چیئرمین واہ نوبل گروپ آف کمپنیز سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم گیا تو وہاں ایک پارک میں میں نے ایک اُدھیڑ عمر عورت کو جسے خاتون کہنا خواتین کی توہین ہو گی، ننگے پھرتے دیکھا۔ میں نے اپنے میزبان سویڈن میجر سورن سے تذبذب میں پوچھا کہ اگر یہ عورت پاگل ہے تو اس کو ہسپتال داخل کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس نے جواب دیا کہ یہ پاگل نہیں یہ تو ایک آزاد شہری ہے اور اپنی زندگی کے مزے لوٹ رہی ہے، ہمیں اس سے کیا غرض، یہاں کا قانون اس کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالٰی نے تو گائے، بھینس اور گدھی کو بھی اپنی شرم گاہیں چھپانے کیلئے دُم عطا کئے ہیں اور انسانوں کو عقل بخشی ہے کہ وہ لباس میں رہیں، لیکن مغربی تہذیب تو لگتا ہے کہ حیوانیت سے بھی آگے نکل چکی ہے اور بدقسمتی سے اب یہ کینسر ہمارے معاشرے میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

قارئین ایک مومن، اہل ایمان اور مسلمان کا بہت قیمتی زیور ’’حیا‘‘ ہی ہے۔ آزادی بھی اس کو ضرور ہے لیکن اسلامی تعلیم کے مطابق صرف حدود و قیود کے دائرے کے اندر۔

نبی کریم ص کا فرمان ہے کہ:’’حیا ہمارے ایمان کا ایک لازمی جزو ہے‘‘۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ربانی ہے:’’جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے، اُن کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہو گا‘‘۔(سورۂ نور آیت۱۹)

اس طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:

’’اے پیغمبر ص اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے اُوپر چادر لٹکا لیا کریں۔ یہ امر اُن کے لئے موجب شناخت ہو گا تو کوئی اُن کو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔ (سورہ الاحزاب آیت59)۔ 

قارئین، بدقسمتی سے اب پاکستانی معاشرے میں بھی بے حیائی عام ہوتی جا رہی ہے۔ کیبلز پر انتہائی واحیات پروگرام دیکھ کر اب ٹیلی ویژن چنیلوں پر شرم وحیا سے عاری اشتہار بھی مہذب لگنے شروع ہو گئے ہیں۔ پیمرا کا ادارہ بالکل غیر موثر اور ناکارہ ہو چکا ہے یا اُن کے اندر بےحیائی کو روکنے کی وہ ایمانی طاقت نہیں رہی، جس کا اُن کا منصب متقاضی ہے۔ صرف احکامات نکال کر اُس پر عمل کی یقین دہانی نہ کرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس بےحیائی اور بدکاری کو دیکھ کر ہماری جوان نسل اور بچے جو ہمارا ایک انمول سرمایہ ہیں، اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ حیا کا پردہ پھٹ جائے تو انسان بےحیائی کے گہرے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ 

موبائل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور کیبلز نیٹ ورک کے غلط استعمال سے ہماری جوان نسل اخلاقی طور پر اس طرح تباہ ہو رہی ہے جیسے رانی کھیت کی بیماری سے لاکھوں مرغے اور مرغیاں یک دم ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جوان بیٹیاں اور بہنیں ناجائز بچوں کو جنم دیں۔؟ ٹی وی سکرینوں پر ہندوستانی اور مغربی افسوس ناک عریانی کے مناظر دیکھ کر ہمارے بچے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ جوان نسل اگر بے راہ روی کا شکار ہو گئی تو مستقبل کے پاکستان کا محافظ کون ہو گا۔؟

8 مئی کے ایک اردو اخبار میں یہ خبر پڑھ کر میرا کلیجہ منہ کو آ گیا کہ ضلع صوابی کے ایک گاؤں میں ایک ماں نے اپنی نوجوان بیٹی کو تیزاب پلا کر موت کی نیند سلا دیا اور بیٹی نے اپنی ماں کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ وجہ یہ تھی کہ کنواری بچی ایک لڑکے سے ناجائز تعلقات کی بنا پر حاملہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ ایک اور خبر کے مطابق پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں کی ایک خاتون ڈاکٹر گائنا کالوجسٹ نے اسلام آباد کے ایک نہایت قابل احترام اور معروف صحافی جناب انصار عباسی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ اس کے پاس آئے دن چھوٹی کنواری بچیاں اور اُن کی مائیں ناجائز حمل ضائع کرانے کیلئے آتی ہیں اور ایک ماں نے تو ڈاکٹر صاحبہ کو بتایا کہ اگر آپ نے ہماری بات نہ مانی تو ہم اپنی بچی کو زہر پلا دے دیں گے۔

قارئین، ہمارے معاشرے کو تباہ کرنے والا اصلی ڈینگی وائرس یہی ہے۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ معاشرے کی اس تباہ کن پستی کی طرف کسی کا بھی کوئی دھیان نہیں۔ نام نہاد روشن خیال والدین بھی اپنی اولاد کے ساتھ ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھ کر یہ گند ہضم کر جاتے ہیں۔ ٹی وی چینلز اور کیبل آپریٹرز صرف کمائی کے دھندے میں مصروف ہیں۔ قلم کاروں کو یہ معاشرہ کش دیمک نظر ہی نہیں آ رہی اور حکومت اور پمرا کی ترجیحات تو بالکل مختلف ہیں۔ ملک کے صدر کے پارلیمانی نظام میں کوئی قانونی اختیارات نہیں، وزیراعظم کو ملک کی اعلٰی ترین عدالت مجرم قرار دے چکی ہے۔ سینٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کی سپیکر غیر جانب دار رہنا بھی چاہیں تو موجودہ نظام میں ایسا ممکن نہیں۔

پاکستان صرف پاکیزہ اور نیک ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی وجہ سے قائم ہے، لیکن بےحیائی اور بدکاری کے پھیلتے ہوئے کلچر کو روکنے والا کوئی نہیں۔ ہمارے قانون ساز اداروں کے منتخب ارکان اسمبلیوں میں بیٹھ کر شراب نوشی اور زنا کے خلاف سخت قوانین تو بناتے ہیں لیکن شاہرہ دستور کو عبور کرکے جب وہ پارلیمانی لاجز تک پہنچتے ہیں تو بہت سے وڈیرے اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔

ہماری ایک بدنصیب خاتون ایکٹریس کے ننگے فوٹو نہ صرف ہندوستان اور پاکستان بلکہ یوٹیوب پر پوری دنیا میں دکھائے گئے۔ اس کے باوجود پاکستان کے کئی ٹی وی چینلوں نے اس عورت کو اپنے پروگراموں میں خوش آمدید کہا، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کو حاصل کرتے وقت تحریک پاکستان کے مجاہدوں کا نعرہ تھا ’’پاکستان کا مطلب کیا’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا قانون حرکت میں نہ آ سکا۔ بچوں کی تربیت گھر کی چار دیواری سے شروع ہو جاتی ہے۔ میری ڈیڑھ سالہ نواسی جب مجھے اور میری بیٹی کو نماز ادا کرتے دیکھتی ہے تو وہ بھی سر پر دوپٹہ لے کر پیٹ کے بل لیٹنا شروع کر دیتی ہے اور سجدے کرتی ہے۔ 

انگلینڈ سے آئی ہوئی میری دس سالہ نواسی نتاشا بی بی کو جب میں نے کہا کہ بیٹا آپ کو پینٹ اور ٹی شرٹ میں دیکھ کر میں خوش نہیں ہوتا، چونکہ اس سے جسم اچھی طرح ڈھانپا نہیں جا سکتا، جو اللہ تعالٰی کے حکم کے منافی ہے، تو وہ چند گھنٹوں میں اپنی ماں کے ساتھ بازار جا کر شلوار قمیض اور دوپٹہ خرید لائی اور میرے سامنے کھڑی ہو کر کہنے لگی ’’ابو جی اب میں کیسی لگ رہی ہوں‘‘ تو میں نے ا س کا ماتھا چومتے ہوئے کہا ’’اب آپ پری لگ رہی ہیں۔ اب اگلی بات اُس نے خود کہہ دی، کہنے لگی ’’ابو جی! میں نے قرآن شریف ختم کیا ہوا ہے، اب نماز بھی شروع کروں گی‘‘۔ یہ سُن کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔

بچوں کو پیار سے سمجھا کر راہِ راست پر لانا ہمارا بہت اہم فریضہ ہے۔ اس سے بھی بڑی ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ بے راہ راوی کا پرچار کرنے والے، ٹیلی ویژن اور کیبل نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کرئے۔ بچے انٹرنیٹ سے ضرور مستفید ہوں چونکہ یہاں علم کا سمندر ہے، ٹیلی ویژن کے معلوماتی اور تفریحی پروگرام بھی ضرور دیکھیں، لیکن اس آزادی کی وہ حدود و قیود نہ پھلانگی جائیں جن کا تعین گھر کے بزرگ اور والدین کریں، چونکہ ’’حیا ‘‘مومن کا زیور ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’کہہ دو کہ خدا بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا‘‘۔(سورۃ الاعراف آیت27)

 

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت