یوم قدس منانے کی ضرورت

0 1
القدس لنا

عالمی یوم قدس نزدیک آ کر دنیا کے غیور مسلمانوں کو مظلوم فلسطینی قوم کے دفاع و حمایت کی سنگین ذمہ داری کی، پہلے سے زیادہ تاکید کے ساتھ، یاد دہانی کراتا ہے۔

امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس دن کا اعلان کرکے انسانی ضمیروں کی سطح پر مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھا اور صیہونی حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو (ایک نقطے) پر مرکوز کر دیا، نتیجے میں ہم ہر سال مسلمانوں میں اس دن (یوم قدس) کی وسیع پذیرائی کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

جو لوگ مقبوضہ سرزمینوں پر مظلومانہ انداز میں جہاد کر رہے ہیں، سختیاں برداشت کر رہے ہیں اور فلسطین کی آزادی اور غاصب حکومت کی نابودی کی ساری امیدیں جن کی اسی داخلی سطح کی جد و جہد سے وابستہ ہیں، یہ یاد رکھیں کہ پورے عالم اسلام میں قومیں ان کی فکر میں ہیں اور ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان مظلوم مجاہدین کے اندر جو اپنے ہی وطن میں بیگانے ہو گئے ہیں، یہ احساس پیدا ہو تو عالم اسلام کی سطح پر یہ مظاہرے انجام دئے جانے چاہئے۔

ہمارے عظیم القدر قائد ہمارے امام (خمینی رہ) کی جانب سے یوم قدس کے تعلق سے نئی شروعات اسی نکتے کے پیش نظر تھی ورنہ یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ تہران کی سڑکوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں وہ یہاں سے اسرائیل کے خلاف مسلحانہ کاروائی تو نہیں کر سکتے ہیں۔

بشکریہ  رسا نیوز ایجنسی


متعلقہ تحریریں:

ڈاکٹر جاوید اقبال : اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا

مزید  ابو بصیر

سیاسی صیہونیزم کی تشکیل کے اسباب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.