اتحاد مسلمین اور اسلامی بیداری کے بعض نکتے

0 12

 وحدت کے معنی ایک مذہب کا تحلیل  یا نابود ہوجانا، نہیں ہے؛ اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سارے اسلامی مکاتب و مذاہب ایک مکتب و مذہب میں تبدیل ہوجائیں بلکہ وحدت یہ ہے کہ علمی بحث اور افکار و آراء کا تبادل جاری رہے اور اور شیعیان و اہل سنت مشترکہ مفادات اور مشترکہ دینی اصولوں اور عقائد کی بنیاد پر متحد ہوجائیں۔ 

 شیعہ اگر مسلمانوں کو وحدت کی دعوت دیتے ہیں اس کی بنیاد تقیہ نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ سچائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ “ہمارا مفاد اس میں ہے کہ اہل سنت کے ساتھ متحد ہوجاؤں” اور سنیوں سے کہتا ہے کہ دشمنان اسلام سنیوں کے دشمن بھی ہیں اور اتحاد سنیوں کے مفاد میں بھی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ بعض سنی کفر و استکبار کی حمایت سے خوشنود ہوجائے اور سوچ لے کہ اگر کسی دن سنی انتہاپسند ـ بالفرض ـ کفر و استکبار کی مدد سے اہل تشیع کو شکست دیں تو سنی مذہب کے پیروکار ان کی جارحیت اور تعرض و تجاوز سے محفوظ رہیں گے اور مستکبرین عالم اسلام کا اقتدار ان کے سونپ دیں گے۔ اور جان لیں کہ سنی انتہاپسندی کے لئے استکبار کی حمایت کے دو اہم مقاصد ہیں:

1۔ شیعہ کو شکست دینا؛ کیونکہ وہ شیعہ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں جس طرح کہ وہ سنی کو بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں بس ان کو الگ الگ کرکے مارنا چاہتے ہیں۔

2۔ اسلامی ممالک کو ایک بار آئندہ کئی صدیوں تک نوآبادیات میں بدلنا۔

لہذا اس سلسلے میں جو بھی استکبار و استعمار کے ساتھ تعاون اور ہمراہی کرے گا اور اسلام کے محاذ کو کمزور کرے گا وہ اسلامی ممالک پر استعمار کے تسلط کے جرم میں شریک ہوگا اور یقیناً وہ جب پچھتائیں گے تو چڑیاں کھیت چگ گئی ہونگی۔ 

شیعہ چاہتا ہے کہ سب جان لیں کہ اگر استکبار اور صہیونیت اہل تشیع کے خلاف جنگ کے بہانے ان کے گھروں میں قدم جمائیں یا انہیں ہتھیار اور مالی امداد دے دے کر قرضوں تلے دبا دیں تو پھر انہيں ہرگز اپنے حال پر نہيں چھوڑیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ شیعہ پھر بھی ہمیشہ کی طرح تمام سازشوں اور دشمنیوں سے عہدہ برآ ہوکر پھر بھی زندہ اور پایدار رہیں۔ لیکن استکبار و استعمار کے دوستوں کا گھر پھر ان کا گھر نہ بن سکے گا۔ کیونکہ صرف اتحاد کی صورت میں شیعہ کا گھر شیعہ کے پاس رہے گا اور سنی کا سنی کے پاس اور اتحاد ہی کی صورت میں شیعہ کا گھر اور سنی کا گھر کفر و استکبار کے زیر قبضہ نہیں آئے گا؛ بصورت دیگر مسلمانوں کی آئندہ نسلیں ایک بار پھر اور اس بار کئی صدیوں تک جبر و ستم کی قوتوں کے زیرتسلط ہونگیں۔

شیعہ جانتا ہے اور سنی بھی جان لے کہ جن قوتوں نے اسلام فوبیا کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور دنیا والوں کو قرآن اور اسلام سے خوفزدہ کرنے کے لئے کوئی بھی لمحہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اسلام و قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی توہین کرتے ہیں کسی صورت میں بھی اسی دین اور اسی کتاب اور اسی رسول (ص) کے پیروکاروں کا دوست نہیں ہوسکتا مگر یہ کہ بعض مسلمان دعوی کریں کہ ان کا خدا اور رسول اور ان کی کتاب مسلمانوں سے الگ ہے۔

 اگر تفرقہ اجھا ہے ان لوگوں کے لئے جو سنی ہونے کا دعوی کررہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گویا انہیں اہل تشیع کے خلاف لڑنا چاہئے وہ ہمارے اس سوال کا جواب دیں کہ عالمی کفر ان تفرقہ انگیز اقدامات کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ کیا علمی کفر کی حمایت کا یہی مطلب نہيں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف و انتشار کا فتنہ باطل ہے اور غلط ہے؟

  اگر ایک شیعہ کا گلا کاٹنا اسلام کے مفاد میں ہے اور کفر کے لئے نقصان دہ ہے تو پھر استکباری طاقتیں قاتل و خونخوار گروپوں کو مالی امداد کیوں دیتی ہیں اور عالمی استکبار کے مفادات کے محافظ عالمی اداروں کی طرف سے ان کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام کیوں نہیں ہوتا۔ 

 اگر شیعہ کا گلا کاٹنا اسلام کے دعویداروں کے منظور نظر کسی مذہب کے مفاد میں ہے تو قرآن و سنت میں اس کا منبع کیا ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی سنت سے ایسی کوئی بات ثابت ہوتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے ترویج اسلام کے لئے کتنے لوگوں کے گلے کاٹے؟ وہ مسلمانوں کے گلے کاٹتے ہوئے قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا انہيں قرآن نے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے یا پھر پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اہل قبلہ کے گلے کاٹیں تا کہ ان کا مکتب نشو ونما پائے۔ 

کفر و استکبار کے علمبردار اسلام فوبیا کے حوالے سے اپنی تشہیری مہم کے ضمن میں زور دے کر کہتے ہیں کہ اسلام کشت و خون اور قتل و غارت کے بدولت اور شمشیر کی طاقت سے فروغ پاچکا ہے اور اسلام کے دعویدار دہشت گرد بھی اپنے منظور نظر مکتب کی ترویج کے لئے سنگدلی اور خونریزی اور درندگی کا سہارا لیتے ہیں۔ کیا ان کا یہ عمل کفار کی تشہیری مہم کے لئے دستاویز فراہم نہیں کرتا؟ کیا یہ کفار کی تشہیری مہم کی تأئید نہیں ہے؟ کیا اتنی قساوت قلبی، خونریزی اور درندگی کے ہوتے ہوئے مذاکرات اور گفت و شنید کی میز پر ممکن ہوگا کہ مسلمان مبلغین مغربیوں کے سامنے کہہ سکیں کہ اسلام ـ تلوار اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ ایک عقلی فلسفے اور انسان ساز مکتب کی بنا پر فروغ پاچکا ہے؟ 

ہم سب جانتے ہیں کہ یہ خونخواری اور درندگی ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب اسلام مغرب میں فروغ پانے لگا تھا اور دہشت گردوں نے مغربی اپنے جرائم کے ویڈیوز اور تصویریں بنا کر رو بہ زوال مغربی تہذیب کو سہارا دیا اور اسلام کے فروغ کے سامنے عظیم رکاوٹیں کھڑی کردیں اور فروغ اسلام کی رفتار سست ہوگئی۔ اب مغربی اور صہیونی ذرائع ابلاغ یہ ویڈیو اور تصاویر اپنے مغربی معاشروں کے سامنے رکھ کر ان سے کہتے ہیں کہ “اسلام یہ ہے”!۔ کیا واقعی اسلام یہی ہے؟ البتہ اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ مغرب خود ہی مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلم کشی کی ترویج کا ذمہ دار ہے اور اس سے وہ کئی محاذوں پر استفادہ کررہا ہے۔ واضح سی بات ہے کہ ان دہشت گردوں نے ابھی تک کسی بھی امریکی یا اسرائیلی کو قتل نہیں کیا اور انھوں نے کبھی بھی اسلام دشمنوں کے خلاف کوئی اقدام نہيں کیا! اور یہ بات نظرانداز کرنا بھی دور از انصاف ہوگی کہ یہ لوگ صرف اہل تشیع کے گلے کاٹتے ہیں بلکہ وہ تو ان سنیوں کو بھی بڑے سکون و اطمینان سے ذبح کرتے یا گولی مارتے ہیں جو ان کے بعض خیالات سے اتفاق نہیں کرتے یا دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کے یہ اقدامات ان کے اپنے عقیدے کے فروغ کا سبب بھی نہيں بن سکے ہیں بلکہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں لیکن گلہ یہ ہے کہ علماء اور سیاستدان اور حکمران ان کے خلاف نہ فیصلہ کن اقدام کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی مذمت کرتے ہيں اور نہ ہی ان کے خلاف اتحاد کی کوئی صورت نکالتے ہیں بلکہ کئی بڑے بڑے علماء جو صاحب فتوی ہیں دبک کر بیٹھ گئے ہیں اور پہاڑوں اور غاروں میں بیٹھے دہشت گرد ان کے بجائے فتوے دے رہے ہیں۔

 موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے، انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی دہشتگردی اور قتل و غارت سے اسلام کو کوئی فائدہ نہيں پہنچتا بلکہ اسلام اور قرآن کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہے؛ وہ حتی اپنے نظریات کی ترویج میں بھی ناکام رہے ہیں اور کسی کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکے ہیں سوائے جرائم پیشہ گروہوں، مفرور قاتلوں اور مجرموں، سزا یافتہ درندوں، بےروزگار اور ان پڑھ نوجوانوں اور مخصوص مدارس میں دہشت و شدت و قتل کا سبق سیکھنے والے نام نہاد طالبان کے۔ وہ دوسروں کے عقائد کو بھی اپنے حق میں نہیں بدل سکے ہیں؛ جس کہ مطلب یہ ہے کہ یہ شدت پسندی اور درندگی حتی ان کے اپنے خاص نظریئے والے اسلام کے لئے بھی مفید واقع نہیں ہوسکی ہے۔ اور ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر یہ روش اسلام، قرآن اور امت کے لئے مفید نہيں ہے تو کس کے لئے مفید ہوسکتی ہے؟ سوائے اس کے، کہ اس تکفیری روش نے دہشت گردی کا شکار ممالک کے امن و امن اور معیشت اور سماجی حیات  کو نیست و نابود کرکے رکھ دیا ہے اور دوسری جانب سے یہ اقدامات اسلام ہراسی (Islam Phobia) کے سلسلے میں مغربی تشہیری مہم کو ایندھن فراہم کررہے ہیں اور کفر و عالمی استکبار کے لئے تشہیری اوزار کا کام دے رہے ہیں۔

آج دنیا میں اسلامی بیداری کا آغاز ہوچکا ہے اور مسلم اقوام نے دشمنوں اور ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے طویل تسلط سے آزاد ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، عالمی کفر اور صہیونیت نے اسرائیل کے قریبی دوستوں اردوغان ـ جو سلطنت عثمانیہ کے احیاء کے سپنے دیکھ رہے ہيں اور کبھی تو عثمانی سلاطین کا لباس پہن کر منظر عام پر آتے ہیں ـ، بلادالحرمین پر قابض سعودی خاندان ـ جو خادم الحرمین الشریفین کہلواتا اور عالم اسلام کی پیشوائی کے خواب دیکھتا ہے ـ اور قطر پر مسلط آل ثانی خاندان ـ جو بلادالحرمین اور سمیت خلیج فارس کی ریاستوں کو زیر نگین لانے کے سلسلے میں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے لئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے ـ، اور ان تین میں سے کم از کم دو اسلامی بیداری کے ضمن میں شروع ہونے والی عوامی تحریکوں کا نشانہ ہیں ـ، کے تعاون سے اسلامی بیداری سے جان چھڑانے کا انتظام کررکھا ہے اور اس تحریک کا راستہ روکنے کے لئے شام اور ساتھ ہی عراق میں انحرافی بغاوتوں اور دہشت گردی کا سہارا لے رکھے ہیں اور حتی مصر کے اخوانی صدر بھی ان کے کے فریب میں آچکے ہیں اور اسلامی مزاحمت اور بیداری کے خلاف اس صہیونی امریکی سازش کا حصہ بن چکے ہیں تا کہ سب مل کر استعماری طاقتوں کے تسلط اور صہیونی ریاست کے بچاؤ کے لئے اسلامی بیداری اور اسلامی مزاحمت تحریک کے سامنے صف آراء ہوں۔ 

اخوان المسلمین اپنی تشکیل کے زمانے سے اب تک استکبار، اور علمانیت (Secularism) استعمار کے خلاف جدوجہد پر تاکید کرتی رہی تھی لیکن جب سے مصر کے عوامی انقلاب کی لہر پر سوار ہوکر برسراقتدار آئی ہے اس کی ادبیات تبدیل ہوچکی ہے، سیکولر ترکی کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات برقرار کرچکی ہے حتی کہ مصر کے اخوانی صدر ترکی کے سیکولر وزیر اعظم سے مرید کی مانند پیش آتے ہیں؛ امریکہ، اسرائیل اور ترک وزیر اعظم کے دھوکے میں آچکے ہیں اور ان آمرین اور بادشاہوں کی صف میں جاکھڑے ہوئے ہیں جو آخری لمحے تک انقلاب مصر کے خلاف سازشیں کرتے رہے تھے اور فرعون مصر حسنی مبارک کو بچانے کے لئے سرگرم عمل رہے تھے اور آج بھی جیل میں اس کا ساتھ اپنا تعلق استوار رکھے ہوئے ہیں۔ اخوان المسلمین کی حکومت عرب ڈکٹیٹروں کے ساتھ مل کر اسی اسلامی بیداری کے سامنے جاکھڑی ہوئی جس کی برکت سے اس کو اقتدار ملا ہے وہی اقتدار جس کے حصول کے بارے میں اخوان سوچ بھی نہيں سکتی تھی اور عوامی انقلاب کی کامیابی پریقین رکھنے کے سلسلے میں بھی اخوان کا حال یہ تھا کہ انقلاب شروع ہوتے ہی، حسنی مبارک کے ساتھ مذاکرات کے لئے سرگرم عمل ہوئی تا کہ انقلاب ناکامی کی صورت میں حسنی مبارک کے سائے میں اس کو بھی کوئی کردار ملے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد عوام نے اسلام کو رائے دینا چاہی تو اخوان کے سوا کئی اسلامی جماعت نہ ملی لیکن اخوان کے اقتدار میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے اسلام اور امت کے ساتھ عظیم ترین خیانت کا ارتکاب کرنے والے انورسادات کو تمغہ بعد از موت سے نوازا اور اس کو 1960 کے عشرے کی ناکام عرب اسرائیل جنگ کا ہیرو قرار دیا!۔ 

