سرداب غیبت

امام علی نقی اورامام حسن عسکری علیہما السلام کےحرم کے صحن ایک سرداب ہے کہ جسے”سرداب غیبت” کہا جاتاہے۔یہ مکان پہلے ہی سے سرداب تھا یا نہیں یہ ایک ایسا کمرہ تھا جہاں امام علی نقی اور امام حسن عسکری علیہما السلام عبادت کیاکرتے تھے اوروقت گزرنےکے ساتھ ساتھ ان کے اطراف بھرتے گئے اوراونچے ہوتے گئے اور یوں یہ سرداب کی شکل اختیار کر گیا؟ اس بارے میں علما میں دو نظریے پائے جاتے ہیں:

۱-یہ پہلے سے ہی سرداب تھا اورتین معصومین علیہم السلام کی عباد گاہ ہے

اس نظریے کی وضاحت  کچھ اس طرح سے کی جاسکتی ہے کہ دجلہ کا بائیاں کنارا  دائیں کنارے سے چند میٹر اونچا ہے۔زمین کی اس چوٹی کے نیچے پتھر یلا طبقہ ہے جوزمین شناسی کے ماہرین کے درمیان “شیفتہ طبیعی”کےنام سے مشہورہے۔یہ ریت کے مختلف  ذرات  کو آپس میں چپکا کربنایاگیاہے۔

زمین کا پانی کی سطح سے بلندہونا اور دوسری طرف سے ایک  چھوٹا پتھریلاطبقہ کا ہونا  عمارتوں کے نیچے تہ خانے اور سرداب کھودنے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے سامرا کے پرانے مکانات اور محلات کے نیچے ایسے سرداب عام طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

سیدمحمدکاظم قزوینی اس نظریے کوقبول کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

 عراق کے اکثر گرم علاقے کےمکانات میں سرداب  پائے جاتے تھے تاکہ اُن میں رہ کر گرمی سے بچا جا سکے۔امام علیہ السلام کے گھر میں بھی اسی طرح کا سرداب پایا جاتا تھا۔یہ سرداب   شیعوں کے تین اماموں کا گھر ہے نہ کہ امام زمانہ عج وہاں چھپے ہوئےہیں۔”۔۔۔

۲- سرداب غیبت کےنام سےمشہور یہ جگہ پہلے ایک کمرہ تھا جہاں امام علی نقی علیہ السلام اورامام حسن عسکری علیہ السلام  وہاں عبادت میں مصروف رہتے تھے۔

علامہ عسکری اس نظر یےکو قبول کرتےہوئےلکھتےہیں:

حضرت  امام علی نقی علیہ السلام اورامام حسن عسکری علیہ السلام نے عبادت کےلئے ایک جگہ مخصوص کررکھی تھی۔یہ وہی جگہ ہے کہ جسے”سرداب “کہاجاتاہے۔اُس وقت سرداب نہیں تھا بلکہ ایک کمرہ تھا جہاں یہ دونوں امام علیہما السلام عبادت کیا کرتے تھےمتوکل نےرات کو  اپنے سپاہی امام علی نقی علیہ السلام کے گھربھیجےتو امام عالی مقام کو اسی مقام سے لےکرگئے تھے۔امام علیہ السلام کے گھر سے کہ جہاں اب امام علیہ السلام کی قبر مطہرہے اس عبادت گاہ تک راستہ تھا جوکہ اب رفتہ رفتہ اونچا ہوگیا اور وہ عبادت گاہ ایک سرداب کی صورت اختیار کرگئی۔

سرداب غیبت

سرداب غیبت  تین حصوں پرمشتمل ہے:۱-چھ گوشا  کمرہ۲-ایک چھوٹا سا مستطیل کمرہ کہ جسے “خواتین کا مصلی “کہاجاتاہے۔۳-ایک بڑا مستطیل کمرہ کے جسے”مردوں کا مصلی”کہاجاتاہے۔یہ حصے دوطولانی اوربلندراہ رووں کے ذریعے آپس میں ملتےہیں۔

حجرہ غیبت

مردوں کے مصلے کے آخرمیں ایک لکڑی کا دروازہ ہے جو “باب غیبت”کےنام سے معروف ہے۔یہ خوبصورت دروازہ “ناصرلدین اللہ” خلیفہ عباسی کے دور میں اور “معدبن الحسین بن سعدالموسوی کی سرپرستی میں بنایاگیا۔ربیع الثانی سنہ ۶۰۶ میں اس کی تعمیرکا کام مکمل ہوا۔یہ خوبصورت دروازہ  بہت ہی خوبصورت نقش ونگار اورلکھائی سے مزین ہے۔فن نجاری  کا شاہکار یہ دروازہ  بہت ہی دیدہ زیب  ہے اورانتہائی محنت اورظرافت سےبنایاگیاہے۔مغربی محققین ابھی تک اس قیمتی در کی اہمیت اور قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکے ہیں ۔

یہ بڑا اورخوبصورت دروازہ  “مردوں کے مصلے “کو ایک چھوٹے سے کمرے کےساتھ ملاتاہے کہ  جس کا رقبہ ۱۸۰ سینٹی میٹر ضرب در ۱۵۰ سینٹی میٹر ہے۔

امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور سرداب غیبت

سرداب غیبت ، امام زمانہ عج کی عبادت گاہ اورمخفی گاہ تھی۔عباسی حکمرانوں نے کئی بار اسی جگہ سے امام عج کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔اس بارے میں جامی حنفی لکھتےہیں:

حکومتی کارندےامام زمانہ عج کو گرفتارکرنے کی غرض سے ان کے مکان میں داخل ہوئے تووہاں ایک سیاہ فام مرد کوبیٹھے دیکھا ۔اُس سے پوچھا گھر کا مالک کہاں ہے؟اُس نے جواب دیا گھر میں ۔سپاہی گھر کے اندر داخل ہوکر سرداب  کی طرف گئے وہاں اُنہوں نے دیکھا سرداب  پانی سے بھر چکی ہے اور اس سرداب کے آخر میں ایک مصلی بچھا ہواہےاورایک شخص اُس پر نمازپڑھ رہاہے۔ان میں سے ایک اُنہیں پکڑنے کے لئے آگے بڑھا،اورپانی میں پاوں رکھا ۔لیکن وہ ڈوبنےلگا۔دوسرا آگے بڑھا وہ بھی اس میں غرق ہونے لگا پھر تیسرا۔۔۔ اس کے بعدمعذرت کرکےبغیر کسی نتیجے کے واپس لوٹ گئے۔         

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سرداب غیبت میں:

سرداب غیبت، وہ جگہ ہے جہاں امام زمانہ عبادت کرتے تھے اور ان کی مخفیگاہ بھی یہی جگہ تھی۔ عباسیوں (عباسی حکمرانوں) نے کئی بار امام کو اسی مکان سے گرفتار کرنے اور انہیں قیدی بنانے کی کوشش کی تھی۔ جامی حنفی روایت کرتا ہے:

” حکومتی کارندے (فوجی) جب امام کو گرفتار کرنے کی نیت سے ان کے گھر چلے گئے تو انہوں نے دیکھا کہ گھر میں ایک سیاہ آدمی بیٹھ کر اون کی کتائی کر رہا تھا۔ اس سے پوچھنے لگے: گھر کا مالک کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: گھر میں  موجود ہے۔ فوجی اندر گئے اور سرداب پہنچ گئے، تب دیکھا کہ سرداب پانی کی لپیٹ میں ہے اور سرداب کے آخری حصہ پر کوئی شخص مصلا بچھا کر نماز پڑھ رہا ہے، ان فوجیوں میں سے ایک نے امام کو گرفتار کرنے کے لیے پانی میں قدم بڑھایا، لیکن ڈوبنے لگا، پھر دوسرے فوجی نے کوشش کی لیکن وہ بھی پانی پار نہ کرسکا اور اسی طرح تیسرا فوجی بھی اور اس کے بعد ایک اور فوجی،،، آخر کار معذرت کرلی اور ناکامی کے ساتھ واپس چلے گئے۔

