2022 - 09 - 30 ساعت :
دسته‌بندی نشده

اخلاق اہلبیت

2020-07-10 07

جسم و روح کی ضرورتیں

انسان دو چیزوں سے مل کربنا ہے یعنی جسم اور روح یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط طریقے سے مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی مدد سے کام کاج کرتے ہیں اور سوائے موت کے یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ اگر یہ الگ ہو جائیں تو گویا زندگی کا خاتمہ ہوا۔ کسی انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ یہ دونوں عناصر صحت و سلامتی کے ساتھ ہوں ۔ یعنی اگر یہ دونوں صحت مند ہوں تو انسان خطروں سے محفوظ رہ کر سعادتوں سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ روح اور جسم میں سے ہر ایک کی ضروریات اور خواہشات ہوتی ہیں ۔

جسم کی ضروریات یہ ہیں

مادی فوائد جو اس کی صحت، نشوونما اور زندگی کا باعث قرار پائیں جیسے کھانا ، پینا، پہننا اور دوسری ضروریاتِ زندگی وغیرہ۔

روح کی ضروریات

انسان کی روح کی ضروریات وہ چیزیں ہیں جو روح کی بالیدگی کا باعث ہوں یعنی معرفت، آزادی، عدالت ، مساوات، وجدان و ضمیر کی آزادی اور فکری آزادی وغیرہ جو روحانی آسودگی کا باعث ہیں ۔

جسمانی اور روحانی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں جس کے ذریعے جسمانی اور روحانی تندرستی قائم رہے۔ پس جہنم کی ضرورتوں اور خواہشات سے محرومی انسان کے لئے پسماندگی بیماری اور کمزوری کا باعث ہوتی ہیں ۔ جسمانی و روحانی ضروریات کا فقدان انسان کو حیرت، بدبختی اور شقاوت سے ہمکنار کرتا ہے اور اس کی سعادت جسم و روح کی صحت کے ساتھ مشروط ہے ۔ کہنا یہ ہے کہ انسان کی مادی اور روحانی ضروریات کی رعایت رکھی جائے۔

جسم کے حقوق

صحت کے قوانین کی صورت میں ان حقوق کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ انسان اسلامی آداب کا پورا پورا لحاظ رکھے تاکہ اسے عمر بھر صحت اور سلامتی میسر ہو مثلاً کھانے پینے میں اعتدال اختیار کیا جائے، نشہ آور اشیاءسے پرہیز کیا جائے جیسے شراب، بھنگ، افیون،وغیرہ اور ساتھ ہی جنسی گناہوں سے پرہیز کیا جائے، ہر وقت پاکیزگی اور صفائی کا خیال رکھا جائے ، جسمانی ریاضت کی مشقیں کی جائیں اور مروجہ اقدامات کو اپنایا جائے جو زمانے میں جسمانی صحت کے لئے لازم قرار دیئے گئے ہیں ۔ اس کے لئے اخبارات اور ریڈیو وغیرہ میں صحت کے جو قوانین بیان کئے جاتے ہیں ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

نفس کے حقوق

جسمانی صحت اور روحانی سلامتی کے اسباب مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ انسان پر فرض ہے کہ وہ روحانی بیماریوں کے علاج صحت اور تندرستی کا بھی خیال رکھے اسے چاہیے کہ وہ روح کے حقوق اور واجبات کو ادا کرے جس سے اکثر لوگ یا تو بے خبر ہوتے ہیں یا بے خبر رہتے ہیں ۔ دراصل یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ روحانی صحت اور اس کے معنوی اقدار سے بے خبر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔

جسمانی امراض تو جسم کی کمزوری، شکستگی اور بیماری کی صورتوں میں ظہور پذیر ہو تے ہیں مگر روحانی اور نفسیاتی امراض سے معرفت رکھنے والے لوگ ہی آگاہ ہو سکتے ہیں ۔روحانی بیماریاں انسان کو برائیوں کا مرتکب کرتی ہیں اور اس کی آنکھوں کے سامنے مادہ ہی سب کچھ قرار پاتا ہے۔ مادی قوتیں ہی اس کے لئے مقدس بن جاتی ہیں اور وہ ان کی پوجا کرنے لگتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی عظیم روحانی قدر و قیمت مسخ ہو کر اسے حیوانات کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔

اس لئے جسم کی نسبت روحانی علاج سخت مشکل ہوتا ہے اور روحانی امراض جسمانی امراض کی نسبت زیادہ شدید ہوتے ہیں۔

اسی لئے اولیائے کرام اور حکماءجسم کی نسبت نفس کی تہذیب اور وجدان و ضمیر کی تربیت پر کئی گنا زیادہ زور دیتے ہیں اس کا حتمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کا نفس جب نورانیت حاصل کرتا ہے تو اس کی صلاحیتوں اور قوتوں کی فتح ہوتی ہے جو اسے انحرافات اور گمراہیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ نفس کے حقوق میں سے چند ایک یہ ہیں :

1۔نفس کی تربیت

معرفت الہٰی اور عقائد حقہ کی نورانیت سے نفس کو معمور کیا جائے اور انسان نفس کو ایسے معارف سے آشنا کرے جو اسے ہدایت کے راستے اور خےر وفلاح کی طرف بڑھائے۔ روح کی سب سے بڑی خواہش اور تمنا یہی ہوتی ہے کہ عقیدے کی پختگی اور اللہ تعالی پر زیادہ سے زیادہ ایمان حاصل ہو۔ علم سے اسے عشق ہوتا ہے اور حقائق سے پردہ اٹھانے کی جستجو ہوتی ہے۔ کائنات اورزندگی کے اسرار پر مطلع ہونے اور ان حقائق کو معلوم کرنے کے لئے روح اس طرح کوشش کرتی ہے جیسے پیاسا پانی کی تلاش کرتا ہے۔ اگر اس میں کامیاب ہوتا ہے تو سکون و راحت پاتا ہے اور اگر ناکام ہو تو بدبختی اور تباہی میں مبتلا ہوتا ہے۔

2۔ باطن کی اصلاح

درحقیقت انسان کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو اس کا مادی جسم ہے اور دوسرا اس کا باطن جس میں روحانی خصائص پائی جاتی ہیں اور اخلاقی صفات سے متصف ہوتا ہے۔ جس طرح اس کی ظاہری صورت اور اس کی اچھی یا بری عادات اس سے نفرت یا محبت کا باعث ہوتی ہیں اسی طرح اس کی باطنی کیفیت بھی تعریف یا مذمت کی حقدار ہوتی ہے ۔ اس کا باعث اس کی اچھی صفات یا بری عادات ہوتی ہیں جو اسے ظلم و محبت یا اجالے اور اندھیرے کی طرف دھکیلتی ہیں۔

جس طرح عقلاً مادی صورت کو پاکیزہ بنانے کا اہتمام کرتے ہیں، اسے مناسب اور شایان مظاہرے پر ابھارتے ہیں اور اسے پرکشش بناتے ہیں اسی طرح وہ اپنے باطن کو بھی پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے قابل تعریف خصائل و صفات سے آراستہ کرتے ہیں ۔ اخلاق کو پسندیدہ اور باطن کو خالص کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، تاکہ خیر و بھلائی سے ہمکنار ہو سکیں اور ضرر رساں اوصاف جیسے ریا اور نفاق، حسد، مکر و غیرہ اور پسماندگی کی طرف لے جانے والی صفات کو اپنے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسی لئے حضرات اہلبیت ؑ نے تہذیب نفس اور باطنی پاکیزگی کی ترغیب دی ہے تاکہ انسان کا نفس فضائل اور حسن اخلاق کا سرچشمہ بن جائے۔

حضرت صادق  نے اپنے آبائے طاہرین کی سند سے روایت کی ہے کہ حضرت امیر المومنین  نے فرمایا کہ”فقہا اور حکما ایک دوسرے کو جب نصیحت لکھتے تھے تو تین باتوں کا ذکر کرتے اور چوتھی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یعنی وہ لکھتے تھے کہ جس شخص کی ہمتیں اس کی آخرت کے لئے صرف ہوں تو خداوند عالم اس کی دنیا کے لئے کفایت کرتا ہے۔ جو اپنے باطن کو درست کریں تو خداوند عالم ان کے ظاہر کی اصلاح کرتا ہے اور اپنے اور اللہ کے درمیان معاملات کو درست رکھتا ہے تو خداوند عالم اس کے اور دوسرے بندوں کے درمیان معاملات کو درست فرماتا ہے۔ “(البحارم 14جلد2ص204بروایت خصال)

حضرت صادق آل محمد  نے فرمایا” رسول اکرم نے فرمایا جو کوئی شخص نیکی اور بھلائی کی وجہ سے خوش ہوتا ہے تو خداوند عالم اس کے لئے بھلائی اور بہتری کا ظہور فرماتا ہے۔ اور جو کوئی شخص برائی پر خوش ہوتا ہے تو گزرتے ایام کے ساتھ اسے برائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“ (الوافی جلد3ص147)

