2022 - 09 - 27 ساعت :
دسته‌بندی نشده

بیوی ، بچوں اور والدین کے ساتھ حسن معاشرت۔

2020-07-10 04

 

اپنے اھل و عیال او رما ں باپ کے ساتھ حسن سلو ک کرناایک انسان کے بااخلاق ہو نے پہ دلالت کر تی ہے اور یہ ایک ایسی اخلاقی صفت ہے جس میں انسان کے دین و مذہب کو دیکھا نہیں جاتا مکتب نہج البلاغہ یعنی مکتب اسلام اس پہ کا فی زور دے رہا ہے.

الف ۔”لا تجعلن اکثر شغلک باھلک و ولدک فان یکن اھلک و ولدک اولیاء اللہ فان اللہ لا یضیع اولیائہ و ای یکون اعداء اللہ فما ھمک و شغلک باعداء اللہ ؟!”(حکمت٣٤٤)

‘زیادہ حصہ بیوی بچوں کی فکر میں مت رہا کروکہ اگر یہ اللہ کے دوست ہیں تو اللہ انہیں بر باد ہو نے نہیں دے گا اور اگر اسکے دشمن ہے تو تم دشمنان خدا کے با رے میں کیوں فکر مند ہو’

ب۔”ان للولد علی الوالد حقا و ان للوالد علی الولد حقا فحق الوالد علی الولد ای یعطیہ فی کل شیئی الا فی معصیة اللہ سبحانہ ،و حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمہ و یحسن ادبہ و یعلمہ القرآن”(حکمت٣٩١)

‘فرزند کا باپ پر ایک حق ہو تا ہے اور باپ کا فرزند پر ایک حق ہو تا ہے باپ کا حق یہ ہے کہ بیٹا ہر مسئلہ میں اسکی اطاعت کرے معصیت     پر ور دگار کے علاوہ ۔اور فرزند کا حق باپ پر یہ ہے کہ اسکا اچھا سا نام تجویز کرے اور اسے بہترین ادب سکھائے اور قرآن مجید کی تعلیم دے ‘

ج۔’امام علی  اپنے بیٹے امام حسن سے وصیت کرتے ہیں:’انہیں۔عورتوں کو۔ پردہ میں رکھ کر انکی نگاہوں کو تاک جھانک سے محفوظ رکھو کہ پردہ کی سختی اسکی عزت و آبرو کو باقی رکھنے والی ہے اور انکا گھر سے نکل جانا غیر معتبر افراد کے اپنے گھر میں داخل کر نے سے زیادہ خطر ناک نہیں ہے اگر ممکن ہو کہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو نہ پہنچانیں تو ایسا ہی کرو ۔اور خبر دار انہیں انکے ذاتی مسائل سے زیادہ اختیا ر نہ دو اسلئے کہ عورت ایک پھو ل ہے اور حاکم نہیں ہے۔اسکے پاس اور لحاظ کو اسکی ذات سے آگے نہ بڑھاؤ اور اس میں دوسروں کی سفارش کا حوصلہ پیدا نہ ہو نے دے ۔دیکھو خبر دار غیرت کے مواقع کے علاوہ غیرت کا اظہار مت کرنا اس طرح اچھی عورت بھی برائی کے راستہ پر چلی جائے گی اور بے عیب بھی مشکو ک ہو جا تی ہے'(نامہ ٣١)

مکتب نہج البلاغہ گھر میں رہنے والے افرادکو ایک دوسرے کے حق کی رعایت کرنے پہ تاکید کر تا ہے ہر حال میں والدین کی اطاعت۔بیٹے کو صحیح ادب اور قرآن کی تعلیم ۔عورتوں کی باہر نہ جانے کی اجازت۔گھر کا حاکم مرد۔وغیرہ وغیرہ… لیکن عصر حاضر کو ان اخلاقیات کی قلت کا سامنا ہے بچے والدین کو اپنے حال پہ چھوڑ دیتے ہیں ماں باپ بچوں کو اسلامی آداب اور قرآنی تعلیم سکھانے میں ذلت کا احساس کر تے ہیں اسلئے انہیں انگلش میڈیم بھیجنا پسند کرتے ہیں جہاں انہیں دنیوی علم تو ملتا ہے لیکن عمل اور آداب انسانی سے وہ محروم رہتے ہیں والدین قرآنی تعلیم کے بجائے انہیں فلمی نغمیں سنانا پسند کر تے ہیں جو ان کے فسا د کا سبب بن جا تا ہے اور کل وہ معاشرے میں بڑے ہو کردوسروں کے لئے وبا ل جان بن جاتے ہیں اور طبیعی ہے کہ یہیں بچے اپنے والدین کو پھر اپنے حال پے چھوڑ دیتے ہیں .آج مکتب نہج البلاغہ کے برعکسfamanism) اور (humanismپہ عمل کرکے عورت کو حاکم بنایا اور اسے آزاد چھوڑ کے گھر اور معاشرے دونوں کی بر با دی کے اسباب فراہم کئے اور اسکی پھول جیسی نزاکت کو پامال کر دیااب بھی موقع ہے کہ انسان مکتب نہج البلاغہ کے اس اخلاقی برنامے پہ غور کرکے اسے عملی شکل عطاکرے .

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت