امام حسین (ع) اور امام مھدی (عج) کے اصحاب کی ممتاز صفات!

 

پہلی بات

تحقیق اور ریسرچ کے لئے ایک مناسب اور بہترین موضوع ، ” حضرت امام حسين(ع) اور حضرت امام زمان (عج) کے قیام میں موجود مشترک اور اختلافی نقاط ” کی تحقیق ہے ۔ یہ دو قيام بعض عناصر میں مشترك اور بعض خاص معاملوں میں مختلف ہے ۔ ان دونوں قيام کی ایک مشترکہ بات یہ ہے کہ ان کے رہبر معصوم امام ہیں اور دونوں قیام میں ایک فرق یہ ہے کہ امام حسين(ع) کے قیام کو ظاہری طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ، جبکہ امام زمان (عج) کا قیام آخرکار کامیابی سے سرفراز ہوجائے گا !۔

دونوں قیام کی یہ خصوصیات اور صفات جان کر دونوں اماموں کی ہمراہی کرنے اور ان کے رکاب میں جھاد کرنے کے لئے ہم اپنی صلاحیت کو پرکھ سکتے ہیں !۔

دونوں قيام کی ایک اور مشترکہ  بات ،ان کا مقصد ہے جو کہ ”  دین خداوند کی حکومت قائم کرنا ہے ” اوراختلافی مسئلہ ان کے پیش آنے کا زمانہ ؛ اس سے مراد یہ ہے کہ امام حسين(ع) کا قیام واقع ہوا ہے جبکہ امام زمان (عج) کا قیام ابھی شروع نہیں ہوا ہے ۔

یہ دونوں قیام مزید معاملوں میں بھی مشترکہ اور اختلافی نقاط کے حامل ہے جن کی اپنی جگہ پر بحث ہونی چاہیے ۔

اس تحریر میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ امام حسين(ع) اور امام زمان (عج) کے قیام میں موجود ایک اور مشترکہ نقطہ کی بحث کی جائے اور وہ ، ان دونوں امام کے حقیقی چاہنے والوں ، عاشقوں اور یار و دوستوں مشترکہ خوبیاں ہے ۔ دونوں امام  مخصوصاً امام زمان (عج ) کے یارودوستوں کی خصوصیات بیان کرنے کی اہمیت دو باتوں کی وجہ سے ہے ۔

ایک یہ کہ دونوں قیام کی یہ خصوصیات جان کر دونوں اماموں کی ہمراہی کرنے اور ان کے رکاب میں جھاد کرنے کے لئے ہم اپنی صلاحیت کو پرکھ سکتے ہیں ؛ اس لحاظ سے کہ اگر ہم حضرت امام حسين(ع) کے زمانے میں موجود ہوتے تو کیا اس حضرت کے دوستوں اور صحابیوں کی طرح ان کے ہمراہ اپنی آخری سانس تک اور اپنے خون کا آخری قطرہ گرنے تک ، اپنے دین اور امام کا دفاع کرتے ؟ ! ۔ لہٰذا ایسی صورت میں ہم اپنے لئے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ اس آنے والے ” روز موعود ” میں بھی حضرت امام زمان (عج) کے کنارے میں موجود ہوں گے یا نہیں ! ۔

دوسرے یہ کہ امام زمان(عج) کے چاہنے والوں کی خوبیاں جاننا اور ان کے حصول کے لئے تلاش و کوشش کرنا ، درحقیقت یہ تلاش ظھور کی تیاری اور اس مبارک دن کے پہنچ جانے میں کوشش کرنا ہے ۔ اس بنیاد پر ہمیں چاہیے کہ ان خوبیوں سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے کے لئے قدم اٹھائیں تاکہ ظھور کی فضا تیارکرنے والوں اور اس حضرت کے حقیقی چاہنے والوں کے صف میں کھڑے ہوسکیں ! ۔

خدا کی تلاش اور توحید ، حضرت مهدی (عج) کے حقیقی دوستوں اورعاشقوں کے عقیدوں ، خصلتوں اور صفتوں کا سرلوحہ بھی ہے ! ۔

ابتداء میں خلاصہ کے طور پر بیان کی جانے والی آٹھ صفتوں اور خصوصیتوں کے نام ذکر کریں گے پھر تفصیل سے ان کا جائزہ لیں گے :

۱ ۔ خدا کی رغبت اور تلاش  ۔

2۔ بصيرت و فکری رشد ۔

۳۔  ولايت کی اطاعت و پیروی ۔

۴ ۔  شجاعت اور دلیری ۔

۵ ۔ دین کی حمایت و حفاظت ۔

۶ ۔  ايثار و فداکاری ۔

7 ۔  شهادت طلبی اور سعادت خواہی ۔

8 ۔ حریت پسندی اور ظلم ستیزی یا آزاد جینے کا مطالبہ اور ظلم کے خلاف مقابلہ ۔

۱ ۔ خدا کی رغبت اور تلاش

امام حسين(ع) اورامام زمان (عج) کے یا ر و دوستوں کی ایک مشترکہ خوبی ” خداوند متعال کی رغبت اور تلاش اور معنویت کا رجحان ” ہے ۔ انسانی موجود کی سب سے ایک عظیم اور بہترین حالت ، مطلق کمال اور حقیقی معبود کا عشق و محبت ہے کہ الٰھی رہبر اس کے سب سے بلند درجہ پر فائز تھے ۔ اس طرح کے عشق و محبت کے مالک افراد اپنے لئے کوئی بھی چاہت اور شناخت نہیں رکھتے ہیں اور ہمیشہ بدن اورمٹی کے زندان سے رہائی پانے اور پروردگارعالم سے ملنے کے لمحہ کے انتطار میں ہوتے ہیں ۔ وہ خداوند عالم کی رضایت اور اس کی خواہش کے سامنے تسلیم ہونے کے علاوہ کسی چیز کی بھی تمنا نہیں رکھتے ہیں ۔ (۱)

سارےعاشورا اور کربلا کے تمام حوادث کی فضا میں ” رِضَي اللهِ رِضَانَا اَهلُ البيت ” (2)  کا نعرہ گونج رہا تھا نیزامام (ع) اور اس کے اصحاب اور دوستوں نے اپنے ساتھ دنیا اور نفس کا ہر طرح کا رابطہ قطع کیا تھا اور حق کے ساتھ پوری طرح مل گئے تھے ۔ امام حسين (ع) نے مدینہ سے نکلتے وقت ، خطبہ پڑھنے کے ساتھ ، اپنے سفر اور قیام سے ہر طرح کی قدرت طلبی و دنيا خواہی کی چاہت رد کردی اور باربار خداوند عالم کے امر و قضا کے سامنے تسلیم ہونے کی بات کہی ۔

” پروردگارا ! میں تیری رضا پر راضی اور تیرے فرمان پر تسلیم ہوں ! ، تیری قضا کے سامنے میں صبر کروں گا ! ، اے وہ خدا کہ تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے ! ، اے بے پناہ لوگوں کی پناہ (و امید) ! ۔ (۳)

خداوند متعال کی مرکزیت صرف امام (ع) کلام اور سلوک میں نمایاں نہیں تھی بلکہ ان کے اصحاب اور اہل بیت بھی سب سے زیادہ معنوی رجحان اور روحانی عشق سے مالامال انسان تھے !۔ حضرت زينب (س) نے واقعہ کربلا کے بعد سيد الشهدا (ع) کے پارہ پارہ بدن اطھر کے کنارے میں یہ آواز بلند کی :

” اللهم تَقَبَّل مِنَّا هَذا القُربان ؛ خدايا !، یہ قربانی ہماری طرف سے قبول فرما “!(۴)

اسی طرح حضرت زينب(س) نے ابن زياد کے ساتھ گفتگو کے وقت فرمایا :

” مَا رَاَيتُ اِلا جَمِيلاً ” ؛ میں نے حسن (اچھائی اور بہتری) کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ! ۔ (۵)

“‌هانی” کے زيارتنامہ میں ہم پڑھتے ہیں :

“بَذَلتَ نَفسَك فِي ذَاتِ اللهِ وَ مَرضَاتِهِ ؛ اے وہ شخص جس نے اپنی جان خداوند کی راہ ِ رضا میں فدا کی ! ” ۔ (۶)

امام کے ساتھیوں کی خداوند عالم کی مرکزیت اور ان کی معنويت نے ، شب عاشورا کو ایک خاص منظر پیش کیا ہوا تھا ، اس طرح کہ عبادت و بندگی اور ان کی نماز شب کی آوازوں اور گریہ گذاری نے خيموں کو اپنے اندر لپیٹا ہوا تھا ۔ مورخین کے بقول :

” لَهُم دَوي كَدَوي النَّحل وَ هُم مَا بَينَ راكِعٍ وَ ساجِدٍ وَ قَاري لِلقُرآن ” ۔ (7)

