2022 - 09 - 30 ساعت :
دسته‌بندی نشده

مدارس کی تعداد میں اضافہ؛ سندھ میں عسکریت پسند اسلام میں اضافہ

2020-07-10 06

سلام دھاریجو نامی ایک سیاسی تجزیہ کار نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ عسکریت پسندوں کے زیر انتظام مدارس کی تعداد میں اضافے سے سندھ کی عدم تشدد کی حامل صوفی سرزمین کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ سندھ میں تصوف کی گہری چھاپ کے باعث یہاں عسکریت پسندی کو کبھی پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملا تاہم عسکریت پسند عناصر کے پھیلنے سے کئی سالوں سے آزاد خیال سندھی معاشرے پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ 

دھاریجو نے کہا کہ یکم اکتوبر کو شکار پور کے نزدیک 27 آئل ٹینکروں کو نذر آتش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکریت پسند سندھ میں دراندازی کر رہے ہیں۔ خطے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ تھا۔ 

پاکستان سیکولر فورم کے سربراہ ایک سندھی دانشور دلشاد بھٹو نے کہا کہ عام طور پر سندھ کے عوام جارحیت، عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ 

دلشاد بھٹو نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی دھرتی پر اسلام عرب جنگجوؤں کی بجائے صوفیاء کی تبلیغ سے پھیلا۔ دلشاد بھٹو نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی دھرتی پر اسلام عرب جنگجوؤں کی بجائے صوفیاء کی تبلیغ سے پھیلا۔ صوفیاء کرام نے محبت، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام پھیلایا۔ 

جہادی گروپ اب سندھ میں سرگرم ہیں 

اندرون سندھ میں انتہاپسندی کے خلاف اقدامات کی نگرانی کرنے والے ایک انٹیلیجنس افسر نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم جہادی تنظیموں خاص کر سپاہ صحابہ پاکستان، جیش محمد اور لشکر جھنگوی نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کے ساتھ روابط قائم کر رکھے ہیں اور وہ سندھ میں فعال ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے مدارس کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ 

انٹیلیجنس افسر نے کہا کہ کالعدم فرقہ وارانہ گروپ عوامی اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں جن میں شرکت کرنے والے افراد کی بڑی تعداد مدارس کے نوجوان طلباء پر مشتمل ہوتی ہے۔ کالعدم گروپ طلباء میں عسکریت پسندی پر مبنی مواد تقسیم کرتے ہیں تاکہ طلباء کی آزاد سوچ کو روکا جا سکے۔ 

سکھر میں مقیم ایک سینئر صحافی امتیاز حسین نے بتایا کہ سندھ کے وزیر اعلٰی قائم علی شاہ کے آبائی ضلع خیرپور میں 1 سو 17 مدارس میں سے 93 کا حکومت کے ساتھ کوئی اندراج نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ عسکریت پسندوں کے زیر انتظام چلنے والے مدارس پر تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان سے طالبانائزیشن کا خوف پھیل رہا ہے۔ 

انٹیلیجنس عہدیدار نے کہا کہ عسکریت پسندی کا پرچار کرنے والے مدارس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود، حکومت کے پاس کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مدارس کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ 

تاہم صوبائی حکومت کے ایک حالیہ حکم کے بعد سے انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ معلومات جمع کرنی شروع کر دی ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کن مدارس کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ 

عسکریت پسندی مختلف طریقوں سے دکھائی دے رہی ہے 

شہری معاشرے کے سرگرم اراکین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے زیر انتظام چلنے والے مدارس اور ان کے اثرات مختلف طریقوں سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ 

فروری میں، مقامی مدارس کے طلباء نے ضلع ٹھٹھہ میں ایک محفل موسیقی کو بند کرا دیا اور منتظمین کو خبردار کیا کہ کہ وہ غیر مذہبی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے۔ 