جب خلیفہ کو کہانی سے باخبر کیا گیا، خلیفہ بہت غصہ ہوا اور ان فوجیوں سے مخاطف ہوکر کہنے لگا: اگر اس بات سے کوئی باخبر ہوجائے تو تم لوگوں کی گردنیں کاٹ دونگا۔

دوسری جگہ روایت ہے کہ جب حضرت امام مھدی (عجل اللہ فرجہ) زمانہ غیبت صغریٰ میں تھے، “معتضد” (عباسی خلیفہ) نے یہ ارادہ کیا کہ امام کو گرفتار کرلے، اسی لیے کچھ حکومتی فوجیوں کو بھیجنے لگا تا کہ امام کو گرفتار کرکے اس ملعون کے پاس لے آئے۔ رشیق نامی شخص جو کہ خود بھی معتضد کے فوجیوں میں تھا، کہتا ہے:

“تب ایک بڑی فوج کو امام کے گھر بھیجا گیا، وہ جب امام کے گھر میں داخل ہوئے تو انہیں سرداب سے قرآن کی تلاوت کی آواز سنائی دی۔ سرداب کے دروازے کے پاس جمع ہوئے اور پھر سرداب کو گھیرے میں لے لیا تا کہ امام مھدی (عج) وہاں سے باہر نہ نکل سکے۔ ان کا کمانڈر کھڑا ہوا تا کہ سب فوجی پہنچ جائے۔ اس وقت امام ان کی نظروں کے سامنے سرداب سے باہر نکل گئے اور وہاں سے غیب ہوگئے۔ کمانڈر ( جو کہ امام کے باہر نکلنے سے بے خبر تھا) نے فوجیوں کو حکم دیا کہ: سرداب کے اندر جائیں اور امام کو گرفتار کرلیں۔ فوجیوں نے کیونکہ راستے میں امام کو دیکھا تھا، حیرانگی کے ساتھ کہنے لگے: مگر امام ابھی آپ کی نظروں کے سامنے یہاں سے نہیں گئے؟ کمانڈر جو کہ بہت طیش و غضب میں تھا کہنے لگا: میں نے اسے نہیں دیکھا، تم لوگوں نے اسے گرفتار کیوں نہیں کیا؟َ فوجیوں نے جواب دیا: ہمیں لگا کہ آپ نے انہیں دیکھا ہے اور انہیں گرفتار کرنا نہیں چاہا۔

سرداب غیبت، اہل سنت کی نظر میں:

اہل سنت نے بہت سے ایسے خیالی اور افسانوی باتیں اور کہانیاں شیعوں سے منسوب کی ہیں، ان من گھڑت افسانوں میں سے ایک افسانہ یہ بھی ہے کہ شیعہ کا یہ عقیدہ ہے کہ “مہدی موعود” سامراء کے کسی سرداب میں غایب ہوچکے ہیں اور کسی دن وہی سے دوبارہ ظہور کرینگے!

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز (شیخ بن باز) امام زمانہ کے بارے میں رسول اللہ سے منقول روایتوں کو تایید کرتے ہوئے، اپنی طبیعت اور عادت کے مطابق شیعہ پر ڈنک مارتے ہوئے “ابن کثیر” سے نقل کرتا ہے کہ:

“آخر الزمان کا مہدی، خلفاء راشدین میں سے ہیں لیکن یہ وہ شخص نہیں، شیعہ رافضی جس کے آنے کا انتظار سرداب میں کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ کسی دن وہاں سے نکلے گا، (یہ وہ مہدی نہیں)۔”

یہ باتیں حقیقت سے دور ہیں (اور شیعہ کا عقیدہ یہ نہیں) ۔ بعض شیعہ علما نے اس من گھڑت بات کا علمی جواب دیا ہے؛ سید صدرالدین صدر اس جھوٹ اور تہمت کے جواب میں لکھتے ہیں:

” (اہل سنت کی کتاب) الصواعق المحرقہ میں ہے کہ اثنی عشری شیعہ، یا ان میں سے کسی ٹولے کی یہ سوچ ہے کہ مھدی منتظر، سرداب میں چھپے ہیں، اور ان کے ساتھی اپنے گھوڑوں کے ساتھ سرداب کے پاس کھڑے ہو کر یہ چاہتے ہیں کہ امام وہاں سے باہر تشریف لے آئے۔

کاش لکھنے والا، اس بات کے لیے کوئی سند یا ریفرینس بھی ذکر کرتا۔ لیکن میرے خیال سے اس کتاب کا لکھنے والا حجاز سے باہر تک نہیں آیا اور عراق (سامراء) گیا تک نہیں ہے اور سامراء کو بھی قریب سے نہیں دیکھا، ورنہ وہ اچھی طرح سمجھ جاتا کہ یہ بات ایک تہمت ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے”۔

علامہ سید مرتضیٰ عسکری، سرداب غیبت کے بارے میں کہتے ہیں:

شیخ محمود ابوریہ، مصر کا عالم دین، جو کہ عبداللہ سبا نامی کتاب پڑہنے کے بعد شیعہ بھی ہوا، اس عالم نے میرے نام مصر سے خط بھیجا کہ آپ (شیعہ) لوگ ہر جمعہ کو شام کے وقت گھوڑوں پر بیٹھ کر تلوار اٹھا کر چلے جاتے ہیں اور سرداب غیبت کے سامنے کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ اے ابو الحسن (اے امام زمانہ) ظاہر ہوجائیے اور قیام کریں۔

میں نے اس کے جواب میں لکھا: میں بغداد میں پیدا ہوا ہوں اور کچھ عرصہ سامراء میں رہ چکا ہوں، جو آپ کہہ رہے ہیں، ٹھیک نہیں (اور میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا)۔

آیت اللہ لطف اللہ صافی گلپایگانی بھی اس بارے میں کہتے ہیں:

“شیعہ اور اہلبیت کے ساتھ دشمنی کرنے والے عناصر کی ایک تہمت یہ بھی ہے، وہ کہتے ہیں: شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ امام سرداب میں غیب ہوچکے ہیں اور اب تک سرداب میں ہی ہیں اور اسی سرداب سے دوبارہ ظہور کرینگے اور ہر رات کو نماز مغرب کے بعد سرداب کے باہر کھڑے  ہوتے ہیں تب تک کہ نیکی کے ستارے نظر آنے لگے، اس کے بعد چلے جاتے ہیں اور اگلی رات کو پھر ایسا ہی کرتے ہیں۔

ہم اس تہمت کو جھٹلانے کے لیے، کوئی بھی صفائی دینے کے محتاج نہیں، سب کو پتہ ہے کہ اس قسم کی تہمتیں  ابن خلدون، ابن حجر و غیرہ سے مجعول ہے جو کہ شیعہ دشمنی اور اہلبیت سے دوری اور بنی امیہ سے محبت کی وجہ سے ہیں۔  یہ مولفین اور ان کے بعد آنے والے مولفین اس کے بجائے کہ ہمارے عقائد کو اپنی کتابوں میں ڈہونڈے، جھوٹ بولنے اور تہمت لگانے پہ لگ گئے اور یا پچھلوں کی لگائی ہوئی تہمتوں کو شیعوں کے عقائد کے ملاک اور سند بناتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف خود گمراہ ہورہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی میں دھکیل رہے ہیں۔

شیعوں میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ امام (عج) سامراء کے سرداب میں چھپے ہوئے ہیں، بلکہ شیعہ کتابوں میں موجود روایتیں اس تہمت کو جھٹلاتی ہیں۔”

حضرت استاد ابراھیم امینی بھی اس تہمت کو جھٹلاتے ہوئے لکھتے ہیں:

یہ بات، صاف جھوٹ ہے اور دشمنی کی وجہ سے یہ تہمت لگائی گئی ہے، اور شیعوں کا ایسا کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ کسی بھی روایت میں نہیں ہے کہ بارواں امام سرداب میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہاں سے ظہور کرینگے، شیعوں سکالرز میں سے بھی کسی نے یہ نہیں فرمایا”۔

سرداب کی کرامات (معجزے):

اس مقدس مکان میں، مولا امام زمان کے بہت سارے عاشقوں نے ان کی زیارت کی ہے (امام سے ملے ہیں) اور ان کی حاجتیں پوری ہوئی ہیں، جن میں سے دو بندوں کی کہانی ذکر کرتے ہیں:

۱: آیت اللہ مرعشی نجفی:

انہوں نے سرداب میں مولا امام زمانہ سے ملنے کے واقعہ کو کچھ ایسے بیان کیا ہے:

“میں جب سامراء میں رہتا تھا، بعض اوقات رات کو سرادب مقدس میں سوجایا کرتا تھا، ایک بار ٹھنڈ کا موسم تھا، رات کے ختم ہونے کے قریب، جب میں مقدس سرداب میں تھا، اچانک میں نے کسی کے پیروں کی آواز سنی، حالانکہ سرداب کا دروازہ بند تھا، میں بہت زیادہ ڈر گیا تھا کہ ایسا تو نہ ہو کہ کوئی شیعہ مخالف یا دشمن اہلبیت ہو۔ جو شمع میرے پاس تھی وہ بجھ گئی تھی، لیکن ایک بہت نرم لہجے میں ایک آواز سنی، کوئی میرا نام لے کر مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگا: السلام علیکم ،،، میں نے جوابا عرض کیا: آپ کون ہیں؟ فرمایا: آپ کے بنی اعمام (رشتہ داروں) میں سے کوئی ہوں۔ میں نے عرض کیا: سرداب کا دروازہ بند تھا، آپ کیسے اندر آئے؟ اس سید نے فرمایا: اللہ عَلی کُلِّ شَیء قَدِیرٌ (اللہ کچھ بھی کرنے کی طاقت رکھتا ہے) میں نے عرض کیا: آپ کہاں سے ہیں؟ میں حجاز سے ہوں۔ حجازی سید نے فرمایا: کیوں اس وقت یہاں آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: میری کچھ حاجتیں ہیں، اس لیے یہاں آکر متوسل ہوا ہوں۔ فرمانے لگے: ایک حاجت کے علاوہ آپ کی باقی حاجتیں پوری ہوجائینگی۔ پھر اس حجازی سید نے کچھ نصیحتیں کی، جیسے کہ یہ نصیحت کی کہ نماز کو جماعت کے ساتھ اقامہ کریں، فقہ، حدیث اور تفسیروں کا مطالعہ کرنا، اپنوں سے صلہ رحم قائم رکھنے کی نصیحت، اساتذہ اور معلموں کے حق کا خیال رکھنا، نہج البلاغہ کے پڑہنے اور حفظ کرنے کی نصیحت اور صحیفہ سجادیہ کی دعائیں پڑھنے کی نصیحت کی۔ پھر میں نے اس حجازی سید سے یہ طلب کیا کہ میرے لیے خدا کی درگاہ پہ دعا کرے۔ پھر انہوں نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹہائے اور خدا سے عرض کیا: یا اللہ! نبی اور اہلبیت کے واسطے، اس سید کو کامیابی عطا فرما کہ دین کی خدمت کرسکے، اپنی مناجات کی مٹھاس اسے چکھا دے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت اور محبت بھر دے اور اسے شیطان کے شر اور فریب سے بالخصوص حسد سے، محفوظ فرما۔ باتیں کرتے کرتے، اس حجازی سید نے سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی تربت مجھے دی، جو کہ بالکل خالص تھی اور بہت ہی کم تھی۔ اس تربت کا تھوڑا سا حصہ اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ اس سید نے ایک عقیق کی انگوٹھی بھی مجھے دی جو اب بھی میرے پاس ہے اور اب تک اس انگوٹھی کے بہت سے فائدے دیکھ چکا ہوں۔ اس کے بعد وہ حجازی سید غایب ہوگیا اور میں تب سمجھ گیا تھا کہ وہ حجازی سید، خود امام زمانہ تھے، جنہیں تب نہیں پہچان پایا جب وہ ظاہر ہوئے تھے۔

۲: سید محمد مھدی بحرالعلوم:

سید علی سبط بحرالعلوم، ” برھان قاطع در شرح نافع” نامی کتاب کے مولف ہیں، انہوں نے سید مرتضی سے (جو کہ سید بحرالعلوم کے بھانجے ہیں) جو کہ ہر جگہ سید کے ساتھی تھے،  نقل کیا ہے:

“میں سامراء کے زیارتی سفر میں سید بحرالعلوم کے ساتھ تھا، وہ ایک کمرے میں اکیلے سویا کرتے تھے اور میں ان کے بغل والے کمرے میں سوتا تھا۔ ہمیشہ ان کا خیال رکھتا تھا اور دن رات ان کی خدمت کرتا تھا۔

جب رات ہوجاتی تھی، لوگ ان کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور ان کے علم سے استفادہ کرتے تھے۔ ایک رات میں متوجہ ہوا کہ لوگوں سے بات کرنے کے لیے سید کی طبیعت سازگار نہیں اور چاہتے تھے کہ اکیلے رہے، جب بھی کسی سے بات کرتے تھے تو اسے یہ اشارہ کرتے تھے کہ جلدی چلا جائے۔ آخرکار جب سب چلے گئے اور صرف میں رہ گیا، انہوں نے مجھے بھی کمرہ چہوڑنے کا کہا۔ میں تعجب میں تھا کہ سید کا رویہ آج ایسا کیوں ہے۔ تھوڑا وقت گذرنے کے بعد میں دوبارہ ان کے کمرے کی طرف گیا تا کہ ان کی طبیعت معلوم کرسکوں، لیکن ان کے کمرے کا دروازہ بند تھا؛ میں نے دروازے میں موجود ایک چھید سے دیکھا تو بلب جل رہا تھا لیکن کمرے کے اندر کوئی نہیں تھا۔ میں پریشانی کے عالم میں سید کو ڈھونڈنے لگا، ان کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے عسکریین شریف (امام حسن عسکری اور امام ہادی کی زیارتگاہ) کے صحن (آنگن) میں داخل ہوا وہاں سے عسکریین کے قبہ کی طرف گیا لیکن وہ بھی بند تھا، حرم کے آس پاس بھی ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

سرداب کے صحن میں داخل ہوا، میں نے دیکھا کہ اس کے دروازے کھلے ہیں۔ سرداب کی سیڑھیوں سے آہستہ آہستہ نیچے گیا، جب تین سیڑھیاں رہہ گئی تھی تو مجھے کچھ آوازیں سنائی دی جیسے کہ کوئی آدمی کسی اور سے بات کر رہا ہو، اچانک سید نے بلند آواز سے کہا: سید مرتضیٰ! کیا کر رہے ہو؟ گھر سے کیوں نکل آئے؟ میں نے ان سے معافی مانگی اور سرداب کی طرف آگے چلا گیا، لیکن وہاں پہ سید کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا، مجھے سمجھ آگئی کہ وہ اپنے آقا (امام زمانہ عج) سے بات کر رہے تھے۔

ریفرینس:رہ توشہ عتبات عالیات؛قبرہای خاندان عسكریین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.