اب امریکہ، فرانس، برطانیہ، صہیونی ریاست نے ترکی، قطر اور سعودی حکومت نیز مصر کی اخوانی حکومت کو ساتھ ملا کر شام میں عوامی انقلاب نامی مغالطے کو دہشت گردی اور قتل عام و تخریب کاری کے ذریعے آگے بڑھا رہے ہیں اور عراق کو بھی شام سے متصل کررہے ہیں کیونکہ عراق بھی امریکیوں کی پسپائی کے بعد صہیونیت کے خلاف مزاحمت محاذ میں شام ہوچکا ہے۔ 

وہ سب شیعہ ہراسی Shiite Phobia)) اور اسلامی ہراسی Islam Phobia)) کی مغربی و صہیونی تشہیری مہم سے متاثر ہوچکے ہیں اور حتی کہ ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ اسرائیل عربوں کے لئے ایران سے بہتر ہے! گوکہ وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ تک کرنے کو ضروری نہيں سمجھتے کہ کئی عرب ممالک کو اسرائیل نے قبضہ کرلیا ہے اور ان سب کو اسرائیل اپنے سامنے کرنش اورسر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرچکا ہے۔ اور ایران نے سوائے بھائی چارے اور محبت اور صہیونیت، امریکہ اور استبدادی حکمرانوں کے خلاف عرب اقوام کی حریت پسندانہ تحریکوں کی حمایت کے سوا کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے اور مصر و یمن و لیبیا و تیونس اور بحرین میں عوامی انقلابات کی ہمہ جہت اور مخلصانہ حمایت میں کوئی بھی ایران سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ 

عرب حکام کہتے ہیں کہ جو ملک اسرائیل کے لئے خطرناک ہو وہ عربوں کے لئے بھی خطرناک ہے! ملتوں کو بےوقوف بنانے کے لئے اس سے زیادہ واضح مغالطہ بھی کوئی ہوسکتا ہے؟ اور یہ وہی چیز ہے جو امریکی استکبار اور صہیونی غاصبوں نے اقوام سے کٹے ہوئے عرب حکمرانوں کے کان میں پڑھ لیا ہے اور وہ بھی اطاعت گذار بچوں کی طرح حقائق کو مدنظر رکھے بغیر یہی باتیں دہرانے پر مجبور ہیں کیونکہ اسی میں ان کے اقتدار کا تحفظ مضمر ہے۔ وہ اس حقیقت کی طرف ہرگز اشارہ نہیں کرتے کہ استکبار ایک بار پھر عرب اقوام کو دشمن شناسی سے بازرکھنا چاہتا ہے اور عرب حکمران بھی اپنے آقاؤں کے حکم پر عرب اقوام کی نظر میں دشمن کی جگہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن کے طور پر متعارف کرانا چاہتے ہیں تاکہ ایک بار پھر یہ اقوام ایک طویل عرصے تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جا سکیں۔ 

ہمارا سوال عرب اقوام سے یہ ہے کہ کیا عرب ملک لبنان کا ایک حصہ، عرب ملک مصر کا ایک حصہ، پورے عرب ملک فلسطین، عرب ملک شام کا ایک حصہ، عرب ملک اردن کا ایک حصہ اور عرب ملک سعودی عرب کے دو جزیرے ایران کے قبضے میں ہیں یا اسرائیل کے قبضے میں؟ عرب ملک عراق کو امریکہ نے نیست و نابود کیا ہے یا ایران نے؟ مسلم ملک افغانستان پر امریکہ نے قبضہ کیا ہے یا ایران نے؟ کیا عرب ممالک کو پہلی جنگ عظیم سے لے کر اب تک ایران نے اپنی غلامی پر مجبور کیا ہے یا برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے؟ کیا استبدادی حکمرانوں اور معلوم الحال خاندانوں کو ایران نے عرب ملکوں پر مسلط کیا ہے یا برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے؟ 

اور اس سے زیادہ اہم سوال یہ کہ فلسطین، بوسنیا اور افغانستان میں عرب ملک سنیوں کی مدد کے لئے فعالانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں یا ایران ان کی مدد کی پہلی صف میں کھڑا ہے؟

ہمارا خطاب استبدادیت اور آمریت اور مطلق العنان حکومتوں کے ہاتھوں میں الجھے ہوئے عوام سے ہے ورنہ حکام تو جانے پہچانے ہیں اور ان کا کردار بھی معلوم ہے۔ وہ شاید جانتے ہيں یا پھر انہيں جاننا چاہئے کہ امریکہ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ (یا مشرق وسطی) کو اپنے اور اسرائیل کے لئے چاہتا ہے اور عرب اقوام کے مستقبل کے لئے ایک بار پھر خطرناک سپنے دیکھ چکا ہے اور اگر وہ آج نہ جاگیں تو کل بہت دیر ہوگی اور شاید پھر بھی سو سال تک اٹھنے کا امکان فراہم نہ ہو کیونکہ دشمن نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں آیا ہے اور اب وہ جانتا ہے کہ یہ اقوامیں جاگ بھی سکتی ہیں اور اپنا حق بھی مانگ سکتی ہیں چنانچہ اس کی کوشش ہے کہ اب یہ قومیں ہرگز بیدار نہ ہوسکیں۔ وہ بظاہر ہمدردی اور رحمدلانہ مسکراہٹ منہ پر سجا کر میدان میں آیا ہے اور یہ مسکراہٹ اس کے نئے اوزاروں میں سے ایک ہے۔ ایک بار پھر یہ سوال پیش کرنا ضروری ہے کہ “جو ممالک اور جو قوتیں اور جو حکمران خود ظالم، قابض، جارح، استبدادی اور قاتل ہیں اور قوموں کی آزادی کو دبائے ہوئے ہیں، کیونکر جمہوریت کے حامی ہوسکتے ہیں اور مثال کے طور پر شام اور دوسرے ملکوں میں جمہوریت اور آزادی کی حمایت کرسکتے ہیں؟ 

 انقلاب اور اسلامی بیداری امریکہ، اسرائیل اور استبدادیت، ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہی اور مطلق العنان شخصی حکومتوں کے خلاف ہے اور یہ قوتیں ـ بو اس انقلاب اور اسلامی بیداری کو عربی بہار کا نام دیتے ہیں ـ اس کے سخت دشمن اور مخالف ہیں اور تمام ممالک میں بہت شدید انداز سے اس کو کچل رہی ہیں۔ پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ شام کے خلاف شروع ہونے والی دہشت گردی اور تخریبکاری بھی “عربی بہار” کا تسلسل ہے جبکه یہی قوتیں جو دوسرے ممالک میں عربی بہار (اور ہماری اصطلاح کے مطابق اسلامی بیداری) کو شدت سے کچل رہی ہیں شام میں اس نام نہاد عوامی تحریک کی حمایت کررہی ہیں؟ اور تمام عرب ڈکٹیٹر اور بادشاہ اس کی حمایت کررہے ہیں جبکہ وہ اصولی طور پر عوامی مطالبات کے دشمن ہیں؟ کیا بعض تجزیہ نگاروں کی یہ بات درست ہے کہ عرب مسلمان دھوکا اور فریب کھانے کے شیدائی ہوتے ہیں یا پھر وہ اس واضح کھیل کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں؟ 

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تمام مغربی ممالک اور عرب حکمران آج اسلامی مزاحمت، ایران، عراق، شام اور حزب اللہ و حماس کے مدمقابل آکھڑے ہوئے ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ کل بھی اسی محاذ میں تھے بس ان کی روش تھوڑی مختلف تھی اور کچھ حیلہ گری اور مکر و فریب کا نقاب پہن آکر اپنی آج والی سرگرمیاں دکھا رہے تھے لیکن آج وہ بالکل بے نقاب ہوکر میدان میں آئے ہیں اور کل اگر مزاحمت محاذ نے ان سے کو ناکامی کا منہ دکھایا تھا تو آج تو یہ محاذ اپنے دشمنوں کو پہلے سے کہيں زیادہ پہچانتا ہے اور زيادہ آسانی سے انہيں شکست دے گا۔ آج نقاب پھینک کر اپنی ملتوں کے مدمقابل آکر کھڑے ہونے والے حکمران مزید اپنا چہرہ کسی سے نہيں چھپا سکیں گے اور مغربی استکبار بھی ابد تک ان کی حمایت نہيں کرسکے گا چنانچہ اب ان کے دن بھی گنے جاچکے ہیں اور یہ صدی اقوام کی ذلت کی نہيں عزت و عظمت کی صدی ثابت ہوگی بشرطیکہ عرب اور مسلم اقوام مغرب اور اسرائیل کے دھوکے میں نہ آئیں جو اپنے سابقہ رویئے کو ترک کر اب دوست اور ہمدرد کے بھیس میں میدان میں ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ ایک قسم خوردہ دوست، برطانوی فوج کا کرنل ـ اور برطانوی نژاد یہودی خاتون کا فرزند ـ اردن کا بادشاہ “عبداللہ دوئم بن حسین بن طلال” ہے جس نے برطانوی ایم آئی 6، امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے مشورے سے “شیعہ ہلال” کے نام سے ایک شوشہ چھوڑا جو درحقیقت عظیم تر مشرق وسطی کے امریکی منصوبے کا حصہ تھا اور آج اس موہوم شیعہ ہلال کے مقابلے میں “سنی محاذ” کی تشکیل کی باتیں ہورہی ہیں اور عجب یہ ہے کہ یہ موہوم اصطلاح پہلی بار ہمیں اسرائیلی ویب سائٹس پر پڑھنے کو ملی اور شیعہ ہلال اور سنی اتحاد کی جنگ درحقیقت ابتدائی مرحلے میں امریکی، برطانوی اور اسرائیلی ویب سائٹوں اور ذرائع ابلاغ میں لڑی جارہی ہے۔ ہمارا سوال کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل اس سنی محاذ کے کس حصے میں کردار ادا کررہے ہیں؟ کیا وہ اہل تسنن کے اتنے قریبی دوست ہوچکے ہیں کہ اب وہ ان کے لئے محاذ بنائیں گے اور ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ اور ہاں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ اور یہود مل کر اسلام کے خلاف سازش کررہے ہیں یا پھر عرب حکمران اور بعض اسلامی ممالک کے حکام ایک ایسے محاذ کا حصہ بن رہے ہیں جس کا مقصد اختلاف اور انتشار پھیلا کر امریکی تسلط اور اسرائیلی حیات کو تحفظ فراہم کرنا ہے؟ 

کیا دشمنان اسلام اور امریکی و صہیونی ایجنٹوں کے محاذ کو سنی محاذ کا نام دینا درست ہے؟ کیا امریکہ و اسرائیل کی طرف سے اس امریکی محاذ کی حمایت کا واضح مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک مغربی ـ صہیونی تشہیری مہم کا حصہ ہے اور اس کے مقابلے میں جس شیعہ ہلال کا تصور اردنی بادشاہ نے دیا ہے، وہ بھی ایک خیال تصور کے سوا کچھ نہیں ہے اور اگر اسرائیل کے خلاف تشکیل یافتہ محاذ مزاحمت کو شیعہ ہلال کا نام دیا جارہا ہے تو اس میں شامی حکومت اور فوج بھی ہے جس کی اکثریت اہل سنت سے تعلق رکھتی ہے اور فلسطین اور لبنان کی سنی تنظیمیں بھی ہیں اور حماس اور جہاد اسلامی بھی ہے اور مصر اور عراق کی کئی سنی تنظیمیں بھی ہیں حتی کہ اس میں فلسطین، لبنان اور شام کی کئی عیسائی تنظیمیں بھی ہیں جو اسرائیلی تسلط کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں سو اس کو کیونکر شیعہ ہلال کا نام دیا  جاسکتا ہے؟

کیا شیعہ اور سنی کے درمیان کسی موضوع پر کوئی لڑائی چل رہی ہے؟ کیا شیعہ نے سنی کے اموال و املاک اور ملک و مال و دولت پر قبضہ کیا ہے یا پھر سنی نے شیعہ کے حقوق پر قبضہ جمایا ہوا ہے؟ شیعہ سنی کے خلاف یا سنی شیعہ کے خلاف محاذ کیوں تشکیل دے؟ وہ کیوں ایک دوسرے سے خطرہ محسوس کریں جبکہ ان کا مشترکہ دشمن میدان میں دونوں کو للکار رہا ہے؟ بے شک آج سنی نوجوان ان سازشوں کا بخوبی ادراک کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ شیعہ ہلال یا سنی محاذ تشخص باختہ ایجنٹوں کے ذہن کی پیداوار ہے اور اس بات کے بطلان کے لئے یہی واضح دلیل کافی ہے کہ اس محاذ کے سربراہ ترکی کے اردوگان، قطر کے حمد بن خلیفہ اور بلادالحرمین کے سعودی بادشاہ ہیں جبکہ اردوگان اسرائیل کے قریبی دوست ہیں اور انقرہ میں اسرائیل کا سفارتخانہ اور اسرائیل کے ساتھ ترکی کا فوجی تعاون جاری و ساری ہے؛ شمعون پیرز، نیتن یاہو اور زیپی لیونی کے ساتھ امیرقطر کی ملاقاتیں اور قطری حکام کے تل ابیب کے دورے، قطر میں اسرائیل کا تجارتی دفتر اور خاص طور پر زیپی لیونی کے ساتھ امیر قطر اور وزیر اعظم قطر کے اسکینڈلز، شمعون پیرز اور اس کے ہمراہ 20 رکنی وفد کے سعودی بادشاہ کے خرچے پر ـ نام نہاد بین المذاہب کانفرنس میں شرکت کے لئے ـ دورہ امریکہ اورسعودی بادشاہ کی صہیونی حکام کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں اور صہیونیوں کی طرف سے آل سعود کے ساتھ وسیع انٹیلی جنس و معاشی تعاون کے اعترافات، سب اس حقیقت کے غماز ہیں کہ عالم اسلام میں امریکہ اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں؛ کیا ہے اس میں کوئی شک؟ کیا حتی گماں کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل، جو ان ایجنٹوں کی حمایت کررہے ہیں، خیانتوں، جرائم، قتل و غارت، اسلام دشمنی، مسلم کشی اور مسلم ممالک پر جارحیت سے توبہ کرچکے ہیں اور اب اسلام اور قرآن کے دوست بن چکے ہیں؟ اور عراق، افغانستان، یمن، پاکستان اور یورینیم اور سونے کے ذخائر سے سرشار افریقی مسلم ملک “مالی” پر ان کے حملے اور ان ممالک میں مسلمانوں کا قتل عام خیرسگالی پر مبنی ایک دوستانہ اور اسلام دوستی پر مبنی ایک برادرانہ یا تفریحی سلسلۂ اقدامات ہے ورنہ وہ تو مسلمانوں کے مخلص دوست ہیں!!! کیا اس ہرزہ سرائی کو قبول کیا جاسکتا ہے؟ 

یہود اور شیعہ!!!

 آج کی دنیا کثرتوں کی دنیا ہے اور دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب کے پیروکار ایک ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت زندگی بسر کررہے ہیں اور یہودی بھی اس دنیا کے باسی ہیں اور ممکن ہے کسی بھی ملک میں مسلمانوں کے ساتھ بھی ان کے دوستانہ تعلقات ہوں کہ صہیونی یہودی اور عام روایتی یہودی میں فرق ہے اور غیر صہیونی و روایتی یہودی، سیاسی یہودیت اور قبضے اور قتل و غارت کے خلاف ہیں اور ان کا مسئلہ صہیونیوں سے الگ ہے اور وہ حتی دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف مسلمانوں کے مظاہروں میں بھی شریک ہوتے رہتے ہیں اور کسی بھی شیعہ اور سنی کے ساتھ ان کے تعلقات بھی ہوسکتے ہیں لیکن شیعیان آل محمد (ص) پر یہود کے ساتھ سازباز کرنے کا الزام لگانا ظلم عظیم ہے اور انسان تو کیا شاید جمادات بھی اس الزام پر ہنسیں تو عجب نہ ہوگا۔ ہم اگر صہیونی ریاست (اسرائیل) کو سیاسی یہودیت کا عملی نمونہ سمجھیں تو پوری دنیا کا اعتراف ہے کہ صہیونی ریاست جس قدر پیروان اہل بیت (ع) کے ساتھ عداوت رکھتی ہے کسی کے ساتھ نہیں رکھتی اور جتنی سازشیں وہ تشیع اور ایران کے خلاف کررہی ہے کسی کے خلاف کرنا ضروری نہيں سمجھتی کیونکہ وہ شیعہ اور ایران کو ہی اپنا دشمن سمجھتی ہے کیونکہ اس کو سب سے زیادہ نقصانات اہل تشیع ایران، لبنان نیو شام سے اٹھانے پڑے ہیں جس کے حوالے سے ہم فلسطینی راہنما کے القرضاوی کے نام خط بھی پیش کریں گے۔ 

بعض لوگ ـ بطور خاص پاکستن میں، ان لوگوں میں سے جو دہشت گردی، بےگناہوں کے گلے کاٹنے اور طاقت و قتل و دہشت گردی کے ذریعے اپنے خاص قسم کے اسلام کی ترویج پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت پاکستان کے سابق اور موجودہ حکام کے اعلانات کے مطابق اسرائیل اور ایک پڑوسی ملک سے مالی اور عسکری امداد وصول کررہے ہیں ـ مذہب آل محمد (ص) کے خلاف اپنی تشہیری مہم، میں مسلسل دہراتے رہتے ہیں کہ شیعہ اور یہود اسلام کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اور یہ دونوں متحد ہوگئے ہیں اور جوکچھ شیعہ اسرائیل کے خلاف کہہ رہے ہیں صرف ایک سیاسی نمائش ہیں!!!

قلم حیران ہے کہ ان لوگوں نے اتنا بڑا جھوٹ کس طرح خود قبول کرسکے ہیں اور کس منطق اور عقل کے مطابق اسے دہرا رہے ہیں؟ اور یہ جو صرف اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اتنا بڑا جھوٹ بولتے کیسے ہیں؟ یہ لوگ کس طر اپنے خیال اور وہم کو اتنے بڑی حقیقت پر مقدم سمجھتے ہیں کہ صہیونی دشمن کے سامنے فعالانہ مزاحمت کے بانی شیعہ ہیں اور اسرائیل کو شکست کا مزا اہل تشیع نے ہی چکھایا ہے جبکہ اہل سنت کی قیادت کے دعویداروں کی طرف سے تو آج تک ایک گولی بھی اسرائیل کی طرف نہيں جاسکی ہے؟ وہ “ایک بار پھر” نصّ مسلّم کے مقابلے میں خیالی اجتہاد کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیعہ اور یہود و نصاریٰ سب ایک ہیں اور ان کے درمیان جو جنگ ہورہی ہے وہ صرف سنیوں کو دھوکا دینے کے لئے ہے! لیکن یہ لوگ اب تک اس سلسلے میں کوئی دستاویز اور کوئی سند و ثبوت نہیں پیش کرسکے ہیں اور کوئی ثبوت ہوتا تو ضرور پیش کرتے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اتنے عظیم اور عالمگیر عینی شواہد اور واقعات کو نظرانداز کررہے ہیں جو ان کے دعوے کے جھٹلاتے ہیں اور حقائق کو آشکار کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہيں کہ یہ صرف شیعہ اور ایران ہیں جو فلسطین کے سنیوں کی عملی طور پشت پناہی کررہے ہیں۔ 

اس سلسلے میں ہمارے سوالات کچھ یوں ہیں: 

1۔ کیا 2006 میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد شیعیانِ حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل کو پہلی مرتبہ ملنے والی دندان شکن شکست ایک نظری حکمت عملی یا نورا کشتی نمائشی ڈرامہ، تھی؟ 

کیا حزب اللہ ایک شیعہ تنظیم نہیں ہے؟ کیا اس کو ایران کی اعلانیہ اور شجاعانہ حمایت حاصل نہیں ہے؟ کیا ان دونوں نے مل کر عرب حکمرانوں کی اسرائیل کے ساتھ ساز باز کے باوجود، صہیونیوں کو شکست نہیں دی؟ کیا یہ شکست بھی ایک ڈرامے کا حصہ تھی؟ 

حال ہی میں ایک بغیر پائلٹ طیارہ جنوبی لبنان سے اڑ کر بحیرہ روم کے راستے جنوبی فلسطین میں داخل ہوا اور حساس ترین فوجی تنصیبات، مشترکہ فوجی مشقوں کے لئے تیار امریکی و اسرائیلی فوجیوں کی اچھی خاصی نفری اور ان کے پاس جدید ترین ریڈار سسٹمز سے گذر کر ڈیمونا جوہری تنصیبات کے تیس کلومیٹر کر فاصلے تک اڑا اور وہاں سے ویڈیو تصاویر اپنے اڈے میں بھجواتا رہا اور کچھ ہی دنوں میں سیدحسن نصراللہ نے اعلان کیا کہ وہ طیارہ ایرانی ساختہ تھا اور حزب اللہ نے ہی وہ مقبوضہ فلسطین بھجوایا تھا لیکن یہ نہ تو پہلا ڈرون تھا اور نہ آخری ہوگا، ہمارا سوال یہ ہے کہ ایک نمائشی جنگ کے لئے یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ 

2۔ اسرائیل نے دسمبر 2008 میں حماس (سنی العقیدہ) پر حملہ کیا جو جنوری 2009 تک 22 روز جاری رہا اور اس حملے میں حماس جیت گئی اور اسرائیل ہار گیا؛ کیا ایران اور شام اور حزب اللہ نے مل کر حماس کا ساتھ نہیں دیا؟ کیا سعودی عرب، مبارک کے مصر، اردوگان کے ترکی یا آل ثانی کے قطر نے اس جنگ میں حماس کو شکست دینے کے لئے اسرائیل کا پورا پورا ساتھ نہیں دیا؟

اسرائيل در دسامبر سال 2008 به حماس سني مذهب حمله كرد كه تا دسامبر 2009 و به مدت 22 روز ادامه يافت؛ در اين جنگ حماس پيروز شد و اسرائيل شكست خورد؛ آيا ايران و سوريه و حزب الله به حماس كمك نكردند؟ آيا عربستان سعودي، مصر حسني مبارك، تركيه اردوغان و قطر آل ثاني در اين جنگ در كنار اسرائيل نبودند و به طور همه جانبه به اسرائيل كمك نكردند؟ کیا ایران اور حزب اللہ کی طرف سے سنی العقیدہ حماس کی حمایت اور غزہ کے سنی مسلمانوں کو اسرائیلی تسلط سے بچانا یہودیوں کے ساتھ اہل تشیع کی ساز باز کا ثبوت ہے یا نہیں بلکہ ایران کی طرف سے غزہ کے سنی مسلمانوں کی حمایت اور یہودی صہیونیوں کی دشمنی نیز شیعہ مکتب کے پیروکاروں کی طرف سے اتحاد بین المسلمین پر قلبی یقین، کا ثبوت ہے؟ 

کیا اس جنگ میں ترکی سمیت اکثر عرب ممالک کے حکمرانوں کی یہود کے ساتھ ساز باز، یہود کے ساتھ شیعہ ساز باز کی دلیل ہے؟

ہم نے دیکھا کہ اسرائیلی یہودیوں کی طرف سے غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد پر حالیہ آٹھ روزہ جنگ میں قطر، ترکی، سعودی حکمران ایک بار پھر اسرائیل کی صف میں کھڑے تھے اور حتی کہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت نے غزہ کے مجاہدین کی حمایت کے بجائے، صہیونی ریاست کو بچانے کے لئے میدان میں اتری اور ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے حماس اور جہاد اسلامی کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں قوت صرف کرتی رہی اور اس کو ترکی اور عرب حکومتوں کی حمایت حاصل تھی۔ امیر قطر نے تو جنگ سے قبل ہی غزہ کا دورہ کرکے چابیوں کی زنجیریں (Key Chains)، قلموں، کاروں اور گھڑیوں کے تحفے حماس کے فوجی کمانڈروں میں بانٹ دیئے جو حساس جاسوسی آلات سے لیس اور صہیونی ریاست کے جاسوسی سیارچوں سے متصل تھے اور اسرائیلیوں نے ان ہی قطری تحائف سے استفادہ کرتے ہوئے حماس کے فوجی کمانڈر احمد الجعبوری کو قتل کیا، اور قطر کے امیر ان ہی لوگوں میں سے ہیں جو آج کل اسرائیلی ساختہ سنی محاذ کے اہم قائدین میں شمار ہوتے ہیں! تو کیا یہ خطرناک اسلام دشمن اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ شیعہ یہودیوں کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف ساز باز کررہے ہیں؟ 

جب آٹھ روزہ جنگ میں مجاہدین نے نئے سینکڑوں میزائل استعمال کئے جو اسرائیل کے نہایت جدید اور حساس اور قیمتی فضائی دفاع سسٹمز کو ناکام کرتے ہوئے تل ابیب اور حتی کہ بیت المقدس میں صہیونی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دنیا کو حیرت زدہ کردیا اور جب جنگ ختم ہوئی اور اسرائیل کو شکست ہوئی تو حماس اور جہاد اسلامی کے قائدین نے ایران اور حزب اللہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایران کے فجر 3 اور فجر 5 میزائلوں نے جنگ کا نقشہ غزہ کے مجاہدین کے حق میں بدل دیا لیکن کہیں سے کوئی بھی ایسا کوئی ثبوت نہ مل سکا جس سے ثابت ہورہا ہو کہ عرب یا ترک حکمرانوں کا کوئی اقدام غزہ کے مجاہدین کی فتح کا باعث تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایران اور حزب اللہ کی مدد و تعاون بھی ڈرامہ تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور صہیونی حکام پہلی مرتبہ غزہ کے مجاہدین  کو رعایتیں دینے اور جنگ بندی میں ان کی شرطیں ماننے پر مجبور ہوئے؛ اور اسرائیل کی حکومت پناہگاہوں میں چلی گئی، تل ابیب کے صہیونیوں کا امن ڈراؤنے سپنے میں بدل گیا اور یورپ اور امریکہ سے ہجرت کرکے مقبوضہ فلسطین میں بسائے جانے والے یہودی اپنے پرانے ممالک میں لوٹنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے؟

کیا اس حقیقت کا ادراک بہت مشکل ہے کہ آج کی دنیا میں یہود و نصاریٰ بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کو ساتھ ملا کر شیعہ مذہب اور ایران کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اور ایران کو عالمی سطح پر اپنا پہلا اور آخری دشمن قرار دے رہے ہیں؟ آخر ان سب حقائق میں شک و شبہہے کی گنجائش کہاں ہے؟ 

یہ دہشت گرد اور تشدد پسند تکفیری ٹولے اپنے بارے میں وضاحت کیوں نہیں دیتے کہ جب سے انھوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں اور شیعہ اور سنیوں میں ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کرچکے ہیں حتی ایک ذرہ برابر کفر و شرک اور اسرائیل اور امریکہ و برطانیہ کے لئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوئے ہیں اور انھوں نے حتی ایک گولی بھی اسلام کے دشمن نمبر ایک یعنی اسرائیل و امریکہ کی طرف نہیں چلائی ہے لیکن جہاں شام میں اسرائیل کے مخالف محاذ کو کمزور کرنا مقصود ہو تو ان کے گروہ در گروہ خون کی ہولی کھیلتے نظر آتے ہیں؛ اور ان کو مالی امداد فراہم کرنے والے عرب حکمران ـ جو عالم اسلام کی قیادت کے خواب دیکھ رہے ہیں اور عمل میں اسرائیل، امریکہ اور یورپ کے کٹھ پتلی ہیں، اور کبھی بھی عملی اسلام پر اصرار کرتے دکھائے نہیں دیتے، اور ان کی اخلاقی بےراہروی اور بدکاری کی داستانوں کی بدبو پوری دنیا میں پھیل گئی ہے، اور یورپی و امریکی حکام کے ساتھ شرابخواری اور ہالیووڈ کی رسوائے زمانہ اداکاراؤوں کے ساتھ ان کی تصویریں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ یہ تصویریں جعلی ہیں ـ آج تک ایک بھی ایسا عمل انجام دیتے ہوئے نظر نہیں آئے ہیں جس سے اسلام اور امت کو فائدہ اور کفر و استکبار یا یہود و نصاریٰ کو کوئی نقصان پہنچا ہو۔ 

اسلامی اور عرب ممالک کے اکثر حکام امریکہ اور صہیونیت کے حلیف ہیں اور نہ صرف اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کو اپنی حکمرانی کا قانونی جواز سمجھتے ہیں ان میں سے بعض کے تل ابیب میں سفارتخانے ہیں اور اپنے ملکوں میں بھی اسرائیل کو سفارتخانے دے چکے ہیں (جیسے ترکی، اردن، مصر وغیرہ) اور بعض نے تل ابیب میں اپنے لئے اور اپنے دارالحکومتوں میں اسرائیل کے لئے خفیہ نمائندہ دفاتر قائم کئے ہوئے ہیں (جیسے قطر اور اکثر خلیجی ممالک)؛ یا پھر سعودی حکومت کی طرح اسرائیل کے ساتھ خاص قسم کے خفیہ تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں اور کئی ممالک نے امریکہ کو فوجی اڈے دیئے ہوئے ہیں (جیسے امارات پر مسلط خاندان آل نہیان، کویت کا آل صباح خاندان، قطر کا آل ثانی خاندان اور بحرین کا آل خلیفہ خاندان)؛ ایسے میں کس ضمیر اور کس منطق کے تحت کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکومتیں اسرائیل اور امریکہ کے دشمن ہیں؟ “کیا ان کے ساتھ اِن کی دوستی بھی ایک نمائش ہے؟”؛ اگر یہ امریکہ اور اسرائیل کی دشمن ہیں تو کیا ایران اسرائیل اور امریکہ کہ دوست ہے جس نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے ساتھ ہی اسرائیل کا سفارتخانہ بند کرکے، فلسطینیوں کی تحویل میں دے دیا؟ جبکہ ابھی تک اسرائیل میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی اور فلسطین پر صہیونی قبضہ قصہ پارینہ بن رہا تھا اور فلسطین ہمیشہ کے لئے فراموش کیا جارہا تھا؟ کیا اس میں کسی کو کوئی شک ہے کہ فلسطین اور قبلہ اول کا مسئلہ ایران نے زندہ کیا جبکہ تمام عرب ممالک اس کو دفنانے کے چکر میں تھے؟ کیا یہود و نصاری اس کی چابی فلسطینیوں کو دےاين حال براساس كدام وجدان و منطق مي توان گفت كه آنها دشمن يهود و نصاریٰ کی دوستی بری ہے؟ اگر بری ہے تو تکفیریوں کے آقا اور اولیائے نعمت ان کے دوست کیوں ہیں؟ 

 شیعہ ان تمام مسلمانوں کی عملی حمایت کرتے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے مد مقابل کھڑے ہوجائیں، اور شیعہ وحدت مسلمین پر عملی یقین رکھتا ہے لیکن کبھی بھی نہیں کہتے کہ وہ کسی کی خوشنودی کے لئے اپنا مکتب ترک کریں گے؛ شیعہ علمی بحث کے میدان میں فعالانہ کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ علمی بحث و مباحثہ جاری رہنا چاہئے اور کلامی، اعتقادی، فلسفی اور فقہی موضوعات پر علمی بحث و مناظرہ جاری رہنا چاہئے اور شیعہ مذہب اور سنی مذہب کے ایک ہوجانے کے خواہاں نہيں ہیں اور رسول خدا (ص) کے اس ارشاد گرامی پر یقین رکھتے ہیں کہ “میری امت کے درمیان اختلاف، رحمت ہے”، لیکن انہیں یقین ہے کہ اس علمی اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہئے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ نزاع، جھگڑا، کشت و خون، انسانوں کے گلے کاٹنا اور بےجان جسموں کو مُثلہ کرنا اور ٹکڑے ٹکڑے کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور اسلام و قرآن کے ساتھ خیانت اور دشمنان اسلام کی خدمت ہے۔ 

 شیعیان اہل بیت (ع) کا کہنا ہے کہ “آیئے خدائے واحد، کتاب واحد، رسول واحد (ص)، قبلۂ واحد اور مشترکہ دنیاوی مفادات کی خاطر متحد ہوجائیں۔ جان لیجئے کہ ہمارا دین ایک ہے اور اگر دین کی بنیاد پر متحد نہیں ہونا چاہتے ہیں تو جان لیجئے کہ ہمارا دشمن ایک ہے اور شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات ہرگز ہرگز یہود و نصاری کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے زیادہ وسیع نہیں ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ نہ صرف یہود و نصاری اسلام اور امت اسلامی کے مدمقابل ایک ہوگئے ہیں بلکہ غیرآسمانی ادیان کو بھی اپنے ساتھ ملاچکے ہیں”۔ 

 آج شیعیان اہل بیت (ع) کو بظاہر ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو مسلمان کہلوانے پر اصرار کررہے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ شیعہ مکتب کو ایک زندہ، فعال اور دنیا کے چیلنجوں کا جواب دینے کا اہل ہونے، اور مغرب م مشرق کے حیرت زدہ انسان کو سعادت کی راہ دکھانے کی قوت سے سرشار ہونے کی وجہ سے، ان قوتوں کے نشانے پر ہے جو درحقیقت ان قاتلوں، مجرموں، خونخواروں اور تکفیری دہشت گردوں کے آقا، مالک اور ولی نعمت ہیں۔ کفر و استکبار کی خدمت میں سرگرم عمل دہشت گرد شیعہ نوجوانوں کے گلے کاٹنے پر فخر کرتے ہیں اور استکبار و صہیونیت کی نیابت میں شیعیان آل محمد (ص) پر یلغار کئے ہوئے ہیں گوکہ وہ اپنے ہم عقیدہ سنیوں پر بھی رحم نہیں کرتے اور جہاں دیکھتے ہیں کہ سنی اسلام کی بات کرتے ہیں اور اسرائیل و امریکہ کی مخالفت اور مسلمانوں کے اتحاد کی بات کرتے ہیں انہیں بھی نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے آقا وہی مستکبرین، صہیونی، امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک ہیں جو ایران اور شیعہ کے موہوم خطرے کے مد مقابل “سنی محاذ بمقابلۂ شیعہ ہلال” کی حمایت کے جھوٹے نعرے لگاتے ہیں لیکن سنی مسلمانوں کو دیکھنا ہے کہ وہی قوتیں جو مغربی ایشیا (یا مشرق وسطی) میں شیعہ ہلال کے مقابلے میں سنی محاذ کی حمایت کررہے ہیں، بوسنیا میں سنی مسلمانوں کے قتل عام کی حمایت کرتے رہے ہیں، افغانستان، فلسطین، یمن، مالی اور پاکستان میں سنیوں کے قتل عام کی حمایت کررہے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون کے حملے کرکے سینکڑوں بوڑھوں، بچوں اور خواتین کا قتل عام کررہے ہیں، تمام عرب ممالک میں قوموں پر مسلط ڈکٹیٹروں، مستکبرین کے مفادات کے محافظوں اور شخصی حکومتوں کی حمایت کررہے ہیں وہی جو اپنی قوموں کے مفادات کے بجائے استکبار اور صہیونیت کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں اور اپنے ملکوں کو امریکی اور برطانوی فوجی اڈوں میں تبدیل کرچکے ہیں؛ کیا اس حقیقت کا ادراک اس قدر مشکل ہے؟ 

 شیعہ سنی کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں، اس لئے نہیں کہ ڈرتا ہے یا کمزور ہے ـ کیونکہ وہ اپنی شجاعت اور قوت کا عملی ثبوت دے چکے ہیں ـ بلکہ اپنے بھائیوں کے ساتھ متحد ہوکر زیادہ طاقتور ہونا چاہتے ہیں اور اپنے بھائیوں کو زیادہ طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج شیعہ اپنے بھائی کی مدد کے بغیر امریکہ، صہیونیت اور ان کے ایجنٹوں کے سامنے ڈٹ سکے ہیں، تو وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ متحد ہوکر ان دشمنوں کو میدان سے نکلنے پر مجبور کرسکتے ہیں اور حتی کہ انھیں یقین ہے کہ اگر شیعہ اور سنی متحد ہوں تو غاصب صہیونی ریاست جیسے نوظہور فتنوں کا بغیر کسی جنگ کے، خاتمہ ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کا قبلۂ اول اور مقبوضہ مسلم ملک فلسطین لڑے بھڑے بغیر آزاد ہوسکتا ہے۔ اسرائیل نے کئی سنی سرزمینوں پر قبضہ کرلیا ہے اور جتنا شیعہ کا دشمن ہے اتنا ہی سنی کا دشمن بھی ہے اور اتحاد مسلمین اگر شیعہ کے مفاد میں ہے تو سنی کے مفاد میں بھی ہے اور اسلام کے لئے بھی مضر نہیں ہے، بلکہ مفید ہے کیونکہ امریکہ، برطانیہ، اسرائیل اور فرانس اسلام کے اصل دشمن ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے لئے اچھے دوست نہیں ہوسکتے چاہے وہ مسلمان شیعہ ہوں یا سنی۔ پس؛