دسمبر میں، حیدر آباد میں سپاہ صحابہ پاکستان سے وابستہ ایک مدرسے کے طلباء نے ایک معالج ڈاکٹر نوشاد والیانی پر بدترین تشدد کیا اور انہیں گھسیٹتے ہوئے مقامی تھانے لے گئے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر حبیب الرحمٰن سومرو نے بتایا کہ ڈاکٹر والیانی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ 

دھاریجو نے کہا کہ کسی زمانے میں سندھ میں ہندوؤں پر حملے اور انہیں زبردستی مسلمان بنانے کے واقعات شاذ و نادر ہوا کرتے تھے مگر اب حالیہ سالوں میں سینکڑوں ہندو لڑکیوں کو زبردستی اسلام قبول کرایا گیا۔ اکتوبر 2009 میں مسلمانوں نے عمر کوٹ پر حملہ کر دیا جہاں کی نصف آبادی ہندو ہے۔ بیشتر حملہ آور مدارس کے طلباء تھے۔ 

مدارس طلباء پر اثر انداز ہوتے ہیں 

آٹھ فروری کو پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے کراچی دفتر میں “عسکریت پسند بنانے کا عمل اور دہشت گردی” کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے سلامتی کے امور کی تجزیہ کار اور مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے زیر انتظام مدارس اس مسئلے کی جڑ ہیں۔ 

عائشہ صدیقہ نے کہا کہ مدارس دینی تعلیم دینے کی بجائے طلباء کے نظریات کو تبدیل کر رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں نفرت اور تشدد انڈیل رہے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ آج کے مدارس چپکے سے اپنے ماضی سے ناتہ توڑ رہے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ مدارس دینی تعلیم دینے کی بجائے طلباء کے نظریات کو تبدیل کر رہے ہیں اور ان کے ذہنوں میں نفرت اور تشدد انڈیل رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ آج ملک کو ‘نظریاتی جہاد پسندی’ کے حالات درپیش ہیں اور عسکریت پسند تلوار کی نوک پر اسلام نافذ کر کے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اس میں اسلام کی ایک کٹڑ وہابی تشریح نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتشر گروپ کسی وجہ کے بغیر بے گناہ افراد کی جانیں لے رہے ہیں۔ 

ضلع جیکب آباد میں ایک کالج کے استاد جان مزاری نے کہا کہ انتہاپسندی کے کسی بھی طویل المیعاد حل میں مدارس اور خاص طور پر مذہبی اور ثقافتی عدم رواداری کی تبلیغ کرنے والے مدارس کی نگرانی شامل ہونی چاہیے۔ 

مزاری نے کہا کہ انتہائی سیاسی رنگ میں رنگے ہوئے مدارس کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے سے انہیں نوجوانوں کو مذہبی قدامت پسندی پر مائل کرنے کا موقع نہیں ملے گا اور یوں ان میں عسکریت پسند گروپوں سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔ 

شہداد کوٹ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم پیر بھٹ ویمنز ڈویلپمنٹ سوسائٹی سے وابستہ ایک سماجی کارکن مراد پندرانی نے بتایا کہ صوبے میں عسکریت پسندی پر قابو پانے کی غرض سے سندھ کا شہری معاشرہ اور سیکولر سیاسی گروپ انتہاپسندی کے خلاف ایک مہم کا آغاز کرنے لگے ہیں۔ 

انہوں نے عسکریت پسندی کی روک تھام کے لئے اتفاق رائے سے ایک حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور شہری معاشرے دونوں کو سندھ میں انتہاپسندی کے خطرے کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے۔ 

حکومت سندھ کے ترجمان تاج حیدر نے کہا کہ سندھ شاہ عبد اللطیف بھٹائی جیسے عظیم اولیاء کی سرزمین ہے اور اس خطے میں عسکریت پسندی کو غالب آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سندھ میں مدارس کی نگرانی کی ایک پالیسی وضع کی ہے اور وہ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ روابط رکھنے والے مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت