“علم ” بنظر صادق (ع)

0 19

ہم نے دیکھا کہ امام جعفر صاد ق نے ادب کی کس طرح تعریف کی اور اب یہ دیکھنا ہے کہ انہوں نے علم کو کس پیرائے میں بیان کیا اور آپ کا عقیدہ تھا کہ احکام دین کے نفاذ کے بعد ایک مسلمان کیلئے علم والوں سے بڑھ کر کوئی چیز ضروری نہیں ہے جعفر صادق کی مذہبی ثقافت میں عرفان چوتھا رکن ہے البتہ آ عرفان کو واجبات میں سے نہیں سمجھتے لیکن علم و ادب کو واجبات کا جزو سمجھتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ یہ دینی واجبات میں سے نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے واجبات میں شمار ہوتا ہے ۔

جعفر صادق اس بات سے اگاہ تھے کہ علم و ادب نہ صرف یہ کہ شیعہ مذہب کی ثقافت کی تقویت کا باعث بنیں گے بلکہ دوسری قوموں میں مسلمانوں کی تقویت کا باعث بھی ہونگے اور اسلامی دنیا میں علم و ادب نے اس قدر ترقی کی کہ چوتھی صدی ہجری اسلامی دنیا میں علم و ادب کے سنہری دور کہلایا اور یورپ والوں نے اسلامی علم سے کافی فائدہ اٹھایا جعفر صادق سے سوال کیا گیا کہ متعدد علوم میں سے کوسنے علم کو دوسروں پر ترجیح حاصل ہے آپ نے فرمایا کوئی علم دوسرے علوم پر قابل ترجیح نہیں البتہ علوم سے استفادہ کرنے کے موارد میں فرق پایا جاتا ہے جس کے نتجے میں انسان کیلئے لازم ہے کہ بعض علوم کی تحصیل میں جلد کرے اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے اور آج کے دور میں (عہد جعفر صادق میں ) دو علوم سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے ایک علم دین اور دوسرا علم طب ‘۔

جعفر صادق کی علم دین سے زیادہ تر فقہ مراد تھی اور اپ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے زمانے میں علم قانون اور طب سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے آپ نے فرمایا ایک دن ایسا آئے گا جب انسان ان علوم سے بھی فائدہ اٹھائے گا جن سے فی الحال عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا اور یہ بات محال ہے کہ علم انسان کیلئے سود مند نہ ہو مختصر یہ کہ انسان زمانے کی مناسبت سے علوم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جعفر صادق کا عقیدہ تھا کہ انسان نے دنیا میں اپنی زندگی کے طویل عرصے میں صرف ایک مختصر عرصے کو علم کیلئے مخصوص کیاہے اور زیادہ تر علوم سے دور رہا ہے اور دو چیزوں نے انسان کو علوم سے دور رکھا ہے ۔

مزید    دوسری صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت

پہلی چیز مربی اور استاد کا نہ ہونا جو اسے علوم حاصل کرنے کا شوق دلائے دوسری انسان کی کاہلی چونکہ علم کو سیکھنا تکلیف کے بغیر نا ممکن ہے لہذا انسان فطرتا سہل پسند ہونے کی بنا پر علم سے دور بھاگتا ہے ۔

فرض کیا اس دنیا میں بنی نوع انسان نے دس ہزار سال گزارے ہیں تو انسان نے اس طویل عمر میں صرف ایک سو سال تحصیل علم کی طرف توجہ دی ہے اور اگر اس عرصے سے زیادہ علوم کی تحصیل پر صرف کرتا تو آج کچھ علوم کے عملی فوائد سے بہر مند ہوتا ۔

یہاں اس نکتے کی طرف توجہ بے محل نہیں کہ پہلے زمانے کے سکالرز نے عبرانیوں کے کیلنڈر سے حساب لگا کر اس دنیا کی عمر ۴۸۰۰ سال متعین کی تھی لیکن اب سکالرز نے اپنا خیال تبدیل کر لیا کیونکہ پہلے دنیا وجود میں آئی اور پھر انسان کی خلقت ہوئی ۔

لیکن جب امام جعفر صادق نے اس کی مثال دنیا چاہی تو فرمایا فرض کیا انسان نے اس دنیا میں د س ہزار سال زندگی بسر کی ہے تو اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ دنیا اور نوع بشر کی خلقت کے بارے میں عبرانیوں کے کیلنڈر سے متفق نہیں تھے ۔

اگرچہ ایک مثال ‘ دلیل شمار نہیں کی جا سکتی لیکن مثال دینا اس کے تعین کرنے کے مترادف ہے اور اگرچہ جعفر صادق کا یہ عقیدہ نہ ہوتا کہ بنی نوع انسان کی عمر ۴۸۰۰ سال سے زیادہ ہے تو آپ ہر گز دس ہزار سال عمر کے بارے میں گفتگو نہ کرتے بلکہ اس سے کم عمر کی مثال لاتے تین ہزار سال کی مثال دیتے ہم یقینا کہہ سکتے کہ زمین کی خلقت کے بارے میں جعفر صادق کی معلومات اپنے ہم عصروں سے زیادہ تھیں کیونکہ بعض اوقات ان کی گفتگو سے پتہ چلتا تھا کہ وہ تخلیق کے آغاز کی کیفیت سے مطلع ہیں ایک دفعہ اپنے شاگردوں سے فرمایا یہ بڑے بڑے پتھر جو آ پہاڑوں پر دیکھ رہے ہیں شروع میں مائع حالت میں تھے اور بعد میں یہ مائع ٹھنڈا ہو کر موجودہ صورت اختیار کر گیا ۔

مزید  زندگى كے روشن و تاريك پھلو

اس نظریئے کی اہمیت کو ثابت کرنے کیلئے ( جو ساڑھے بارہ سو سال پہلے پیش کیا گیا تھا ) اتنا کہنا کافی ہے کہ فرانس کے انقلاب کے آغاز اور اٹھارہویں صدی عیسوی کے اختتام تک یورپ کے سکالرز اس بارے میں تذبذب کا شکار تھے کہ آیا زمین شروع میں ایک مائع سیارہ تھی یا نہیں ؟ اور اس سے ایک صدی پہلے پورے یورپ کا کوئی ایسا سکالر نہ تھا جو یہ کہتا کہ شاید زمین شروع میں ایک مائع سیارہ تھی ۔ اس زمانے میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ زمین اج جس حالت میں دکھائی دیتی ہے پہلے بھی اسی شکل میں موجود تھی ۔

جو کچھ جعفر صادق نے بنی نوعی انسان کی تحصیل علوم کے سلسلہ میں کاموں کا ذکر کیا ہے ۔ حقیقت کے عین مطابق ہے اور آج انسانوں کا مطالعہ کرنے والے سکالرز کا کہناہے کہ جس زمانے سے انسان نے دو پاؤں پر چلنا شروع کیا ہے اسے پانچ ہزار سال یا چار ہزار سال ہوئے ہیں اس سے پہلے ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے انسان نے علوم کی طرف توجہ کی ہو گی کیونکہ چار ہاتھ اور پاؤں سے چلنے والے انسان کیلئے یہ بات محال تھی کہ تحصیل علم کیلئے آلہ تیار کرتا اور پھر صنعت سازی کرتا تاکہ اس راستے وہ علوم تک پہنچتا ۔

لیکن اگر انسان پانچ ہزار سال یا چار ہزار سال بعد بھی جبکہ وہ دو پاؤں پر چلتا رہا تھا اور اسکے دو ہاتھ کام کرنے کیلئے ازاد تھے ‘ آلہ بنا سکتا تھا اور اس کے ایک لاکھ سال بعد جبکہ انسان نے آگے سے استفادہ کرنا شروع کیا اور اگر اسکے بعد کے صرف ایک لاکھ سال کے دوران ہی علوم سے دلچسپی دکھاتا تو اج انسانی زندگی کے تمام مسائل اور شاید موت کا معمہ بھی حل ہو جاتا ۔

لیکن ان لاکھوں سالوں کے دوران مجموعی اعتبار سے انسان نے صرف ایک ہزار پانچ سو سال ہی علوم کی طرف توجہ مبذول کی ہے اور اس مختصر عرصہ میں بھی انسان کی علوم کی طر ف توجہ کبھی کم اور کبھی زیادہ رہی ہے ایک بات جو ہماری نظر میں نا قابل تردید ہے وہ یہ ہے کہ ڈکارٹ جسے فوت ہوئے تین صدیاں بیت گئی ہیں وہ پہلا شخص ہے جس نے علمی تحقیقی کی بنیاد ڈالی اور کہا کہ علمی حقیقت کو جاننے کیلئے جسم کو چھوٹی حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے اور اسکے بعد اسے مزید چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اتنے چھوٹے حصے بنانے چاہیں کہ جو چیز حاصل ہو مزید اس کی تقسیم نہ ہو سکے پھر اس چھوٹے سے جسم کی تحقیق کرنا چاہیے اور اسکی خصوصیات دریافت کرنا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ فزکس اور کیمیاء کے لحاظ سے اسکی حالت کیسی ہے ؟ اور اگر ایک جسم کے چھوٹے سے چھوٹے حصے کے خواص معلوم ہو جائیں تو اس پورے جسم کے خواص معلوم کرنا کوئی مشکل نہیں ۔

مزید  آیت عذاب واقع

عصر حاضر میں علمی ترقی نہ ہوتی ۔

یہاں اس بات سے اگاہی ضروری ہے کہ سترھویں صدی عیسوی کے بعد ٹیکنالوجی اور صنعتوں کی توسیع کی وجہ سے ڈکارٹ کا نظریہ کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہوا ۔ ڈاکرٹ سے ۲۲ صدیاں پہلے یونانی حکیم ذیم قراطیس نے یہ نظریہ پیش کیا لیکن امام جعفر صادق نے ذیم قراطیس کے نظریئے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اشیاء کے خواص ہم اس وقت معلوم کر سکتے ہیں جب ہم کسی چیز کے چھوٹے سے ٹکڑے پر تحقیق کریں اور اس کے خواص سے ہم پورے جسم کے خواص تک پہنچ سکتے ہیں ۔

جس طرح ہم دنیا کے سمندروں کے پانی پر تحقیق نہیں کر سکتے لیکن اگر ایک سمندر کے پانیکے ایک قطرے پر تحقیق کریں تو ہم اس سارے سمندر کے خواص معلوم کر سکتے ہیں اگر صنعتی ترقی نہ ہوتی اور سائنس دانوں کو اجسام کو چھوٹے سے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے ذرائع میسر نہ آتے تو ذیم قرطیس اور جعفر صادق کے قول کی مانند ڈکارٹ کا قول بھی تھیوری حد تک محدود رہتا ۔

اگر آج جب ہم سیکنڈ کا کروڑواں حصہ ایک ملی میٹر کا کروڑواں حصہ معلوم کر سکتے ہیں تو یہ صرف صنعتی ترقی کا کمال ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.