 وحدت کے سلسلے میں ایک بات غلط فہمیوں کی ہے جن کی طرف اشارہ کیا گیا اور وضاحت کی گئی اور پھر بھی کہنا چاہئے کہ:

 شیعیان اہل بیت (ع) نے استکباری قوتوں کے مقابلے میں اپنی مزاحمت اور استقامت کا عملی ثبوت دیا ہے اور دے رہے ہیں اور شیعہ کو یہود و نصاری سے جوڑنے والے خود یہود و نصاری کی خوب خوب خدمت کررہے ہیں چنانچہ یہ ایک الزام ہے جس کا اگر کوئی ثبوت ہوتا تو وہ ضرور پیش کرتے اور شیعہ کے خلاف یہود و نصاری کی سازشیں اور تشہیری مہم خود اس بات کی دلیل ہیں کہ تکفیریوں کے الزامات سو فیصد غلط ہیں۔ 

 شیعہ اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے تقیہ سے کام نہيں لیتے بلکہ اس کو ایک دینی فریضہ اور دین و امت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہیں۔ 

شیعیان اہل بیت (ع) نے عمل میں ثابت کیا ہے کہ جہاں بھی سنی برادران کو دشمنان اسلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ان کی حمایت کرتے ہیں۔ فلسطین، بوسنیا اور افغانستان میں یہ حقیقت ثابت کی ہوئی ہے اور تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور بحرین میں ثابت ہوا ہے کہ شیعہ اور ایران ان ممالک کے شیعہ اور سنی مسلمانوں کی حمایت کرتے اور ان کی عوامی تحریکوں کی تأئید کرتے ہیں۔ پاکستان کی حدتک دیکھئے تو صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے حال ہی میں کہا کہ “پاکستان کے مسائل کا حل ہمارے پاس ہے بشرطیکہ پاکستان امریکہ کے سامنے استقامت کرے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے” ایران نے پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور تیل فروخت کرنے کی ہزار بار پیشکش کی ہے جس سے پاکستان کے سنی اور شیعہ مسلمانوں کو درپیش توانائی کا بحران حل ہوسکتا ہے۔ 

 شیعہ وحدت کی دعوت کے ضمن میں کبھی بھی یہ دعوی نہیں کرتے کہ وہ کسی کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنا مکتب ترک کریں گے اور وہ علمی بحث کو اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن علمی بحث ـ یعنی وہی اختلاف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ، کے ارشاد کے مطابق، امت کے لئے رحمت ہے ـ علمی حلقوں میں جاری و ساری رہنی چاہئے اور یہ کہ تشیع اور تسنن دو مکاتب ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں گے اور ایک نہیں ہونگے تاہم ان دونوں کو قرآن اور سنت کے احکام کے مطابق اور عصری تقاضوں کی بنا پر اور دنیاوی ضروریات نیز مشترکہ دشمنوں کا سامنا کرنے کے لئے متحد ہونا چاہئے اور یہ اتحاد واجب ہے۔ 

 شیعیان آل محمد (ص) کو یقین ہے کہ علمی میدان میں افراتفری اور انارکی رائج نہيں ہونی چاہئے اور ہر کسی کو دین کے بارے میں رائے دینے کی اجازت نہيں ملنی چاہئے اور یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے کہ خونخوار دہشت گرد، بالفطرہ مجرمین اور انسانی خون سے تفریح کرنے والوں کو فتوی دینے کا حق نہيں ملنا چاہئے کیونکہ بالفطرہ مجرمین ان فتوؤں کے ذریعے کشت و خون اور تشدد اور درندگی کو شرعی نقاب چڑھاتے ہیں اور کفر و استکبار کو اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں اور اسلام کا مذاق اڑانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اہل تشیع کو فرق ہے کہ عالمی استکبار، عالم اسلام کو ایک بار پھر ـ اور اس بار کئی صدیوں تک ـ غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لے اور دشمن، جو آج پوری دنیا میں شیعہ فوبیا کے سلسلے میں تشہیری مہم چلا رہے ہیں، اسی مقصد کے حصول کے لئے ہے؛ ورنہ وہ سنی کا دوست ہے اور نہ ہی شیعہ کا ہمدرد اور اگر مثال کے طور پر وہ ان جعلی مداری کھیلوں میں کامیاب ہوجائے اور شیعہ مکتب کے پیروکاروں کو نقصان پہنچا سکے تو سنی بھی ان کی جارحیت سے محفوظ نہیں ہونگے اور اس مسئلے کے اثبات کے لئے استعمار کی پوری تاریخ اور موجودہ کردار ہمارے سامنے ہے اور اسی وقت بھی اگر وہ شیعہ دشمنی پر اصرار کررہے ہیں تو سنیوں کو بھی اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے ایک لمحہ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ہیں۔ 

 شیعہ اپنی پوری تاریخ میں دشمن شناس رہے ہیں اور دشمن شناسی شیعہ مذہب کی خصوصیات میں سے ہے اور اگر وہ دوسرے مسلمانوں کو وحدت کی دعوت دیتے ہیں تو اس کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ شیعہ مسلمانوں کو بیداری اور دشمن شناسی کی دعوت دیتے ہیں، اور استبدادی حکمرانوں اور استعمار کے ایجنٹوں کے خلاف مسلم اقوام کی انقلابی تحریکوں کو اسلامی بیداری سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ بیدار ہوجائیں اور ایک بار پھر دشمنوں کی سازشوں کے دھوکے میں نہ آئیں ورنہ آنے والی نسلیں ـ جو ان کی وجہ سے ایک بار پھر استبدادیت، آمریت اور مطلق العنانیت کے ہاتھوں اسیری سے تنگ آئی ہونگی ـ انہيں ہرگز ہرگز نہيں بخشیں گی۔ 

ابتداء میں عرض کیا گیا کہ وحدت قرآن کی رو سے واجب ہے اور اس کو ترک کرنا حرام ہے اور اس کی دلیل کے لئے دیکھئے:

خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے: 

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ * وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ * وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَاءهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُوْلَـئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ. (بقره 103 تا 105)

ترجمه: 

اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامو اور تتر بتر نہ ہو اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے جب کہ تم آپس میں دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی تو اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گڑھے کی بالکل کگر پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے چھٹکارا دیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے لیے ظاہر کرتا ہے‘شاید کہ تم سیدھے راستے پر لگ جاؤ ٭ اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہئے جو بھلائی کی دعوت دیتی ہو‘نیک کاموں کی ہدایت کرتی ہو اور بری باتوں سے منع کرتی ہو اور یہی وہ ہیں جو ہر طرح کی بھلائی حاصل کرنے والے ہیں ٭ اور ان لوگوں کے ایسے نہ ہونا جو تفرقہ میں پڑ گئے اور کھلی ہوئی دلیلوں کے آنے کے بعد اختلافات میں مبتلا ہو گئے اور یہ وہ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ 

وَاذْكُرُواْ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔ (انفال 26)

اور یاد کرو وہ وقت کہ جب تم ایسے کم تعداد میں تھے، اس سر زمین پر کمزور شمار کیے جانے والے کہ تمہیں اندیشہ رہتا تھا کہ لوگ تم پر جھپٹا نہ ماریں تو اس نے تم کو پناہ دی اور اپنی مدد سے تقویت پہنچائی اور تمہیں پاک و پاکیزہ غذا پہنچائی کہ تم شکر گزار ہو! 

وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔ (انفال ـ 46)

اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ تم میں سستی پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا بگڑ جائے گی اور صبر و برداشت سے کام لو یقینا اللہ صبر و استقامت کرنے والوں کے ساتھ ہے! 

تبصرے
Loading...