خدا کی تلاش اور توحید ، حضرت مهدی (عج) کے حقیقی دوستوں اورعاشقوں کے عقیدوں ، خصلتوں اور صفتوں کا سرلوحہ بھی ہے ۔ انہوں نے خداوند متعال کو اچھی طرح پہچاننا ہے اور ان کا سارا وجود خدائی نورانی جلوے میں غرق ہوا ہے ۔ ہرچیز کو اسی کے جلوے سے دیکھتے ہیں اور ان کی نطر میں اس کی یاد اور ذکر کے علاوہ دوسروں کی باتوں میں کوئی لطف و مزہ اور کشش نہیں ہے ۔ انہوں نے غیب کو شھود اور حضور کی طرح دیکھا ہے اور روحی پاکیزگی سے معنوی عالم کا جام نوش کیا ہے ۔ ان کے سینے میں ایسا خالص ایمان و یقین موجود ہے کہ شک و شبہ انہیں اجنبی اور پرایا لگتا ہے ۔ (۸)

اپنے محبوب کی ملاقات کے شوق نے ، ان کے دلوں کو وجد اور حرکت میں لایا ہوا ہے  اور وہ اس سے ملنے کے لئے ، دن و رات سے بے خبر ہوتے ہیں ۔  یہ عقیدہ اتنا سخت اور راسخ ہے کہ سختیاں اور مصیبتیں اس میں کوئی رخنہ نہیں ڈال سکتی ہے ، اس لئے کہ وہ خالص توحید کے سرچشمہ سے سیراب ہوتے ہیں اور خداوند کی وحدانیت پر اسی طرح ، جس طرح اس کی وحدانیت کا حق بنتا ہے ، اعتقاد رکھتے ہیں ۔ (۹) ان کے دلوں کے گھر نفس ، قدرت اور دولت کے بتوں نے آلودہ نہیں کئے ہے اوراس پرامن مکان میں خداوند عالم کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں ہے !۔ حضرت امام صادق(ع) نے حضرت مهدی (عج) کے حقیقی دوستوں کے بارے میں یوں فرمایا ہے :

” ایسے لوگ گویا کہ ان کے قلوب سے نور برستا ہے ۔ وہ اپنے پروردگار کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں ۔ شھادت کے لئے دعا کرتے ہیں اور راہ خدا میں مرجانے کی آرزو کرتے ہیں ” ۔ (10)

حضرت امام علی (ع) ، حضرت مهدی (عج) کے حقیقی دوستوں  کو ، وہ خزانے جو خدا کی شناخت سے لبریز ہیں ، قرار دیتے ہیں ” !۔ (11)

حضرت مهدی (عج) کے حقیقی دوست ، عبادت و بندگی اور راتوں میں گریہ گذاری کے مظھر ہیں ۔ ان کی جان بندگی اور راز و نیاز کی روح سے پوری طرح مل گئی ہے ، وہ ہمیشہ خود کو خداوند متعال کے محضرمیں پاتے ہیں اور ایک لمحہ کے لئے بھی خداوند عالم کی یاد سے غفلت نہیں بھرتے ہیں !۔ (12)

اہداف اور مقاصد کے تئییں ان کی اپنی گہری بصيرت اور شناخت ، اس بات کا باعث بنے گی کہ وہ اپنے امام کی اطاعت کرنے ، دینی سنتوں کو احیاء کرنے اور بدعتوں اور خرافات کے ساتھ لڑنے کی راہ میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گے ، نیز شرک کی آلودگی ختم کرنے کی رسالت میں ، اپنے امام کے شانہ بہ شانہ بت شکنی کا کردار نبھائے گے اور وہ انحرافات ، بدعات اور خرافات جو دین کے نام سے لوگوں کے ذہنوں میں پختہ ہوچکے ہے اور زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ مقدس ، محترم اور معتبر بن چکے ہے ، انہیں نابود کر دے گے ! ۔

2۔ بصيرت و فکری رشد!

دونوں امام کے حقیقی چاہنے والوں اور دوستوں کی ایک اور مشترکہ خوبی ” بصيرت و فکری رشد ” ہے ۔  حضرت امام حسین (ع) کے اصحاب و اہل بیت ، خداوند متعال کی حجت اورحق و باطل کے درمیان فرق کی گہری شناخت اور بصیرت کے ہمراہ ، امام کے ساتھ متصل ہوئے ۔ ان کا جھاد اور قیام ، تربیتی مکتب اور یقین واعتقد کی بنیاد پر پروان چڑھا اور اس میں قومی تعصبات ، دشمن کی طرف سے اکسانے اور باطل حریف و منحرف جماعت کی دھوکہ بازی کا کوئی بھی شائبہ موجود نہیں تھا !۔

” جناب هلال بن نافع ” شب عاشورا امام حسين(ع) کی فرمائشوں کے بعد کھڑا ہوا اور کہنے لگا :

” وَ اَنَّا عَلَي نِياتِنا وَ بَصائِرِنا  ” ؛ یقیناً ہم اپنے اردوں اور بصیرتوں پر ثابت قدم ہیں ” ۔ (13)

” جناب عابس بن شبيب ” بھی جب امام حسين (ع) کی خدمت میں پہنچا تو کہا :

سلام ہو تم پر اے اباعبدالله ، خدا، گواه بناتا ہوں کہ میں تمہارے اور تمہارے والد کے دین پر ہوں! ۔ (1۴)

امام حسين(ع) کے اصحاب نے نہ صرف اپنے امام سے ہاتھ واپس نہیں لیا اور دشمن سے مل نہیں گئے ،  بلکہ ” دشمن کی شناخت ” اپنے افتخاروں میں سے ایک افتخار کے طور پر بیان کرتے تھے ۔ ” جناب بُرَير” دشمن کے سپاہی سے گفتگو کے وقت اسے کہتے ہیں :

” الحمدُ اللهِ الذي زَادَنِي فِيكُم بَصيرَه ”  ؛ اس خدا کا شکرجس نے تم لوگوں کے بارے میں میری بصيرت اور شناخت میں اضافہ فرمایا ” ۔ (۱۵)

امام زمان (عج) کے حقیقی دوست بھی بصيرت ، شناخت اور عقلمندی کے مالک اور مظھر ہیں ، ان فتنوں میں جن میں بڑے بڑے ہوشیار اور ذہین افراد ڈوب جاتے ہیں ، وہ ان میں بڑی ہی ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ قدم بڑھائے گے اور حق ، باطل سے جدا کرکے پہچاننے گے ۔ اہداف اور مقاصد کے تئییں ان کی اپنی گہری بصيرت اور شناخت ، اس بات کا باعث بنے گی کہ وہ اپنے امام کی اطاعت کرنے ، دینی سنتوں کو احیاء کرنے اور بدعتوں اور خرافات کے ساتھ لڑنے کی راہ میں کوئی کوتاہی نہیں بھرتے گے ، نیز شرک کی آلودگی ختم کرنے کی رسالت میں ، اپنے امام کے شانہ بہ شانہ بت شکنی کا کردار نبھائے گے اور وہ اور وہ انحرافات ، بدعات اور خرافات جو دین کے نام سے لوگوں کے ذہنوں میں پختہ ہوچکے ہے اور زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ مقدس ، محترم اور معتبر بن چکے ہے ، انہیں نابود کر دے گے  ۔ (1۶)

حضرت مهدی (عج) کے حقیقی چاہنے والے اپنا امام اچھی طرح پہچانتے ہیں اور اس کا عقیدہ رکھتے ہیں ، ایسا عقیدہ جو ان کے وجود کے عمق میں اپنی راسخ جڑ بنا چکا ہے اور ان کے ساری جان کو اپنے اندر لپیٹا ہوا ہے  ۔ یہ معرفت ، اجمالی اور مختصر شناخت نہیں ہے بلکہ امام کے حق (حق و باطل کا معیار ) ہونے کی شناخت ہے ۔ اس بارے میں امام معصوم (ع) کی طرف سے بہترین اندازمیں فرمایا گیا ہے : ” اگر میں اسے درک کرلیتا ( یعنی اس زمانے میں موجود ہوتا) تو ساری عمر اس کی خدمت کرتا  ” ! ۔ (۱۷)

یہ صورتحال اس وقت ہے جب بعض افراد امام زمان (عج) کی غیبت ، طولانی ہوجانے کی وجہ سے حیرت زدہ اورگمراه ہوجائے گے ۔ حضرت امام علی (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں :

” تَكونُ لَهُ حِيرهٌ و غبيهٌ يُضلُّ فِيها اَقوامٌ وَ يَهتَدي فِيها آخَرون ؛ مھدی کی غيبت کی وجہ سے حیرت زدگی پیدا ہوجائے گی ۔ ، ایک جماعت گمراہ ہوجائے گی اور ( دوسری ) ایک جماعت ہدایت ( کی راہ اوراپنے دین پر ) باقی رہے گی ۔ ” (18)

حضرت ولیعصر (عج) کے پروگراموں میں سے ایک اقدام اجتماعی فکری اورعقلی رشد کو پروان چڑھانا ہے اس لئے کہ عالمی حکومت کی تشکیل یابی کے لئے اجتماعی عقلی اور فکری سطح کا ، مطلوبہ لیول تک بڑھاوا دینا ضروری ہے ۔ حضرت امام صادق (ع) اس کے متعلق فرماتے ہیں :

” جب ہمارا قائم قيام کرے گا ، وہ اپنا ہاتھ بندوں پر رکھے گا اور ان کے عقلیں مرکوز بنا دے گا اور ان کے اخلاق کمال (کی حد) تک پہنچائے گے ” ! ۔ (19)

اجتماعی فکری اورعقلی رشد بڑھانے کا ایک اہم مصداق اور نمونہ ، ” بصيرت ” ہے کہ ابتداء میں ضروری ہے حضرت کے حقیقی چاہنے والے اور دوست اس سے بہرہ مند اور مالامال ہوجائے تا کہ عقلی دنیا کا نفاذ اورعدالت و حکمت سے لبریزفرمانروائی قائم کرنے میں اپنے امام کی مدد کرسکے ! ۔

۳۔  ولايت کی اطاعت و پیروی

ایک طرف سے واقعہ عاشورا میں اطاعت و پیروی اور وعدہ کی وفاداری جیسے نمایاں اور بہترین منظروں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور دوسری طرف سے ، سرکشی ، عھد شکنی اور بے وفائی کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ عھد شکن کوفیوں نے ، فرزند پیغبر(ع) کو شھادت تک پہنچایا (۲۰) ، جبکہ امام عالی مقام کے باوفا یار و دوستوں نے ، ولایت کی اطاعت و پیروی کا منظر سامنے پیش کیا ۔ اس کے باوجود کہ امام عالی مقام اپنے اصحاب سے اپنی بیعت واپس لی تھی ، لیکن وہ وعدہ وفائی نبھاتے ہوئے میدان میں باقی رہیں اور اپنا عھد نہیں توڑا ۔ شهداے كربلا ، امام کے رکاب میں جانبازی دکھانے کو ، اپنے عھد کی وفا جانتے تھے اور اس پر اپنی جان کی خون سے لبریزمھر لگاتے تھے ۔ (۲۱)

 ” عمرو بن قرظه ” نے اپنے آپ کو دشمن کی تلواروں اور تیروں کے سامنے قرار دیا تا کہ امام کو کوئی گزند نہ پہنچے اور اتنے زخم اس کے بدن پر لگ گئے یہاں تک کہ وہ بے تاب و قدرت ہوگیا ۔ اسوقت اپنا رخ امام کی طرف کیا اور پوچھا :

اے فرزند ِ پیغمبر ! کیا میں نے وعدہ نبھایا ؟ ، امام نے فرمایا : ہاں ، تو جنت میں میرے پاس ہی ہوگا اور جلد ہی بہشت میں داخل ہوجاؤ گے ، میرا سلام پيغمبر(ص) کو پہنچاننا ” ۔  (22)

جب حضرت حبيب بن مظاہر ، حضرت مسلم بن عوسجه کے سرہانے پر آگئے اور اسے جنت کی بشارت دی ، اس نے مرتے وقت جناب حبيب ابن مظاہر سے وصیت کی ؛ ” امام سے (وفا کرنے کا ) اپنا ہاتھ نہیں اٹھانا اور اس کی راہ میں فوت ہوجانا ” ۔ (23)

امام عالی مقام کے یار و دوستوں کی اسی اطاعت و وعدہ وفائی کی وجہ سے حضرت مسلم بن عقيل (ع) کے زیارت نامہ میں ہم پڑھتے ہیں :

 ” وَ اَشهَدُ اَنَّكَ وَفَيتَ بِعَهدِاللهِ ؛ اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک تم نے خداوند کے ( ساتھ کئے ہوئے ) وعدے کی وفاداری نبھائی ” ۔  (2۴)

یہ اشارہ ہے خداوند متعال کے ساتھ وعدہ اور زمین پرحجّت ِخداوندعالم کی نصرت میں جان قربان کرنے کی طرف ۔ حضرت عباس بن علی (ع) کی زيارت میں بھی اس طرح آیا یے :

 ” اَشهَدُ لَكَ بِالتَسلِيمِ وَ التَصدِيقِ وَ الوَفاء وَ النَصيحَه لِخَلَفِ النَّبي ” ؛ (2۵) جو فرزند پيغمبر(ص) کے بہ نسبت حضرت ابوالفضل (ع) کی اطاعت کرنے ، تسليم ہونے اور اس کی تصديق و تائید کرنے کی واضح دلیل ہے ۔

حضرت ابوالفضل (ع) کی وفاداری اتنی بلندی پر پرواز کررہی ہے کہ وہ حضرت شب عاشورا امام حسين (ع) سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں :

” خدا کی قسم ! ، ہزگز تم سے جدا نہیں ہوجائے گے ! ، ہماری جان تمہاری جان پر فدا ہوں ! ، اپنے

خون آلود نرخروں ، حلقوں ، ہاتھوں اور چہروں سے تمہاری حمايت کرے گے اگر چہ مرجائے گے ، اپنے وعدے کی اور جو بھی ہمارے ذمہ ہے ، (اس کے ساتھ ) وفا کریں گے ۔  ” فَاِذا نَحنُ قَتَلنَا بَينَ يَدَيكَ نَكونُ قَد وَفَينا لِرَبِّنا وَ قَضَينا مَا عَلَينا ” ۔ (۲۶)

امام حسين (ع) روزعاشورا جب حضرت مسلم بن عوسجه کے سرہانے پر آگئے ، یہ آیت شریف قرائت فرمائی جو امام عالی مقام کے یار و دوستوں کی وفاداری کی عکاسی کرتی  ہے :

” مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَي نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً ”  ؛     ” مومنین میں ایسے بھی مرد ِمیدان ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے ان میں بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کررہے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی ہے ۔ ” (27)

حضرت مھدی (عج) کے حقیقی یار و دوست اپنے مولا کے عاشق ہیں اور اس کی راہ کے فداکار و پیروکار ۔  وہ غلاموں کی طرح (مجبوری سے ) اپنے مالک کا تابع ہونے (اوراس سے حکم لینے اور انجام دینے ) کے بجائے ، کہیں بہترصالح فرزندوں کی طرح ( جوش و شوق کے ساتھ ) امام عالی مقام سے امر و حکم لیتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے فرمانوں کو انجام دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لیتے ہیں ۔ (28) جناب رسول اکرم (ص) کی فرمائش کے مطابق ، وہ اس کی پیروی کرنے میں سعی و تلاش کرنے والے ہیں ۔(29)  حضرت ولیعصر (عج) کے تئییں ان کا قلبی عشق و محبت ، انہیں فرمانبرداری کرنے پر اکساتا ہے اور وہ پروانے کی طرح ، اس حضرت کے شمع جیسے وجود کے اطراف میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔ روایت میں وارد ہوا ہے : (مفھوم)

” ایسے سوارافراد بھی ہیں جو نشانی اور پرچم لئے ہوئے ، امام کے مرکب کی زین سے تبرک لینے کے لئے اس پر ہاتھ پھیرتے ہیں ، اور امام کے گرد چکر لگاتے ہیں ۔ جنگوں میں جان و دل سے اس کی نصرت کرے گے اور جو بھی وہ (ان سے) طلب کرے ، وہ اسے انجام دے گے !۔ ” (30)

حضرت امام حسن عسكری (ع) ، امام مهدی (عج) کے یار و دوستوں کے متعلق فرماتے ہیں :

” … میں وہ دن دیکھ رہا ہوں کہ جس میں زرد اور سفيد پرچم‌  كعبہ کے كنارے میں بلند ہوچکے ہے اور تمہاری ( حضرت مھدی (عج) کی ) بیعت کے لئے ، مسلسل ہاتھوں کے صف بن چکے ہے ۔ پاکیزہ یار و دوست نے ، اس طرح نظم و نسق سے امور انجام دئے ہے کہ قیمتی موتی کے دانوں کی طرح ، تمہارے شمع جیسے وجود کو احاطہ کئے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھ تمہاری بیعت کے لئے حجرالاسود کے کنارے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہے ۔ وہ دینی احکام کے سامنے سرخم ہیں ، ان کے دل ، کینہ اور دشمنی سے پاک اور ان کے رخسار، حق قبول کرنے کے لئے تیار ہے ۔۔۔ !۔  (31)

امام زمان (عج) کے یار و دوستوں کا ان کے تئییں عشق و محبت اس حد تک زیادہ ہے کہ اس کے گھوڑے کی زین کو برکت اور نعمت کا باعث سمجھتے ہیں اور اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں ۔ حضرت امام صادق(ع) اس بارے میں فرماتے ہیں :

” يَمسَحونَ بِسِرجِ الاِمامِ يَطلُبونَ بِذلِكَ البَرَكه ” ۔ (32)

اس طرح کے عشق و محبت کا نتیجہ ، ان کی اپنے امام کی ، بے چون و چرا اطاعت اور پیروی ہے ! ۔

۴ ۔  شجاعت اور دلیری

امام حسين(ع) اور مام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی ایک اور مشترکہ خوبی ” شجاعت اور دلیری ” ہے ۔ حضرت امام حسين(ع) کے یار و دوست عشق ِشهادت میں لڑتے تھے ، وہ مرنے سے نہیں ڈرتے تھے اور دشمن کے مقابلے میں کمزور نہیں پڑتے تھے ۔ جس رشادت کا مظاہرہ حضرت مسلم بن عقيل (ع) نے كوفہ میں کیا ، يا جو شجاعت اور دلیری کا نمونہ حضرت ابوالفضل العباس (ع) ، حضرت قاسم (ع) اوردوسرے شھداء نے میدان کارزار میں پیش کیا ، وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ لوگ سب سے زیادہ شجاع اور دلیر انسان تھے ۔ (33) ان کی شجاعت اتنی انوکھی تھی کہ دشمن کا ایک کمانڈر اپنے سپاہیوں سے اس طرح فریاد سے کہتا ہے :

“اے بے عقلو ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ کن کے ساتھ لڑ رہے ہو؟ دلیراور نڈر شیروں کے ساتھ اوراس جماعت  کے ساتھ جو موت بپا کرتی ہے ! ، تم میں کوئی بھی ان کے پاس میدان میں چلے نہ جانا کہ اگر گئے تو مارے جاؤں گے ” ۔ ( ۳۴)

ایک اور دشمن ، امام عالی مقام کے یار ودوستوں کی شجاعت اور دلیری اس طرح بیان کرتا ہے :

” وہ افراد جنہوں نے ہم پر حملہ کیا ، ان کے ہاتھ تلواریں نیام سے نکالنے کے لئے ان کے دستوں پرتھے ، وہ خشم بھرے شیروں کی طرح ہمارے لشکروں پر ٹوٹ پڑیں اور انہیں داہیں باہیں کی طرف ملا میٹ کیا اور اپنے آپ کو موت کے میدان میں ڈال دیا ” ۔ (۳۵)

امام حسين(ع) کے قیدی یار و دوستوں نے بھی ان کی شهادت کے بعد اپنی شجاعت اور بہادری کے جلوے پیش کئے ۔ امام عالی مقام کے اہل بیت (ع) اور دیگرافراد نے باوجود اس کے وہ اسیر تھے ، مصیبت اورغم اپنے اوپرغالب نہیں ہونے دیا اور دشمن کے مقابلے میں تسلیم نہیں ہوگئے ۔ انہوں نے اس طرح کا کردار نبھایا کہ دشمن ہی ان کے بدلے غصے میں آجاتے تھے ۔ اس بارے میں حضرت زينب (س) کا کردار واضح اور پختہ دلیل ہے اسی وجہ سے ان کی ابن زياد کے ساتھ گفتگو کے وقت ، ابن زياد نے اسے متکبرخاتون کہہ کر بلایا ۔ (۳۶)

امام حسين (ع) کے اہل بیت کے سلوک کی جڑ ان کے امام کی شجاعت ، دلیری اور غیرت میں موجود تھی ؛ اس لئے کہ وہ امام عالی مقام کے ایسے یار و دوست تھے جو راہ خدا میں آنے والی موت ، عزت و افتخار اور کامیابی سمجھتے تھے ۔ (۳۷) نیز وہ ” أبا الموت تخوفاني ” (38) کا نعرہ دیتے تھے ۔ واقعہ کربلا کا ایک راوی اس طرح کہتا ہے :

” خدا کی قسم ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ جس کے فرزندان اور خاندان اور یار و دوست مارے گئے ہوں اور لوگوں کے بڑی تعداد (فوجی لشکر) کے محاصرے میں ہو اور وہ حسين بن علی کی طرح مضبوط دل ، ثابت قدم اور شجاع ہو ۔  دشمنوں نے اسے محاصره کر رکھا تھا ، لیکن وہ تلوار سے ان پر حملہ کرتا تھا اور وہ سارے دائیں بائیں بھاگ جاتے تھے ۔ شمر نے جب اس طرح کا منظر دیکھا تو اپنے سوارلشکرکو حکم دیا ، پیدل سپاہیوں کی مدد سے دوڑ کرحملہ کرے اور امام پر ہر طرف سے تیروں کی بارش برسائے ” ۔ (39)

حضرت مهدی (عج) کے حقیقی یار و دوست بھی شجاع ، دلیر اور مردان ِ میدان ہیں ؛ وہ فولاد جیسے دل کے مالک ہیں ۔ دشمنوں کی اکثریت تعداد سے دل میں کسی طرح کا خوف پیدا ہونے کا موقعہ نہیں دیتے ہیں اور خداوند عالم اور اپنے امام کے عشق و محبت نے ان کو ہمت و طاقت عطا کی ہے ۔ ان کی بے نظیر شجاعت ، انہیں میدان کارزارمیں کھینچ لیتی ہے ۔ عزت نفس اور منزل کی عظمت و بلندی نے ، انہیں اونچے پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط بنایا ہے اور ان کے خوف کو ستمکاروں اور ظالمین کے سینوں میں دوبرابر کیا ہے ۔ (ہر فرد) چالیس آدمیوں کی طاقت کا مالک ہے ۔ وہ میدان کارزار کے شیر ہیں اور ان کی جانیں کانٹے دار پتھر سے بھی زیادہ مضبوط ہے !۔ (۴۰)

حضرت امام باقر(ع) ، حضرت ولیعصر(عج) کے یار و دوستوں کی شجاعت اور دلیری کے متعلق فرماتے ہیں :

“لَكَاَنّي اَنظُرُ اليهم مُصعِدِين مِن نجف الكوفه ثلاثُ مائه وَ بِضعهُ عشر رجلا كان قُلوبُهُم زبرَ الحديد … يَسيرُ الرعبُ اَمامَه شهراً و خلفَهُ شهراً ۔۔۔ ؛ (۴1) گويا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں ، تین سو اور دس اورکچھ دیگر افراد جو نجف (کوفہ) کی اونچائی پر کھڑے ہیں اور وہ فولاد جیسے دل کے مالک ہیں ۔ انہوں نے ہرطرف سے ایک ماہ میں طے ہونے والے راستے تک ، اپنے دشمنوں کے دلوں پر ترس و خوف کا سایہ ڈالا ہے ۔۔۔ !۔ (۴2).

۵ ۔ دین کی حمایت و حفاظت

امام حسين(ع) اورامام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی ایک اور مشترکہ خوبی ” دین کی حمایت و حفاظت کرنا ” ہے ۔ امام حسين(ع) کے اصحاب خداوند متعال کے احکام کی اطاعت و پیروی میں اور اپنے امام کی فرمائشوں کو عملی جامہ پہناننے میں ، سب سے زیادہ تابع اور فرمانبردار تھے ۔ انہوں نے اپنا خون ایثار کرکے دین اور اس کی انسان سازتعالیم کی حمایت اور حفاظت کی ۔ اس لئے کہ اس زمانے میں ، دین خداوند نابودی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا !۔ حضرت ابوالفضل عباس (ع) اپنی فریاد میں جو انہوں نے بدن سے اپنا داہیں ہاتھ جدا ہونے کے بعد دی ، اس میں دین کی حمایت و حفاظت پر تاکید کرتے ہیں :

” والله اهن قطعتموا يميني اني أحامي ابدا عن ديني ؛   اس کے باوجود تم نے میرا داہیں ہاتھ قطع کر دیا ہے ، لیکن  خدا کی قسم ہرگز میں اپنے دین کی حمایت اور حفاظت سے دستبردار نہیں ہوں گا ” ۔ (۴۳) اسی وجہ سے بعض زيارتوں میں ، امام حسين(ع) کے یار و دوستوں کو دین خداوند متعال کے ” انصار  و مددگار ” کہا گیا ہے :  

” السلامُ عليكم أَيُها الدابون عن توحيدالله ” ۔ (۴۴ ) ، ” السلام عليكم يا انصارَ دين اللهِ وَ انصارَ نَبِيِّهِ ” ۔ (۴۵)

امام زمان (عج) کے مطلوبہ معاشرہ کا ایک اہم بنیادی رکن ،  ” دین کا نفاذ ” ہے ۔ بہت ساری اسلامی روایات میں حضرت ولیعصر(عج) کے ذریعے دین کے احیاء ہونے ، کا ذکر کیا گیا ہے ۔ (۴۶) دین احیاء ہونے کا ایک ممطلب یہ ہے کہ دینی معارف اور تعالیم ، اس طرح بیان اور اجرا کئے جائے گے جو ظھور سے ماقبل دینی معارف اور تعالیم سے مختلف اور جدا ہوں گے ۔ اسی وجہ سے ، بعض لوگ خیال کرے گے کہ حضرت نے کوئی نیا دین لایا ہے ۔ (۴۷) بنیادی طور پر امام مھدی (عج) کا ایک اہم اقدام  ، اسلام کے خالص اور حقیقی اقدار ، معارف اورتعاليم کو دوبارہ زندہ کرنا ہے !۔ حضرت امام علی (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں : ” و يُحيِي ميتَ الكتابِ و السنةِ  ؛ وہ مری ہوئی  اور ختم ہوئی (متروک ) كتاب و سنت کو زندہ کرے گا ۔ ” (۴۷)

ہم میں سے بعض لوگ تو دوبارہ اسلام کے احیاء ہونے کو برداشت نہیں کرپائے گے اور اس کی مخالفت کے لئے کھڑے ہوجائے گے ۔ امام عالی مقام بھی ان سے لڑے گے ، اور اس معاملے میں حضرت کے یار و دوست دین ِ خداوند کا نفاذ ، قائم کرنے اور اسے مضبوط بنانے میں ان کی حمایت و نصرت کرے گے ۔ امیرالمومنین (ع) حضرت مهدی (عج) کے حقیقی یار و دوست کی تعريف میں یوں فرماتے ہیں :

” اس کے یار و دوست اپنے امام کی بيعت کرے گے اور اپنا ہاتھ اور دامن پاکیزہ رکھے گے ، زبان گالی کے خاطر نہیں کھولے گے ، کسی کا خون ناحق نہیں بھائے گے ، لوگوں کی رہائش گاہ پر حملہ نہیں کرے گے ، كسی کو ناحق تکلیف نہیں دے گے ، ممتاز (غیرمعمولی ) مركبوں پر سوار نہیں ہوں گے ، قیمتی لباس‌ نہیں پہنے گے … امانت میں خيانت نہیں کرے گے ، يتيم پر ظلم روا نہیں رکھے گے ، راستہ میں ناامنی نہیں پھیلائے گے ، پناہ دینے والے اور زخمی نہیں مارے گے ، فرار کرنے والوں کا پیچھا نہیں کرے گے اور راه خدا میں اچھی طرح جهاد کرے گے ” !۔ (۴۹)

البتہ انہیں ایسے ہی بہترین صفات سے آراستہ ہونا چاہیے ، اس لئے کہ اسلامی حکومت کا ایجاد و قیام ، خداوندمتعال کے قوانین کی رعایت میں پوشیدہ ہے ، نیز مثالی اور آئیڈیل معاشرے کی ایجاد و قیام بھی ، صحيح اسلامی تریبت و پرورش کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اگر ایک حکومت کے اہلکار اور اس کے حقیقی چاہنے والے ، دین کے پیروکار ہوں ، تو لوگ بھی دین کی پابندی کاخیال رکھے گے ۔ امام حسين (ع) کے حقیقی یار و دوستوں نے اپنی شهادت اور الٰھی احکام عملی طور پر انجام دینے سے دین کی حرمت محفوظ رکھیں اور اس کی حمایت کیں ، جبکہ امام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوست بھی الٰھی قوانین اور شرعی حدود کی رعایت سے دین کی حمایت اور حفاظت کرنے کا کردار نبھاتے ہیں ۔ اس طرح سے دونوں جماعت کے افراد دین کے حامی اور محافظ ہیں اور یہ ان دونوں کی ایک مشترکہ انوکھی اور ممتاز خصوصیت ہے !۔

حضرت مھدی (عج) کے حقیقی یار و دوست اپنے مولا کے عاشق ہیں اور اس کی راہ کے فداکار و پیروکار ۔  وہ غلاموں کی طرح (مجبوری سے ) اپنے مالک کا تابع ہونے (اوراس سے حکم لینے اور انجام دینے ) کے بجائے ، کہیں بہترصالح فرزندوں کی طرح ( جوش و شوق کے ساتھ ) امام عالی مقام سے امر و حکم لیتے ہیں ، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے فرمانوں کو انجام دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لیتے ہیں ۔  جناب رسول اکرم (ص) کی فرمائش کے مطابق ، وہ اس کی پیروی کرنے میں سعی و تلاش کرنے والے ہیں ۔ حضرت ولیعصر (عج) کے تئییں ان کا قلبی عشق و محبت ، انہیں فرمانبرداری کرنے پر اکساتا ہے اور وہ پروانے کی طرح ، اس حضرت کے شمع جیسے وجود کے اطراف میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔

۶ ۔  ايثار و فداکاری

حضرت امام حسين (ع) کے یار و دوستوں کی ایک اور روشن اور ممتاز خصوصیت ” ايثار اور قربانی ” ہے ۔ يعنی فداركاری ، دوسروں کو خود پر ترجیح دینا اور اپنا جان و مال اپنے سے بلند و برتر چیز کے نام فدا کرنا ۔ کربلا میں ایثار و فداکاری اپنے اوج پر پرواز کر رہی تھی ۔ امام عالی مقام اپنی جان دین کے نام فدا کرتے نظر آرہے ہیں ۔ ان کے باوفا اصحاب جب تک خود زندہ رہیں ، خاندان نبوت کے احترام اورعظمت و منزلت کے خاطر یہ بات ان کے لئے گوارا نہیں تھی کہ بنی ہاشم سے کوئی میدان جنگ میں چلا جائے ۔ شب عاشورا میں جس وقت امام عالی مقام ان سب سے اپنی بیعت واپس اٹھاتے ہیں اور انہیں آزاد جھوڑتے ہیں تاکہ وہ اپنی جان بچا سکیں ، لیکن وہ سب ایک ہوکر کھڑا ہوجاتے ہیں اور ایثار و فداکاری کا اعلان کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :

” ہم تمہارے بعد والی زندگی نہیں چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو تم پر فدا کرتے ہیں ” (۵۰) ، یعنی وہ زندگی جس میں ہم لوگ آپ کے کام نہ آسکیں اور

پھراس میں آپ موجود بھی نہ ہوں اور ہم باقی عمر گذار رہے ہوں ، اس زندگی میں ہمارے لئے ذلت و نفرت کے سوا کچھ اور نہیں ملے گا !۔

نماز ظهر کے وقت ، بعض اصحاب ، خود کو دشمن کے تیروں کے سامنے سپر بن کر کھڑے ہوتے ہیں  تا کہ امام عالی مقام نماز ادا کر سکے ۔ (۵1) حضرت ابوالفضل عباس (ع) پیاسے لب دریاے فرات میں داخل ہوتے ہے لیکن امام حسين (ع) اور خیموں میں موجود بچوں کے پیاسے لبوں کی یاد میں ، پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پیتے ہے ۔  (۵2)  ام المصائب جناب زينب ‌(س) ، امام سجاد (ع) کو نجات دینے کے لئے جلتے خیمہ میں کھود جاتی ہے ۔ يزيد کی مجلس میں بھی جب وہ امام سجاد (ع) کو مارنے کا حکم دیتا ہے ، تو حضرت زينب (س) اس مصیبت سے انہیں بچانے کے لئے اپنی جان سپر بنا دیتی ہے … !۔

یہ واقعات اور اسی طرح کے دوسرے دسیوں حادثات جو ایک سے ایک بڑھکر خوبصورت اور نرالے ہے ، وہ آزاد انسانوں کو ایثار اور فداکاری کے الف ب سکھا رہے ہے ۔ یہی ایثار و فداکاری کی تعلیم اور ثقافت باعث بنی ہے کہ حضرت قاسم (ع) جیسا جوان ، اپنے امام عالی مقام سے مخاطب ہوکر کہتا ہے :

” روحي لِروحِكَ الفِداء وَ نَفسي لِنَفسِكَ الوَقا ؛ میری جان تمہاری جان پر فدا و قربان ہو ” ! ۔ (۵3)

 زيارت عاشورا میں بھی امام حسين (ع) کے یار و دوستوں کی جانفشانی اور فداكاری کی طرف اشاره ہوا ہے ؛ اس میں ہم پڑھتے ہیں :