آپ نے ہی ارشاد فرمایا کہ حضور اکرم نے ارشاد فرمایاکہ ” لوگوں پر عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ان کے باطن خباثت سے پر ہوں گے اور ان کا ظاہر اچھا نظر آئے گا۔ وہ اپنی دنیا کو بنانے کے لئے ایسا مظاہرہ کریں گے، مگر نعمات الہٰی کے حصول کے لئے ایسا نہیں کریں گے۔ ان کا دین ریا ہوگا، اور وہ اس پر خوف نہیں کھائیں گے۔ اس وقت ان پر اللہ کا عذاب عام ہوگا۔ وہ لوگ غرق ہونے والے کی طرح دعا مانگتے رہیں گے مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوگی۔“ (الوافی جلد3ص148بروایت کافی ص2)

نفس پر قابو پانا

نفس اپنی خواہشات اور جبلتوں کی بناءپر خلاف ورزیوں اور انحراف کی طرف مائل ہوتا ہے اور اپنے مالک کو گمراہ کن خواہشات کے فریب میں مبتلا کرتا ہے یہاں تک کہ اسے گمراہی کے گڑھے میں دھکیلتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:” بے شک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہے سوائے ان کے جن پر میر ا پروردگار رحم کرے۔“ (آیت53)

اسی لئے ہر مومن متقی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ نورہدایت سے روشنی حاصل کرکے اپنے نفس پر قابو پائے اور اسے نافرمانیوں اور گناہوں سے بچائے اور عبادت و ریاضت کے ذریعے اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت کی راہ پر گامزن کرے اور الہٰی دستور اور شریعت کی پابندی اختیار کرے۔ قرآن کریم نے نفس پر قابو پانے اور اسے نیکی اور بھلائی کی راہ پر لگانے کا حکم دیا ہے۔ خداوند عالم کا ارشاد ہے” نفس اور وہ جس نے اس کو برابر کیا(اس کی قسم) پھر اس کو بدکاری سے بچنے اور پرہیزگاری کی سمجھ دی۔ پس جس نے نفس کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا اور وہ نامراد ہوا جس نے اسے خاک میں ملا دیا۔“ (شمس آیات۔8-7)

اسی طرح حضرات اہلبیت نے نفس پر قابو پانے اور اس کی خواہشات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ترغیب دی ہے اور اس کوشش کو بہترین جہاد قرار دیا ہے۔

حضرت موسیٰ بن جعفر  نے اپنے آبائے طاہرین کی سند سے روایت کی ہے کہ حضرت امیر المومنین  نے فرمایا کہ” ایک دفعہ حضور اکرم نے صحابہ کو ایک سریہ کی طرف بھیجا۔ جب وہ لوگ وہاں سے واپس آئے تو فرمایا آفرین ہو اس قوم پر جو جہاد اصغر سے لوٹ آئے ہیں اور ابھی جہاد اکبر باقی ہے۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ جہاد اکبر کیا ہے؟ فرمایا نفس کے ساتھ جہاد کرنا۔ پھر فرمایا بہترین جہاد وہ ہے جو انسان اپنے نفس کے ساتھ کرے۔“ (سفینتہ البحار جلد1صفحہ 197)

حضرت عبداللہ بن الحسن نے اپنی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت الحسین  سے روایت کی۔ انہوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام حسین  سے روایت کی۔ فرمایا کہ حضور اکرم نے فرمایا کہ تین خصلتیں ایسی ہیں جو کسی مومن میں ہوں تو اس کے ایمان کی خصلتیں کامل ہو جاتی ہیں : جب وہ راضی ہوتا ہے تو اس کی رضا باطل اور گناہ پر نہیں ہوتی اور جب ناراض ہوتا ہے تو اس کا غصہ اسے حق سے دور نہیں کرتا اور جب تنگی ہوتی ہے تو جو اس کے پاس نہیں اس کی آرزو نہیں کرتا۔‘ ‘ (سفینتہ البحار جلد2ص 550)

نفس کا محاسبہ

یہاں نفس کے محاسبہ سے مراد یہ ہے کہ انسان ہر روز جو بھی کام بجالاتا ہے ، چاہے اطاعت ہو یا معصیت، ان کا موازنہ کرے۔ اگر دیکھے کہ اطاعت کا پلہ بھاری ہے تو اللہ کی توفیق اور رضائے الہٰی کے شرف پر فائز ہونے کا شکر ادا کرے۔ لیکن اگر گناہوں کا پلہ بھاری رہا تو محاسبہ کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے نفس کو تادیب کرے اور گناہ بجالانے اور اطاعت سے غفلت برتنے پر اس کی سرزنش کرے۔

حضرت امام موسیٰ ابن جعفر  نے فرمایا:” وہ ہم میں سے نہیں جو ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہیں کرتا۔ اگر نیک عمل بجالائے ہوں تو اللہ سے اضافہ کی درخواست کرے اور اگر گناہ زیادہ ہوئے ہوں تو اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرے۔“ (الوافی جلد3ص62

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت