آخر کب تک؟

*آخر کب تک؟*

*:دیا زہرا*

اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں تو بہت ساری اچھائیاں بھی دیکھنے کو ملیں گی اور بہت سارے دل خراش واقعات کا بھی گاہے بگاہے سامنا کرنا پڑے گا، دلوں کو خوش کرنے والے حالات سے بھی گزرنا پڑتا ہے اور غموں کے طوفان سے بھی ٹکرانا شیوہ بن سکتا ہے۔ انسان کی زندگیوں میں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ دنیا میں آنے سے لیکر قبر تک جاری رہتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کبھی کبھی انسان چھوٹی چھوٹی بات پہ اتنا شور مچاتا ہے کہ جیسے کوئی بہت بڑا طوفان آیا ہو اور کبھی کبھی انسان اتنا بے حس ہو جاتا ہے کہ ہر ظلم ستم اور اذیت ایسے برداشت کر جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔اور اس معاشرے میں بسنے والے سبھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں جس کا ہم دل ہی دل میں افسوس کے سوا کچھ نہیں کر پارہے ہوتے ۔مطلب کبھی انسان بہت حساس نظر آتا ہے تو کبھی بے حساب بے حسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کچھ دلخراش واقعات ایسے ہوتے ہیں جس کا سامنا آئے روز کرنا پڑتا ہے مگر ہم سب کو ظلم سہنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔اور خُصوصَا اداروں کے ذمہ داران کا فرض بنتا ہے کہ اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں ہر ادارے میں چھوٹے اور کام کرنے والوں پر ظلم ہوتا ہے مگر ادارہ سمیت اُس میں کام کرنے والے سب کے سب خاموش تماشائی بنےہوئے نظر آتے ہیں۔ آئے روز ایسے واقعات میں روز بروز اضافہ ہونے کے باوجود اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں ہو رہی ہوتی۔ جب ایسے کسی کی جان چلی جائے تو سربراہان کے زبان سے دو میٹھے بول کے سوا کچھ نہیں سن پاتا اور باقی لوگ ایک دن کے لیئے سڑکوں پہ نکل آتے ہیں پھر تدفین کے ساتھ ایسے ٹھنڈ پڑ جاتا یے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اصل تکلیف تو تب شروع ہوتی ہے جب گھر کو چلانے والا سنبھالنے والا اور اُس گھر میں رہنے والے بچے بے بسی کے عالم میں دن گزارنے پر مجبورہو جائیں اور دل بہت دکھتا ہے جبکہ ہم بھی اسی ظالم سماج کا حصہ بنے ہوئےہوں، اسی دکھ کی گھڑی میں میرا قلم بھی لکھنے پہ مجبور ہو گیا اس سوچ کے ساتھ لکھنے بیٹھ گئی کہ شاید ذہن پہ جو بوجھ سا محسوس ہوا وہ کم کر سکوں اپنے حصے کی شمع جلا دوں ورنہ بے حسی کے اس دور میں دم توڑنے پہ سوائے افسوس کے ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔

محکمہ واٹر اینڈپاور کا ایماندار اور گھر کا واحد سہارا عباس آج ہم میں نہیں رہے۔سننےکو ملا کہ عباس بھائی ملنسار اور بہت اچھی شخصیت کے مالک تھے۔ دوسروں کے گھروں میں روشنی دینے والا آج خود اپنی زندگی کے چراغ گل کربیٹھے۔کہتے ہیں صبح گھر سے نکلتے وقت بچوں سے آخری دفعہ مل کے جارہا تھا بچوں کو شام چھٹی کے بعد جو فرماٸش کی تھی وہ لےکر آنے کا سوچتے ہوئے جارہا تھا ۔عباس کو کیا خبر یہ اس کی زندگی کی آخری شام ہے ۔بچے گھر میں بابا آنے کا انتظار کررہے پیں ۔جیسے دروازے پہ کھٹک کی اواز آٸی بچے بابا آگیا کی آوازیں بلند کرتے دروازے پر پہنچے تو بابا نہ تھا دروازے پہ کبھی پمسائے کے بچے کبھی ہوا سے دروازہ کی کھٹکنے کی آواز تھی ۔بچے آکر ماں سے پوچھتےہیں امی آج بابا آنے میں دیر کیوں ہوئے ۔ماں بچوں کے سوالوں کے جوابات حسب روایات دے رہی تھی بس آتے ہی ہونگے راستے میں ہونگے ۔آپ لوگوں کی فرماٸشوں کو تو پورا کرنا ہے نا۔۔اسی لئے آنےمیں تھوڑی دیر ہوٸی ہوگی پریشان مت ہو آخر ماں ہے جو گھر کوسنبھالتی ہے بچے تھوڑی دیر بعد پھر گلی میں دیکھنے لگتے ہیں ۔تو گلی میں لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے بچے پجوم میں دیر تک تکتے رہتے ہیں کہ کہیں بابا نظر آجائے پر بچوں کو کیا خبر۔بابا اس دنیا میں نہیں رھا ۔صبح سلامت گھر سے جانے والا شام کو بچوں کی فرماٸش لے کے انے والے کا میت گھر کے دہلیز پہ تھا۔ بچوں اور گھر والوں پہ کیا بیتے گا یہ ہم سب بھی تو محسوس کرتے ہیں مگرتڑپ کو ہم صرف دیکھ سکتے ہیں ۔
مگر سوچنے کی بات ہےکہ!
ان بچوں کی اب حسرتیں کون پورا کرے گا؟۔
ان بچوں کی تعلیم مکمل کون کرے گا؟
ایسے ہزاروں سوالوں کے جوابات ہم میں سے کوئی نہیں دے سکتا۔ کیا کوئی دے سکتا ہے؟
جن کی آنکھیں بابا کو ڈھونڈ رہی ہیں۔
آخر ذمہ دار کون ہے؟
ہم سب ذمہ دار ہیں ۔کیا گرڈ اسٹشین ڈیوٹی پرموجود لوگوں کو خبر نہیں تھی کہ عباس کھمبے پہ کام کررہا ہے ۔اگر خبر تھی تو کنفرم کیوں نہیں کیا گیا۔ کہ کام ختم ہوا ہے یا نہیں؟بندہ کھمبے پر ہے تو بجلی دیکھ کے آن کرتے۔ یہ واقعہ سماجی غیر ذمہ دارانہ رویے کا نتیجہ ہے۔ محکمہ برقیات کے ٹیکنیشنز جو لائن کی مرمت کا کام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی چھوٹی سی لاپرواہی کا شکار ہو سکتی ہے۔ کوئی ایسا طریقہ یا لائحہ عمل وضع کرنے کی ضرورت ہے جو انسانی زندگی کو اس پیشے میں لاحق رسک اور خطرات کو کم کر سکے۔
یہ سوچنے کی یا ایسا کرنے کی ذمےداری کس پہ عاٸد ھوتی یے۔آج صرف ایک عباس نہیں ایسے کئی عباس کے گھرانے اُجڑ چکے ہیں یہ ہم سب اور ادارے میں بیٹھے ہوئے لوگ جانتے ہیں ۔اصل درد کیا ہوتا ہے ہم میں سے کوئی نہیں جانتا ایک ہنستا بستا گھر ایک ذرا سی لاپرواہی کی نظر ہوگیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنا خطرناک کام کرنے کے لیئے کوئی حفاظتی کیٹس نہیں ہوتے؟ اگر ہوتے ہیں تو کیوں استعمال نہیں کرتے اس پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے اور اگر نہیں ہوتا ہے تو کیوں ہوتا یے؟
یہ تو بنیادی سہولیات میں شامل ہوتی ہیں حفاظتی کیٹس کے فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں؟ دوبارہ کسی عباس کے گھر اُجڑنے سے پہلے سوالات کوحل کئے جائیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں عملہ اور ادارہ دونوں ذمہ دار ہیں۔اور ادارہ ایسے حساس جان لیوا کام کرنے والوں کے لیے رسک الاؤنس کیوں نہیں دے رہے .
جی بی حکومت سے گزارش ہے محکمہ برقیات کے ملازمین کو رسک الاونس دیا جاۓ.ذمہ داری صرف عملے کی ہی نہیں، ادارے کی بھی ہے اگر دونوں مل کر بہتر حکمت عملی اختیار نہ کی گئیں تو ایسے ہزاروں عباس کے گھر ایسے ہی اُجڑتے رہیں گے۔
بقول شاعر
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

هفت − 6 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More