” الذينَ بَذَلوا مُهَجَهم دُون الحُسَين (ع) ؛ وہ افراد جنہوں نے حسين (ع) کی راه میں اپنی جان اور اپنا خون کا نذرانہ پیش کیا “! ۔

حضرت مهدی (عج) کے حقیقی یار و دوستوں اور ساتھیوں کی بھی ایک روشن اور ممتاز خصوصیت ” ايثار اور قربانی ” ہے ۔ وہ لوگ ایک دوسرے کے خاطر اپنے آپ کو سختی اور مصیبت میں ڈالتے ہیں اور زندگی کی نعمتوں اور خوبصورتیوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے ، دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں ۔ البتہ انہیں ایسے ہی حسین زیور سے مزین ہونا چاہیے ، اس لئے کہ جو شخص خود پختہ اور تربیت یافتہ نہ ہو وہ کسی دوسرے کی بھی تربیت نہیں کر سکتا !۔ حضرت امام باقر(ع) اس بارے میں فرماتے ہیں :

” قائم کے قیام کے زمانے میں ، رفاقت (برادری ، اتحاد و اتفاق) کا دور آجائے گا ۔ لوگ اپنے بھائیوں کے مال کی تلاش میں جائے گے ، اپنی ضرورت (کے مطابق اس میں اتنا مال ) اٹھائے گے اور کوئی بھی انہیں نہیں روکے گا ” !۔ (۵۴)

روايات میں ، امام زمان (عج) کے یار و دوستوں کو ” مزامله ” کے علاوہ ، انہیں ” رفقاء ” کے نام سے بھی بلایا گیا ہے ؛ (۵۵) یعنی ہمدل اور ہمراز دوست ، قریبی اور پاکیزہ دوست ، میدان جنگ میں بھی اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے حامی و ناصر دوست ، اور ۔۔۔ ۔ ان کی دوستی اتنی مضبوط ہے جیسے کہ وہ سارے آپس میں اصلی بھائی ہیں اور سارے ایک ہی ماں باپ سے تعلق رکھتے ہیں ! ۔

” كَاَنَّما رَبَّاهُم أَبٌ واحدٌ وَ أُمٌّ واحدهٌ قُلوبُهُم مُجتَمِعَهٌ بِالمَحَبَّهِ وَ النَّصيحَه ؛  گويا کہ انہیں ایک ماں باپ نے پالا ہے ، اس لئے کہ ان کے دل ایک دوسرے کی محبت اور خیرخواہی سے لبریز ہے !۔ ” (۵۶)

اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ یقیناً حضرت امام حسين (ع) اور حضرت مهدی (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی ایک روشن اور ممتاز خصوصیت ” ايثار اور قربانی ” ہے ۔ جس کا زندگی کے میدان عمل میں مظاہرہ کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اس عظیم صفت کے مالک یہ کردار پیش کرے گے ! ۔

7 ۔  شهادت طلبی اور سعادت خواہی

جن حالات میں اکثر لوگ دنیوی زندگی گذارنے کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ، اس دوران بھی بعض ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جو حیات کا عظیم و بلند ، خالص اور اصلی فلسفہ سمجھنے اور پانے کے لئے ، اپنی جان فدا و قربان کرنے پر بھی تیار ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ، اپنے تربیتی مکتب اور دین کی راہ میں شھادت کی نعمت سے سرفراز ہونے کا استقبال کرتے ہیں ۔ اس جوش و جذبہ جو دنیوی تعلقات سے ناطہ توڑنے کے ہمراہ ہوتا ہے ، کو ” شھادت طلبی اور سعادت خواہی ” کہا جاتا ہے !۔

عاشورا ، امام حسين(ع) کے یار و دوستوں کی شھادت طلبی کا مظھر تھا ۔ خود بھی وہ حضرت اس میدان میں پیشقدم اور نمونہ ٔعمل تھے ۔ امام عالی مقام نے مکہ سے نکلتے وقت خداوند متعال کی راہ میں مرجانے کی خوبصورتی اور کامیابی کے بارے میں ایک خطبہ پڑھا ۔ (۵۷) اور شھادت کی آرزو رکھنے والوں سے چاہا کہ وہ اس کے ساتھ کاروان میں شامل ہوجائے ۔ ” مَن كانَ فِينا باذلاً مُهجَتَهُ موطناً عَلي لِقاءِ اللهِ نفسَهُ فَلْيَرحل مَعَنا ۔‌” (۵8)

اگر شب عاشورا اور كربلا تک جانے کی راہ میں امام حسين(ع) کے یار و دوستوں کے کلمات پرغور کیا جائے ، تو ان کے کلام اور سلوک میں شھادت طلبی اور سعادت خواہی کا جوش و ولولہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ شب عاشورا ، انہوں نے راہ خدا میں مرجانے ، فرزند پيغمبر کی حمایت و حفاظت کرنے اور ظالمین کے ساتھ لڑنے میں ، بہترین انداز میں اپنے عشق و محبت کا اظھار کیا :

” اس خداوند کا شکر ہے جس نے تمہیں مدد کرنے سے ، ہمیں عزت عطا کی اور تمہارے ساتھ مرجانے سے ، ہمیں شرافت بخشی !۔ ” (۵9)

یہاں تک کہ حضرت قاسم (ع) جیسا کم سن نوجوان ، راه خدا میں موت ، شھد سے بھی زیادہ لذیذ سمجھتا ہے “۔ (۶0) اسی رات ، حضرت عباس(ع) نے بھی بنی هاشم کے درمیان بات کی اورانہیں فرمایا :

” امام کے اصحاب اجنبی(غیر ہاشمی) ہیں اور بارسنگين ہمارے کندھے پر ہے ۔ ہمیں سب سے پہلے شھادت کے لئے پیشقدم ہونا چاہیے تا کہ لوگ یہ نہ کہیں ، بنی هاشم نے پہلے اصحاب بھیج دئے اور خود ، اصحاب مرجانے کے بعد میدان میں چلے گئے ۔ “

سارے بنی هاشمیوں نے ، نيام سے تلوار باہر نکالی اور جناب عباس بن علی (ع) سے مخاطب ہوکر کہنے لگے  :

” ہم بھی اسی ارادے اور آواز پر ہیں جس پر تم ہو ۔ ” (۶1)

امام عالی مقام بھی اپنے یار و دوستوں کے بارے میں اسی طرح کی شناخت اور اعتقاد رکھتے تھے ۔ اسی وجہ جب انہوں نے احساس کیا کہ ان کی خواہر گرامی حضرت زينب (س) تھوڑی سی پریشان ہے اور امام کے یار و دوستوں کی ثابت قدمی میں انہیں کچھ شک لگ رہا ہے ، تو ان سے مخاطب ہو کرفرمایا :

” خدا کی قسم ! ، ہم نے ان سب کو آزمایا اور امتحان کیا ہیں ۔ یہ سب شھادت طلب ہیں جوموت سے مانوس ہوگئے ہیں ، اسی طرح جس طرح بچہ اپنی ماں کے پستان سے مانوس ہوتا ہے ۔ ” (۶2)

یہ امام عالی مقام اور اس کے حقیقی ساتھیوں کی فکری بالیدگی اورانوکھی ثقافت ہے !۔ روزعاشورا کی عبادت میں امام عالی مقام کی ایک دعا میں ہم پڑھتے ہیں :

” خدايا! ، میں چاہتا ہوں ستر ہزار مرتبہ تیری اطاعت اور محبت کی راہ میں مارا جاؤں اور دوبارہ زندہ ہوجاؤں ، خاصکر اگر میرے مارے جانے میں ، دین کی نصرت ، تیرا فرمان زندہ ہوجانا اور تیری ناموس ِشریعت کی حفاظت ، پوشیدہ ہو !۔ ” (۶3)

امام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی بھی ایک اہم اور امتیازی خصوصیت ” شھادت طلبی اور سعادت خواہی ” ہے ۔ اس بارے میں حضرت امام صادق (ع) یوں فرماتے ہیں :

” وہ خداوند کے ڈر سے ، خوفزدہ ہیں اور شھادت کی آرزو کرتے ہیں ۔ ان کی تمنا راہ خدا میں مرجانے کی ہے اور ان کا نعرہ ” يالثارات الحسين ؛ اے حسين(ع) کے خون کا انتقام لینے والو ” … !۔” (۶۴)

پس اس طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ یقیناً حضرت امام حسين (ع) اور حضرت مهدی (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی ایک روشن اور ممتاز خصوصیت ” شھادت طلبی اور سعادت خواہی ”  ہے ۔ جس کے نمونے بیان کئے گئے ! ۔

8 ۔ حریت پسندی اور ظلم ستیزی یا آزاد جینے کا مطالبہ اور ظلم کے خلاف مقابلہ

امام حسين(ع) کے یار و دوستوں کی ایک اور اہم امتیازی خصوصیت ” حریت پسندی اور ظلم ستیزی یا یا آزاد جینے کا مطالبہ اور ظلم کے خلاف مقابلہ ” ہے ۔ حریت پسندی اور آزادگی ، آزادی سے برتر ہے اور وہ ایک طرح کی انسانی حریت اور ذلت آور اور حقارت پسند قید و بندش سے رہائی ہے ۔ حریت پسندی ، ظلم و ستم مٹانے کا پیش خیمہ فراہم کرتا ہے ، اس لئے کہ حریت پسندی کی روح ، ظلم و ستم قبول کرنے سے بالکل متضاد و مخالف ہے ۔ امام حسين(ع) کے یار و دوستوں نے ابتداء میں اپنے اندر حریت پسندی کو پروان چڑھایا تھا اور دنیا کی قید و بندش نیز دولت و مقام طلبی سے نجات پائی تھیں ، اسی وجہ سے ظلم و ستم کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور آزادی خواہی کے نعرے دیتے تھے ۔ حضرت مسلم بن عقيل (ع) آزادی اور آزادی خواہی کے پیشقدم اور مظھر تھے ۔ اس نے ابن زیاد کے سپاہیوں سے سامنا کرنے کے وقت یہ فریاد دی :

” اَقسَمتُ لا اقتل الاحرار وَ اِن رَاَيت الموتَ شيئاً نَكَرا ؛ اگرچہ میں موت کو ناپسندیدہ چیز دیکھ رہا ہوں ، لیکن میں نے قسم کھائی ہے حریت پسندی کے بغیر مر نہ جاؤں !۔ “

یہی رجز و نعرہ فرزند مسلم بن عقيل (ع) ، جناب عبدالله(ع) نے روزعاشورا جنگ کے وقت پڑھا ۔ (۶۵) قبیلہ غفار سے جناب عبدالله و جناب عبدالرحمن فرزند جناب عروه (ع) نامی  دو اور شہیدوں نے جو رجز روزعاشورا پڑھا ، اس میں لوگوں کو، آزادی طلب افراد کے فرزندوں اور آل پيغمبر (ص) کے دفاع کے لئے پکارا !۔ (۶۶)

اس آزادی اور حریت پسندی کا ایک اور واضح نمونہ حضرت حُر بن يزيد رياحی تھا ۔ اس کی حریت پسندی سبب بن گئی تا کہ وہ دنيا اور مقام کے خاطر ، خود کوجهنم کا مستحق  نہ بنائے  اور جنت کا ، شهادت اور ظلم ستیزی کے سایہ میں خریدار بن جائے !۔ اس کی شهادت کے وقت امام حسين (ع) اس کے سرہانے آئے اور اسے مخاطب ہوکر فرمایا :

” جس طرح سے تیری ماں نے تمہارا نام حُر رکھا تھا ، (اسی طرح) تم دنیا وآخرت میں آزاد اور سعادتمند ہو ” ۔ (۶7)

امام حسين (ع) کے اہلبيت (ع) بھی حریت پسند اور ظلم ستیز تھے اور دشمن کے سامنے اس کا بخوبی مظاہرہ بھی کیا ۔ انہوں نے راسخ ایمان اور دلیری کے ساتھ ، خاندان پيغمبراکرم (ص) کے افتخاروں اور امويوں حکام کے سابقہ مظالم بیان کئے اور حسینی آزادی ، اقتدار اور افتخار کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ اسی طرح جب حضرت زينب (س) نے قصر یزید میں خطبہ پڑھا تو اسے شیطان کے نام سے پکارا ، (۶8) وہ اسے بات کرنے کے لائق بھی نہیں سمجھتی تھی اور اس سے اس طرح بات کی جیسے ایک چھوٹے بچے کے ساتھ بات کررہی ہو! :

” اے معاویہ کے بیٹے ، اگرچہ زمانے کے مصائب اور سختیوں نے مجھے ایسے حالات میں کھڑا کردیا ہے کہ تم سے بات کروں ، لیکن میں تجھے حقیر سمجھتی ہوں اور بہت زیادہ مذمت کرتی ہوں اور بہت ہی زیادہ تحقیر ۔ کتنا حیرت انگیز ہے مردان ِخدا ، شیطانی لشکر کے ہاتھ سے مارے جائیں ! ، تمہارے ہاتھ ہمارے خون سے رنگین ہے اور تمہارے منہ خاندان پيغمبر کے گوشت سے بھرے ہے ۔۔۔ آگاہ ہوجاؤ! کہ تمہاری عقل بہت زیادہ کمزور ہے اور تیری زندگی کا زمانہ جلدی ہی ختم ہونے والا ہے ! ۔ ” (۶9)

اسی طرح جب ابن زیاد نے امام سجاد (ع) کو قتل کرنے کی دھمکی دی ، تو امام عالی مقام نے جواب میں فرمایا :

” اے مرجانہ کے بیٹے ، کیا مجھے موت سے ڈرا رہے ہو ؟ ، مگر تجھے نہیں معلوم ہم نے مارے جانے کی عادت کی ہوئی ہیں ؟ ، ہماری شرافت اور عظمت اِس میں ہے کہ راہ خدا میں شھادت قبول کریں ، اور(ہم) اس سے (کسی قسم کا ) خوف نہیں کھاتے ہیں ۔ ” (70)

امام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی بھی ایک اہم اور امتیازی خصوصیت ” شھادت طلبی اور سعادت خواہی ” ہے ۔ اس بارے میں حضرت امام صادق (ع) یوں فرماتے ہیں :

” وہ خداوند کے ڈر سے ، خوفزدہ ہیں اور شھادت کی آرزو کرتے ہیں ۔ ان کی تمنا راہ خدا میں مرجانے کی ہے اور ان کا نعرہ ” يالثارات الحسين ؛ اے حسين(ع) کے خون کا انتقام لینے والو ” …!۔” بے شک امام حسين (ع) کے اصحاب اور اہل بیت کی حریت پسندی اور ظلم ستیزی کی جڑ ان کے امام کی حریت پسندی اور آزادی خواہی میں موجود ہے ۔ وہ امام عالی مقام جو راہ حق میں آنے والی موت ، افتخار و عزت اور زینت سمجھتا تھا اور تلوار کی عزت بھری موت یا ذلت بھری حیات کے دو راستوں میں ، موت کے استقبال میں قدم بڑھایا ۔ اس طرح اپنی ذمہ داری کو خون ِشھادت سے سیراب ہوکر، بخوبی عملی جامہ پہنایا اور دونوں عالم میں سرخرو و سرفراز اور خداوند عالم کے سب سے پسندیدہ بندے بن گئے نیز روزقیامت تک ساری بشریت کے لئے حقیقی معنی میں زندگی گذارنے کا بہترین اور ممتاز حریت پسندی اور ظلم ستیزی کا آئڈئیل بن گئے !۔

” اَلا اِنَّ الدعي بن الدعي قَد رَكَزَني بَين اثْنَتَين، بَينَ السله و الذِله وَ هَيهات مِنَا الذِّلَه “۔ (71)

امام زمان (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی بھی ایک اور اہم امتیازی خصوصیت ” حریت پسندی اور ظلم ستیزی ” ہے ۔

وہ بھی دنیا کی قید و بندش نیز دولت و مقام طلبی سے نجات پائے ہیں ۔ یہی بات باعث بنی ہے کہ وہ ظالمین اور عدالت کے دشمنوں کے ساتھ لڑے گے ۔ افسوس سے بعض عدالت رواج دینی والی حکومتیں امام عالی مقام کو برداشت نہیں کرپائے گے ، کیونکہ حضرت ولیعصر(عج) کا مثالی معاشرہ ان کے منافع کا مخالف ہے ۔ اسی وجی سے امام کی حکومت کے مقابلے میں صف کھینچے گے اور امام کے پاس ان کے ساتھ جھاد اور لڑنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہوگا ۔ اسی بنا پر امام عالی مقام کے حقیقی یار و دوست بھی ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے والے ہونگے تاکہ ہر قسم کے ، حق و ہدایت سے انحراف اور عدالت کی مخالفت کے خلاف جھاد کرسکیں ۔ (72) امیرالمومنین حضرت علی (ع) نے آيہ کریمہ ” يجاهدون في سبيل الله ”  (73) ، کے بارے میں فرمایا ہے :

” هُم اَصحابُ القائِمِ ؛ وہ ہی قائم کے (حقیقی) یار و دوست ہیں۔ ” (۷۴) یعنی راہ خدا میں حقیقی طور پر نصرت اور جھاد کرنے والے امام آخرالزمان (عج) کے ہی حقیقی اور سچے یار و دوست اور ساتھی ہوں گے ! ۔

امام زمان (عج) کا ایک اہم اقدام ، نافرمانی ، گناہ و معصیت کا مقابلہ کرنا اورحقیقی عزت و شرافت کا رواج دینا ہے ۔

” اَينَ مُبيدُ اَهلِ الفُسوقِ وَ العِصيان وَ الطُغيان  ؛ کہاں ہے ، فساد ، گناہ اور سرکشی کی بنیاد نابود کرنے والے ! ” ۔

” اَينَ مُعِزُّ الاَولِياءِ وَ مُذِلّ الاَعداء ؛ کہاں ہے ، دوستوں کو عزت بخشنے والے اور دشمنوں کو ذلت دینے والے ! ” ۔ (7۵)

امام عالی مقام کے یار و دوستوں کو بھی انفرادی و اجتماعی اور عملی طور پر گناہ و معصیت کی جڑ اکھاڑ پھینکنے والا بننا چاہیے اور اپنے امام عالی مقام کی ، معاشرے میں عزت و شرافت کا رواج دینے میں ان کی مدد و نصرت کرنی چاہیے ! ۔

دونوں امام کے حقیقی یار و دوستوں اور ساتھیوں کی اپنی عظیم ، اہم اور امتیازی خصوصیتوں کی وجہ سے وہ اپنے امام عالی مقام کے قابل تعریف بن گئے ۔ امام حسين (ع) نے اپنے یار و دوستوں کو ، سب سے زیادہ وفادار اور بہترین ساتھی قرار دیا ! ۔ (۷۶) جبکہ امام علی (ع) حضرت مهدی (عج) کے حقیقی یار و دوستوں کی تعریف میں فرماتے ہیں :

” میرے ماں باپ اس چھوٹی سی جماعت پر فدا ہو جو کہ زمین میں نامعلوم ہیں !۔ ” (77)

اس اميد کے ساتھ کہ ہم بھی ان جناب کے ایسے باعظمت اور مثالی یار و دوستوں کی ایسی مذکورہ ممتاز اور انوکھی خوبیوں کی صلاحیت اور قابلیت سے سرشار ہوسکیں تاکہ امام زمان (عج) کے کلام مبارک کے مخاطب ہم بھی بن سکیں اور دنیا و آخرت میں حقیقی اور خالص پاکیزہ حیات سے لطف اندوز اور لبریز ہوسکیں اور ہمیشہ کے لئے سعادتمند اور نجات یافتہ بن سکیں ! ۔ (اٰمین)

حوالہ جات

1. جواد محدثی ، پيام عاشورا، ص 121۔

2. سيد بن طاووس ، لهوف، ص ۶0 ۔

3. مزید تحقيق کے لئے رجوع کریں : محمد صادق نجمی، سخنان حسين بن علی (ع) ص 332۔

۴. حياة الامام الحسين(ع) ج 2، ص 301۔

۴. بحار الانوار، ج ۴۵، ص 11۶۔

۶. مفاتيح الجنان، زيارت حضرت مسلم (ع)، ص ۴03۔

7. ابن اعثم كوفی، الفتوح، ج ۵، 177۔

8. مجله‌ٔ حوزه، مخصوص امام زمان (عج)، ص 301 ۔

9. يوم الخلاص؛ ص 22۴۔

10. بحار الانوار، ج ۵2، ص 308 ۔

11. ينابيع المودة، ص ۴۴9 ۔

12. الزام الناصب، ج 2، ص 20۔

13. لهوف ، ص 79۔

1۴. وقعه الطف، ص 237۔

1۵. بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۵۔

1۶. مجلهٔ حوزه، مخصوص امام زمان (عج)، ، ص 301۔

17. معجم احاديث الامام المهدي، ج ۵، ص 28۴۔

18. ابراهيم نعمانی، كتاب الغيبه، ص 10۴۔

19. لطف الله صافی (آيت الله)، منتخب الاثر، ص ۴87۔

20. بحار الانوار، ج ۴۵، ص ۵۔

21. جواد محدثی، پيام عاشورا، ص 93۔

22. اعيان الشيعه، ج 1، ص ۶0۵۔

23. مقتل خوارزمی ، ج 2، ص 1۵؛ لهوف ، ص ۴۶۔

2۴. مفاتيح الجنان، زيارت حضرت مسلم بن عقیل (ع)، ص ۴02

2۵. مفاتيح الجنان، زيارت حضرت عباس(ع)، ص ۴3۴.

2۶. وقعه الطف، ص 199، لهوف، ص 91.

27. سورہ مبارکہ احزاب/ آیہ کریمہ 23۔

28. نعمانی، كتاب الغيبة، ص 31۶۔

29. بحارالانوار، ج ۵2، ص 308۔

30. بحارالانوار ، ج ۵3، ص 3۵۔

31. بحارالانوار، ج ۵2، 308۔

32. جواد محدثی، مستقبل کا انسان ، ص ۶3۔

33. خليل كمره‌ای، عنصر شجاعت، ج 1، ص 20۔

3۴. وقعه الطف، ص 22۴۔

3۵. عبدالكريم هاشمی ‌‌نژاد، درسي كه حسين(ع) به انسانها آموخت (وہ سبق جو حسین (ع) نے انسانوں لو سکھایا !)، ص 321۔

3۶. پيام عاشورا( مرا از مرگ می‌‌ترسانی؟ ؛ کیا مجھے موت سے ڈرا رہے ہو ؟ )، ص ۶3 ۔

37. پیام عاشورا، ص ۶3۔

38. ارشاد مفید، چاپ : شیخ مفید سمینار ، ج 2، ص 111۔

39. مجله‌ٔ حوزه، مخصوص امام زمان (عج) ، ص 303۔

۴0. بحارالانوار، ج ۵2، ص 3۴3۔

۴1. بحارالانوار، ج ۵2، ص 3۴3۔

۴2. بحارالانوار ، ج ۴۵، ص ۴0۔

۴3. زیارت امام حسین(ع) و شهداء ، مفاتیح الجنان، ص ۴۴8۔

۴۴. زیارت امام حسین(ع) و شهداء ، مفاتیح الجنان،  ، ص ۴۴0۔

۴۵. ارشاد ، شیخ مفید، ج 2، ص 383، نیز رجوع کیں : نعمانی، كتاب الغیبه، ص 231۔

۴۶. نعمانی، كتاب الغیبه، ص 213۔

۴7. نهج البلاغه، خطبه 138۔

۴8. الملاحم و الفتن، ص 1۴9۔

۴9. جواد محدثی، فرهنگ عاشورا (ثقافت عاشورا)، ص ۶۵۔

۵0. بحار الانوار، ج ۴۵، ص 21.

۵1. بحار الانوار، ص 20۔

۵2. موسوعه كلمات الامام الحسین(ع)، ص ۴۶7۔

۵3. اختصاص مفید، ص 2۴، نقل از مجله‌ٔ حوزه، مخصوص امام زمان (عج)،  ص 30۶.

۵۴. ینابیع الموده، ص ۴33۔

۵۵. موسوعه كلمات الامام الحسین(ع) ، ص ۴۶7۔

۵۶. الزام الناصب، ج 2، ص 20۔

۵7. مقتل الحسین مقرم ، ص 193۔

۵8. بحار الانوار، ج ۴۴، ص 3۶۶۔

۵9. موسوعه كلمات الامام الحسین(ع)، ص ۴02، اور  بحارالانوار ج ۴، ص 3۶۶۔

۶0. پیام عاشورا، ص 11۵، اور موسوعه كلمات الامام الحسين(ع)، ص ۴02۔

۶1. موسوعة كلمات الامام الحسين(ع)، ص ۴07۔

۶2. موسوعة كلمات الامام الحسين(ع)، ص ۴08۔

۶3. معالي السبطين، ج2، ص 18

۶۴. مستدرك الوسايل، ج 11، ص 11۴۔

۶۵. بحار الانوار، ج ۴۴، ص 3۵2۔

۶۶. وقعه الطف، ص 23۴۔

۶7. بحار الانوار، ج ۴۵، اور وقعه الطف، ص 21۵۔

۶8. لهوف، ص 79۔

۶9. بحارالانوار، ج ۴۵، ص 13۵۔

70. دياربكری، تاريخ الخمس ، ج 2، ص 29۶۔

71. بحارالانوار، ج ۴۵، ص 11۔

72. مجله‌ٔ انتظار، شماره 3، ص 81۔

73. سورہ مبارکہ مائده / آیہ کریمہ  ۵۴۔

7۴. منتخب الاثر، ص ۴7۵۔

7۵. مجله‌ٔ انتظار، شماره 3، ص 87۔

7۶. مقتل خوارزمي، ج 1، ص 2۴۶، اور لهوف، ص 79 ۔

77. معجم الاحاديث امام المهدي، ج 3، ص 101۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More